کیا مسلمان کو یہ زیب دیتا ہے؟
میرے گھر کے سامنے ایک ٨٠ سالہ خاتون رہتی ہیں ۔ جوکے گوری عیسائی ہیں۔ دو بیٹے ہیں میاں ١٥ سال پہلے وفات پا چکے ہیں ۔جن کو وہ اپنی ہر بات میں یاد کرتی ہے ۔۔وہ اکثر مجھے کہتی ہے کہ میرے پاس بہت کچھ ہے ایک بار میرا میاں واپس آ جائے ۔ اور اس خاتون کی انکھوں سے آنسو روا ہو جاتے ہیں ۔اور اس کا میاں اور دونوں بیٹے مسلمان ہیں ۔ اسلام کے بارے میں اس نے تھوڑا بہت پڑھا ہے ۔ماشاء اللہ اور کئی چھوٹے چھوٹے عربی کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔ اس خاتون کا زیادہ تر وقت دوسروں کی مدد کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ میرے محلے میں صرف ہم مسلمان فیملی ہیں ۔ باقی سب لوکل لوگ یعنی عیسائی ہیں ۔ مجھے بھی وہ کئی دفعہ کہہ چکی ہے کہ بازار سے کچھ منگوانا ہو تو مجھے بتاو۔ آج میں اپنے کسی کام سے باہر نکلی تو سامنے سے اس نے ہیلو ہائے کی اور میرے قریب آکر حال چال پوچھا۔ پھر اس نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ تانیہ تم نے بی بی سی پر خبریں دیکھی ہیں ۔ جن میں کئی لوگ مر گے ہیں ۔ میں نے کہا ہاں دیکھی ہیں بہت افسوس ہوا ۔ پھر اس نے سوال کیا یہ قادیانی کون ہیں ۔ میں نے جواب میں کہا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں ۔ تو جواب میں اس خاتون نے کہا جھنوں نے مارا ہے وہ تو مسلمان ہیں نا ۔

مسلمانوں کے مزید کرتوت یہاں جاکر دیکھ لیں!
http://www.theajmals.com/blog/2010/05/%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%90%da%a9-%d9%86%d9%8a%d8%a7-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b4%db%81/
جنہیں ایسے واقعات تماشہ لگتے ہوں میرے نزدیک انہیں مسلمان کہنا اسلام کی توہین ہے!
اس تبصرے کا جواب دیں
لگتا ہے ایک اور آئیڈیولاجیکل سٹیٹ کی بنیاد پڑ گئی اور یو این کو سیف ہیونز بنانے کا موقع ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عبداللہ بات قادیانی یا کسی اور کی نہیں ہے بات ہے کیوں کسی کی جان لی جائے ۔ یہاں ہم مزہب پر بات کرنے نہیں آئے اور نا ہی ہمارا مقصد اپنے آپ کو پکا مسلمان کہنے کا حق ہے یہ تو خدا ہی جانتا ہے ۔ اور روزحشر کا حساب ہر ایک نے دیناہے
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جو ایسا کر رہے ہیں نام مسلمانوں کا بدنام ہو رہا ہے ۔۔اسلام قطعاً بلا وجہ غیر مسلموں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا ۔۔ یہ سن کیوں ہو رہا ہے سمجھ نہیں آتا ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جس ملک میں 62 سال تک صرف اسی کام کی پریکٹس کی گئی ہو وہاں ایسا ہونا کچھ عجیب بات نہیں!
