فیس بک نا ہوئی شعیب ثانیہ کی شادی ہو گئی۔
پاکستان میں فیس بک بند کر دی گئی ہے ساتھ میں یوٹیوب کو بھی بند کر دیا گیا ، کون سی قیامت آ گئی ، کیا ہوا سر کھائے بند ہے تو بند رہے ہماری صحت پر کون سا اثر پڑہ رہا ہے ،۔ پہلے فیس بک کے بارے میں نہیں جانتے تھے ۔ تب بھی اپنے حصے کا ہی کھاتے تھے ، آج بھی نہیں جانتے اور غلطی سے جان بھی گے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمارے پاس کرنے کو کچھ ہے نہیں بس شعیب ثانیہ کی شادی والی کہانی ایک بار پھر سے ۔ شعیب کی مہندی نکل رہی ہے کہاں سے کون رشتے دار کر رہا ہے کچھ پتا نہیں ۔ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ ۔ اگر فیس بک بند ہونے سے میرے ملک کی بجلی بحال ہو جاتی ، اگر فیس بک کے بند ہونے سے میرے غریب عوام کو ایک وقت کا کھنا میسا آ جاتا تو میں بھی خوشی خوشی سےکہتی ،ارے چھوٹے کے ابا سنتے ہو ۔ یہ چہرے والی کتاب کو پاکستان میں بند کر دیا گیا ہے

حیرت ہے کہ آپ ایسا کہہ رہی ہیں
بھاڑ میںجائے بجلی اور بھاڑ میںجائے ایسا کھانا جس کا ذکر آپ کررہی ہیں
ہمیںاپنے پیٹ اور دوسری سہولیات سے زیادہ اپنا دین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عزیز ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
جی جی بالکل یہ واقعی کوئی بڑا مسئلہ نہیںہے۔ وہ جعفہ صاحب نے اس کے متعلق پوسٹ لکھی کہ کس طرح ہمارا میڈیا ایسی چیزوں کو ہائی لائٹ کرتا ہے جو فضول ہوتی ہیں۔ لیکن وہ اکثر بلاگرز کو کچھ پسند نہیں آئی۔ خیر ہمارا اپنا ذاتی رویہ بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ ہم بے مقصد چیزوں پر سر کھپاتے ہیں۔ فیس بک پھر سے کھول دی جائے گی اور ہم پھر سے دن بھر اسی کے آلے دوالے گھومتے رہیں گے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
فیس بُک پہ ایک اکاؤنٹ تھا ۔ انگریزی حروف تہجی میں “اجنبی ہوپ” کے نام سے ۔ پہلی فرصت میں اس اکاؤنٹ کو ختم کر دیا ہے۔ ساتھ فیس بُک کی انتظامیہ کو اکاؤنٹ کی وجہ بھی لکھ بیجھی ہے۔
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی
کرنے والوں کو نہ روکنے کیوجہ سے احتجاجاََ اپنا اکاؤنٹ فیس بُک سے بند کرہا ہوں۔
اگر فیس بک ایسی شرارتوں سے باز نہیں تو ایک مسلمان ہونے کے ناطے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت اور محبت میں اتنا تو مجھے کرنا چاہئیے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بار بار ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے نفسیاتی حربوں اور مذموم حرکتوں سے کفار سمجھتے ہیں کہ مسلمان توہین رسالت کے عادی ہوکر بے حس ہو جائیں گے اور اس حوالے سے آہستہ آہستہ ٹھوس رد عمل کم ہوتا ہوا بالکل ختم ہو جائے گاتو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہے۔محبت رسول ۖ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور اس کے تحفظ کیلئے وہ کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتااور ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ گستاخی رسول پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے یا کسی بھی طرح سے اس کی اہمیت کم کرنے والے کسی طور مسلمان نہیں کہلا سکتے۔فیس بک ویب سائٹ کی انتظامیہ امت مسلمہ کے احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قسم کی خباثت سے فوری باز آئے اور اپنی سروسز اور سہولیات ایسے لوگوں کو مت دے جو دنیا بھر میں بد امنی پھیلانے کا باعث ہوں۔ تمام اہل اسلام خصوصاً ینگ مسلمز اپنابھرپور رد عمل ظاہر کر کے فریضہ ایمانی سر انجام دیں۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … فیس بک پر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ اور گستاخانہ خاکوں کی بارباراشاعت نفسیاتی حربہ ہے:قاضی ایم اے خالد
اس تبصرے کا جواب دیں
اوئے تم سارے کے سارے کنزرویٹو و رجڈ لوگو
ترقی کرنی ہے یا نہیں؟
صبر کرو تم لوگ ذرا، ماڈرن اسلام کے داعی اس حوالے سے جلدہی ایک پوسٹ لکھیں گے
بڑا مشکل ہو گیا ہے اب تم لوگوں کو برداشت کرنا
ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر … گرو گھنٹال کے چار گر
