بہت عرصے سے کشملہ طارق اور ڈاکٹر فردوس اعوان کے بارے میں باتیں سننے کو مل رہی ہیں ۔ بات ڈاکٹر کی ہو تو ہمارے زہین میںایک خوبصورت نرم دل  خوش گفتار انسان کی شکل انکھوں کے سامنے آ جاتی ہے اور سفید کوٹ سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ خیر جعلی ڈگری کی طرح جعلی ڈاکٹرز بھی بہت پائے جاتے ہیں ۔ داکٹر فردوس اعوان صاحبہ نے کہا کہ ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر ضرور لگایا جائے۔ جب ان کی اور کشملا طارق کے درمیان دنگل ہوا ۔ اس کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ فرودس اعوان ڈاکٹر نہیں ہیں ۔کچھ نے کہا کہ جانورں کی ڈاکٹر ہیں ۔ اب وہ ڈاکٹر ہیں یا نہیں یہ تو خدا جانتا ہے لیکن انکی گفتگو سننے کے بعد یہی لگا کہ وہ ڈنگر ڈاکڑ ہیں کیونکہ جس گائے بکری ۔ بھنس گھوڑی کی طرح وہ گفتگو فرما رہی تھی ۔ اگر حقیقت میں یہ زبان ان جانورں کو سمجھ آ جاتی تو وہ بھی شرم سے ڈوب مرتے۔ اور ایک دوسرے سے کہتے کہ ہم تو جانور ہیں نہیں سمجھتے اچھی گفتگو لیکن ہماری ڈاکٹر توبہ توبہ ۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہو کہ فردوس اعوان جیسی خواتیں جن کو اس بات کی تمیز نہیں کہ بات کیسے کی جاتی ہے ۔ وہ ہمارے لیے کیا کریں گی وہ پاکستان کے لیے کیا کریں گی۔