اس تبصرے کا جواب دیں
غیر مسلم اقلیت تو نماز جمعہ ادا کر رہی تھی اور مسلمان اکثریت سے تعلق رکھنے والے ان کو قتل کر رہے تھے فرض نماز چھوڑ کر۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل۔۔۔۔۔۔ قتل تو بہت بڑی بات ہے۔۔۔۔ کسی کی دل آزاری کرنا گویا بیتااللہ کو ڈھا دیا۔۔۔۔ تو یہ کون ھے اسلام سے تعلق رکہتے ہیں جو بے دریغ لوگوں کا نا حق خون بہاتے ہیں۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
واقعی یہ اقلیت کیساتھ زیادتی ہے اور اس کی بھرپور مزمت کی جانی چاہیے۔
میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … جعلی ڈاکٹر
اس تبصرے کا جواب دیں
فکر پاکستان پھر ہم اس پر بات کریں کہ وہ غیر مزہب غیر مزہب کو قتل کر رہے ہیں ۔ اور اگر وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ تو ہمیں کیسے پتا چلے گا ،
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ پہلا جمعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی بہت جمعے گزر گے ۔ اسوقت ہیمں اس بات کا خیال کیوں نہیں آیا ۔بقول عبداللہ کے 62 سال سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ سامنےاب آیا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا پاکستان سب سے بڑا دکھ اس بات کا ہے کہ ہم انسانی جان اتنی اسانی سے لے رہے ہیں ۔ اور ہمارے لیڈران بس مزمت کرکے یا تو غیر ملکی دورں پر نکل جاتے ہیں ۔ یا پھر ملک میں کسی اور بات کی طرف عوام کی توجہ مرکوز کروا دیتے ہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ضیا الحسن خان انسانیت کہاں ہے ۔ میں تو حیران ہوں۔ کہ غیر مزہب کے لوگوں نے وہ سب کچھ اپنا لیا ہے ۔ جس کے لیے مسلمان اپنے آپ کو تمام مزاپب سے برتر سمجھتے تھے، ۔ آج ہمارے نام کے ساتھ دشتگردی قتل بے حسی ۔ دل آزاری اور جانے کیا کیا لکھا جا رہا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
قادیانی مسلمان نہ ہوں، انسان تو ہیں نا!
اس تبصرے کا جواب دیں
دہشت گردی کا کوئی مزہب نہیں ہوتا
ریحان کے بلاگ سے آخری تحریر … ! انٹیرنیٹ کر دیا بین ۔۔ پر سوچ کا کیا
اس تبصرے کا جواب دیں
“دہشت گردی کا کوئی مزہب نہیں ہوتا”
اس گھسے پٹے جملے کا مطلب ہے کيا؟ سوائے اسکے کہ دہشتگردوں کی مذمت نہ کرنے کا بہانہ-
اس تبصرے کا جواب دیں
زیادتی نہ اقلیت کے ساتھ ہے نہ ہی اکثریت کے ساتھ
زیادتی پاکستانی کے ساتھ ہے
مسلمانوں کے ساتھ ہے
مسلمان کو بدنام کیا جارہا ہے
دہشتگرد اور جانے کیا کچھ کہا جائےاس کے لئے جانے کیا کچھ کیا جا رہا ہے
یہ سب مسلانوں کے خلاف ہے کے یہ اقلیت کو بھی تحفط نہیں دے سکتے اور جانے کیا کیا
یہاں مسلمان مسلمان کو سر عام مار رہا ہوتا ہے
برداشت ہی ختم ہو چکی ہے
اب آپ عام دیکھ سکتے ہیں سرعام کالی گلوچ جھگڑا فساد کساد بازاری فرقہ واریت نسلی دینی فسادات
یہ سب کیا ہے
یہ بھی دہشت گردی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
“میں نے جواب میں کہا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں ۔ ”
یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ہر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پستی کی طرف جا رہا ہے
پھپھے کٹنی کے بلاگ سے آخری تحریر … ميرے مطابق
اس تبصرے کا جواب دیں
عارف بالکل درست کہا ۔ہم نے سب سے پہلے انسانیت کو دیکھنا ہے
ریحان ۔یہ بات کہہ لینا اسان تو ہے ۔ لیکن کیا کیا جائے اصل بات یہ ہے ۔ ہم کب سے امریکہ انڈیا کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ کافروں کی چال ہے ۔ اس چال کو روکنے کوئی حل ہے ہمارے پاس
اس تبصرے کا جواب دیں
راحیل مسلمانوں نے خود کو بدنام کیا ہے ۔ اگر آج غیر مزہب والے ہم سے سوال کرتے ہیں ہمارے کرتووں کی وجہ سے دنیا میں ہم بدنام ہوئے ۔اپنے عمل سے ۔ کہیں ہم نے صبر ع تحمل کا مظاہرہ کیا نہیں ۔ اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں اپنی دوکان چلا رہی ہیں ان کو اپنے ٹکٹ سے مطلب ہے اپنی کرسی کا خیال ہے ۔ پہلے تو پھر بھی عورت زات سمجھ کر مرد حضرات عزت کر لیتے تھے اب تو رہ چلتی عورت چاہے وہ ماں برابر ہو اس کا بھی لحاظ ختم ہو گیا ہے۔