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ سب کے تبصرے میرے لیے بہت اہم ہیں ۔ میں ایک بات کہتی ہوں اور انشاء اللہ جب تک یہ سانس چل رہی ہے کہتی رہوں گی ۔ جس بات کے لیے میرے پیارے نبی نے ہمیں اجازت نہیں دی ہم انکے کہے ہوئے پر عمل نہیں کرتے ،۔بس یہی سمجھتے ہیں جو سب سے زیادہ اسلام اسلام کرتا ہے وہی سب سے بڑا مسلمان ہے وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔عمل کہاں ہے میرے لکھ لینے سے یا کہہ لینےسے میں بہت اچھی مسلمان بن جاوں گی آپ لوگوں کی نظروں میں ۔ لیکن میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ کہ سب کے سامنے میری واہ واہ ہو لیکن میں وہ نا کروں جس کی اجازت میرے رسول نے نہیں دی۔ وہ بہت بڑی ہستی ہے ۔ کسی کے کچھ کہنے اور کرنے سے میرا ایمان کمزور نہیں پڑنے والا ۔ آج ہم مسلک کے نام پر ایک ہی ملک میں رہ کر دوسرے کے دشمن بن گے ہیں ۔ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ دوسرے کو قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے لیکن ہم یہ سوچ کر کے اسلام نے اجازت دے رکھی ہے خدا ااور رسول کے نام پر قتل کر دو۔ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کسی انسان کا ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ مجھے ایک بات کا جواب چاہے کہ آپ اپنے گھر ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں گے ، اگر کوئی پروگرام ایسا ویسا چل رہا ہو ۔ یا پھر اسکے لیے کچھ کریں گے۔ ہمارے رسول صلی اللہ عیلہ کی زندگی میں کیا کچھ ہوتا رہا ۔ کیا وہ اللہ کے روسول نہیں جانتے تھے ۔ یا پھر وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن انھوں نے صبر اور اپنے عمل سے کتنوں کو مسلمان کیا ۔اگر فتوی لگانا ہی ہے تو سب سے پہلے اسلامی ممالک کا بیکارٹ کرو ۔ وہ کیوں خاموش تماشاہی بنے بیٹھے ہیں۔یہ فیس بک گوگل یا دوسرے تسرے جو بھی ذرائع ہیں ، آج شو اٹھاے گا کل پھر ختم ۔ پھر کچھ عرصے بعد یہی کام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ ان کاموں کو روکنے کے لیے سب سے اہم کردار ہماری مساجد ادا کر سکتی ہیں۔ وہاں ہر نماز کے بعد کچھ وقت کے لیے سب نمازی اپنی اپنی رائے دیں اور پھر ان کو میڈیا پر براست دکھایا جائے۔پوری دنیا کے سامنے ۔ لیکن گالی گلوچ یا غلط طریقے سے نہیں ۔وہ لوگ جو شعیب اور ثانیہ مزرا کی شادی کے لیے دیسی گھی کے دیے جلاتے رہے اب اپنے گھروں سے نکل کر پرامن احتجاج کریں ۔ یوں فیس بک یا یوٹیوب کو بند کروانا اگر اس مسلے کا حل ہے تو پہلے بھی ایسا ہوا تھا دوبارہ کیوں
آپ سب کی رائے کا میں احترام کرتی ہوں ۔ اور اپنی رائے کا حق رکھتی ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں
سسٹر !
واہ ! ماشاءاللہ
آپکی باتیں کافی حد تک درست ہیں۔ اور اس مسئلے کو حل کروانے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔اس بارے میں افضل صاحب کے “میرا پاکستان” پہ میں نے بھی اپنی ذاتی رائے میں آپ سے ملتی جلتی تجاویز لکھی ہیں۔ مگر حکیم خالد صاحب کی بات بھی قابل غور ہے کہ اغیار جتنی بار اس طرح کی مذموم حرکت کریں مسلمانوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہئیے۔کہ باقی سارے اخلاقی معاملات میں تو ہم تقریبا ھاتھ دھو ہی بیٹھے مگر ناموس رسالت پہ اگر ہم نے مناسب اور پُر امن احتجاج ریکارڈ نہ کروایا تو مسلمانی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے- اور شرارتی لوگوں کا اگلا قدم مسلمانوں کی ذاتی ناموس کی توہین ہوگی ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بھائی اگر مقصد ہمارا نیک اور ایک ہے لیکن انداز جدا جدا تو وہ الگ بات ہے ، جو بات مجھے بری لگی وہ ہم پاکستانیوں کا پاگل پن ہے ۔ اغیار تو کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ لیکن ہم نے کیسے مقابلہ کرنا ہے ۔ وہ تو چاہتے ہیں ۔ کہ ہماری کمزور رگ پر ہاتھ رکھیں۔ فیس بک کے بارے میں جب سے بات سامنے آئی ۔ لنک پورے نیٹ پر گردش کر رہا ہے ۔ اور کہاں جا رہا ہے اس لنک کو دیکھو کہ کیا ہو رہا ہے۔ خدا کے بندوں جب خود ہی ہوا دو گے ۔ تو بات کم ہونے کی بجائے بڑے گی۔ ہم ہر کام جزبات میں کیوں کرتے ہیں تھوڑی دیر کو یہ نہیں سوچتے کہ یہی جزباتی پن ہمارے لیے کتنا نقصان دہ ہے ۔ اللہ پاک ہم کو صحیح راستے اور سوچنے کی توفیق عطا فرمائےآمین۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … پہلوانی کا چسکا تے کھوتے کا دل
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ بہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رائے کے احترام کےلیے شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم عقل اور وقوف سے ماورا ہے۔۔۔۔۔۔۔گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں رد عمل ظاہر نہ کرنے پر آمادہ کرنے والے خواہ کتنے ہی عقلمند کیوں نہ ہوں اصل میں انہیں بے عقل یعنی عقل سے پیدل سمجھنا چاہئے۔۔۔۔۔ شاید ایسے ہی لوگوں کےلیے علامہ اقبال کا فلسفہ ہے کہ
عقل کی انتہا پاگل پنے کی ابتدا ہے۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے غازی علم دین شہید سے زیادہ علمی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقول شاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک
پاکستانیوں کا عشق رسول اور اس کا اظہار۔۔۔۔۔ اگر کسی کو پاگل پن لگتا ہے تو سو بار لگے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں یہ جنوں اپنی جان اور انا سے زیادہ عزیز ہے
آخر ان عاقل لوگوں کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام دین امن ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے اور یہاں تک کہ اغیار کے بتوں کو بھی برا کہنے سے منع کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے باوجود کوئی شعائر اسلام اورنبی محترم ۖ کی توہین پر آمادہ نظر آئے تو اسے منہ توڑ جواب دینا لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … فیس بک پر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ اور گستاخانہ خاکوں کی بارباراشاعت نفسیاتی حربہ ہے:قاضی ایم اے خالد
اس تبصرے کا جواب دیں
خالد بھائی بہت شکریہ ۔ بات کسی کی زات کے حوالے سے نہیں ہو رہی ۔ اور نا ہی میرا مقصد کسی کو پاگل کہنا ہے ۔ بات صرف اور صرف اتنی سی ہے ۔ کہ کئی لوگ تو رسول صلی اللہ عیلہ کے مزار پر سجدہ ۔اور بوسہ بھی دیتے ہیں ۔ جو انکی محبت اور عشق کی ہی بدولت ہے ۔لیکن جس کام سے ہامرے رسول نے منع کیا ہے وہ ہم کیوں کرتے ہیں۔ یہاں میں اپنی ایکبات بیان کروں گی۔ میں نے پہلاحج چھوٹی عمر میں کیا تھا اپنے دو عدد بچوں کے ساتھ عمر یہی کوئی ٢٣ سال ہو گی ۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا ۔ کہ میں حج پر جا رہی ہوں ۔ تب مجھے خود اندازہ نہیں تھا ۔ کہ جس عمر میں لڑکیوں کو محبت یا پھر لڑکوں سے داد لینے کا وقت ہوتا ہے ۔ اپنے آپ کو حسین کہلانے کا ۔ اور تعریف کرنے اور کرانے کا ۔ لیکن میرے اندر یہ خواہش کیوں پیدا ہوئی ۔ نا ہی میں کوئی مزہبی انسان تھی ۔ اور نا پانچ وقت نمازی ۔ گھر کا ماحول بھی کوئی بہت سخت نہیں تھا ، روضہ رسول کو خواب میں دیکھا ۔ اپنی حاضری کو لیکن ایک یقین ضرور تھا کہ جاوں گی اتنی جلدی یہ سوچا نہیں تھا۔ شادی کے کوئی تین سال بعد ہی میں حج کرنے آ گئی ، سارا کچھ ایسے ہوا ۔ جیسے میری شادی ہوئی اس مقصد کے لیے تھی ۔ کہ میرے ساتھ کوئی محرم ہو ۔ جب مدینہ پہنچی پہلی بار گنمبدِ خضر کو سامنے دیکھا تو عجیب حالت تھی۔ وہی خواب میرے سامنے تھا۔ لیکن جب مجھے یہ کہا گیا کہ میں روضہ رسول کے اندر نہیں جاسکتی ۔ دوسری طرف دور سے ہی دیکھ سکتی ہوں اور نفل ادا کر سکتی ہوں تو آپ یقین مانے میری حالت اس وقت ایسی تھی ۔ کہ میرا دل کر رہا تھا جو مجھے منع کر رہا ہے اس کا قتل کر دوں ۔ مجھے ان مردوں اور اپنے میاں سے بھی نفرت ہونے لگی ۔ اپنے خدا سے شکوہ بھی کیا ۔ کہ کیوں ہمارے ساتھ ایسا ہو رہا ہے ۔ میں یہاں آ کر جالی کو ہاتھ نہیں لگا سکتی ۔میرے میاں اپنی عبادت پوری کرکے جب واپس آئے تو مجھے بچوں کی طرح روتے ہوئے پایا ۔جب کے مجھے اپنے دونوں بچوں کا ہوش نہیں تھا ۔ ایک بچہ ٣ سال کا اور دوسرا ایک سال کا ۔تب انھوں نے مجھے سمجھایا کہ اصل وجہ کیا ہے۔ دوسری دفعہ جب حج کرنے گئی تو پوری کوشش کی کہ جس سے میرے رسول خفا ہوتے ہیں اور انھوں نےمنع کیا ہے اس سے بچا جائے۔ جبکہ لوگ مزار کو محبت اور عشق میں بوسہ تک دے رہے تھے۔ کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ جس بات سے مننع کیا گیا ہے ۔ کوشش ہونی چاہے۔ میرا خیال ہے کہ میں اپنی بات کسی حد تک بیان کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں اگر نہیں تو دوبارہ کوشش کروں گی اگر زندگی نے ساتھ دیا، انشااللہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ بہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے دل میں جو محبت رسول موجزن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے آگاہ کرنے میں تو آپ کامیاب ہو گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقیدت و محبت کے اظہار کےلیے سجدہ تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوسہ وغیرہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی مسلمان سچے دل سے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ پڑھ لے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عشق رسول کی وہ منازل گھر بیٹھے بھی طے کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے بعض روضہ رسول پر جا کر بھی محروم رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سے اب اختلاف رائے اتنا ہے کہ جب ہم اپنے کسی قریبی عزیز کی تضحیک برداشت نہیں کر سکتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمیں ہر رشتے سے عزیز ہیں، کی شان اقدس میں گستاخی کیوں برداشت کریں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تحمل مزاجی کا درس بزدلی اور بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شازک” کے جذبات ہی اصل میں ہر پاکستانی مسلمان کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہر مسلمان کے ایسے ہی جذبات ہونے چاہئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخری بات۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام دین امن ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے اور یہاں تک کہ کفار کے بتوں کو بھی برا کہنے سے منع کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے باوجود کوئی شعائر اسلام اورنبی محترم ۖ کی توہین پر آمادہ نظر آئے تو اسے منہ توڑ جواب دینا لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … فیس بک پر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ اور گستاخانہ خاکوں کی بارباراشاعت نفسیاتی حربہ ہے:قاضی ایم اے خالد
اس تبصرے کا جواب دیں
میری رائے اس مسئلے پر آپ سب سے خاصی متفق ہے، ہمارے نبی ۖ کی عظمت اور شان چند بیمار سوچ رکھنے والوں کے حربوں سے ہرگز کم نہیں ہوگی۔ میں حکیم صاحب کی بات کو آگے لے کر چلوں گا کہ ہمیں ایسی گستاخانہ حرکتوں کا منہ توڑ گواب دینا چاہئیے مگر یہ جواب پر اثر ہونا چاہئیے نا کہ ہم جزبات میں آکر اپنی اور اپنے دین کے مذید بے عزتی کروائیں۔
پچھلی دفعہ جب ایسے خاکوں کی اشاعت ہوئی تھی تو میں اتفاق سے پاکستاں میں تھا، تب میں نے اپنی قوم کا ‘منہ توڑ’ جواب دیکھا۔ جلوس، پولیس اسٹیشن، بسوں اور سرکاری عمارات کو آگ لگانا، دکانوں کو لوٹ کر انکو نزر آتش کرنا، وغیرہ اسی جواب کا حصہ تھا جس سے ہمارا ناموسِ رسالت کا جزبہ پورا ہوا نا ہوا ہو مگر دشمنو ں کے دلوں میں مزید ٹھنڈ ضرور بڑی ہوگی۔
آپ سب نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ کیوں، کبھی کسی اور مزہب کے خدا با رسول کا خاکہ کیوں نہیں بنا، وجہ صرف اتنی سی ہے کہ دشمنوں کو پتا ہے کہ حوصلے اور تدبر کا سبق دینے والے نبی ۖ کے اپنے امتی ہی نہایت بے صبرے اور بے تحمل ہیں، جس نبی ۖ کا اپنا نام دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں میں شمار ہوتا ہے کے اپنے ماننے والے بھیڑ چال کا شکار ہے۔
آپ لوگ یاد کریں شہرِطائف کا وہ واقعہ جب طائف کے لوگوں نے نبی ۖ پر پتھر برسائے تھے، یاد کریں وحشی اور ہندہ کو جنھوں نے نبی ۖ کے پیارے چچا حمزہ رض کو نا صرف شہید کیا بلکہ انکا کلیجہ تک چبا ڈالا اور ایسی کہی گستاخیاں جو کہ خاکوں سے بہت بڑھ کر ہیں مگر نبی ۖ کا اسوہ تو ملاحظہ کریں کہ انھوں سب کچھ صبر و ستقلال سے سہا اور ان باتوں کو دینِ اسلام کی ترقی کی راہ میں کبھی حاہل نہیں کیا۔
اگر ہم ان خاکوں کا پر زور بدلا لینا چاہتے ہیں تو ہمیں نبی ۖ کی کردار کی پیروی کرنی ہوگی، اس مزہب کو سربلند کرنے کیلئے ہمیں جزبات سے نہیں بلکہ نبی ۖ کی طرح تدبر سے کام لنا ہوگا۔ والسلام
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک بات کی وضاحت کر نا ضروری سمجھتا ہوں کہ مسلمان پہ فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دنیا کے ہر رشتے سے بڑھ کر عزیز رکھے۔ خواپ وہ اولاد ہو یا ماں باپ ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں تو صرف اتنا کہوں گا اول تو کسی کے کچھ بھی کہنے سے نہ ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پے کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی ھمارے دین متین پے کوئی آنچ آئے گی۔۔۔ ھاں ھمارے ردعمل سے روز محشر جب یہ ندا ھوگی کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو اغیار کے خلاف اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ کے ساتھ تھے تو انشاءاللہ ھم بھی ان لوگوں میں شمار ھو جائیں گے۔۔ اور آخر میں ایک بات گرو جی کے لئے دین مکمل ھو چکا اب کوئی تبدیلی نہ ھوگی روز محشر تک۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بات پھر وہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ہمارے کسی قریبی عزیز سے متعلق کوئی بری بات کہے تو ہم کیوں برداشت نہیں کر سکتے؟؟؟
حالانکہ اس سے اس عزیز کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات تو وہ اس سے لاعلم بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقول جاوید گوندل صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر ۔مسلمان پہ فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دنیا کے ہر رشتے سے بڑھ کر عزیز رکھے۔
