گیا وقت لوٹ سکتا ہے
امریکہ سے آج میری کزن کا فون آیا پہلے گلے شکوئے ہوئے لیکن بہت محبت اور خلوص سے ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ اس کے بعد ہم اپنے بچپن کے دور کی باتیں کرنے لگے کہ کتنا اچھا وقت ہوتا تھا ۔ پورا خاندان ۔ خوشی غمی میں ایک ساتھ ۔ ہمارے بڑوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی نجہ ہوتی تھی ۔ لیکن اگلے لمحے بھول جاتے تھے۔ ۔کوئی بیمار ہوتا تو سارے رشتےدار اپنی اپنی خدمات پیش کرتا ۔کسی پر کسی قسم کا کوئی احسان نا جیتایا جاتا کہ تمھاری ماں یا باپ کے لیے میں اتنے دن ہسپتالوں میں رہا ہوں یا رہی ہوں ۔ابھی چند سالوں میں ہر کوئی اتنا مصروف ہو گیا ہے ۔ کہ کسی کے پاس فون کرنے کا وقت بھی نہیں ہے ۔ اور جو ملک سے باہر ر رہنے والے ہیں فیملی کا ہر بندہ چاہے وہ بہن ہے کہ بھائی یہی توقع رکھے گا کہ ملک سے باہر رہنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہی یاد کریں وہی فون کرکے اپنے ہونے کا احساس دلاہیں ۔کہاں ہے وہ محبت ۔ کہاں گیا وہ خلوص ۔ کیا ہم اس دور کو واپس لاسکتے ہیں ۔ کیا ہم اپنوں کے ساتھ ویسے رہ سکتے ہیں جیسے ہمارے بزرگ راہ کرتے تھے۔

کامی لوگوں کے پاس تو اپنی بیک سکریچ کرنے یا کروانے کا ٹائم نہیں ہوتا تو وہ دوسروں کی کیا کرینگے ۔اور ہاں اگر بیک سکریچنگ ہی سب کچھ ہے تو ریاست اور فلاحی ریاستیں تو بیکار کی باتیں نہ ہوئیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اور دلچسپ بات ہے کہ آجکل یار لوگوں کے پاس دو دو سیل فون ہیں۔۔۔۔فیس بک پر الگ فنکاریاں کرتے ہیں۔۔۔لیکن قریبی عزیزوں سے بات چیت کا وقت نہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردیس میں تبلیغ دین
اس تبصرے کا جواب دیں
ميرا مشاہدہ ہے 40 سل قبل تبديلی شروع ہوئی يعنی انسانيت سے ماديت کی طرف جو پچھلے 10 سال ميں بہت تزی سے بڑھی ۔ اب ايسا آدمی خال خال ملتا ہے جو ماديت پرست نہ ہو
شاديوں پر صرف پلاؤ ۔ آلو گوشت اور زردہ ہوا کرتا تھا اور کھانے کے بعد لوگ تعريفيں کرتے جاتے تھے ۔ اب دس دس کھانے کھا کر لوگ کيڑے نکالتے ہيں
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اِن شَاء اللہ
اس تبصرے کا جواب دیں
40 سل نہيں 40 سال ۔ درست کر ليجئے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اِن شَاء اللہ
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
سسٹرتانیہ، اس تبدیلی کواگرہم شروع کریں تویہ انشاء اللہ ہمارےبچوں میں منتقل ہوسکتی ہےکیونکہ ہمارےپاس ہی وقت نہیں وقت تونکالناپڑتاہےاورہرکام کوطریقےسےانجام دیناپڑتاہے۔ دراصل ہم لوگوں کوبس تھوڑاساذمہ داری اوراحساس کوپیداکرناجوکہ کچھ مشکل نہیں لیکن جب تک کسی کام کوشروع نہیں کریں گےتووہ کیسے ہوگا؟
والسلام
جاویداقبال
اس تبصرے کا جواب دیں
تو وہ ون ڈش کے قانون کا کیا بنا؟
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردیس میں تبلیغ دین
اس تبصرے کا جواب دیں
مادہ پرستی تو جی ہمیشہ سے ہے ۔ مادہ پرستی کی تعریف اور مادہ پرستوں کی تعداد میں تبدیلی بھی آتی رہتی ہے ۔ پر کیا بات ہے ایسے کامیاب لوگوں کی جو خود تو مادہ پرست ہوں مگر دوسروں کو مادہ پرست بننے نہ دیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اسلام علیکم
