ہمارے ملک ميں صرف قومی اور علاقائی زبانوں کو ہی دوسری زبانوں کا تڑکا نہيں لگايا گيا بلکہ جس زبان کو ترقی کا زينہ سمجھا جاتا ہے يعنی انگريزی اُسے بھی مقامی زبانوں کا تڑکا لگايا ہوا ہے ۔ اس وجہ شايد يہ ہے کہ تڑکے والے ديسی کھانے چھوڑ ديئے ہيں افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … کيا وِکی پِيڈيا اور آل تھِنگز پاکستان قابلِ اعتبار ہيں ؟
اقتباس» افتخار اجمل بھوپال نے لکھا: ہمارے ملک ميں صرف قومی اور علاقائی زبانوں کو ہی دوسری زبانوں کا تڑکا نہيں لگايا گيا بلکہ جس زبان کو ترقی کا زينہ سمجھا جاتا ہے يعنی انگريزی اُسے بھی مقامی زبانوں کا تڑکا لگايا ہوا ہے ۔ اس وجہ شايد يہ ہے کہ تڑکے والے ديسی کھانے چھوڑ ديئے ہيں
افتخار جی اب سے تڑکا لگی دال کو کھاتے ہوئے تھوڑی دیر کو لگتا ہے مرغی کھا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ مرغی بیمار ہے
یاسر جاپانی ہندکو کے کئی الفاظ پنجابی سے ملتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اب تو یہ زبان بہت حد تک ختم ہوتی نظر آرہی ہے ۔۔ ماسوائے بڑے بزرگوں کے ۔ جس طرح یہاں اردو بولتے ہوئے دیکھایا گیا ہے ۔۔ حقیقت میں بھی ایسے ہی ہے۔۔نئی نسل اردو یا انگریزی بولتی ہے ۔۔
جہاں تک کام چلانے کی بات ہے غوں غاں اور اشاروں سے بھی تو کام چلتا ہی رہا ہوگا ۔ لینگویج یقینا شوشل ہونے کی علامت ہے اور بغیر تعظیم کو انوالو کئے لینگویجز کا کوئی اور خاص پرپز تو شائد ہی ہو ۔ مگر جس قدر لوگ اخلاقی اور سچے ہوتے چلے جارہے ہیں اسکے بعد تو کسی بھی لینگویج بھلا ہی بیچاری اردو ہی کیوں نہ ہو :
تعظیم گئی چوک وچ، عظیم گیا بھاڑ وچ ۔اردو بنڑ گئی انگڑیجی تے کھا تو بیہ کے ریوڑی ۔
میرے ایک جاننے والے ہیں۔ وہ جب بولتے تو ایسا لگتا کہ پنجابی کا کوئی لہجہ بول رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ پشاور میں بولی جانے والی ہندکو ہے۔ ورنہ میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوہ ہندہ کش میں بولی جاتی ہو گی۔ عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “فوجی”
یہ ھند کو کے بجائے پنجابی اردو میکس ہندکو بول رھے ہیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … حکایت
اس تبصرے کا جواب دیں
مطلب کہ پاکستان میں صرف اردو کی نہیں۔۔۔ہر زبان کی واٹ لگ رہی ہے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … مشتری ہوشیار باش!
اس تبصرے کا جواب دیں
ہمارے ملک ميں صرف قومی اور علاقائی زبانوں کو ہی دوسری زبانوں کا تڑکا نہيں لگايا گيا بلکہ جس زبان کو ترقی کا زينہ سمجھا جاتا ہے يعنی انگريزی اُسے بھی مقامی زبانوں کا تڑکا لگايا ہوا ہے ۔ اس وجہ شايد يہ ہے کہ تڑکے والے ديسی کھانے چھوڑ ديئے ہيں
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … کيا وِکی پِيڈيا اور آل تھِنگز پاکستان قابلِ اعتبار ہيں ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار جی اب سے تڑکا لگی دال کو کھاتے ہوئے تھوڑی دیر کو لگتا ہے مرغی کھا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ مرغی بیمار ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان یہ پشاور کی اپنی بولی ہے ۔۔۔ جس طرح پشتو ویسے ہی ہندکو ۔ زیادہ تر لوگ یہی زبان بولتے ہیں ۔ شاہ رخ کے ابا مرحوم بھی پشاوری تھے
اس تبصرے کا جواب دیں
یاسر جاپانی ہندکو کے کئی الفاظ پنجابی سے ملتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اب تو یہ زبان بہت حد تک ختم ہوتی نظر آرہی ہے ۔۔ ماسوائے بڑے بزرگوں کے ۔ جس طرح یہاں اردو بولتے ہوئے دیکھایا گیا ہے ۔۔ حقیقت میں بھی ایسے ہی ہے۔۔نئی نسل اردو یا انگریزی بولتی ہے ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
گل تسواں ٹھیک آکھی۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … حکایت
اس تبصرے کا جواب دیں
جہاں تک کام چلانے کی بات ہے غوں غاں اور اشاروں سے بھی تو کام چلتا ہی رہا ہوگا ۔ لینگویج یقینا شوشل ہونے کی علامت ہے اور بغیر تعظیم کو انوالو کئے لینگویجز کا کوئی اور خاص پرپز تو شائد ہی ہو ۔ مگر جس قدر لوگ اخلاقی اور سچے ہوتے چلے جارہے ہیں اسکے بعد تو کسی بھی لینگویج بھلا ہی بیچاری اردو ہی کیوں نہ ہو :
تعظیم گئی چوک وچ، عظیم گیا بھاڑ وچ ۔اردو بنڑ گئی انگڑیجی تے کھا تو بیہ کے ریوڑی ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میرے ایک جاننے والے ہیں۔ وہ جب بولتے تو ایسا لگتا کہ پنجابی کا کوئی لہجہ بول رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ پشاور میں بولی جانے والی ہندکو ہے۔ ورنہ میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوہ ہندہ کش میں بولی جاتی ہو گی۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “فوجی”
اس تبصرے کا جواب دیں