پھپھے کٹنی دعا کروپتھر کے دور میں نا پہنچ جاہیں ۔
عثمان آپ نے کس سے سوال کیا بات سمجھ نہیں آئی ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
سسٹر ۔
ایک بوڑھی خاتون اور بقول آپ کے اسلام کے بارے میں کم معلومات رکھنے والی کا لاعلمی کی بنیاد پہ دہشت گردی میں ملوث قاتلوں کو مسلمان کہہ دینا اچنھپے کی بات نہیں ۔ جس وقت پولیس کے جوان اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرت ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کر رہے تھے اسی دوران قادیانیوں کے ولائیتی اور امریکی خلیفہ کے یہ بیان آچکے تھے کہ اس قتل و غارت میں ریاست پاکستان اور غیر قادیانیوں یعنی عام مسلمانوں کا قصور ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ نیز قادیانی اس پورے عمل میں پاکستان اور عوام کے خلاف پروپگنڈہ کرنے میں اپنے خلفاء کے ساتھ یک زبان ہیں۔ اور کوئی جگہوں پہ نام بدل بدل کر مسلمانوں اور ریاست پاکستان کے خلاف اگلنے میں شامل ہو گئے ہیں ۔
اس قتل و غارت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسلام میں انسانی جان کا قتل منع ہے۔ جبکہ اس واقعے میں لگ بھگ اسی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس واقعے کے ذمہ داران اور مناسب حفاظتی تدابیر نہ کر سکنے والے حکام کے بارے تحقیات ہونی چاہئیں۔ اور قاتلوں کے بارے میں پتہ چلا کر باقی بچ جانے والے کو گرفتار کیا جائے۔
میں بھی مذمت کرتا ہوں اور پورے پاکستان کے مسلمان وحشت اور درندگی کی مذمت کرتے ہیں۔ مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ قادیانی اپنے عبادت خانوں پہ دہشت گردی کے حملوں اور اسکے نتیجے میں ہونے والی قتل وغارت کو جواز بنا کر نئے سرے سے ریاست پاکستان اور پاکستان کے مسلمان عوام کو بدنام کرنا شروع کر دیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں کی مساجد پہ حملے ہوتے ہیں اور مسلمان نامزی اور علمائے دین شہید ہوتے ہیں تو کتنی باری قادیانی تنظیمیں اسکی مذمت کرتی ہیں۔؟ جبکہ ایسے حملوں کے پیچھے کس کا مخفی ہاتھ ہے۔ سب جانتے ہیں مگر کسی نے کبھی قادیانیوں کو موردِ الزام نہیں ٹھیرایا۔ تو پھر قادیانیوں کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ اسلام کو بہ حیثیت مذہب ، اسلام کے ماننے والوں کو بہ حیثیت مسلمان، اور پاکستان کو الزام دیں۔؟
اول تو یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ دوئم اگر قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے یہ کاروائی کی گئی ہے تو بھی یہ چند لوگوں کا فعل ہے ۔ اسے اسلام اور پاکستان سے نہ جوڑا جائے۔ اگر پھر بھی قادیانی سابقہ روش کو جاری رکھتے ہوئے ایسے مذموم واقعے کو پاکستان میں مذھبی منافرت پھیلانے کے لئیے استعمال کرتے ہیں تو اس سے مزید خرابی پیدا ہوگی۔
ایسے میں ایک بوڑھی خاتون اور بقول آپ کے اسلام کے بارے میں کم معلومات رکھنے والی خاتون کا لاعلمی کی بنیاد پہ دہشت گردی میں ملوث قاتلوں کو مسلمان کہہ دینا حیرانگی کی بات نہیں ۔ کیونکہ وہ پاکستانی مسلمانوں کے خلاف اُسی منفی پروپگنڈے کا شکار ہوئی ہیں۔ جو اس افسوسناک واقعے کی شروعات کے ساتھ ہی نئی توانائی سے پاکستان کے خلاف شروع ہوچکا ہے – قادیانیوں کا مزاج یوں بن چکا ہے کہ چڑیا جنوبی افریقہ میں ماری جائے الزام پاکستان پہ رکھ دیتے ہیں۔ اور قارئین کو بتاتا جاوں یہ منفی پروپگنڈا آنے والے دنوں میں شدید زور پکڑے گا ۔جبکہ ہم اس واقعے کی مذمت قادیانیوں کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام کی انسانی تعلیمات کی وجہ سے کرتے ہیں۔
