پرندے رکھنا جائز نہیں ہے ۔۔۔
اپنی پہلی والی پوسٹ میں ایک طوطی کا زکر کیا ۔ کچھ ساتھیوں نے کہا کہ ان کو آزاد کر دیں ۔ میں نے پرندے رکھنے سے پہلے پڑھا ۔ اور پھر اپنے شوق کی تکمیل کی ۔ کیونکہ بے زبانوں کے ساتھ ظالم کرنا اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا کہ انسانوں کے ساتھ۔ اللہ پاک کی مخلوق ہے،میں آپ کے سامنے یہ احادیث لائی ہوں ۔ كيا پنجروں ميں پرندے بند كر كے ركھنا جائز ہيں ؟
الحمد للہ :
خوبصورتى اور ديكھنے، يا ان كى چہچاہٹ سننے كے ليے پرندے پنجروں ميں بند كر كے ركھنا جائز ہيں، ليكن شرط يہ ہے كہ انہيں كھانا پينا اور دانہ وغيرہ ديا جائے.
صحيحين ميں حديث مروى ہے كہ:
انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ كا والدہ كى والدہ كى طرف سے بھائى تھا جسے ابو عمير كہا جاتا تھا، اس كے پاس نغير نامى ايك پرندہ تھا جو مر گيا، اور وہ بچہ اس پر بہت غمگين ہوا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس سے يہ كہ كر ہنسى مذاق كرتے:
” اے ابو عمير نغير نے كيا كيا ”
صحيح بخارى حديث نمبر ( 5778 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2150 )
نغير ايك چھوٹا سا پرندہ ہے جو چڑيا كے مشابہ ہے، اور بعض نے اسے بلبل كہا ہے.
اس حديث سے پرندے پال كر ركھنے پر استدلال كيا گيا ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو عمير رضى اللہ تعالى عنہ كو اس سے نہيں روكا، اور اس كا انكار نہيں كيا.
ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 548 ).
اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:
ايسے شخص كے بارہ ميں كيا حكم ہے جو اپنے بچوں كو بہلانے كے ليے پرندے جمع كر كے پنجرے ميں بند كر ركھے؟
تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
اگر وہ ان پرندوں كو دانہ پانى مہيا كرتا اور باقاعدگى سے انہيں دانہ پانى ڈالتا ہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ اس جيسے امور ميں اصل تو حلت ہى ہے، ہمارے علم كے مطابق اس كے خلاف كوئى دليل نہيں.
اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.
ديكھيں: فتاوى علماء البلد الحرام صفحہ نمبر ( 1793 ).
مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:
خوبصورتى والے پرندے ان كى آواز كے ليے فروخت كرنا، مثلا طوطے، اور رنگ برنگ پرندے، اور بلبل وغيرہ جائز ہيں؛ كيونكہ انہيں ديكھنا اور ان كى آواز سننا مباح اور جائز غرض ہے، شريعت ميں اس كى خريدوفروخت يا انہيں پالنے كى حرمت ميں كوئى دليل نہيں.
بلكہ ايسى دليل ملتى ہے جس سے علم ہوتا ہے كہ اگر پرندے كو دانہ پانى مہيا كيا جائے اور اس كى ديكھ بھال كى جائے تو اسے پال كر پنجرے ميں بند كر كے ركھنا جائز ہے.
اس كى دليل بخارى شريف كى مندرجہ ذيل حديث ہے:
انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بہترين اخلاق كے مالك تھے، ميرا ايك بھائى تھا جسے ابو عمير كہا جاتا تھا، راوى كہتے ہيں كہ ميرا خيال ہے وہ دودھ پينا چھوڑ چكا تھا، اور جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تشريف لاتے تو فرماتے:
” اے ابو عمير نغير نے كيا كيا؟ وہ اس چڑيا كے ساتھ كھيلا كرتا تھا… الحديث.
نغير ايك قسم كا پرندہ ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى فتح البارى ميں اس حديث كى شرح ميں اس سے مستنبط ہونے والے فوائد شمار كرتے ہوئےكہتے ہيں:
اور اس ميں بچے كا پرندے كے ساتھ كھيلنے كا جواز بھى پايا جاتا ہے.
اور والدين كے اپنے بچے كو مباح چيز كے ساتھ كھيلنے كے ليے چھوڑنے كا بھى جواز پايا جاتا ہے.
اور بچوں كو بہلانے كے ليے مباح چيزوں پر مال خرچ كرنے كاجواز بھى پايا جاتا ہے.
اور پرندے وغيرہ كو پنجرے ميں بند كرنے كا جواز بھى ملتا ہے.
اور پرندے كے پر كاٹنے كا جواز بھى ہے، كيونكہ ابو عمير رضى اللہ تعالى عنہ كا پرندہ ان دونوں ميں سے خالى نہيں ہو سكتا، ايك چيز لازم ہو گى.
چاہے واقع جو بھى ہو حكم ميں اس كے ساتھ دوسرى چيز ملحق ہو سكتى ہے.
اور اسى طرح ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث بھى جس ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” ايك عورت بلى كى بنا پر آگ ميں داخل ہو گئى، اس نے اسے باندھ ديا، اور نہ تو اسے كھلايا اور پلايا، اور نہ ہى اسے چھوڑا كہ وہ زمين كے كيڑے مكوڑے كھا كر گزارا كر لے”
اسے امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں روايت كيا ہے.
اور اگر بلى ميں يہ جائز ہے تو پھر چڑيوں وغيرہ ميں بھى جائز ہوا.
اور بعض اہل علم انہيں تربيت كے ليے باندھنے كے مكروہ كے قائل ہيں، اور بعض نے اسے منع كرتے ہوئے كہا ہے كہ:
كيونكہ ان كى آواز سننا اور انہيں ديكھ كر خوش ہونے كى آدمى كو كوئى ضرورت نہيں، بلكہ يہ تو اكڑ اور شر اور عيش پرستى ہے، اور پھر يہ بيوقوفى بھى ہے، كيونكہ وہ اس پرندے كى آواز پر خوش ہو رہا ہے جس كى آواز اڑان بھرنے پر غمگين ہے، اور وہ فضاء ميں جانے كا افسوس كر رہا ہے.
جيسا كہ مرداوى كى كتاب ” الفروع و تصحيحہ” ( 4 / 9 ) اور الانصاف ( 4 / 275 ) ميں ہے.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 38 – 40 ).
واللہ اعلم

اوہ۔۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … “پپو بچے”
آپ شائد سمجھی نہیں۔۔میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ آپ نے پرندے پال کر کوئی “گناہ” کیا ہے۔ مطلب صرف یہ تھا کہ کونسا عمل احسن ہے؟ پرندے آزاد کرنا یا قید رکھنا۔ کیا خوبصورت دکھائی دیتا ہے؟۔۔۔پرندے آزاد فضاؤں میں اُڑتے یا۔۔پنجروںمیںبند؟
بہرحال ہر دوصورتوں میں یہ کوئی جرم یا گناہ نہیں۔ اپنے اپنے من کی بات ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر جائز ہے تو تحریر کا عنوان درست کر لیجیے۔ شکریہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کا مؤقف بھی درست ہے جس صورت ميں چرند يا پرند سے پيار کرنا اور انہيں اس کی لوازمات مہيا کرنا شرط ہے ۔ کسی زمانہ ميں ميں نے بھی بچوں کی خوشی کيلئے چھوٹے طوطے پالے تھے جو کسی نے تحفہ ديا تھا ۔ ميں ان کو کھلا بھی چھوڑ ديتا مگر وہ اُڑ کر واپس آ جاتے تھے اور کبھی کبھی اپنے ساتھ ايک اور طوطا لے آتے تھے ۔ باہر گرمی ہوتی تھی اسلئے اُنہيں اپنے ايئرکنڈيشنڈ دالان ميں رکھا ہوا تھا جہاں وہ ہر وقت ہماری نظروں کے سامنے رہتے تھے ۔ جب بچے سکول سے واپس آتے تو وہ خوب چہچہا کر خوشی کا اظہار کرتے ۔
عثمان صاحب کا مؤقف بھی درست ہے کہ آزاد کرنا بہتر ہے قيد کرنے سے
اکابرين نے حديث کو تين قسموں ميں تقسيم کيا ہے ۔ قولی ۔ فعلی اور اقراری
سب سے اعلٰی درجہ قولی کا ہے يعنی جو رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے کرنے کا کہا
دوسرا درجہ فعلی کا ہے يعنی جو رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے خود کيا مگر دوسروں کو کرنے کا نہيں کہا
تيسرا درجہ اقراری ہے کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے کرنے کو کہا اور نہ خود کيا مگر اصحابہ کرام رضی اللہ عنہم ميں سے کسی نے کيا مگر رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے منع نہ کيا
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … لطيفے شعبہ انجنئرنگ کے
اس تبصرے کا جواب دیں
معلومات میں اضافہ کرنے کا شکریہ ۔۔
گناہ نہ بھی ہو تو میرا خیال ہے آزاد رہنے دینا زیادہ افضل عمل ہے ۔۔ قید جتنی بھی حسین ہو آزادی کی بات اور ہوتی ہے ۔۔
فکر پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … قرآن کا حکم اور ھم
اس تبصرے کا جواب دیں
میںفیصل صاحب سے متفق ہوں
عنوان تو ٹھیک کر لیں
اس تبصرے کا جواب دیں
جائز یا ناجائز کا تو سوال ہی نہیں تھا، بحرالحال معلومات میں اضافہ ہوا اس کے لئے شکریہ
عمران اشرف کے بلاگ سے آخری تحریر … دير آيد درست آيد!!
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ سب ساتھیوں کا بہت شکریہ ۔ اتنی اچھی معلومات دینے کا ۔ میں نے عنوان جان بوجھ ایسا رکھا ہے ۔۔۔۔ اگر میں یہ عنوان رکھتی کہ پرندے رکھنا جائز ہے ۔ توعنوان میں ہی ساری بات پوری ہو جاتی ۔۔۔ اب یہ کہ آپ سب قید اور آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ تو میں نے جو پرندے رکھے ہیں وہ پنجرے کے پرندے ہیں وہ آزاد کرنے سے دانا نا ملنے کی وجہ سے مر جاہیں گے ۔ ان کو شروع ہی سے عادت کیا ہوتا ہے ۔ اب یہ مرغی تو ہے نہیں کہ کچھ بھی کھا لیا ۔باقی میرئ نزدیک گناہ اور ثواب کا عمل دخل زیادہ ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
کم سے کم میری معلومات میں اضافہ ہو گیا ہے
کہ پرندے پالنا جائز ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں