ابھی کل سے کراچی طوفان کے بارے میں میڈیا بار بار بتا رہا ہے ۔ لیکن آخری خبریں آنے تک شکر ہے کہ ابھی تک سمندری طوفان نہیں آیا اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ آئے بھی نہیں ویسے ملکی حالات بھی کسی طوفان سے کم نہیں ہیں
اس طوفان سے مجھے یاد آیا کہ چند سال پہلے پشاور میں کسی نے یہ افوہ پھلائی تھی کہ صبح سویرئے زور کا طوفان آئے گا جو بارش کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ۔ یا پھر زلزلہ بھی ہو سکتا ہے ۔ جس سے پشاور تباہ ہو جائے گا ۔ یہ خبر رات کے تین بجے لوگوں نے ایک دوسرے کے گھر فون کر کے دی بات ہوتے ہوتے مساجد تک جا پہنچی ۔ مولانا حضرات تیار ہو کر بیٹھ گے ۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا بارش شروع ہوئی ۔ لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنا شروع کر دیا بارش مزید تیز ہوئی ۔ اب لوگوں نے سخت سردی کے باوجود صبح کوئی 6 بجے کے قریب مساجد سے اعلان ہونے کے بعد اور فون پر ایک دوسرے کو ہدایات دیتے ہوئے کھلے میدانوں کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا ۔اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی گھروں سے باہر نکل آئے اور طوفان کا انتظار کرنے لگے ۔ پھر اعلان ہوا کہ ابھی تھوڑی دیر میں زلزلہ آنے والا ہے ۔بس پھر کیا تھا سب کلمہ پڑھنے لگے ۔ کوئی جا کر ٹی وی آن کر کے خبریں سننا گوارہ نہیں کرتا کہ زرا ایک نظر خبروں پر بھی ڈال لیں ۔ جس نے جو کہا سب اس کے پیچھے روانہ۔ ۔۔۔وہی مشال کتا کان لے گیا ۔ اپنا کان نہیں دیکھیں گے کتے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیں گے۔۔۔۔۔کیا کریں ہم ہیں پاکستانی ۔۔۔۔۔