بہر حال اس واقعے کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آسان سی بات ھے ۔دھشت گردوں نے دھشت گردی کی۔اس میں اسلام اور مسلمان کہاں سے آگے؟کروسیڈ وار دوبارہ کس نے شروع کی؟اچھا اچھا وہ تو بابا بش جی کی زبان پھسل گئ تھی۔دھشت گردوں نے ایک غیر انسانی فعل کیا اس کی مذمت کی جائے۔ دوسرے مذھب کے ماننے والوں سے رحمت انسانی قسم کی مسلمانی کا سرٹیفکیٹ لینے کی کیا ضرورتھے۔مجھ سے بھی جاپانی دوستوں نے فون کر کے پوچھا ۔کسی نے بھی مسلمانی یا اسلام کو برا نہیں کہا۔پتہ نہیں کیوں ہر کوئی ہر معا ملے میں اسلام کو کھینچ لاتے ہیں۔کیا سب کو دوسرے مذھب والوں سے مسلمانی کا سرٹیفیکیٹ چاھئے ھے؟
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … الٹی کھوپڑیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ تو کسی نے انسان بننا ہے اور نہ ہی کسی کو انسان سمجھنا اور بننے دینا ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
قادیانی فرقہ کو کافر کہنے والے خود گناہ کے مرتکب ہیں۔ ان دہشتگرد حملوں نے ویسے ہی قادیانی مسلمانوں کو رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے، خدا کے واسطے ہمارے شہدا کی قربانی کو بیکار کی باتوں میں نا ضائع کریں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
قادیانیوں سے ہمارا مسلکی اختلاف نہیں ھے۔مذہبی اختلاف ھے۔ایسے ہی جیسے عیسائیوں اور ھندوں یا یہود سے ھے۔قادیانی صرف قادیانی ہیں۔مسلمان ہم انہیں تسلیم نہیں کرتے۔برائے مہربانی قادیانی حضرات اپنے آپ کو مسلمان نہ لکھیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … الٹی کھوپڑیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم انہیں تسلیم نہیں کرتے، وہ تو دعویٰ کرتے ہیں نہ۔ آپ کیسے روکیں گے؟
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردیس میں تبلیغ دین
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ تسلیم کر رھے ھو تو روک لو۔یا ہو؟
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … الٹی کھوپڑیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم اپنا انصاف اپنے اللہ پر چھوڑتے ہیں وہی تمام لوگوںکو ہدایت نصیب کریں
اس تبصرے کا جواب دیں
محمدی بیگم کا انصاف بھی اللہ پر چھوڑا ھوا ھے۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … الٹی کھوپڑیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئین پاکستان انہیں روکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دفعات ۲۹۸۔سی اور۲۹۸۔بی۔۔۔۔۔۔۔کے تحت یہ جرم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور قابل گرفت بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … قادیانی جماعت خانوں پر بم دھماکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل مذمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
نگیہ سلیم بات یہ نہیں کہ آپ کیا ہیں ہم تو اس بات پر افسوس اور پرزور مزمت کرتے ہیں ۔ کہ انسانی جان لینے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
اللہ سب سے بڑا منصف ہے اور اسے کی ذات جانتی ہے کہ اصل کیا ہے۔ جس بھی انسان کے ساتھ ذیادتی ہوئ ہے چاہے وہ محمدی بیگم ہوں یا کوئی اور سب کا انصاف ہوگا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اور جن حضرت نے آئین کا حوالہ دیا ہے ان سے میں صرف اتنا پوچھوں گی کہ کیا اس آئین میں دہشتگردی کے لئے کوئی دفعہ ہے۔؟
اس تبصرے کا جواب دیں
جگہ ھے تو ھے لیکن کتے کی دم ھے
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … فیض احمد فیض
اس تبصرے کا جواب دیں
بے گناہ لوگوں کے قتل کا حامی تو انسان کہلانے کا حقدار ہی نہیں
پچھلے آٹھ دس سالوں میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمان قتل کئے گئے
اس وقت کسی کو یاد نہیںآیا
اب اس حملے کی آڑ میں مظلومیت کا ڈرامہ رچنا شروع ہے،
جو اس بلاگ کے چند تبصروں سے ظاہر ہے
جہاںتک قادیانیوںکے مسلمان ہونے کا تعلق ہے
تو مرزا ناصر کو 52 گھنٹے تک دلائل دینے کا موقع ملا تھا