آج کل رشتوں میں وہ خلوص رہ ہی کہاں گیا ہے۔ ہم خود پسند ہو چکے ہیں۔
تعلقات صف وہاں بناتے ہیں جہاں ہیں ظاہری فائدہ نطر آرہا ہو۔ سارا قصور ہماری
تعلیم و تربیت کا ہے۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اب لوگ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتے ایک ہی شہر کے رہنے والوں سے 6 ماہ سے سال بھر بعد ملاقات ہوتی ہے یا شادیوں پر آنے والے وقتوں میں شائد یہ بھی نا رہے ایک دوسرے کے سامنے سے چچا ذاد گزر رہے ہوں گے اور سلام کا بھی وقت نہیں ہر گا۔
قطع رحمی کی سزا کیا ہے یہ بھول رہے ہیں ورنہ ایسا نہ ہو شائد
طارق راحیل کے بلاگ سے آخری تحریر … جسے اللہ رکھے۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جواب ہے نہیں
ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر … گرو گھنٹال کے چار گر (سروس پیک ون)
اس تبصرے کا جواب دیں
آجکل ہر بندہ
یہ ہی کہتاہے کہ اس کے پاس وقت نہیں ہے چاہےوہ پورے دن آوارہ گردی کرتا پھرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان بالکل درست کہا کہ ایک تو یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ فون ہے لیکن صرف دوسرے کریں ۔
افتخار جی آپ نے اپنی زندگی کے 40 سالوں میں بس یہی تبدیلی دیکھی میرے ابا تو کہتے ہیں ہر پہلے اور آج کے انسان میں سب سے بڑی جو تبدیلی آئی ہے ۔ وہ بے شرمی ہے ۔ بے شرمی سے مراد کہ لوگ اتنی بےحسی اور منہ پھٹ بے لحاط ہو گے ہیں کہ پہلے ان کو اپنی عزت کا احساس ہوتا تھا کہ کسی کو کچھ کہہ دیا تو اپنی عزت خراب ہو گی ۔ آپ کی کیا رائے ہے
جاوید بھائی تبدیلی لانے کے لیے تھوڑی بہت محنت کرنی پڑے گی اور یہ کوئی قانون نہیں ہے پاکستان کا جو نافذ نا ہو سکے ۔ انشااللہ کوشش ہماری باقی اللہ پر چھوڑ دنیا چاہے
اس تبصرے کا جواب دیں
ہیلو ہاے ہائے پہلے کامی کا تبصرہ غطی سے میری طرف آ گیا ۔ چلو کوئی بات نہیں ، اب جہاں تک کامیاب لوگ مادپرست ہیں ۔ اس کا جواب بھی وہی دے سکتے ہیں کہ کیوں وہ دوسروں کو روکتے ہیں
ننھا بچہ پہلے تو آپ کے آنے کا شکریہ ۔ پتا نہیں اتنے ننھے سے بچے ہو لکین باتیں اتنی سمجھداری کی ، ننھابچہ یہی تو ہمارا مقصد ہے کہ اس کو ختم کیسے کریں
راحیل یہ ہمارے اپنے کیے کی سزا ہے ۔ ہم باہر رہتے ہیں ہیمں خود اپنے ہونے کا احساس دلانا پڑتا ہے ۔ جب کبھی فون کرو جواب آتا ہے کہ کتنی بڑی عمر ہے ابھی کل ہی یاد کر رہے تھے۔ یہی حال دوستوں کا بھی ہے ان کو یاد کرو تو ٹھیک ورنہ اپنے سے وہ یہ گوارہ نہیں کرتے کہ فون کر لیں ۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اسلام یہ کہتا ہے اسلام وہ کہتا ہے ۔ اسلام میں سب سے پہلے تو اپنوں کا خیال رکھنا ہے ۔ صلہ رحمی کہاں ہے ۔
ڈفر کہہ دو کچھ نہیں کہہ دو کچھ نہیں کہہا جائے گا ۔ ہم سب کا وعدہ رہا
فرحان بیکار کاموں کے لیے وقت ہی وقت ہے آوارہگری سب سے مشکل کام ہے آپ بھی کام کرتے ہو ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نے کچھ دِن پہلے ایک اُردو سائیٹ کا وزٹ کیا تھا جس میں جس میں آپ اپنے بلاگ کا فیڈ URLدے سکتے ہیں میں اُس کا لنک بھول گیا ہوں اگر آپ میں سے کسی کو اس سائیٹ کے بارے میں پتا ہو تو برائے مہربانی سائیٹ کا لنک شئیر کر دیںیا پھرمجھے joiya_pk15@yahoo.comپےسینڈ کر دیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں