ہم ایسا کیوں سوچتے ہیں
یہ پوسٹ لگانے سے پہلے میں نے کئی بار سوچا ۔ کہ لگاوں یا نا لگاوں ۔ مجھے ایک بات اکثر پریشان کرتی ہے ۔ اور میں سوچتی ہوں کہ ہم صرف اچھے مسلمان بن جاہیں تو کیا یہی بہتر نہیں ہے ۔۔۔ ملک میں آئے دن مزہب کو لے کر ایک دوسرے کے گلے کاٹے جاتے ہیں ۔ ہر ایک نے اپنا مزہب بنا لیا ہے ، اور اس پر اس طرح قائم ہے کہ جیسے اللہ پاک نے پلیٹ میں رکھوا کر اوپر سے خاص اسی بندے کو بھج رکھا ہے ۔اور پھر اگر اس کی بات نا مانو تو ہیمں اسلام کے داہرئے سے خارج کیا جاتا ہے ۔ ہم پر مسلمان نا ہونے کا فتوئ لگا دیا جاتا ہے ۔ یہاں ایک اور بات میرا مطلب کسی شعیہ یا سنی کو آپس میں لڑوانے کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔ میری اس بات کو بالکل غلط نا لیا جائے ۔ مجھے ایک بات کی سمجھ آج تک نہیں آئی ۔ کہ ہمارے چار خلفائے راشیدین ، ہم سب سینوں کے لیے قرآن و سنت کے مطابق برابر ہیں ۔ اور ہم سب کا احترام کرتے ہیں ۔ ہم پر واجب ہے سب کو ویسے ہی سمجھنا جیسے کے حکم ملا ہے لیکن شعیہ حضرات ایسا نہیں کرتے کیوں ۔ وہ صرف حضرت علی کرم اللہ کی ہی بات کرتے ہیں ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں ۔ لیکن انکے بعد آنے والے خلفاء پر یقین نہیں ہے اور نا ہی کبھی انکے بارے میں کوئی اظہار کیا گیا ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔

میری یہ پوسٹ اس کے بارے میں کچھ روشنی ڈالتی ہے
http://jaridah.wordpress.com/2010/02/08/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%82%d8%a7-%db%94-%d8%ad%d8%b5%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84/
اس تبصرے کا جواب دیں
پڑھے لکھے تعلیم یافتہ شیعہ افراد سب صحابہ کی عزت کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کا شیعہ کمیونٹی سے رابطہ کا فقدان ہے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “فوجی”
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ، آپ نے کہا تو ٹھیک ھے۔۔۔۔ مگر ساتھ میں مکھی کے چھتے میں بھی ھاتھ ڈال دیا ھے۔۔۔۔۔ یہ عثمان صاحب کی بات ٹھیک ہے۔۔ شیعہ میں کچھ بہت ھی مختصر لوگوں کی ایک جماعت ہے جو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ کو صحیح کہتی ھے۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کی ہمت کی داد دیتا ہوں
میں بھی پچھلے دنوں ایک واقعے سے متاثر اور سخت رنجیدہ ہو کر اس پر لکھنے لگا تھا، مگر فطری بزدلی آڑے آگئی۔۔۔
میرے خیال میں تو یہ اندھی عقیدت کا کرشمہ ہوتا ہے
جو بندے کا دماغ اور آنکھیں بند کردیتی ہے
اور اسے جہالت کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے
جعفر کے بلاگ سے آخری تحریر … دو دفعہ کا ذکر ہے۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
سر جی آپ کی بزدلی تو لگتا ہے کہ کئی معاملات میں آڑے آرہی ہے۔ ہمیں دیکھیں۔۔۔رکھ دیا سب کچھ ایک طرف۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “فوجی”
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان میں جہاں پیدا ہوئی ۔ پلی بڑی میری اپنی دوست شعیہ وہ پورا محلہ شعیوں کا تھا ۔ آپ زرا ٹی وی پر بڑے بڑے علما کا انٹرویوو دیکھو جو شعیہ ہیں ۔ اور پھر مجھے بتانا، کہ میں نے جو پوچھا وہ غلط ہے ابھی تک آپ کسی شعیہ ویبسایٹ پر گے ہوں وہاں کسی بھی خلیفہ کے بارے میں لکھا ہوا دیکھا ہے ۔ میرا مقصد علم حاصل کرنا ہے ۔ کسی مسلک کو چھیٹرنا نہیں ، میں یہاں بھی چاہوں گی کہ جس طرح محمد ریاض شاہد نے معلومات فرہم کی ہیں ۔ اسی طرح بات کو آگے بڑحایا جائے۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ضیاٌحسن آپ نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیعہ میں کچھ بہت ھی مختصر لوگوں کی ایک جماعت ہے جو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ کو صحیح کہتی ھے۔۔ جواب آپ نے خود ہی دے دیا