اس وقت کی کاروائی کا ریکارڈ نکال کے پڑھ لیں
اور اگر یہ اتنے ہی عظیم مسلمان ہیں
تو اسرائیل کیا امب لینے جاتے ہیں؟
جعفر کے بلاگ سے آخری تحریر … درمندانہ اپیل بنام بلاگ ایوارڈز انتظامیہ
اس تبصرے کا جواب دیں
ان 52 گھنٹوںکی کاروائی کو حکومت شائع کر سکتی ہے۔ جماعت احمدیہ تو عرصے سے یہ مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ شائع کریں- دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاے گا۔ ہماری التجاحیں صرف اللہ کے سامنے ہیں- آپ کو اگر کوئی یاد دھانی ان مظالم کی کرواتے ہیں تو ملک کے فائدے اور قوم کی ہمدردی کی وجہ سے کہتے ہیں۔
یہ طالبان کون سی تنظیموں میں پلے بڑھے- کس کے چندوں پر مدرسوں میں بہکاے گئے؟ کن لوگوں کو مار پیٹ کر، قتل کر کے اپنی بربریت کو اسلامی جہاد کا چولہ پہنایا- یہی لوگ اب پورے پاکستان کو کافر کہتے ہیں اور سب کو قتل کرتے ہیں- ان سب کا آغاز ان ملانوں کے مدرسوں سے ہوتا ہے جو ردقادیانیت میں پیش پیش ہیں-
اگر ناگوار گزرتی ہیں تو ان باتوں پر آنکھ بند کر لیں- میرا تو فرض ہے کہ آپ کو اس عذاب سے بچانے کی کوشش کروں جو اس ملک پر طاری ہے اور اگر قوم اور اس کے لیڈر اب بھی نہ سمجھے تو خدا تو سمجھانے پر پوری طرح قادر ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
قادیانیوں سے گزارش ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو سمجھیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی آخر الذماں مانیں۔ اسلام کو سچے دل سے قبول کریں ۔ پھر بے ش ہم مسلمانوں کو عقل و ہوش کا واعظ کریں۔ اگر قادیانی یوں نہیں کرتے اور مسلمانوں کو مفٹ میں عقل و دانش بانٹنا چاہتے ہیں تو پھر قادیانیوں سے بڑھ کر کوئی منافق نہیں۔ اور یہ جو قادیانیوں نے ہر بات میں “معاملہ اللہ پہ چھوڑا ” کی رٹ لگا رکھی ہے تو عرض ہے کہ آپ جس اللہ تعالٰی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے تو پھر اللہ کو کیا مانتے ہونگے؟۔ یاد رہے کہ وہ اللہ مسلمانوں کا بھی خدا ہے، صرف قادیانیوں کا نہیں۔
پاکستان میں مسلمانوں کی مساجد پہ حملے کون کرواتا ہے -؟ سبھی جانتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم نے “اللہ پر چھوڑنے” کی رٹ اس لئے لگائی ہے کیونکہ یہ ہمارا ایمان ہے۔ ہم کسی پر مسلمان یا کافر ہونے کا فتویٰ نہیں لگاتے اور نا ہی کسی بھی شخص یا آئین بنانے والے کو یہ حق دیتے ہیں۔ آپ لوگ بھی ہماری طرح انسان ہیں خدائی کے دعوے نا کریں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
نگینہ جی میں جاوید بھائی سے مکمل اتفاق کرتی ہوں ۔ دیکھیں ہر مزہب میں خدا کا تصور موجود ہے ۔ لیکن جب تک وہ اللہ کے بتائی ہوئی باتوں میں سے کسی ایک بات سے بھی انکاری ہے تو وہ مسلمان ہونے کا دعوہ نہیں کر سکتا ۔ یہ ہم نہیں قرآن کہتا ہے ۔ جس کے بعد میں خود سے کوئی ردوبدل نہیں کر سکتے ،جب اللہ پاک نے رسول صلی اللہ علیہ واوسلم کو آخری نبی کہہ دیا تو پھر بعث کی کوئی کنجاش باقی نہیں بچتی ۔باقی اللہ پاک ہم سب کو اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ جو میرے خدا اور رسول کا ہےآمین
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اگر ہم جذبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دلیل کی بنیاد پر بحث جاری رکھتے تو قادیانیوں کی نوجوان نسل کو واپس اسلام کی طرف لایا جا سکتا تھا۔ ہمارے سخت رویوں اور حد سے بڑھی نفرت نے ان کے دل سخت کردیے ہیں۔۔۔اور دلیل کا دروازہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔
ہم نے پاکستان میں تو ان کا ناطقہ کسی حد تک بند کردیا۔۔۔لیکن اب وہ برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں یہ حال ہے کہ وہ بڑے آرام سے ریفیوجی کیس دائر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگ، بلاگر اور بلاگنگ پر تبصرہ
