پڑھنے کی کیا ضرورت ہے
میں سوچ رہی تھی کہ ہمیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے بیکار میں حکومت اسکولوں پر پیسیہ برباد کر رہی ہے ۔ بچے صبح صبح اسکول کے لیے اٹھتے ہیں کہیں کے گھروں میں تو ناشتہ کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا وہ بھوکے پیاسے ہی اسکول کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں کہیں کوسوں دور ۔۔۔کہیں کہیں گھنٹے کے سفر کے بعد وہ اس قابل ہی نہیں رہتے کہ کچھ پڑھ سکیں ۔ اور ماں باپ اپنے دل میں یہی ارمان لیے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے ہو کر آفسر یا ڈاکٹر انجنیر بنے گا۔ایک طرف وہ بچے ہیں جن کے اسکولوں میں اے سی تک موجود ہے بڑی بڑی گاڑیوں میں انکے ڈرایور چھوڑ جاتے ہیں ۔ بس ان کا حق ہے وہی تعلیم حاصل کریں ۔۔ کافی ہے ، غریب کے بچے کو کیوں تنگ کیا جاتا ہے سرکاری سارے اسکول بند ہونے چاہے ۔ کم از کم بچہ کچھ کام کاج کر کے یا پھر ہاتھ پھلا کر اپنے گھر کے لیے چار پیسے تو لائے گا ۔۔۔ اگر یہ بھی نا کر سکا تو چور ڈاکو بننے کے لیے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔پورا ملک سکون سے ہو جائے گا ۔ کیا رکھا ہے تعلیم میں وہ بھی ایسی جو شعور نا دے سکے ۔

بس جی اسی طرح کی سوچ بنانے کے لیے کچھ خاندان پاکستان ميں تعلیم کا برا حال کررهے هیں
لیکن اپ نے طنز کیا هے تو شائد کسی ایک هی جاگ آ جائے
بس جی تعلیم نہیں هونے چاھیے
یه هے همارے حکمرانوں کا ماٹو
اس تبصرے کا جواب دیں
غريب کا بچہ سرکاری سکول ميں بھی کتنا سا پڑھ لے گا لاکھوں ميں ايک دو پر قسمت کی ديوی مہربان ہو تو وہ کچھ زيادہ پڑھ لے ورنہ ميٹرک تک مشکل ہے گرچہ ميری ہمدردياں انکے ساتھ ہيں مگر اليکشن والے دن لگی لمبی لائنوں پر اگر غور کيا جائے تو معلوم پڑے گا ووٹ دينے والے سب يہی ہيں
پھپھے کٹنی کے بلاگ سے آخری تحریر … دودھ کی تاثير
اس تبصرے کا جواب دیں
ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو تو شاید یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
خاور صاحب کچھ نہیں بہت سے ۔ جو اپنی غلامی سے آزاد کروانا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آسان حل ھے جی ،غریبوں کے بچوں کو انگلش میڈیم سکول میں پڑھائیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … معاہدہ گند صفائی
اس تبصرے کا جواب دیں
بی بی ۔ اللہ کا نام ليجئے ۔ کيوں غريبوں کے پيچھے ہاتھ دھوئے بغير پڑ گئی ہيں ؟ پڑھنے ديں غريبوں کے بچوں کو جيسے بھی پڑھتے ہيں ۔ کم از کم جعلی ڈگری تو نہيں بنوائيں گے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … آج کی اہم ملکی جبريں
اس تبصرے کا جواب دیں
خدا کا خوف کریں۔
کہیں آپکا خیال بھی یہ تو نہیں کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جب قوم کی قیادت ہی جب جعل ساز ہو تو ملک کی تعلیم کا کیاحال ہوگا ؟؟؟؟
فرحان دانش کے بلاگ سے آخری تحریر … مسخرہ
اس تبصرے کا جواب دیں
اسما غریب نے ہر دور میں مار کھائی ہے اسی لیے ووٹ والے دن امیر تو اپنے گھروں میں بیٹھ کر صرف تماشا دیکھتے ہیں ۔ اور غریب یہ سوچ کر لائن میں لگتا ہے کہ اب اس کی قسمت میں مذید لائن میں لگنا نہیں ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ہائے ری قسمت ۔۔۔۔ وہی امیر جائل ان کی تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
سعد کون لائے گا یہ نظام تعلیم ۔ ۔۔۔۔۔ اچھا نہیں کہ سرکاری اسکول بند کر دیے جاہیں ۔ امیر ہیں نا ملک کو کھانے کے لیے ،
اس تبصرے کا جواب دیں