اس تبصرے کا جواب دیں
جعفر میں شعیوں سے بھی پوری عقیدت رکھتی ہوں ۔۔ اگر ہم کوئی کام اس نیت سے کرتے ہیں ۔ کہ اس میں کوئی پہلو ایسا نا آئے جس میں کسی کی دل آزاری ہو ۔۔تو میرا خیال ہے کہ معلومات بھی حاصل ہو سکتیں ہیں ۔ اور مسلہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔۔۔۔اب بہت سی ایسی باتیں ہیں جو میں آگے چل کر بیان کروں گی ہو سکتا ہے مجھ پر مسلمان نا ہونے کا بھی فتوئ لگ جائے ۔ لیکن میں اپنی تسلی اور علم کے لیے یہ کرتی ہوں ۔۔۔ ہمارا سب سے بڑا مسلہ ذاتیات ہے ۔۔۔ جس سے ہم لاکھ چاہیں نکل نہیں رہے۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد راض شاہد بہت اچھی معلومات دی ہیں ۔ جزاک اللہ خیر
اس تبصرے کا جواب دیں
اس موضوع پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن اس پر ایک بحث چھڑنے کا اندیشہ ہے کہ الامان الحفیظ (؟)
اس تبصرے کا جواب دیں
شازل بات ضرور کرنی چاہے اس ڈر اور خوف کے ساتھ کہ اگر ہم کچھ غلط کہہ رہے ہیں تو ہمارا رب ہیمں دیکھ رہا ہے ۔ ہم نے لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے ۔۔۔ بندوں سے ڈر کر حقائق سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم مسلمانوں کا یہی تو پرابلم ہے کہ جو کچھ ہمیں ہمارے بڑوں نے سکھا دیا اس پر اندھادھن اعتماد کرتے ہیں، ایسا سوچتے نہیں کہ شاید ہمارے بڑے غلطی پر ہوں۔ اگر ہم شیعہ، قادیانی،یہودی یا نصرانی کسی کے گھر میں بھی پیدا ہوئے ہوتے تو شاید اپنے مسلک یا مزہب کو صحیح جانتے اور اسی پر ڈٹے رہتے۔ اللہ پاک ہمیں قرآن میں جب علم حاصل کرنے کا فرماتے ہیں تو ایم اے، بی اے کرنے کا نہیں بلکہ اپنی تخلیقات کے بارے میں، معاشرے کے بارے میں، پرانی تہزیبوں کے بارے اور ان جیسی کہی اور اشیاء کو پھرولنے کا کہتے ہیں۔ مگر ہم “مرغے کی ایک ٹانگ” کے مصداق کچھ بھی نیا نا جاننے نا ماننے پر اڑے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
میرے خیال سے اگر بحث چل ہی پڑی ہے تو صرف اہل تشتیع تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اور دوسرے کئی مسالک ہیں جن کی بہت سی باتیں قابل اغتراض ہیں۔ ہو جائے کچھ اُن کے بارے میں بھی۔۔ ۔ ۔لیکن پھر فساد کے علاوہ اور کچھ نہیں بچے گا۔ بہرحال کوشیش بُری نہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “فوجی”
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کی بلاگ کی سیٹینگ میں کچھ مسئلہ ہے۔ یہ کمنٹ دینے والوں کی پُرانی تحریروں کو تازہ تحریر کہہ کر دکھا رہا ہے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “فوجی”
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان میں نے اپنے بلاگ کو کبھی یہ سوچ کر نہیں چلایا کہ یہ سنی شعیہ یا کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہے سب میرے لیے قابل احترم ہیں ۔ ہم جب بات سیکھنے کی کرتے ہیں ۔تو ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ سیکھنا بھی ایک عبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔۔ یہاں ہم سب سیکھنے آتے ہیں ۔۔ اگر ہمارا مقسد کسی کی زات پر بات کرنا نہیں ہے علم اور صرف علم ہے ۔ تو میرا خیال ہے کہ انشااللہ بحث نہیں ہو گی۔۔۔ہر ایک کی بات کا احترام کرنا ہم سب پر فرض ہے ۔۔۔یاد رکھو فساد وہی پھلاتے ہیں جو فسادی ہوتے ہیں ۔۔۔وہ یہاں کیا ہر جگہ کوشش کریں گے ۔ کیونکہ ان کی فطرت میں ایسا ہے ۔ بس انکے لیے دعا کی جاسکتی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
