تانیہ رحمان نے Thursday، 4 March 2010 کو شائع کیا.
آج اپنے بھائی افتخار کو سالگرہ کی مبارکبادی دیتے ہوئے احساس ہوا کہ میرے بلاگ کی عمر بھی دو سال سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ اپنے بھائی کی سالگرہ کی جہاں خوشی ہوئی وہاں اس بات کی بھی بہت خوشی ہے ۔ کہ میرا بلاگ بھی دو سال سے چل رہا ہے ۔ افتخار بھائی اللہ پاک سے دعاہے کہ اتنی زندگی جیو جتنی آپ کی خواہش ہے ۔ آپ کی یہ زندگی خوشیوں سے بھرپور اورمسکراتی گزے ۔ اور اگلی دفعہ میں آپ کی سالگرہ کے ساتھ آپ کی شادی کی مبارک بادی بھی جلدی دوں ۔ انشاءاللہ
تانیہ رحمان نے Wednesday، 3 March 2010 کو شائع کیا.
ابھی ابھی بس کچھ وقت پہلے یہی کوئی دس منٹ کی بات ہے میں اپنے اس ڈبے کے سامنے بیٹھی ورق گردانی کر رہی تھی مطلب یہ کے کچھ ویبسایٹ دیکھ اور ساتھ ساتھ پڑھ بھی رہی تھی۔کیونکہ کرنے کو کچھ نہیں تھا ۔تو میں اپنے ماضی میں چلی گئی ۔ یہ یادیں بھی کتنی عجیب و غریب ہوتی ہیں ۔سچ کہا
یاد ماضی عزاب ہے یاربَ،
کیا آپ نے کبھی دھوکہ کھایا ہے ؟ یا پھر دھوکہ دیا ہے اور اگر کھایا ہے تو کیسا لگا اور اگر دیا ہے تو آپ کو کیسا لگا ۔ بار بار دھوکہ دینے کو دل کیا ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دھوکے سے میری کیا مراد ہے ۔ یہاں میرا مقصد وحیدمراد نہیں ہے ۔
نہیں سوچ رہے تو بڑے کمال کی بات ہے۔ توبہ ہے میں نے ہیرو کمال کی بات نہیں کی ۔ بات ہو رہی تھی دھوکہ دینے اور دھوکا کھانے کی ۔ کچھ لوگوں کی فطرت میں ہوتا ہے کہ وہ کئی کئی سال آپ کے ساتھ رہتے ہیں ۔ وہی کچھ کہتے ہیں جیسا آپ سننا چاہتے ہیں ۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے ۔ کہ وہی انسان آپکو اپنی اصل شکل دکھا دیتا ہے ۔ اور آپ سوچتے رہ جاتے ہو کہ کمال ہے میں نے اتنا عرصہ ساتھ رہ کر بھی اس کو نہیں پہچانا ۔ وہ آپ کا قریبی دوست رشتے دار محلے دار ، کوئی کزن بس آپ کو تحریر کرنا ہے ۔اپنے دل کی بات کو کھلے دل سے
مکمل تحریر پڑھیے »
تانیہ رحمان نے Monday، 1 March 2010 کو شائع کیا.
ز شاعر نالہ مستانہ در محشر چہ می خواہی
ز شاعر نالہ مستانہ در محشر چہ می خواہی
تو خود ہنگامہ ئی ہنگامۂ دیگر چہ میخواہی
بہ بحر نغمہ کردی آشنا طبع روانم را
ز چاک سینہ ام دریا طلب گوہر چہ میخواہی
نماز بی حضور از من نمے آید نمی آید
دلی آوردہ ام دیگر ازین کافر چہ می خواہی
اردو [...]
مکمل تحریر پڑھیے »