مجھے پرندے رکھنے کا بہت شوق ہے ، میرے پاس اس وقت کافی قسم کے پرندے موجود ہیں ۔۔ میرا پہلا کام ان کے پاس جانا ان کو دانہ پانی دینا تھوڑی سئ باتیں کرنا اور پھر اپنا ناشتہ کرنا ۔ ،اس طرح میں دن میں تین چار بار ایسا کرتی ہوں ۔۔اگر کبھی باہر جانا ہو تو یہ توجہ کم ہو جاتی ہے بقول میرے بچے ۔ کہ اماں کا بس چلے تو ہم کو بھی اپنے پرندے سمجھے۔
میری ایک طوطی جیسی عام زبان میں لوباریڈ کہا جاتا ہے ۔ پہلے کچھ دوسرے طوطوں نے مل کراس کی زخمی کیا ۔ صبح جب دانہ ڈالنے گئی تو وہ نیم مردہ حالت میں آخری سانسیں لے رہی تھی میں نے اس کو اٹھایا ۔اور اپنی گود میں رکھ کر اس کی بے بسی پر سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا کروں کہ یہ ٹھیک ہو جائے۔ اچانک میرا دھیان اس رکشہ ڈرائیور اس لڑکے اور لڑکی پر چلا گیا جھنوں نے غربت سے تنگ آکر خودکشی کر لی ۔ اس لڑکے اور لڑکی نے خودکشی سے پہلے کتنا سوچا ہو گا ۔ جب ان دونوں کی سوچوں نے جواب دے دیا تب انھوں نے اپنی زندگی ختم کر دی ۔ وہ کس بے بسی سے گزریں ہوں گے ۔ وہ کیسے تڑپیں ہوں گے ۔اسی طرح ایک گھر کے چار لوگ تین بچے اور ایک باپ ماں ابھی اسپتال میں زیر علاج ہے ۔۔ اس باپ نے کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنے پیاروں کو موت کی ننید سولا دیا ۔ اور خود بھی ۔۔۔۔مجھ سے ایک پرندے کی موت برداشت نہیں ہو پا رہی یہاں تو اللہ پاک کی سب سے افضل مخلوق اپنی زندگی کو ختم کرنے پر مجبور ہیں ۔ اب تو حکومت کو گالی دینے کا دل بھی نہیں کرتا ۔ کیونکہ گالی کی توہین ہے۔۔۔