محفوظات برائے ”تانی کی ڈایری ۔۔۔۔۔۔۔۔؟“ زمرہ

آج میں نے سوچا کہ کیوں نا اپنے بارے میں کچھ کہوں ۔ ارے ارے ۔ آپ تو پریشان ہو گئے میں اپنی تعریف نہیں کرنے جا رہی بے فکر ہو جاو ۔ ہو سکتا ہے جو میں بتانے جا رہی ہوں ۔ کئی ساتھیوں کو خوشی بھی ہو ، میں نے جب بلاگ شروع [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


آج میرا دل کر رہا ہے کہ میں پوسٹ اپنے محسنوں کے نام کی لگاوں ۔مزے کی بات ہے ۔ جن کا میں ابھی زکر کروں گی ۔ وہ میرے بلاگ سے واقف ہیں ۔ چونکہ کمپیوٹر انکے استعمال میں نہیں ہے ۔ اس لیے میری اس پوسٹ کو نہیں پڑھ پاہیں گے۔ جس کا [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


اعلیَِ ظرف کون ہے؟
تانیہ رحمان نے Wednesday، 19 May 2010 کو شائع کیا.

ابھی میں ہسپتال کے ایمرجنسی سے نکلی ہوں ۔ میرا مطلب پوسٹ سے ہے ، حقیقت کے ہسپتال سے نہیں۔ہم اکثر و بیشتر سنتے ہیں ، پڑھتے ہیں ۔ اور بہت حد تک دیکھتے بھی ہیں۔ کئی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے کہ انسان وہی اعلی ہے وہی بڑا ہے اللہ پاک اسی کو پسند [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


اچھی اور بری یادیں
تانیہ رحمان نے Tuesday، 27 April 2010 کو شائع کیا.

میں نے کہانی لکھنی تھی ایک 55 سالہ خاتون کی ۔ لیکن یہ سب لکھنے سے ٌپہلے میں یہ بتاتا مناسب سمجھتی ہوں ۔ کہ مجھے آج بہت خوشی ہو رہی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنی دوست ڈاکٹر نگہت نسیم جو کے میری استاد بھی ہیں میری راہنمائی کرتی رہیں ۔ ان [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


چلیں پھر سے پال ٹاک کی جانب بڑھتے ہیں۔ میں نے پال ٹاک کو بہت سے رنگوں میں ڈھلتے ہوئے دیکھا ، میرئے علاوہ بھی جو آتا ہو گا وہ بھی بخوبی جانتا ہو گا کہ پال ٹاک کیا تھا اور موجودہ شکل کیا ہے ۔ میرا مقصد اصل موضوع کی طرف آنا ہے ۔ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


اچھی اور بری یادیں ۔۔۔۔۔ حصہ سوم
تانیہ رحمان نے Wednesday، 21 April 2010 کو شائع کیا.

دوستو۔ بات ہو رہی تھی ۔ نیٹ کے کسی نئے پروگرام کی جس کو میرے میاں نے ڈوان لوڈ کرنا تھا ، اور وہ پروگرام تھا ۔ گھر بیٹھےہوئے بیکار لوگوں کے لیے ۔ یا انکی تنہائی دور کرنے کے لیے ۔ آپ یقین نہیں کر سکتے جس وقت وہ پروگرام تیار ہو کر میرے سامنے آیا تو میری خوشی بیان سے باہر تھی میں بلکل اس بچے کی طرح خوش ہو رہی تھی ۔ جس کو اس کی مرضی کا کھلونا مل جائے ۔ تصویر نہیں آتی تھی لیکن وہاں جو روم بنے ہوتے تھے ۔ ایک ایک کر کے جب کوئی بولتا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سب میرے آس پاس ہیں ۔ جہاں دور بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے باتیں کرتے ۔ کہیں صبح ہوتی تو کہیں شام ۔ کہیں رات ۔ شاعری سے لے کر گانوں تک سب کچھ موجود تھا۔ آپ سب بھی جانتے ہوں گے ۔ کئی دوستوں نے استعمال بھی کیا ہو گا کئی ابھی تک اس پروگرام سے وابستہ ہوں گے۔ کئی شکلیں بدلیں ۔ اب تو نئے نئے انداز میں خوب سے خوب تر کی جانب رواں دواں ہے ۔ جی ہاں مین بات کر رہی ہوں پال ٹاک کی ۔ جس کے ذریعے مجھے بہت اچھے پیارے دوست ملے ۔، جن سے حقیقت میں ملاقات بھی ہوئی ۔ ان میں سے کئی تو چلے گے ۔ لیکن کئی بہت اچھی اور پیاری سہلیاں موجود ہیں۔ان سالوں میں کتنے دھوکے کھائے ۔ کتنی کہانیاں بنی ۔ یہ ایک پوری لمبی داستان ہے ۔ ۔۔ پال ٹاک پر لڑکوں نے کتنے گھر تباہ کیے ۔ اور کتنی خواتین نے مرد حضرات کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ۔ وہ سب بھی آنے والے وقت میں آپ سب کے سامنے پیش کروں گی۔ مجھے پال ٹاک سے جو سب سے اچھی چیز ملی وہ دوست تو تھے ہی لیکن بولنے کا اپنے دل کی بات کہنے کا موقعہ ملا ۔اگر اپ کے پاس بھی کوئی پال ٹاک کی کہانی ہے تو ضرور شئیر کریں ۔