تو جو سب عزیزوں سے عزیز ہو ان کی شان اقدس میں گستاخی مسلمان تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک انسان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا اس سلسلے میں رد عمل کا اظہار لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی انسان ہے تو۔۔۔۔۔۔۔ لہذا اس حوالے سے دنیاوی مفادات کی خاطر احتجاج ریکارڈ کروانے میں بے حسی اور بزدلی کا سبق دینے والوں کو پہچانئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کی کسی بات پر کان دھرنے کی بجائے فریضہ ایمانی سر انجام دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … مصر ی علماء نے فیس بک کے خلاف فتویٰ جاری کردیا
اس تبصرے کا جواب دیں
بلکل ٹھیک فرمایا آپ نے حکیم خالد صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر صرف نام نہاد محبت کے دعوؤں سے کچھ نہیں ھوگا۔۔۔۔۔۔۔ بشمول مجھ سمیت ھم سب کو محبت کا دعوہ کرنے سے پہلےاُن تمام عوامل کو بھی دیکھنا ھوگا جن سے یہ ثابت ھو سکے کہ آیا ھم واقعی ان تعلیمات پے عمل پیرا ھیں یا صرف زبانی کلامی محبت ھے یہ۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محترم ضیاء الحسن صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات کو کہیں اور لے جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اصل موضوع سے ہٹنا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام عوامل اور تعلیمات پر عمل پیرا بعض اسلام پسند کہلانے والے افراد کی بہ نسبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روشن خیال کہلانے والے بعض داڑھی منے افراد کے دلوں میں حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ محسوس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی زبان پر آتے ہی ان کی آنکھوں میں آنسو تیرتے دیکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا مجھ بے عقل کی رائے میں اس محبت کا کوئی پیمانہ وضع نہیں کیا جانا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس کی نام نہاد؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔ کس کی زبانی کلامی؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کس کی سچی؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نازک معاملے کو فرد ،اللہ اور رسول پر چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت شکریہ
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … مصر ی علماء نے فیس بک کے خلاف فتویٰ جاری کردیا
اس تبصرے کا جواب دیں
سب سے پہلے آپ سب کا بہت بہت شکریہ ۔ مجھے خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہم سب نے جو تبصرے کیے ۔ وہ کسی کی زات سے وابستہ ہو کر نہیں کیے اور نا ہی کسی کو نیچا دیکھانے کا کوئی مقصد تھا ، ایک نیک کام کے لیے پوسٹ لگائی تھی ۔ شکر ہے اس زات کا جس نے ہم سب کو صبر عطا کیا ۔ آو مل تمام مسلمانوں کے لیے اور خاص کر پاکستان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ ہم جب بھی کوئی نیک کام کریں ۔ تو جزبات سے مبرا ہو کر اور دنیا کو بتاہیں ہم پر امن لوگ ہیں ۔ دوسرے مزاہب سے برتری بھی ہیمں اسی وجہ سے عطا کی گئی ہے ۔ ۔ اپنے بھائی کا خیال اپنے اس پاس کے لوگوں کے غم اور غریبوں کی امداد ہمارا مقصد اولین ہونا چاہے ، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں وہ کام کریں جن کا انھوں نے حکم فرمایا ۔ اور عمل کریں آمین۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کسی نے علامہ اقبال سے پوچھا
عقل کی انتہا کیا ہے؟
علامہ نے جواب دیا عقل کی انتہا حیرت ہے۔
پھر سوال ہوا۔۔۔
حیرت کی انتہا کیا ہے؟
جواب ملا حیرت کی انتہا عشق ہے۔
تو اس شخص نے پوچھا کہ عشق کی انتہا کیا ہے؟
جواب دیا کہ عشق کی انتہا یہ ہے کے عشق کی کوئی انتہا نہیں۔
اس شخص نے پوچھا جب عشق کی کوئی انتہا نہیں تو آپ کے ایک شعر کا مصرعہ یہ کیوں ہے
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔۔۔۔
جواب دیا علامہ اقبال نے کہ
شائد اس شعر کا دوسرا مصرعہ آپ نے نہیں پڑھا
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔۔۔۔
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں۔۔۔۔
محترمہ تانیہ جی جب عشق ہو تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کس حد میں ہے اور کتنا جذبہ رکھتا ہے
بس عشق والوں کو تو محبوب سے لو لگی ہوتی ہے
مانا بے دلی سے عبادت کرتے ہیں
ڈھنگ سے بات کرنے کا ہنر نہیں
سادہ زندگی سے دور ہیں
ریا کار ہیں خطا کار ہیں
پر نبی کے پیرو کار ہیں
اس نبی کی شان میں کچھ ہو جائے کوئی کچھ کہہ دے تو۔۔۔۔۔
کیا میں اور کیا تو
نہیں کرنی اس پر گفتگو
بس نبی کی لگی ہو جس کو جستجو
پھر چاہے اپنا نقصان ہو یا غیر کا
بس نبی پر جان مال تن من دھن
والدین عزیر و اقارب سب قربان
بھاڑ میں جائیں سب اغیار
بس نبی کو بنا لیں دلدار
اللہ سے لو لگا لیں
فیس بک کی حمایت
یہودیوں کی حمایت
ٹیکنالوجی کی حمایت
مادیت کی حمایت
سب فلاسفی سب گفتگو ختم ہو جاتی ہے
جب بات نبی کی آتی ہے
کیا کریں ہم مہذب بن کر
لعنت ہے ایسے مہذبانہ فعل پر جو نبی کی شان کو داغدار ہوتا دیکھ کر خاموش رہے
جیسے بھی ہو
قلم سے
زبان سے ہاتھ سے
اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں
یہ تو بس بائیکاٹ ہے
ان کو سخت سزا دینی چاہیے
طارق راحیل کے بلاگ سے آخری تحریر … جسے اللہ رکھے۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
راحیل میں آپ کی جزبات کی قدر کرتی ہوںآپ کا عشق ِرسول کے بارے میں جو خیالات ہیں ۔ ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک عام سے جب کوئی محبت کرتا ہے ۔ تو اس کے کہنے کے مظابق کر عمل کرتا ہے ۔ اور جب انتہا ہو جاتی ہے تو محبوب کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ اس بات کی پرواہ کیے بغیر کے گھر والوں کی عزت کا کیا ہو گا۔ اگر ایک عام انسان سے محبت کے لیے سب کچھ کیا جا سکتا ہے اس کی بات مانی جا سکتی ہے تو پھر ہمارے نبی کے کہنے پر عمل کیوں نہیں کیا جا سکتا ۔ کیا انھوں نے کسی کو یہ حق دیا ہے ؛کہ مجھ سے محبت میں دوسرے کو قتل کر دو ۔ انھوں نے تو سب سے پہلے اپنے مزار کو بوسہ دینے اور سجدہ کرنے سے منع کر دیا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ ایک عام انسان کس حد تک جا سکتا ہے۔میرا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جیسا ان کا حکم ہے ویسا ہمیں عمل کرنا چاہے /۔اور نعوذ بااللہ انکے خاکے بنانے سے ہمادے رسول صلی اللہ عیلہ کی زات کو کیا فرق پڑتا ہے ۔ ہاں اسی بات کو جب ہم جزبات میں بھڑوا دیتے ہیں ۔ تو غیر مزہب کے لوگ مزید زلت کرنے لگتے ہیں ۔ یا تو چپ کر لیا جائے ۔ یا پھر جیسے حضور نے برداشت کرکے اپنے عمل سے ان کو روکا جائے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دوبارہ وہی الفاظ دہراوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہمارے کسی قریبی عزیز سے متعلق کوئی بری بات کہے تو ہم کیوں برداشت نہیں کر سکتے؟؟؟حالانکہ اس سے اس عزیز کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات تو وہ اس سے لاعلم بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقول جاوید گوندل صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر ۔مسلمان پہ فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دنیا کے ہر رشتے سے بڑھ کر عزیز رکھے۔تو جو سب عزیزوں سے عزیز ہو ان کی شان اقدس میں گستاخی مسلمان تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک انسان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا اس سلسلے میں رد عمل کا اظہار لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی انسان ہے تو۔۔۔۔۔۔۔ لہذا اس حوالے سے دنیاوی مفادات کی خاطر احتجاج ریکارڈ کروانے میں بے حسی اور بزدلی کا سبق دینے والوں کو پہچانئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کی کسی بات پر کان دھرنے کی بجائے فریضہ ایمانی سر انجام دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم عقل اور وقوف سے ماورا ہے۔۔۔۔۔۔۔گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں رد عمل ظاہر نہ کرنے پر آمادہ کرنے والے خواہ کتنے ہی عقلمند کیوں نہ ہوں اصل میں انہیں بے عقل یعنی عقل سے پیدل سمجھنا چاہئے۔۔۔۔۔ شاید ایسے ہی لوگوں کےلیے علامہ اقبال کا فلسفہ ہے کہ
عقل کی انتہا پاگل پنے کی ابتدا ہے۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے غازی علم دین شہید سے زیادہ علمی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقول شاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک
پاکستانیوں کا عشق رسول اور اس کا اظہار۔۔۔۔۔ اگر کسی کو پاگل پن لگتا ہے تو سو بار لگے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں یہ جنوں اپنی جان اور انا سے زیادہ عزیز ہے
آخر ان عاقل لوگوں کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام دین امن ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے اور یہاں تک کہ اغیار کے بتوں کو بھی برا کہنے سے منع کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے باوجود کوئی شعائر اسلام اورنبی محترم ۖ کی توہین پر آمادہ نظر آئے تو اسے منہ توڑ جواب دینا لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق راحیل بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تانیہ بہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نازک معاملے میں دنیاوی مفادات کی خاطر احتجاج ریکارڈ کروانے میں بے حسی اور بزدلی کا سبق دینا غیر مناسب ہے۔۔۔۔۔اللہ کا شکر ہے کہ اس حوالے سے اتفاق کرنے والے بلاگرز کی تعداد پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … قادیانی جماعت خانوں پر بم دھماکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل مذمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
