میرے گھر کے سامنے ایک ٨٠ سالہ خاتون رہتی ہیں ۔ جوکے گوری عیسائی ہیں۔ دو بیٹے ہیں میاں ١٥ سال پہلے وفات پا چکے ہیں ۔جن کو وہ اپنی ہر بات میں یاد کرتی ہے ۔۔وہ اکثر مجھے کہتی ہے کہ میرے پاس بہت کچھ ہے ایک بار میرا میاں واپس آ جائے ۔ اور اس خاتون کی انکھوں سے آنسو روا ہو جاتے ہیں ۔اور  اس کا میاں اور دونوں بیٹے مسلمان ہیں ۔ اسلام کے بارے میں اس نے تھوڑا بہت پڑھا ہے ۔ماشاء اللہ اور کئی چھوٹے چھوٹے عربی کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔ اس خاتون کا زیادہ تر وقت دوسروں کی مدد کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ میرے محلے میں صرف ہم مسلمان فیملی ہیں ۔ باقی سب لوکل لوگ یعنی عیسائی  ہیں ۔ مجھے بھی وہ کئی دفعہ کہہ چکی ہے کہ بازار سے کچھ منگوانا ہو تو مجھے بتاو۔ آج میں اپنے کسی کام سے باہر نکلی تو سامنے سے اس نے ہیلو ہائے کی اور میرے قریب آکر حال چال پوچھا۔ پھر اس نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ تانیہ تم نے بی بی سی پر خبریں دیکھی ہیں ۔ جن میں کئی لوگ مر گے ہیں ۔ میں نے کہا ہاں دیکھی ہیں بہت افسوس ہوا ۔ پھر اس نے سوال کیا یہ قادیانی کون ہیں ۔ میں نے جواب میں کہا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں ۔ تو جواب میں اس خاتون نے کہا جھنوں نے مارا ہے وہ تو مسلمان ہیں نا ۔