محفوظات برائے February, 2010
تمام مسلم امہ کو ربیع الاول کا بابرکت مہینہ بہت بہت مبارک
دل باغ باغ ہو گیا
کافی دنوں سے کوئی اچھی خبر سننے کے لیے کان بے چین اور انکھیں پریشان تھیں ۔ جب بھی ٹی وی آن ہوتا کوئی اچھی خبر ہی نہیں لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے یہ خبر سن کر لبوں پر مسکراہٹ ناچنے لگی ۔ اور کانوں کو تو جیسے سکون نصیب ہوا ۔ انکھوں کو دیکھ [...]
کون کہتا ہے کہ غریب ہیں ہم
آپ سب بھی یہی بات کرتے ہیں کہ ہم ایک غریب ملک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاں روٹی کپڑا اور مکان تو ایک خواب سا لگنے لگا ہے ، کیونکہ پہلے جن کے پاس گھر نما چھوٹا سا کمرہ ہوتا تھا ۔ جہاں وہ اپنے پانچ یا زیادہ بچوں بوڑھے ماں باپ کے ساتھ [...]
ڈاکٹر عافیہ کے لیے ہی کیوں ؟
ویسے تو میں کچھ دنوں سے مصروف تھی پوسٹ نہیں لگا سکی ۔ لیکن جب بار بار ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں پڑھا اور ٹی وی پر دیکھا تو یہ سوال خود اچھل اچھل کر جواب کے انتظار میں بیٹھا ہے
کہ پاکستان میں کتنی بیٹیاں کتنی خواتین ہیں جو روز ظلم کا شکار ہوتی ہیں ۔روز انکے سر ننگے کیے جاتے ہیں سر عام ان کی عزت کا جنازہ نکلا جاتا ہے ۔ معصوم بیچوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کوموت کے گھاٹ اترا جاتا ہے ۔ پھر ایک عافیہ ہی کیوں ۔ ؟ اس لیے کہ وہ امریکہ میں قید ہے بڑا ملک ہے اسی حساب سے بار بار میڈیا اور لوگ اس کی طرفداری کر رہے ہیں۔ اگر انسانیت کا انتا ہی خیال ہے تو سب سے پہلے اپنے ملک میں ہونے والے ظلم روکو ۔ اگر طاقت ہے تو معصوم بچیوں کو درندوں کی حوص کا نشانہ بنانے سے بچاو ۔ وہ مرد جو اپنے ملک کی عورت کی عزت کا محافظ نہیں بن سکتا ۔کسی عافیہ کا وکیل نا بنے ۔