یاسر جاپان سے یہ اسکول ہیمں بھج دو تاکہ ہم غریب کے بچے کو جمع کرواسکیں ۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار جی آپ یقین کریں میں نے جب یہ پوسٹ لگائی تو چونکہ غریب کے بچے پر تھی ۔ اس لیے چار دفعہ ہاتھ دھوئے ۔ ۔۔۔ کیونکہ مجھے اندازہ تھا ۔ کہ غریب کے بچے کی بیماری بڑی تیزی سے پھلتی ہے ۔۔۔۔اور ڈگری کو کیا کرنا غریب نے ۔۔۔۔ وہ بھی کوئی امیرذادہ چند روپے دے کر اپنے نام کروا لے گا۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
نہیں رضوان یقین جانو میں تو جانتی تک نہیں ڈگری کس کو کہتے ہیں ہاں یہ سنا ہے کہ آج ۔ملتان کا درجہ حرارت موسم اتنی ڈگری سنٹری گریٹ تک جائے گا ۔۔۔ باقی کچھ پتا نہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
فرحان اس کا مطلب ہے کہ صرف آپ میرے ساتھ ہو کہ تعلیم بند کر دو اسکولوں کو گرا دو، غریب کے بچے کو چور اور ڈاکو بنا دو ۔ یہی ہمارا نعرہ ہے ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
spam آرہے ہیں آپ کے بلاگ پر۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
اس تبصرے کا جواب دیں
مجھے کوئی طریقہ بتاو کیسے روکوں
اس تبصرے کا جواب دیں
ورڈ پریس پر تو Akismet کام کرتا ہے۔ آپ کی ہوسٹنگ کا مجھے معلوم نہیں۔ بلال یا دوسرے ماہرین کو پتہ ہوگا۔ ان سے پوچھیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کی اس تحریر سے نا امیدی کی بو آ رہی ہے۔ ویسے تو آجکل ہر طرف یہی حال ہے۔ جس ملک کے سیاستدان ہی دو نمبر ہوں تو عوام کا کیا حال ہوگا۔ غریب کے بچے کو پڑھنے دیں شاید ان میں سے ہی کوئی ملک کا خیر خواہ نکل آئے۔ بڑے لوگوں کے بچے تو باہر پڑھتے ہیں اور صرف حکومت کرنے واپس آتے ہیں۔ باقی رہا سرکاری اسکولوں کا معیار تو وہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔ پھر بھی ہم کو پرامید رہنا چاہیے۔
عمران اشرف کے بلاگ سے آخری تحریر … وہی فارورڈڈ میل؟
اس تبصرے کا جواب دیں
عمران غریب کا بچہ کیوں پڑھے ۔ اس کو یہ حق ہی نہیں ہے اور اپ کہتے ہیں کہ پڑھنے دیا جائے۔۔۔ کیوں ؟وہ پڑھ کر کیا کرئے گا ۔ کیا بن جائے گا پڑھ کر اس کی قسمت بدل جائے گی ۔ ۔۔۔۔ جہاں چور ڈاکو رہتے ہوں ۔ انکے مقابل چور ڈاکو آہیں ۔شریف انسان تو آنے سے رہا ۔۔۔۔ اور غرہب تو غربت کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے ۔۔۔ وہ پڑھ گیا تو تعلیم کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکے گا۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم م م م ۔ شاید ٹھیک ہی کہتی ہیں۔ غریب پڑھ گیا تو ان کی گاڑیاں کون صاف کرے گا۔ گھر کا کام کون کرے گا۔
ان کو کوئی حق نہیں پڑھنے کا۔ چھین لیں کتابیں ان سے، ان کو ترقی کا کوئی حق نہیں۔
عمران اشرف کے بلاگ سے آخری تحریر … وہی فارورڈڈ میل؟
اس تبصرے کا جواب دیں
کیوں لوگوں کی تعلیم کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔۔۔خدا کا خوف کریں۔۔۔ایک چند لوگوں کی روش صحیح نہیں تو باقیوں کو تو ہمت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئیے۔۔۔ اگر ہم نوجوان ہی ایسا سوچنے لگے تو عام لوگوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں اس وقت تک یہ بات کرتی رہوں گی جب تک غریب کو اس کا حق نہیں مل جاتا ۔۔۔۔اور اگر غریب کا حق نہیں ملا تو امیروں کے لیے یہی غریب گولی کا کام کریں گئے ،
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نے لتا حیا کے حوالے سے مضمون لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔ملاحظہ فرمائے۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہندو کی زبان سے….!
