امریکہ سے آج میری کزن کا فون آیا پہلے گلے شکوئے ہوئے لیکن بہت محبت اور خلوص سے ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ اس کے بعد ہم اپنے بچپن کے دور کی باتیں کرنے لگے کہ کتنا اچھا وقت ہوتا تھا ۔ پورا خاندان ۔ خوشی غمی میں ایک ساتھ ۔ ہمارے بڑوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی نجہ ہوتی تھی ۔ لیکن اگلے لمحے بھول جاتے تھے۔ ۔کوئی بیمار ہوتا تو سارے رشتےدار اپنی اپنی خدمات پیش کرتا ۔کسی پر کسی قسم کا کوئی احسان نا جیتایا جاتا کہ تمھاری ماں یا باپ کے لیے میں اتنے دن ہسپتالوں میں رہا ہوں یا رہی ہوں ۔ابھی چند سالوں میں ہر کوئی اتنا مصروف ہو گیا ہے ۔ کہ کسی کے پاس فون کرنے کا وقت بھی نہیں ہے ۔ اور جو ملک سے باہر ر رہنے والے ہیں فیملی کا ہر بندہ چاہے وہ بہن ہے کہ بھائی یہی توقع رکھے گا کہ ملک سے باہر رہنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہی یاد کریں وہی فون کرکے اپنے ہونے کا احساس دلاہیں ۔کہاں ہے وہ محبت ۔ کہاں گیا وہ خلوص ۔ کیا ہم اس دور کو واپس لاسکتے ہیں ۔ کیا ہم اپنوں کے ساتھ ویسے رہ سکتے ہیں جیسے ہمارے بزرگ راہ کرتے تھے۔