کوئی شعر کہو یا غزل چھیڑو
——————————————————————————–یوں تو ہر بلاگ پر اشعار اور غزلوں ۔ گانوں ، کی پوسٹ پڑھنے کو ملتی رہتی ہے ۔ یہ غزل اچھی لگی تو سوچا چلو سب مل کر کچھ نا کچھ لکھتے ہیں ، ۔۔تو پھر کیا خیال ہے آپ کا ۔ ارے جی آپ ہی کو کہہ رہی ہوں ۔ یہاں وہاں کیا دیکھا جا رہا ہے ۔ اور ساتھ میں سوچا بھی جا رہا ہے سوچنا اچھی بات ہے ۔ لیکن اتنا زیادہ بھی نہیں کہ؟؟
غزل
ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے
بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میں
دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا
یاد کا سر و ساماں جلاتے جائیے
رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں
جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے
زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے
بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے
آخری رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا
مسکراتے جائیے آنسو بہاتے جائیے
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اس گلی میں جائیے تو لرکھڑاتے جائیے
آپ کو جب مجھ سے شکوا ہی نہیں کوئی تو پھر
آگ ہی دل میں لگانی ہے لگاتے جائیے
کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر
جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے
آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروت تو پلاتے جائیے
ہے سرِ شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ
آگ تو اس گھر میں جانا نہ لگاتے جائیے
جون ایلیا

واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔
فرحان دانش کے بلاگ سے آخری تحریر … روایتی گاؤں کا مُکھیا
اس تبصرے کا جواب دیں
تجھ سے کوئ گلہ نہیں ھے
تجھ سے کوئ گلہ نہیں ھے
قسمت میں میری صلہ نہیں ھے
بچھڑے تو نجانے حال کیا ھو
جو شخص ابھی ملا نہیں ھے
جینے کی تو آرزو کب تھی
مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ھے
جو زیست کو معتبر بنا دے
ایسا کوئ سلسلہ نہیں ھے
خوشبو کا حساب ہو چکا ہے
اور پھول ابھی کھلا نہیں ھے
سرشاری رہبری میں دیکھا
پیچھے مرا قافلہ نہیں ھے
اک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا
چھونے میں تو آبلہ نہیں ھے
پروین شاکر
اس تبصرے کا جواب دیں
سب دوست اپنی پسند کی غزل یا اشعار شیئر کریں :
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا میں ” بُنین میری پیندی نئیں ” والی نظم پیش کر سکتا ہوں؟
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … اردو میڈیم
اس تبصرے کا جواب دیں
——————————————————————————–
دل میں شوقِ سفر نہیں ہوتا !
تو فلک سے گُزر نہیں ہوتا !
ہر صدا دل سے تو نِکلتی ہے
اُس پہ پھِر کیوں اثر نہیں ہوتا؟
دل کی خواہش کہ کوئی دستک دے
دل کے آنگن میں در نہیں ہوتا
ہر کسی سے نہ میرا پوچھا کر
ہر کوئی با خبر نہیں ہوتا
پیار کے راستے پہ ساتھ چلو
مجھ سے تنہا سفر نہیں ہوتا
جو زمانے میں بانٹ دے خُود کو
اُس کو چوری کا ڈر نہیں ہوتا
یہ جو اپنی خُودی کو بیچتے ہیں
ان کے شانوں پہ سر نہیں ہوتا
اس تبصرے کا جواب دیں
فرحان صرف واہ واہ سے کام نہیں چلے گا ۔ اچھے بچوں کی طرح اچھی اچھی شاعری لے کر آو جلدی سے
وفا بہت خوب ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ایک غزل کے بعد کیا پروین شاکر کی کتاب لینے چلی گئی ہیں
عثمان لگتا ہے آپ کا تبصرہ وفا تک نہیں پہنچا ابھی راستے میں ہی کہیں روک گیا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنی ناراضگی ہے ابھی بھی قائم اور اس دوران تبصرہ نہ کرنے کی قسم بھی ۔
ہم کریں تین تین سلام اور جواب آئے صرف ایک کا اور وہ بھی ہائے ہائے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ارے ہیلو ہائے اوئے ناراضگی کس سے ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے ۔ یا پھر کسی اور سے ناراض ہیں ۔۔۔۔۔ دیکھو ہیلو میرا دل بہت نازک ہے ،،، ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ مجھے دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا اللہ نا کرئے ۔۔۔۔ جلدی سے ناراضگی ختم کرو ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
سی ایل آئی بھی دیسی اور آواز بھی کھسرے جیسی ۔
اس تبصرے کا جواب دیں