مکمل تحریر پڑھیے »


ہاں جی تو میں یہ بتا رہی تھی کہ جب مجھے اپنے اس الیکٹریکل ڈبے یعنی میرا پیارا کمپیوٹر سے مجھے محبت ہوئی ۔ کیسے شروع ہوئی ۔ میری اس کہانی میں میرے سرتاج کو بھی برداشت کرنا پڑے گا ۔ کیونکے اس ڈبے سے محبت کا سہرا انہی کے سر ہے ۔ ویسے تو اللہ کا شکر ہے ابھی تک ایک ہی سہرا باندھا ہے ۔ اور مجبوری کے تحت زبان دے چکے ہیں ۔ کہ اللہ نا کرئے کہ دوسری بار یہ غلطی کروں ۔ تو واقعہ مرد کی زبان ہے ۔ پوری طرح قائم ہیں۔
ایک دن ہوسپیٹل سے آئے کھانا کھایا ویسے تو عام حالات میں سو جاتے ہیں لیکن ناجانے آج کیا خاص بات تھی کہ سیدھا کمپیوٹر کے روم میں چلے گے ، میں سوچ میں پڑہ گئی ۔ یا اللہ یہ وقت تو میرا ہوتا ہے ۔ یہ آج کیوں یہاں تشریف فرما ہیں۔ سوچا تانیہ جی تھوڑی دیر صبر کرو اور دیکھو ۔ کبھی ٹی وی کے کمرے میں جاتی تو کبھی بیڈ روم میں جا کر پڑی چیزوں پر نظر ڈالتی ۔ آج تو ٹی وی بھی زہر لگا رہا تھا۔ جب کسی پل قرار نہیں آیا تو چلی پوچھنے کہ حضور آپ کو سونا نہیں ہے
نہیں دیکھ نہیں رہی ہو ضروری کام کر رہا ہوں
لیکن کیا آپ کے آفس میں کمپوٹر نہیں ہے اتنا بڑا اسپتال ہے ۔ ویسے صحیح کہتے ہیں لوگ عربی بڑی پاگل قوم ہے ۔ ہوں ہاں کر کے پھر چپ ۔ یا خدا کیا ضروری کام پڑ گیا ۔
تم کو کوئی مسلہ ہے ، جاو اپنا کام کرو مجھے میرا کام کرنے دو۔ یہی میرا وقت ہوتا ہے کمپیوٹر لگانے کا ، اچھا ٹھیک ہے میں نہیں کرتا یہ کام چلو تم اپنا کمپیوٹر لگاو ۔ جو کام کر رہا تھا تمھارے لیے ہی تھا ۔ ۔ نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے میں صبح کا گیا ابھی 5 بجے آیا ہوں ۔ سوچا کہ گھر میں اکیلی ہو چلو اس بہانے کچھ وقت اچھا گزر جائے گا ۔ لیکن خیر میں چلا سونے تم اپنا کام کرو ۔ لیکن وہ کون سا پروگرام ہے ، بتاو تو سہی ۔ بس رہنے دو ۔یا خدا ایسا کیا تھا ، جس کے لیے رحمان نے اپنا سب سے اہم آرام کا بھی خیال نہیں کیا ۔ اب مجھے بے چینی تھی ۔انسان بھی کسی حال میں خوش نہیں رہتا ۔ تھوڑی دیر پہلے یہ بے چینی کے جلدی سے کمپیوٹر میرے حوالے کریں ۔اور اب یہ بے چینی کے وہ کون سا اہم پروگرام تھا ۔ ویسے میرے میاں جی بھی بڑے ہوشیار نکلے ، بغیر کچھ کہے بھی سو سکتے تھے ۔ لیکن کہاں جان بوجھ کر پتا نہیں کس جنم کا بدلہ لیا ۔ اور مجھے معصوم ننھی سی جان پر یہ بوجھ ڈال کر سو گے کہ اچھا ہے پریشان رہے ۔۔ اب تو کمپیوٹر آن کر کے ایسے دیکھ رہی تھی ۔ جیسے کسی کے گھر ڈاکہ پڑا ہو ۔ لیکن چور کچھ لے کر نا گیا ہو گھر والے خوشی اور اداسی کے تاثرات لیے گم سم سے بیٹھے ہوتے ہیں۔
خدا خدا کر کے کچھ آہٹ سی محسوس ہوئی ۔ فورا بھاگ کر گئی ۔ اور پوچھا چائے بناوں ۔ ہاں کہہ کے ٹی ؤی دیکھنے لگ پڑے ۔ کچن سے ہی آواز لگائی کہ وہ آپ کسی پروگرام کی بات کر رہے تھے۔ ہاں آج کچھ دوستوں نے بتایا کہ نیٹ پر ایک پروگرام چل رہا ہے ۔ کافی دلچسپ ہے ۔ ۔ اس وقت وہی ڈاون لوڈ کر رہا تھا ۔ لیکن چونکہ نیٹ بہت آہستہ تھا ۔ سوچا رات کو آرام سے کر لوں گا ۔ باقی آیندہ

مکمل تحریر پڑھیے »


جیسا کے پہلے میں نے بتایا کہ اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچیپی نہیں تھی ۔ بس گیمزز کھیلنے کی حد تک پسند تھا ۔ ورنہ میرے خیال میں گھر کے ایک کونے میں پڑا رہنے کے باوجود ایسا جس طرح وہ لوگ جوکام کے ناکاج کے دشمن آناج کے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ویسا ہی تھا ۔ بجلی اور پیسہ کھاتااور حاصل وصول کچھ نا تھا بقول میرے
اور پھر ایک دن اچانک ہی یہ مجھے اچھا لگنے لگا ۔ مجھے اس سے پیار ہونے لگا ۔ رات دیر تک جاگنے کے باوجود صبح جلدی سے جلدی جاگنا ۔ اپنے میاں کے ہوسپیٹل جانے کا بے چینی سے انتظار کرنا ۔ اور گھڑی کو بار بار دیکھنا میرے پیار کو مکمل ثابت تھا۔ مجھے ناشتے کے بعد میاں جی کا گھر میں رہنا زہر لگنے لگا تھا ۔ وہ جانے سے پہلے خبریں ضرور دیکھتے تھے۔ میں دعاکروں کب یہ منحوس ماری خبریں ختم ہوں ۔ اور میں جا کر اپنے پیارے ڈبے کے سامنے بیٹھ جاوں ۔کیونکے ابھی مجھے صرف اپنی انگلیوں کو کی بورڈ کا عادی کرنا تھا۔ اے تلاش کرتی تو بی کہیں گم ہو جاتا ۔ذیڈ کی باری تو اتی ہی نہیں تھی۔ ڈبلیو سب سے زیادہ تنگ کرتا ۔ یہاں ایک بات بتانا ضروری سمجھتی ہوں ۔ کہ رومن اردو نے ہمارے بہت مسائل حل کر دے ۔ اگر ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں بھی ہیں ۔ تو انگریزی میں اردو لکھ کر بہت اچھا رعب ڈالتے ہیں ۔ بس مجھے وہی کچھ سیکھنا تھا ۔ اس وقت سعودی عرب میں نیٹ اور فون دونوں ہی بہت مہنگے تھے ۔ لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں تھی ۔ ہمارے میاں جی ہیں کمانا ان کا کام ہے ۔ ہم تو دیارغیر میں اکیلے پڑے ہوئے ہیں ۔ ابھی دوستوں کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔ آپ یہ مت سمجھنا کے مجھے دوست پسند نہیں تھے یا پھر میں سوشل نہیں تھی ۔ بولنے میں میرا کوئی ثانی نہیں ہے ہاں اسکے لیے اپنی طرح کا بندہ ہونا ضروری ہے ۔ جس کی تلاش جاری تھی۔ باقی آیندہ

مکمل تحریر پڑھیے »


اچھی اور بری یادیں
تانیہ رحمان نے Sunday، 18 April 2010 کو شائع کیا.

