یہ خواب کب پورا ہو گا
جب بھی رمضان کا مہینہ آتا ہے ۔۔۔ پہلے تو یہ دعا کی جاتی ہے کہ اے اللہ اس مبارک ماہ کو سب کے لیے مبارک کرنا ۔ ہمت عطا فرمانا کہ پورے روزے رکھے جاہیں ۔ اور سب سے اہم بات کہ پورے سال کی بے ایمانی کم از کم اس ماہ میں تو ختم ہو جائے ۔ لیکن کہاں ،، لگتا ہے پورے سال اس ماہ کے انتظار میں گزارہ جاتا ہے کہ کب رمضان آئے اور کب ہم لوگوں سے زیادہ سے زیادہ لینے کی کوشش کریں ۔۔ اب تو ایک اور فیش بھی بن گیا ہے کہ جب دل کرئے روزہ رکھ لیتے ہیں اور جس دن شاپنگ کرنی ہے اس دن روزہ نہیں رکھنا ۔ یہی حال صاحب جی کا بھی ہے ۔ کہ بیگم آج افس میں کام زیادہ ہے اس لیے سحری کے لیے مت جگانا ۔۔۔یہ تو ان لوگوں کے نخرے ہیں جن کی جیب میں پیسوں کی کمی نہیں ۔ لیکن یہ پیسے انکے اپنے نہیں ہیں ۔ کالا دھند ۔۔
میرا ہر سال رمضان شروع ہونے سے پہلے ایک خواب نظر آتا ہے کہ میرے ملک میں ہر گھر میں دستخون بچھا ہوا ہے ۔ اور سارے بچے بہت مزے لے لے کر افطاری میں مصروف ہیں ۔۔روح افزا کے جگ سامنے پڑے ہین دو کھانے ، کھجور ۔ دہی بھلے ۔۔۔۔۔ پکوڑوں سے بھری ہوئی پلیٹ ، ماں بچوں کو بار بار کہتی ہے بیٹا پیٹ بھر کر کھاو ،، نہیں ماں اور نہیں ۔ اور پھر میرا یہ خواب چکناچور ہو جاتا ہے ۔ ہمارے غریب بچے تو ویسے ہی ہیں کچھ نہیں بدلا ، پہلے سے زیادہ خراب ہو چکا ہے ۔۔۔۔ میرا اللہ کب یہ فاصلے ختم ہوں گے ۔ کب امیری غریب کے درمیاں غریب عوام یوں ہی پستے رہیں گے ۔۔۔سب سے زیادہ خوف خدا اللہ سے محبت ۔ رمضان کا احترام غریب کرتا ہے ۔پھر بھی وہ بھوکے پیٹ روزہ رکھتا ہے ،
