کیا ہم گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں
بہت عرصے سے کشملہ طارق اور ڈاکٹر فردوس اعوان کے بارے میں باتیں سننے کو مل رہی ہیں ۔ بات ڈاکٹر کی ہو تو ہمارے زہین میںایک خوبصورت نرم دل خوش گفتار انسان کی شکل انکھوں کے سامنے آ جاتی ہے اور سفید کوٹ سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ خیر جعلی ڈگری کی طرح جعلی ڈاکٹرز بھی بہت پائے جاتے ہیں ۔ داکٹر فردوس اعوان صاحبہ نے کہا کہ ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر ضرور لگایا جائے۔ جب ان کی اور کشملا طارق کے درمیان دنگل ہوا ۔ اس کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ فرودس اعوان ڈاکٹر نہیں ہیں ۔کچھ نے کہا کہ جانورں کی ڈاکٹر ہیں ۔ اب وہ ڈاکٹر ہیں یا نہیں یہ تو خدا جانتا ہے لیکن انکی گفتگو سننے کے بعد یہی لگا کہ وہ ڈنگر ڈاکڑ ہیں کیونکہ جس گائے بکری ۔ بھنس گھوڑی کی طرح وہ گفتگو فرما رہی تھی ۔ اگر حقیقت میں یہ زبان ان جانورں کو سمجھ آ جاتی تو وہ بھی شرم سے ڈوب مرتے۔ اور ایک دوسرے سے کہتے کہ ہم تو جانور ہیں نہیں سمجھتے اچھی گفتگو لیکن ہماری ڈاکٹر توبہ توبہ ۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہو کہ فردوس اعوان جیسی خواتیں جن کو اس بات کی تمیز نہیں کہ بات کیسے کی جاتی ہے ۔ وہ ہمارے لیے کیا کریں گی وہ پاکستان کے لیے کیا کریں گی۔

شعیب ملک اور ثانیہ کے لیے تو کچھ نہ کچھ کر ہی دے گی
وہ کتنے تولے کا تاج تھا ؟
اور وہ کٹ شٹ،
یہ قوم کوئی احسان یاد بھی رکھتی ہے؟
ایویں تو الزام نہ دیں نہ جی ڈاکٹروں کو
ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر … گرو گھنٹال کے چار گر (سروس پیک ون)
اس تبصرے کا جواب دیں
ارے بی بی ۔ آج کشمالہ طارق نے ايک اور رکن اسمبلی کے ساتھ بدتميزی کی اور اس کی چھٹی کرانے کيلئے سپيکر کو چٹھی بھيج دی گئی ہے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … اظہارِ خيال کی آزادی کا ڈھونگ
اس تبصرے کا جواب دیں
فردوس اعوان
جیسی خواتین ہمارے ملک کےلیے کچھ نہیں کر سکتیں۔
فرحان دانش کے بلاگ سے آخری تحریر … دنیا کی محبت
اس تبصرے کا جواب دیں
ڈفر پتا نہیں مجھے کیوں لگتا ہے کہ آپ ڈفر نہیں ہو بلکہ بہت ہی بڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو
افتخار جی کشملہ طارق کے لیے چیھٹی نہیں بلکہ پورا ڈاک خانہ بجھ دینا چاہئے ۔ وہ بڑی چیز ہے ۔ آج نہیں تو کل پھر واپس ۔
فرحان یہی تو افسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے اسمبلی میں فردوس جیسی خواتین بیٹھیں گی ۔ تو وہاں کے مرد کیا خاک اچھی باتیں سیکھیں گے ۔ اور اگر آ کر اپنی خواتین اور بچوں کی کیا تربیت کریں گے۔ سوچینے والی بات تو یہ ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم تو کچھ نہیں کہتے کیونکہ ہمارا پالا ہی نہیں پڑا جب پالا پڑے گا پھر بات کریں گے
اور آپی جو بات ڈفر بھائی نے کہی ہے وہ میں تو سمجھ گیا ہوں شاہد آپ سمجھ نہیںسکیں
خرم ابنِ شبیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کچھ سچائی میرے بارے میں
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نے جب اس پھڈے کی ویڈیو اپنی گائے کو دکھائی تو وہ بولی ۔۔۔۔” گاں گاں اے تے ساڈی ماں لگدی اے”
اس تبصرے کا جواب دیں
ہاہاہاہا کوئی حال نہیں ہے علی۔ گائے بیچاری
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم پالا ہمارا بھی نہیں پڑا بھائی ۔ اور اللہ ہمیں دور رکھے ان جیسوں سے
اس تبصرے کا جواب دیں
پاس ہی میری بکری کھڑی تھی، مجھے تو وہ کشمالہ کی حمایتی لگی بس میں میں ہی کیئے جا رہی تھی۔ ابھی میں میں اور گاں گاں ہی ہر رہی تھی کہ میرا ایک دنبہ جس کا میں نے ریسنٹلی ہئیر کٹ کروایا ہے کہیں سے آگیا اور گائے سے بولا کہ فردوس جی اس سے پہلے آپ کونسے ڈیری فارم پر ہوتی تھی۔ یہ سننا تھا کہ گائے نے میرے پیارے بکرے کو ایک سینگ مارا اور بولی تم ہوتے کون ہو مجھ سے یہ پوچھنے والے، پوچھنا ہے تو اس بکری سے پوچھو کہ پہلے یہ کو گوالے کے پاس تھی۔ ۔ ۔
تانیا جی، اب ان جانوروں کی یہ بےتکی باتیں اگر کسی کی سمجھ میں آ جائیں تو مجھے بھی بتا دیں
اس تبصرے کا جواب دیں
علی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ نے بکری کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے اچھا ہے بتا دیا بکرا عید پر آپ سے ہی بکری خردیں گے۔ کبھی آپ نے غور کیا ہو تو فردوس اعوان بھی بکری کی طرح لگتی ہیں ، جیسے کسی بکری کو عینک پہنا دی ہو اور سر پر ڈوپٹہ ۔ ایک نیک کام کرنا اپنی بکری کو عینک اور ڈوپٹہ پہنا کر دیکھنا کہ بہن لگتی ہے کہ نہیں ۔ یہ کام میں خود کر لیتی لیکن کیا کروں ، بکری نہیں ہے
اس تبصرے کا جواب دیں