موجودہ حالات و اعتقادات کی بنيادی وجہ دين سے دُوری ہے ۔ ہر شخص اپنے آپ کو ٹھيک کہتا ہے جبکہ ٹھيک صرف اللہ کا فرمان اور آخری نبی صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی سُنّت ہے جس کا بہت کم لوگوں کو علم ہے اور وہ اسے جاننے کی کوشش بھی نہيں کرتے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … ہماری تاريخ کمزور ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
سسٹرتانیہ، آپ نےبہت ہی احساس موضوع پرقلم اٹھایاہےجس پرآج سےپہلےبھی بہت کچھ لکھاگیاہے۔اورقیامت تک لکھاجاتارہےگادراصل بات ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث ہےجسکامفہموم یہ ہےکہ بچہ فطرت پرپیداہوتاہےاس کےوالدین اس کویہودی یانصرانی بنادیتےہیں۔ تویہی بات ہےاللہ تعالی نےانسان کوشعوردیاہےعقل دی ہےاورقرآن مجیدمیں تقریبا786 کم وبیش مرتبہ غوروفکرکاتذکرہ کیاہےلیکن ہم لوگوں نےغوروفکرکوچھوڑدیاہےاس لیےہم اکٹھےبھی نہیں ہوتےاورایکدوسرےسےلڑتےبھی ہیں اورغلط کوغلط اورصحیح کوصحیح کہنےکی ہمت بھی پیدانہیں ہوتی۔ یہاں تک بات شعیہ کی ہےیہ فرقےکےمتعلق میں نےاپنےبلاگ میں بھی لکھاہے۔آپ نےبھی انٹرنیٹ پران کی ویب سائٹ پرسرچ کیاہوگااوروہاں پرجوواہیات انہوں نےصحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی خصوصاخلیفہ راشدین کےمتعلق لکھی ہیں پڑھی ہوں گی۔ اورشعیوں کوہرہرفعل اہلسنت والجماعت سےعلیحدہ ہےاہلسنت والجماعت سےمرادہمارےچاروں آئمہ اکرام ہیں۔ کیوں یہ سب سےالگ ہےکیوں ان کاہرہرفعل اہلسنت والجماعت کےخلاف ہےکیوں کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث جسکامفہوم یہ ہے کہ قیامت کوتہترفرقےہوں گےاورایک جنت میں جائےگا۔تویہ فرقےتوبننےہی ہیں۔ خداراشعیوں کوآپ رافضی فرقہ کےساتھ دیکھیں آپ رافضیوں کےعقائدکوپڑھیں پھرآپ کوپتہ چلےگاکہ یہ درست ہیں کہ نہیں رافضی وہی ہیں جن کےخلاف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نےجنگ کی تھی۔ اورباقی شعیہ کےمعنی دوست ہیں ہم بھی شعیان علی ہیں ۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان ہےلیکن ان کی شان جسطرح ہمارےآئمہ اربعہ نےبیان کی ہےاوریہ رب تعالی کافیصلہ بھی ہےکہ چاروں خیلفہ راشدکی شان اپنی اپنی ہےسب سےافضل بشرتمام انبیاء اکرام کےحضرب ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہےاس کےبعدحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اس کےبعدحصرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ ہےاوراس کےبعدحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ اس پرسب کااتفاق ہےماسوائےشعیوں(رافضیوں)کے
اورشعیوں(رافیضوں)کےمذہب کاسارادارومدارتاریخ پرہےاوراہلسنت والجماعت کی بدقسمتی ہےکہ ان میں سےکسی نےبھی تاریخ نہیں لکھی ماسوائے ابن خلدون کےلیکن شعیےان کی تاریخ کونہیں مانتےباقی سب تاریخ دان شیعےتھے۔
اللہ تعالی ہم پراپنافضل وکرم کرےاورہم کودین اسلام کی صحیح سمجھ بوجھ عطاء کرے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
جاویداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر … 7 enlaces 7 (y LXIV)
اس تبصرے کا جواب دیں
شیعہ حصرات صرف دوسرے خلفائے راشدین پر نہیں بلکہ حضرت عائشہ پر بھی یقین نہیں رکھتے ۔۔اس کی وجہ جب میں جاننی چاہی تو پتا چلا کہ حضرت عائشہ اور حضرت علی کے درمیان ” جنگ جمل ” نامی جنگ ہوئی تھی جس میں 10 ہزار مسلمان مارے گئے تھے ۔۔ لیکن یہ اتنی دونوں ہی اتنی بڑی ہستیاں ہیں کہ یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ حق پر کون تھا ۔۔اس کی تفصیل اس لنک پر ہے http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D9%86%DA%AF_%D8%AC%D9%85%D9%84
فکر پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … Just think about it