اعظم طارق کوہستانی
دنیا میں بے شمار اقوام رہتی ہیں، سب مختلف نظریات اور خیالات کے مالک ہوتے ہیں۔ عیسائی اپنے نظریات میں ایک الگ حیثیت کے مالک ہیں۔یہودیوں کے عقائد ایک مختلف مقام رکھتے ہیں۔ بدھ متوں کا اپنا ایک طریقہ ہے۔ ہندو اپنے ذات پات والے انداز میں رہنا اور سوچنا پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کابھی اپنا ایک الگ تشخص ہے ، اپنے نظریات اور عقائد ہیں ….جس میں پختگی ہے اور اس پختگی کایہ عالم ہے کہ آج بھی لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اسلام کو رول ماڈل کے طور پر رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ….ان میں چاہے نپولین بونا پارٹ ہو یا گاندھی ، الیگزینڈر (سکندر اعظم) ہو یا ہلاکو خان سب زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پراپنے کارکنوں ، وفاداروں کے سامنے اسلام کی مثالیں پیش کرکے ان کا عزم و حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔
لیکن ….!
دنیا کے گزرتے وقت کے اور عدم برداشت بڑھنے کے ساتھ مفاہمتی ڈائیلاگ کا سلسلہ نایاب ہو چکا ہے جبکہ اس کی جگہ جارحیت اور تشدد نے اپنا لی ہے ۔ خصوصاً پاکستان اور ہندوستان دو ایسے ممالک ہیں ، جنہوں نے ایک ساتھ آزادی حاصل کی۔ پاکستان میں مسلم اکثریت میںہیںلہذا اپنے مسلم عقائد کی وجہ سے وہ ہندوستان سے روایتی دشمنی رکھتے ہوئے بھی بغض اور کینہ نہ رکھ سکے۔ لیکن اس کے جواب میں ہندوستان کا وتیرہ رہا ہے کہ ہمیشہ پاکستان کو زَک پہنچائی جائے ۔ شائد یہ اب روایتی بات بن چکی ہو کہ ہر الزام کا موردِ الزام بھارت کو ٹھرانا ہے لیکن صحیح با ت یہی ہے کہ یہی ”حقیقت “ہے۔ یو ٹیوب میں ایک دن سرچنگ کے دوران ایک ویڈیو دیکھنے کوملی تھی۔ یہ ویڈیو ہندوستان کے ایک اسکول کے سالانہ فنکشن کی تھی۔ سادھوں والے کپڑے اور ماتھے پر بڑا سا”تلک “ لگائے17سے 18 سال کی ایک لڑکی پاکستان اور اس میں بسنے والے علماءپر دھاڑنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ جس میں موصوفہ نے 1971ءکی جنگ کے ساتھ ساتھ 1965ءکی جنگ کو بھی اپنی فتح کے کھاتے میں ڈال دیا۔ غازی آبدوز کی پھیلائی ہوئی تباہی اور دہشت کو چھوڑ کر صرف اس کے تباہ ہونے کا ذکر کیا۔کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی اور شملہ معاہدے کے بارے میں کہا گیا کہ ہم جنگجو لوگ ہیں ہم لڑنے سے نہیں شملہ جیسے معاہدوں سے ڈرتے ہیں۔ غرض پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چلنے والی تمام جنگوں میں کامیابی کے دعوے کیے گئے ، لیکن حقیقت کیا ہے ….ساری دنیا جانتی ہے اور ویسے بھی جنہوں نے کچھ کرنا ہوتا ہے وہ منہ کے پکوڑے نہیں بناتے۔ بہت سارے پاکستانیوں نے اس ویڈیو کے جواب میں کچھ سخت تبصرے [کمنٹس] دے دیئے تھے ، حالانکہ ایسے نہیں ہوناچاہیے تھا۔ ویسے بھی ہندوستانی صرف فلمیں بنا سکتے ہیں عملاً کام ہمارے لیے چھوڑ رکھا ہے۔
دوسری جانب ”لتا حیا “(جو کہ ہندو ہیں )کی شاعری سننے کوملی ۔ ”اسلام کی عظمت “کے حوالے سے یہ شاعری کیا غضب ڈھارہی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہندوﺅں کے منہ پر 100 کی رفتار سے لگنے والا تھپڑ تھا۔ ایک ہندو شاعرہ کے منہ سے اسلام کی عظمت اور بتوںکا تمسخر اڑانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندو مذہب دلائل کی دنیا سے نکل کر صرف اور صرف وراثت کے جھتے میں چلا آیا ہے جبکہ اسلام کے لیے اب دلائل کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ لتا حیا کی یہ نظم اسلام کے حوالے سے بہت مقبول ہوئی ہے۔ ہندوستان کے علاقے حیدر آباد میں پڑھی گئی اس نظم سے آپ بھی لطف اٹھا یئے۔
جو انسان کو جینے کا انداز سکھاتا ہے
سانسوں کی آمد کا گہرا راز بتاتا ہے
جو یہ کہتا ہے دنیا کیسے ایجاد ہوئی؟
اک غلطی سے خارج آدم کی فریا دہوئی
جو یہ کہتا ہے دنیا کو ایک سزا سمجھو
اپنے ہونے میں اللہ کی صرف رضاسمجھو
جو یہ کہتا ہے جوکچھ بھی ہے فانی ہے
کہتے ہیں ہم جسے قیامت، وہ تو آنی ہے
کیسے ہوتی صبح،کیسے شام بناتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
جہاں برائی ختم، شروع اسلام وہاں سے ہے
اپنے بندوں کو اس کا پیغام وہاں سے ہے
اک مکمل جس نے یہ قانون بنایا ہے
اس نے اپنے بندوں کو ہر گام سکھایا ہے
کیسے جینا ہے تم کو اور کیسے مرنا ہے
اس دنیا میں رہ کر کیا کرنا نہ کرناہے
ہر اچھی باتوں کا حکم جو ہمیں دیتا ہے
اور آخرت بن جائے یہ دین ہی ایسا ہے
جو انسان کو ایک کامل انسان بناتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
آج جہاں میں دیکھو، توہر اور برائی ہے
اور نیکی سے بدی کی ”گھنگور“ لڑائی ہے
انسان نے دولت کو اپنادھرم بنایا ہے
اور گناہوں کو ہی اپنا کرم بنایا ہے
کس کو ہے پروا فرائض اور اصولوں کی
دنیا یاد رہی ہر بات وہ بھولے نبیوں کی
ذات پات میں راتارے دنگے اور مارا ماری
ارے فیصلے کے دن کی بھی کر لو تیاری
اک راستہ ہے جو جنت کی راہ دکھاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
دنیا میں آئے ہو تو انسان بنو پہلے
جسکی امت میں ہو، اسکی راہ چلو پہلے
اسکی فرمانبرداری کا نام محبت ہے
یہی عقیدہ کہلائے، یہی عبادت ہے
بیدہو یا توریت ہو کہ انجیل ہویا قرآن
لیکن دین فطرت دین قیم ایک ہے ہاں!
وہ کہ جو ایمان نہیں لائے، پچھتائیں گے
جب دوزخ کی تکلیفوں کو سہہ نہ پائیں گے
جو سچا ایمان یقین اور علم بڑھاتا ہے
وہ ہے سچامذہب جو اسلام بتاتا ہے
جو حضرت نوحؑ پر اترا اسلام وہی توہے
آپ محمد ﷺ تک جو پہنچا اسلام وہی تو ہے
ذکر ہے جس کا ویدوں میں اسلام وہی تو ہے
اور قرآن کی سورتوں میںاسلام وہی تو ہے
جو سمجھا یا نبیوں نے اسلام وہی تو ہے
دی اصلاح حدیثوں نے اسلام وہی تو ہے
جو ”ایمان مجمل“ ہے اسلام وہی تو ہے
اور ”ایمان مفصل“ ہے ایمان وہی تو ہے
جو کلمہ طیب پہلے پہل پڑھاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
میں نے سوچا بت کو پوجوں روح نہیں مانی
اِس کو پوجوں اُس کو پوجوں کیا ہے من مانی؟
دولت پوجا ، کرسی پوجا اور لہو پوجا
پتھر پوجا ، گھر کی پوجا اور پشو پوجا
جو کچھ ہے بس ایک وہی، بس ایک وہی ناداں
انسان کو بھگوان سمجھنا ہے اس کا اپمان
اس سے بہتر ہے کہ تم خود کو پہچانو
بدی گناہوں سے بچ جاﺅ بات میری مانو
جس کے ذریعے انسان آج دعائیں پاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
اس مذہب میں دنیا کا ہر راز ”نمایاں“ ہے
جینے سے مرنے تک کا ہر طور بتایاہے
ہے پابندی کلموں اور نمازوں کی
حج لازم ہے اور لکھی فہرست زکوٰتوں کی
انسان کے ہر ایک عمل کی خاص دعائیں ہیں
اک اک سورة میں مالک کی خاص شعائیںہیں
جیسے ماں بچے کو اچھی بات سکھاتی ہے
عقلی ہوئی توحید سمجھ،ایمان بناتی ہے
اور ہدایت جس کو دے مالک وہ پاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
اس میں ہے تہذیب ،صداقت اور وفاداری
گھونگھٹ آنچل، نیکی، لجا اور پردہ داری
عزت غیرت ایک سلیقہ اور بھلائی ہے
مضبوطی بہبودی ظاہر صرف خدائی ہے
یہ توبس اعمال، ادب، اخلاق، نفاست ہے
شرک نہیں ہے ، کفر نہیں ہے ، صرف اطاعت ہے
بڑے بزرگوں کی عزت، ماں والد کا سمّان
بچوں کو بچپن سے دکھلاتے رہے راہِ قرآن
اس لےے یہ دھرم حیا کے دل کو بھاتا ہے
وہ ہے سچا مذہب جو اسلام بتاتا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں