اچھے لوگ ہمیشہ دعاوں میں رہتے ہیں
آج میرا دل کر رہا ہے کہ میں پوسٹ اپنے محسنوں کے نام کی لگاوں ۔مزے کی بات ہے ۔ جن کا میں ابھی زکر کروں گی ۔ وہ میرے بلاگ سے واقف ہیں ۔ چونکہ کمپیوٹر انکے استعمال میں نہیں ہے ۔ اس لیے میری اس پوسٹ کو نہیں پڑھ پاہیں گے۔ جس کا مجھے تھورا بہت افسوس تو ہے لیکن اس سے بڑہ کر خوشی اس بات کی ہے ۔ کہ میں ان دو اعظیم ہسیتوں کا زکر کر رہی ہوں ۔ جنھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی ہے ۔۔۔ بلکہ کریڈٹ لینے سے بھی انکار کر دیا ۔ اور بس یہی کہتے رہے کہ تانیہ لکھو اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ ہم نے کچھ کیا ہے ۔۔ پہلی میری بہت ہی اچھی آپی محترمہ ۔ انجم انصار صاحبہ ہیں ۔جن سے مجھے نا صرف محبت ہے بلکہ عقیدت ہے میں نے جب بھی ان سے بات کی تو جواب یہی آیا ۔ کہ بیٹا بس لکھو ۔۔۔۔ اور اپنی تحاریر کے بارے میں کہا کہ مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ اتنی خوب صورت ہستی اتنی عاجز انسان ۔۔بات کرنے کے بعد کتنی دیر ان کی سحر انگز گفتگو دل و دماغ پر چھائی رہتی ہے۔ میرا ان سے کوئی رشتہ نہیں ہے نا وہ میری دوست ہیں اور نا ہی رشتے دار لیکن وہ ان سب رشتوں سے بڑہ کر ہیں اللہ پاک ان کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ نئے لکھنے والوں کو ان کی بہت ضرورت ہے۔۔۔
اللہ پاک جہاں ایک در بند کرتا ہے وہاں سو در کھل جاتے ہیں دنیا کا کوئی کام نہیں روکتا ۔ نیت صاف ہو تو منزل اسان ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ اس بات پر مجھے تب یقین آیا کہ میں نے رائے لینی تھی راہنمائی چاہئے تھی ۔ تو اچانک سید محسن علی جو خود کئی کتب کے خالق ہیں ۔۔ان کی کتاب خمری ۔ایم اے اردو نصاب میں شامل ہے ۔اور اس گلی میں پر ہم ٹی وی نے ڈرامہ بنایا ۔میری بہت رہنمائی کی مجھے بتایا کہ افسانہ کیسے لکھنا ہے اپنے سارے کام پس پشت ڈال کر جب دوسروں کے لیے کوئی کچھ کرتا ہے تو تب احساس ہوتا ہے وہ بندہ کتنا اچھا اور سچاہے ۔اپنے کام تو ہوتے رہتے ہیں ۔ جہاں دوسروں کو رہنمائی کی ضرورت ہو تب آپ ان سے یہ کہو کہ جب مجھے فرصت ملے گی تب آپ کا کام ہو جائے گا۔۔میرے یہ استاد ، میرے یہ محسن ۔۔۔صدا خوش رہیں ہر غم سے دور دنیا میں بہت نام کماہیں ۔ اور آخرت میں بلند مقام ۔۔۔۔۔۔

آپ کے دونوں محسن نام سے ہی با ادب نظر آ رہے ہيں
پھپھے کٹنی کے بلاگ سے آخری تحریر … 180 ڈگری
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ دُنیا کیسی رنگ برنگی ھے-ایک آپ ھیں کہ اپنے محسنوں کو اچھے ناموں سے یاد کرہی ھیں،دُعاؤں میں شامل کر رہی ہیں-ایک وُہ ہیں کہ جس نے بلال سے سب کچھ سیکھ کر اُسے دُکھ پہونچایا-اُف کتنا تضادھے-شُکریہ
ًMd کے بلاگ سے آخری تحریر … قرآن اور انسان
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ دُنیا کیسی رنگ برنگی ھے-ایک آپ ھیں کہ اپنے محسنوں کو اچھے ناموں سے یاد کرہی ھیں،دُعاؤں میں شامل کر رہی ہیں-ایک وُہ ہیں کہ جس نے بلال سے سب کچھ سیکھ کر اُسے دُکھ پہونچایا-اُف کتنا تضادھے-شُکریہ
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا یہ وہی انجم انصار ہیں جن کے قلم کی روانی کے چرچے عام ہیں
آپ اپنی پوسٹ کو ایک بار پھر پڑھیں بہت سی غلطیاں ہیں
انہیں درست کردیں
اس تبصرے کا جواب دیں
آسما باادب ہی محسن ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔کبھی بے ادب کو محسن کا خطاب دیا ہے کسی نے
اس تبصرے کا جواب دیں
ایم ڈی بلا ل تو بہت اچھے انسان ہیں ۔۔۔۔۔۔ بہت اچھے بھائی ۔ دوست ۔۔۔۔اکثر میں کچھ پوچھتی ہوں ۔ وہ انکار نہیں کرتے لیکن میں خود کہہ دیتی ہوں بھائی پہلے آپ اپنا کام کریں ۔۔ بلال جیسے لوگوں کی وجہ سے ابھی تک پاکستان قائم ہے ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جی شازل یہ وہی انجم انصار ہیں جو پاکیزہ خواتین سے لے کر کئی ناول لکھ چکی ہیں ۔ جہاں تک میری پوسٹ میں غلطی کی بات ہے ۔۔ تو یہ میری اپنی بہت بری اور بہت غلط عادت ہے ۔ کہ غلطیاں درست نہیں کرتی ، جس کے لیے آپ مجھے معاف کر دیں ۔ ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جی معاف کردیا
شازل کے بلاگ سے آخری تحریر … دل تو بچہ ہے جی ۔ ۔ ۔ تھوڑا کچا ہے جی
اس تبصرے کا جواب دیں
شازل آپ بہت گریٹ ہو ۔۔۔۔۔۔ خوش رہو
اس تبصرے کا جواب دیں
لیجئے۔۔۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہوزے ساراماگو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ!
دوسروں سے تو افسانہ نگاری سیکھ لیا۔ اور ان کا قصیدہ بھی لکھ ڈالا۔
لیکن جب آپ سے کوئی آپ کی شاگردی اختیار کرنے بننے کی بات کرے تو انکار۔۔
جائیے۔۔میں آپ سے نہیں بولتا۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
“چونکہ کمپیوٹر انکے استعمال میں نہیں ہے ۔ اس لیے میری اس پوسٹ کو نہیں پڑھ پائیں گے”۔
لوگ کہتے ہيں سُتے بچے دا منہ چُوميا کِس کم ؟ مگر مجھے اچھا لگتا ہے سُتے بچے کا منہ چُومنا کيونکہ خيرات وہ سب سے بہتر ہوتی ہے کہ داہنے ہاتھ سے ديں تو بائيں ہاتھ کو پتہ نہ چلے
رہی آپ کی غلطياں تو وہ مجھے کبھی محسوس ہی نہيں ہوئيں کہ مجھے ايک ڈرامے ميں عابد کشميری کا تکيہ کلام ياد ہے ” گل سمجھ آ گئی اے نا ؟”
اب آتے ہيں اصل موضوع کی طرف ۔ احسان کرنا اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کو بہت پسند ہے اور احسانمند ہونا بھی ۔ اور يہ دونوں عمل اللہ ہی کی دی ہوئی توفيق سے ہوتے ہيں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ احسانمند ہوتی رہيں اور احسان کرتی رہيں ۔ يہی ساتھ جانے اور باقی رہنے والی چيزيں ہيں
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … لطيفے شعبہ انجنئرنگ کے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ بھی اعلٰی ظرفی ہے جو آپ اپنی محسنوں کو یاد رکھتی ہیں- ورنہ آجکل کے اس نفسانفسی کے دور میں کون کس کو یاد رکھتا ہے۔ ایسی ہمت افزائی کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ ایسے مددگاروں کو قائم و دائم رکھے۔ آمین
عمران اشرف کے بلاگ سے آخری تحریر … جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان اگر میں اس قابل ہوں ۔ تو میرے بھائی جو حکم ۔ پہلی بات یہ کہ میں نے اپنے محسنوں کا زکر اس وقت کرنا چاہا ۔ جب میں نے دو الفاظ لکھنا سیکھ لیے ۔ اس سے پہلے میں اپنے آپ کو اس قابل بھی نہیں سمجھتی تھی ۔۔کہ اتنے عظیم لوگوں کے بارے میں لکھ سیکھو۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار جی آپ کو سب پتا ہے کہ میں نے یہ لکھنے کا سلسلہ کب شروع کیا تھا ۔۔۔۔مجھےآج بھی وہ تبصرہ یاد ہے ۔۔ جو آپ نے ایک بلاگ پر کیا تھا ۔ وہی تبصرہ ہمیں آپ کے بلاگ پر لے گیا ۔ پھر جو حالات رہے وہ بھی آپ جانتے ہیں ۔۔۔۔ غلطیاں تب بھی ہوئی آج بھی ہو رہی ہیں کوشش ہے کہ کم سے کم کروں تاکے کسی کو شکایت کا موقع نا ملے ۔۔۔۔۔یہ آپ کی اعلی ظریفی ہے کہ میری غلطیوں پر نظر نہیں رکھتے ۔ عابد کشمیری نے خوب کہا ہے کہ بات ت سمجھ وچ آ گی ۔۔۔۔۔بالکل یہ دونوں عمل اللہ پاک کے دیے ہوئے ہیں جس کو دیے ان کو بھی غرور نہیں کرنا چاہیئے ۔۔۔۔ اور جن کو ملنے کی توقع ہے وہ بھی اس بات پر نا اکٹرے ۔۔کیونکہ سب کچھ یہی رہ جانا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عمران میں کسی قابل نہیں ہوں بس اللہ پاک کی شکر گزار ہوں ۔کہ اس نے مجھے آج اتنا کچھ دیا کہ میں اپنے محسنوں کے بارے میں کچھ کہہ سکتی ہوں ۔۔۔یہ قلم بھی اسی نے عطا کیا ۔۔۔ اور یہ الفاظ بھی اسی کی دین ہیں ۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہمارے تبصرے پر آرٹیکل دے مارا ۔موقع ملا تو مردوں کے ڈائیجسٹس پر بھی کچھ تبصرہ ٹکا دینگے ۔اخلاقی طریقے سے جواب دینے پر آپکے مشکور ہیں ۔استاد تو ہمارے بھی کم از کم اتنے ہی پائے کے ہیں مگر بلاوجہ کا کامپیٹیشن کچھ مناسب نہیں لگ رہا ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آبجیکٹیو استادوں کا زکر کرنا کمزور سبجیکٹیویٹی کی نشانی اور ناولٹی کی کمی بھی ہوتا ہے ۔مینڈک چاہے کنوئیں میں ہو یا باہر آبسٹرکشنز ہر طرف ملیں گی ۔کوئی بھی استاد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری نظروں سے دیکھو جو کسی بھی چیز کے آر پار ہو جاتی ہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہیلو ہائے ہاے کس نے آٹیکل دے مارا کس کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کچھ زیادہ ہی گڑ بڑ لگ رہی ہے ۔ آپکا ایمیل سرچ کرکے واقعی سوری والی میل کرتے ہیں ۔ویسے آپ خود بھی ہماری مدد کرسکتی ہیں کیونکہ ہمارا ایمیل تو آپکے یقینا ہوگا ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہیلو ویسے کوشش کیا کرو راہ چلتے لوگوں سے ہیلو ہاے کم کم ہو کیونکہ جب آپ تبصرہ کرتے ہو تو گڑ بڑ کر جاتے ہو ۔ جو جواب راہ چلتے لوگوں کو دنیا ہوتا ہے ۔ وہ ہمارے حصے میں آجاتا ہے شکر کرو ہم پولیس والے نہیں ورنہ فورا ہی کوئی دفعہ لگ جاتی۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم اچھے لوگوں کو ان کی مہربانیوں کا صلہ تو نہیں دے سکتے مگر ان کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھ سکتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
سعد سب سے بڑ اتحفہ آج کے اس دور میں جہاں ہر کوئی اپنے مطلب کا دوست ہے ۔ اگر سچے دل سے دعا دی جائے تو ۔۔۔۔ بہت بڑی بات ہے ۔۔۔اور میں بہت خوش نصیب ہوں کہ اللہ پاک نے مجھے ایسے ایسے نیک لوگوں کے درمیاں رکھا ہوا ہے ۔ کہ دل سے بس انکے لیے دعاوں کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی
on line please wafa
اس تبصرے کا جواب دیں
اسلام و علیکم
تانیہ بہن
کیا حال ہیں ، آپ کی تحریر ہمیشہ کی طرح اپنی طرف کھینچ لیتی ہے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
اس تبصرے کا جواب دیں
معظم بھائی یہ آپ کا حسن نظر ہے ورنہ تو میرے جملے اتنے بےربط ہوتے ہیں ۔۔ کہ دوسروں کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ لکھا کیا ہے ۔۔۔لیکن بس میرے دل میں جو ہواتا ہے میں لکھ دیتی ہوں اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی کیا سمجھتا ہے ۔۔ اللہ پاک آپ کو ہمشیہ خوش رکھےآمین
اس تبصرے کا جواب دیں