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار جی جہاں تک اسلام
افتخار جی جہاں تک دین سے دوری کی بات ہے ۔ تو میرا خیال ہے اب ہم پہلے سے زیادہ باشعور ہو گے ہیں ۔ نیٹ ہمارے پاس ہے پہلے تو کم علمی کی وجہ سے یا وسائل نا ہونے کی وجہ سے لوگ دین کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے ۔مسجد میں مولانا نے جو کہا اس پر عمل کع لیا ۔ لیکن آج ہمارے پاس اگر کتب نہیں ہیں تو نیٹ موجود ہے جہاں ہر مسلے کا حل ہمارے سامنے ہے ۔پھر ہم کیوں اس بات پر عمل نہیں کرتے کہ جو ہمارا خدا اور اس کا رسول فرما رہا ہے ۔ وہی حرف آخر ہے۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جاوید بھائی آپ نے اتنی تفصیل سے لکھا ۔ میں یہاں چاہوں گی کہ اگر ہمارے ساتھیوں میں کوئی شعیہ ہیں تو وہ ضرور اپنی رائے دیں ۔ ہم سب کے لیے ان کی رائے قابل احترام ہوگی ۔ کہ جیسا ہم نے سنا اور دیکھا ہے کیا وہ صحیح ہے ۔ اور اگر غلط ہے تو کم از کم اور کوئی نیکی نہیں کر سکتے شعیہ سنی کے درمیاں جو فاصلہ ہے اس کو کم کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
افضل جی آپ نے لنک دیا جس کے لیے مشکور ہوں ۔ لیکن آپ نے یہ بھی بتایا کہ جب حضرت علی اور حضرت عائشہ کے درمیاں جنگ جمل ہوئی ۔ لیکن کیا اس بات کا فصلہ کہ کون حق پر ہے ۔ ہم نے تو نہیں کرنا ۔۔۔ ہم نے تو وہی مانا ہے کہ جو قرآن اوررسول کا حکم ہے ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ نے مجھے افضل کیوں لکھا ؟
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تو ان کے آخری خطبے میں یہ تھا کہ ” ایسا نہ ہو میرے بعد گمراہ ہو جاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو ” لیکن ان کے انتقال کے بعد ہی مسلمانوں میں نا اتفاقی پیدا ہو گئی تھی ۔۔ شیعہ فرقے کے وجود میں آنے کے اسباب پر ایک کتاب پڑھی تھی جس میں لکھا تھا کہ سبا نامی ایک یہودی نے مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا کی تھیں اور ان کو دو گروہوں میں بانٹ دیا تھا ۔۔ باقی تفصیل جاننے کے لئے تو تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔۔
فکر پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … Just think about it
اس تبصرے کا جواب دیں
فکر پاکستان غلطی سے لکھا گیا ۔ معذرت چاہوں گی ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
گو کہ ایسے موضوعات پر بہت لمبی لمبی ابحاث کی جاسکتی ہیں لیکن میرے نزدیک یہ معاملہ ایسا نہیں کہ اس میں بے تکان لکھا یا بولا جائے۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول (ص) کی مقرب ہستیوں کے بارے میں ہے نا کہ کسی سیاستدان یا کھلاڑی کی کوئی بھولی بسری کہانی۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ موجود وسائل استعمال کرتے ہوئے خود تحقیق کریں اور اپنے سوالات متعلقہ فریقین سے پوچھ کر جواب حاصل کرلیں۔ ورنہ ہم جیسے کم علم رکھنے والے جذبات میں آکر حد سے تجاوز کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
محمداسد کے بلاگ سے آخری تحریر … ایشیا کرکٹ کپ 2010ء
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جنگ جمل کےمتعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتاکہ کون حق پرتھااورکون ناحق تھاکیونکہ دونوں حضرت علی رضی اللہ تعالی اورحضرت عائشہ رضی تعالی عنہمادونوں کی تربیت حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ کےزیرسایہ ہوئي یہ جنگ بس ایک غلط فہمی تھی اورکچھ نہیں۔ شعیہ حضرات توقرآن مجیدکوبھی نہیں مانتےان کےنزدیک جوصحیح قرآن ہےوہ امام مہدی آخرزمانہ میں لےکرآئےگے۔
والسلام
جاویداقبال
جاویداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر … 7 enlaces 7 (y LXIV)
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ آپ سے کس نے کہا کہ وہ قرآن مجید کو نہیں مانتے؟؟
میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ جاہل لوگ چاہے کسی بھی فرقہ سے ہوں۔ ۔ ۔ کوئی نہ کوئی اُلٹی سیدھی بات کریں گے۔ آپ اہل تشتیع کے پڑھے لکھے افراد سے رابطہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد اسد پہلے تو بہت شکریہ ۔۔ جہاں تک پوچھیں کی بات ہے تو کس سے پوچھیں ۔ یہاں تو اتنے مولانا ہیں ہر کوئی اپنا راگ الاپتا ہے ۔ اور جہاں تک تھقیق کی بات ہے تو آپ کو نہیں لگتا کہ یہاں جاوید بھائی نے لنک دیا فکر پاکستان نے لنک دیا ۔ جس کو مجھ جیسے کم علم کو پڑھنے کا موقع ملا۔ امید ہے کہ اور ساتھی بھی فیض یاب ہوئے ہوں گے۔ ۔۔ اگر ہم بغیر گالی گلوچ اور برا بھالاکہنے کی بجائے احسن طریقے سے علم دیا جائے تو کیا برائی ہے۔۔ اگر باقی ساتھی اس کو برا تصور کرتے ہیں تو مجھے بتا دیں میں آگے نہیں جاوں گی۔۔۔پوسٹ کو ختم کر دوں گی
اس تبصرے کا جواب دیں
ساتھیوں ایک بات یاد آئی کہ جب کل کائنات کا مالک اللہ تعالی ہے اور ہم مدد بھی اسی سے مانگتے ہیں ۔۔ اور دینے والی ذات بھی وہی ہے تو پھر یہ کہنا کہ مولاِکائنات علی ۔۔۔۔۔ یا پھر یا علی مدد۔ کا نعرہ لگانا کیا جائز ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
یا اللہ! کے علاوہ کوئی بھی نعرہ لگانا جائز نہیں۔
لیکن یار لوگ “یا رسول اللہ” کا نعرہ بھی عام لگاتے نظر آتے ہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “پپو بچے”
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جنگ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ کے زیر سایہ کیسے ہو سکتی ہے ؟ یہ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ہوئی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل کا قصاص مانگا تھا ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
شیعہ حضرات مولا علی مشکل کشا بھی کہتے ہیں جب کہ مشکل حل کرنے والی ذات تو صرف اللہ پاک کی ہے اس ہی طرح اہل سنت حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے ایسے الفاظ کہتے ہیں جو کہ شرکیہ ہوتے ہوتے ہیں ۔۔
کراچی میں شاہ خراساں کے اندر ایک بار میرا جانا ہوا تو وہاں حضرت بی بی فاطمہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے علاوہ اور بھی کئی نقلی پلاسٹک کے بنے ہوئے مزار نظر آئے ۔۔ جن کے آگے دعائیں مانگی جا رہی تھیں اور گھوڑے بھی نظر آئے جن سے عقیدت کا اظہار کیا جا رہا تھا۔۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری باتیں شیعاؤں کی مجھے ہمیشہ حیرت میں مبتلا کرتی رہی ہیں کہ یہ لوگ یہ سب کیوں کرتے ہیں ۔۔
فکر پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … الوداعی پوسٹ ..
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان اللہ پاک کے سوا کسی سے مدد مانگنا غلط ہے ۔ میرا خیال ہے ۔ کہ سب لوگ اتنا توجانتے ہوں گے ۔ اور یہی مدد اگر پڑھے لکھے لوگ یاعلی مدد یا پھر یار رسول اللہ کا نعرہ لگاہیں تو ان کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ چلو میں تو نا عالم ہوں ۔ نا ہی میرے پاس علم ہے ۔ لیکن میں اتنا تو جانتی ہوں کہ یہ غلط ہے ۔پھر ہم بڑے بڑے علما کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ جو خود یہی درس دیتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بھائی، میں نےکہاتھاکہ بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہمااورحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تربیت حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےزیرسایہ ہوئی تھی۔
والسلام
جاویداقبال
اس تبصرے کا جواب دیں