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان بھائی ۔۔۔۔۔۔۔آپ نے درست کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتنہ قادیانیت انگریزوں کی ہی پیداوار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا انہیں تحفظ تو دیں گے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام احترام انسانیت سکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہی تو وہ چیز ہے جو غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترغیب اسلام کی نیت ہو تو نرم رویہ اختیار کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسلمان قادیانیوں کے نہیں “قادیانیت” کے خلاف ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاوید گوندل صاحب اور تانیہ بہنا کے موقف کی تائید ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سائبر ورلڈ پر تحفظ اسلام و پاکستان کے امین ہیں جاوید گوندل صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی انہیں عمر خضر عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلامت تا قیامت رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم ماحولیات منایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک بات رہ گئی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قادیانیوں نے اسلام اور امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈاکہ ڈالنے کی جسارت کی ہے، اور اس حوالے سے اپنی مذموم سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس وجہ سے” قادیانیت” کے حوالے سے مسلمان ان کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان کےلیے سب سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم ماحولیات منایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان اور خالد بھائی بہت اچھی باتیں کہیں ہیں ۔ کاش کے اللہ پاک ہیمں عام زندگی میں ایسا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اسرائیل میں امب نہیںملتے کچھ اور ہی لینے جاتے ہیں 52 گھنٹوں کا ریکارڈ موجود ہے اور وہ شائع بھی ہو چکا ہے جلدی ہے سامنے لاؤںگا انشاءاللہ
جی ہاں وہ ایک کتاب کی صورت میں شائع ہو چکی ہے اور منظر عام پر بھی آ چکی ہے میں نے کافی حد تک پڑھ لی ہے آپ کی خدمت میں بھی پیش کر دوں گا انشاءاللہ کوشش کرتا ہوں اس کی انپیچ فائیل مل جائے ورنہ خود ہی ٹائپ کر کے آپ کے سامنے رکھ دوںگا
اور خدا پوری طرح قادر ہے اس پر کوئی شک نہیں یہ بات آپ کو بھی اچھی طرح سمجھ آ جائے گی
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر یہ کتاب “پارلیمنٹ میں قادیانی شکست” ہے تو یہ میں نے پڑھ لی ہے۔ 52 گھنٹے کی کاروائی ایک چھوٹے سے کتابچے میں سمو دینا ایک معجزہ ہی لگتا ہے۔ اللہ وسایا صاحب کا ہی کمال ہے کہ شائد صفحہ نببر سترہ پر ایک رکن اسمبلی فرماتے ہیں کہ مرزا ناصر سے جب کوئی سوال کرو وہ عربی میں لمبی لمبی تقریریں شروع کر دیتے ہیں- مزے کی بات یہ ہے کہ ان تقاریر کا کوئی ثبوت ان صفحات میں موجود نہیں ہے۔
مولانا دوست محمد شاہد، جو احمدی وفد کے ممبر تھے-انہوں نے ایک طویل انٹرویو جماعت کے ٹی وی سٹیشن پر ریکارڈ کرایا ہے اور یو ٹیوب پر ملمک روداد دستیاب ہے۔ اسے بھی ملاحظہ فرما لیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
دُم ٹیڑھی ہے۔ اگر معجزہ ہوجائے خدا خود طورِسینا پہ جلوہ افروز ہو کر فیصلہ دے دے کہ قادیانی المعرف “احمدی” مرزائی کافر ہیں۔ قادیانی بھی بھی اپنے آپ کو کافر نہیں مانیں گے۔اور لایعنی قسم کی بحث سے مسلمانوں کو دہوکہ دینے کی کوشش کریں گے۔ جھوٹ اور مکاری سے کام لیں گے ۔اور شرارت سے باز نہیں آئیں گے ۔ جب شرارتوں کا ردعمل آئے گا پھر ساری دنیا میں چیختے پھریں گے۔ جیسے اس طرح یہ پاکستان اور مسلمانوں ما ناطقہہی تو بند کروا لیں گے۔
مسلمانوں کے جہاد کے جذبے سے لاتعلق کرنے کے لئیے انگریزوں نے مرزا قادیان کذاب کو بغل لیا تھا۔
لعنت اللہ علی الکاذبین۔
جھٹوں پہ خدا کی لعنت
اس تبصرے کا جواب دیں