کیوں نا آج نیٹ کے حوالے سے بات کی جائے ، نیٹ کا استعمال ہماری زندگی میں سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ میں نے سوچا اپنی کچھ یادیں جوکے اچھی اور بری ہیں آپ سب سے شیر کروں ۔ کہاں سے شروع کروں یہ بھی ایک لمبی داستان ہے ۔ اور میرا خیال ہے ۔کہ آج کے دور کے انسان کے پاس اتنا وقت نہیں کے وہ میری یہ لمبی داستان سنے ۔ ویسے کیا خیال ہے دوستوں شروع کروں یا پھر رہنے دوں ۔ آپ سب کی زندگی میں بھی ایسے کئی واقعات ہوئے ہوں گے ۔ ہو سکتا ہے کئی نے لکھے ہوں اور کئی ساتھی میری طرح سوچ رہے ہوں ۔کہ کیا کیا جائے ۔ مار دیا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
چلیں میرا خیال ہے اگر آپ سب کو یا پھر کچھ دوستوں کو اچھا نا بھی لگے تو میں خود پڑھ کر ہی خوش ہو لوں گی ۔
یہ کوئی دس سال پرانی بات ہے ۔ جب میں نئی نئی سعودی عرب گی تھی ۔ اپنے میاں جی کے ساتھ۔ ۔میاں چونکے ڈاکٹر ہیں تو وہ اپنی جاب میں مصروف ہو گے ۔نئی جگہ زبان کا مسلہ ۔ پھر عربیوں کو دیکھ کر ویسے ہی خوف محسوس ہوتا ہے ۔ کیونکے انکے دیکھنے کا انداز ہی قاتلانا ہوتا ہے ۔ ہر دم یہی خوف کھائے جاتا ہے کہ اب سانس بند ہوئی کے تب۔
کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا ، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کے نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو ۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاوں ۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے ۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو ۔ آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے ۔
اور پھر وہ دن کل کی طرح یاد ہے ۔ جس نے مجھے تب سے لے کر آج تک اس ڈبے کے سامنے اتنا مصروف رکھا کئی دفعہ ہنڈی بھی جل گئی اس نیٹ کی وجہ سے ۔اور مجھے کسی کل سکون نہیں کہیں آوں جاوں ۔ سب سے پہلے اس کی ارتھی اتراتی ہوں ۔
آج کے لیے اتنا باقی پھر کبھی زندگی رہی انشاءاللہ

مکمل تحریر پڑھیے »


ائے بھائی زرا دیکھ کے چلو
تانیہ رحمان نے Wednesday، 3 March 2010 کو شائع کیا.

ابھی ابھی بس کچھ وقت پہلے یہی کوئی دس منٹ کی بات ہے میں اپنے اس ڈبے کے سامنے بیٹھی ورق گردانی کر رہی تھی مطلب یہ کے کچھ ویبسایٹ دیکھ اور ساتھ ساتھ پڑھ بھی رہی تھی۔کیونکہ کرنے کو کچھ نہیں تھا ۔تو میں اپنے ماضی میں چلی گئی ۔ یہ یادیں بھی کتنی عجیب و غریب ہوتی ہیں ۔سچ کہا
یاد ماضی عزاب ہے یاربَ،
کیا آپ نے کبھی دھوکہ کھایا ہے ؟ یا پھر دھوکہ دیا ہے اور اگر کھایا ہے تو کیسا لگا اور اگر دیا ہے تو آپ کو کیسا لگا ۔ بار بار دھوکہ دینے کو دل کیا ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دھوکے سے میری کیا مراد ہے ۔ یہاں میرا مقصد وحیدمراد نہیں ہے ۔
نہیں سوچ رہے تو بڑے کمال کی بات ہے۔ توبہ ہے میں نے ہیرو کمال کی بات نہیں کی ۔ بات ہو رہی تھی دھوکہ دینے اور دھوکا کھانے کی ۔ کچھ لوگوں کی فطرت میں ہوتا ہے کہ وہ کئی کئی سال آپ کے ساتھ رہتے ہیں ۔ وہی کچھ کہتے ہیں جیسا آپ سننا چاہتے ہیں ۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے ۔ کہ وہی انسان آپکو اپنی اصل شکل دکھا دیتا ہے ۔ اور آپ سوچتے رہ جاتے ہو کہ کمال ہے میں نے اتنا عرصہ ساتھ رہ کر بھی اس کو نہیں پہچانا ۔ وہ آپ کا قریبی دوست رشتے دار محلے دار ، کوئی کزن بس آپ کو تحریر کرنا ہے ۔اپنے دل کی بات کو کھلے دل سے

مکمل تحریر پڑھیے »


بلاگ اور ہم کیا فرق ہے ۔
تانیہ رحمان نے Tuesday، 10 November 2009 کو شائع کیا.

دوستو ؛ آج اور ابھی ابھی میرے دماغ میں ایک بات آئی، سوچا چلو آپ سب سے بھی پوچھ لوں کیونکہ آپ بھی میری طرح بلاگ چلا رہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے ۔ بلاگ ایک عام سی چھوٹی سی سایٹ ہے ۔جس کو بنا کر لوگ ناجانے اپنے آپ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


محبت اوس کی صورت
تانیہ رحمان نے Monday، 19 October 2009 کو شائع کیا.

میں نہ ہی کوئی غزل لکھ رہی ہوں اور نہ ہی کوئی نظم ، بالکل آپ نے درست اور بجا فرمایا کہ یہ دونوں کام مجھے نہیں آتے ۔ ارے میں تو بس آپ سب سے یہ پوچھنا چاہ رہی تھی ۔ یہ جو محبت ہے ۔ ان کا ہے کام ۔ محبوب کا بس لیتے ہوئے نام مر جاہیں مٹ جاہیں ۔ ہو جاہیں بدنام ۔۔۔ جی یہ محبت نہ رشتے والی اور نہ خدا والی ؟کیا آپ کو آجکل جو محبت کرتے ہیں ان پر یقین ہے ۔ کیا آج بھی کوئی لیلی ۔ کوئی فرہاد کوئی شرین ، تو کوئی مجنون ہے ۔؟

مکمل تحریر پڑھیے »


فرض شناسی
تانیہ رحمان نے Thursday، 19 March 2009 کو شائع کیا.

حضرت عبدالرحمن بن عوف اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت عمر نے مجھے یاد فرمایا میں پہنچا تو کہا مدینے کے دروازے پر ایک قافلہ آکر اترا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ سو جاہیں اور ان کے ہاں چوری ہو جائے یہ کہہ کر [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


اپنی ذات سے نکل کر دیکھ
تانیہ رحمان نے Thursday، 26 February 2009 کو شائع کیا.

جیسا میں نے سوچا تھا بہت سے دوست اب بھی سوچتے ہوں ۔
میرا کوئی بھی کام اگر روک جاتا یا یوں کہہ لیں کے ناکامی ہوتی تو میں اللہ کریم سے شکوہ شکایت شروع کر دیتی ۔ کہ ساری دنیا کے کام ہوتے ہیں ایک میرا ہی کیوں نہیں ہوتا ۔ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ویلنٹائن ڈے، جی ہاں اس ایک دن کو محبت کے اظہار کا دن کاکہا جاتا ہے ۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ھر وہ دن جو آپ اپنے پیاروں کے ساتھ چاہئے کیسے بھی گزراتے ہیں ۔یا گزارنا چاہتے ہیں محبت کا سوچ کر گزارو۔ جہاں تک رشتوں کی بات ہے تو وہ اس [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


تانی کی ڈایری ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تانیہ رحمان نے Tuesday، 3 February 2009 کو شائع کیا.

خواتین کے لیے ، مرد حضرات پڑھ سکتے ہیں

مکمل تحریر پڑھیے »



جملہ حقوق بحق ”تانیہ رحمان کا بلاگ ۔ عین الیقین“ محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "تانیہ تھیم" منجانب ایم بلال