خالد بھائی میں بھی ہی کہوں گی کہ جس بات سے غیر مزہب کو شے ملے وہ بھی ہمارے رسول صلی اللہ جیسی ہستی کے بارے میں تو میں انکے فرمان پر عمل کرتے ہوئے یا تو خاموش رہو گی یا پھر اپنے میں اتنی صلاحیت پیدا کروں کہ لوگ میرے عمل کو دیکھیں ۔ خالی خولی عشق رسول کہہ لینے بہتر ہے ۔ کہ میں ان کے کہیے ہوئے پر عمل کروں یہ میری رائے ہے ۔ آپ کا اپنا نداز ہے ان سے محبت کا میرا اپنا ۔۔میرے نزدیک پوری دنیا نعوزباللہ ان کی شان میں کچھ کہہ دیے ۔ میں یہی کہوں گی کہ میرے رسول کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔وہ ہستی تو ایسی ہے ۔ انکے لیے کچھ لکھنا نامکمن ہے تو کہنا دور کی بات
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ بہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی رائے کا احترام واجب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نازک معاملے میں ہر مسلمان فرد کو اپنی علیحدہ رائے رکھنے کا اختیار حاصل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے پیشے کے حوالے سے تمام مسالک کے مفتیان عظام اور علمائے کرام کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام مفتیان عظام اور علمائے کرام متفق ہیں کہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رد عمل و پر امن احتجاج لازم ہے اس سلسلے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے کسی طور مسلمان نہیں کہلا سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دیگر مسلمانوں کو بزدلی و بے حسی کا سبق دینا انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کان ناک یا گلے کے مسئلے میں ایک ای این ٹی اسپیشلیسٹ کی رائے زیادہ معتبر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔خود علاجی مناسب نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعینہ اس نازک مسئلے میں آپ اپنے مسلک کے علماء سے رابطہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔نیز بعض دیگر عطائیوں کی طرح عطائیت نہ پھیلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان ملعون لوگوں کی خرافات سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس سلسلے میں بے حسی سے ایمان کو ضرور بہ ضرور خطرہ لاحق ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں یاد رہے کہ ہم جیسوں کے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ان پر تو اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیج رہے ہیں اور ان کے حبیب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ اظہار عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمیں اپنے لیے ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلام ہونے کے یہ کیسے دعویدار ہیں جو اپنے آقا کی شان میں گستاخی پر خاموشی اور بزدلی کا درس دے رہے ہیں یقینآ انہیں دنیاوی مصلحتوں نے گھیر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اظہار میں پس و پیش کسی صورت مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی ہمیں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی انداز نصیب کرے۔۔۔۔۔۔۔۔جو غازی علم دین شہید کو نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جو بغیر کسی مصلحت کے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہو۔۔۔۔آمین
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … قادیانی جماعت خانوں پر بم دھماکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل مذمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بھائی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرا ایمان کم ضرور ہے میں اظہار رائے کا حق بھی نہیں رکھتی ۔ جو کہہ رہی ہوں وہ غلط ہے ،
اس نازک معاملے میں ہر مسلمان فرد کو اپنی علیحدہ رائے رکھنے کا اختیار حاصل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے پیشے کے حوالے سے تمام مسالک کے مفتیان عظام اور علمائے کرام کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام مفتیان عظام اور علمائے کرام متفق ہیں کہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رد عمل و پر امن احتجاج لازم ہے اس سلسلے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے کسی طور مسلمان نہیں کہلا سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دیگر مسلمانوں کو بزدلی و بے حسی کا سبق دینا انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کہتے ہیں کہ علما کے فتوی موجود ہں ان فتووں کی اصل بنیاد کو کوئی واضع بیان نہیں کرتا ۔ جبکے دوسری طرف رسول پاک کا اپنا اسوہ اور صحابہ اکرام کا عمل کہیں مستند کتابوں میں بیان کیا گیا ہے ۔
جہاں تک پرامن اتحجاج کی بات ہے ۔ تو میرا یہ بلاگ ہی پرامن احتجاج ہے میں خاموش نہیں ہو ۔ مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے ۔ لیکن جیساحضور ر نے دین اسلام کے لیے کام کیا اپنی زات کی پرواہ کیے بضیر میرا مقصد بھی ان کی پیروائی کرنا ہے ۔ ۔ یہاں لنک دے رہی ہوں ۔ یہ پڑھنے کے بعدمجھے ضرور بتایں کہ علما کے فتوئے ، حضور کے عمل سے زیادہ اہم ہیں
http://www.jang.com.pk/jang/may2010-daily/30-05-2010/col2.htm
اس تبصرے کا جواب دیں
باجی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا آپ کو؟؟؟
اجتماعی معاملے کو ذاتیات تک کیوں محدود کر رہی ہیں؟؟؟
ذاتی طور پر آپ کے ایمان کو کمزور کہنے سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود میرا ایمان کمزور ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے اظہار رائے کو صلب کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بعض معاملات میں شریعت محمدی “فل سٹاپ” لگا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس سلسلے میں حد ادب ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس سلسلے میں آئمہ کرام ،مفتیان عظام سے حاصل کردہ جتنا مصدقہ علم ہو اس کا آگے پہنچانا ہر مسلمان فرد پر لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سو۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اہم فریضہ ایمانی سرانجام دینے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن تمام مسالک کے علمائے کرام کی مشاورت سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان الفاظ پر غور فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کان ناک یا گلے کے مسئلے میں ایک ای این ٹی اسپیشلیسٹ کی رائے زیادہ معتبر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔خود علاجی مناسب نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعینہ اس نازک مسئلے میں آپ اپنے مسلک کے علماء سے رابطہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔نیز بعض دیگر عطائیوں کی طرح عطائیت نہ پھیلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہذا خود سے ایسی توضیحات پیش کرنا مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان ملعون لوگوں کی خرافات سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس سلسلے میں بے حسی سے ایمان کو ضرور بہ ضرور خطرہ لاحق ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں یاد رہے کہ ہم جیسوں کے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ان پر تو اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیج رہے ہیں اور ان کے حبیب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ اظہار عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمیں اپنے لیے ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ جتنا علم تو میرے پاس نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہ ہی ایسے علم کے حصول کا متمنی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بے حسی پر اکسائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے غازی علم دین شہید جتنے علم ،جذبات اور ایمان کےلیے خدائے ذوالجلال سے اپنے سمیت تمام مسلمانوں کے لیے دعا گو ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علمائے کرام سے مصدقہ شریعت محمدی کی باتوں کے علاوہ میری کسی بھی ذاتی بات سے دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔کیونکہ اسلام احترام انسانیت ہی تو سکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام دین امن ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے اور یہاں تک کہ اغیار کے بتوں کو بھی برا کہنے سے منع کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے باوجود کوئی شعائر اسلام اورنبی محترم ۖ کی توہین پر آمادہ نظر آئے تو اسے منہ توڑ جواب دینا لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عقیدہ ایمان اور ہر مسلمان کےلیے ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … قادیانی جماعت خانوں پر بم دھماکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل مذمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں