میں سوچ رہی تھی کہ ہمیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے بیکار میں حکومت اسکولوں پر پیسیہ برباد کر رہی ہے ۔ بچے صبح صبح اسکول کے لیے اٹھتے ہیں کہیں کے گھروں میں تو ناشتہ کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا وہ بھوکے پیاسے ہی اسکول کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں کہیں کوسوں دور ۔۔۔کہیں کہیں گھنٹے کے سفر کے بعد وہ اس قابل ہی نہیں رہتے کہ کچھ پڑھ سکیں ۔ اور ماں باپ اپنے دل میں یہی ارمان لیے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے ہو کر آفسر یا ڈاکٹر انجنیر بنے گا۔ایک طرف وہ بچے ہیں جن کے اسکولوں میں اے سی تک موجود ہے بڑی بڑی گاڑیوں میں انکے ڈرایور چھوڑ جاتے ہیں ۔ بس ان کا حق ہے وہی تعلیم حاصل کریں ۔۔ کافی ہے ، غریب کے بچے کو کیوں تنگ کیا جاتا ہے سرکاری سارے اسکول بند ہونے چاہے ۔ کم از کم بچہ کچھ کام کاج کر کے یا پھر ہاتھ پھلا کر اپنے گھر کے لیے چار پیسے تو لائے گا ۔۔۔ اگر یہ بھی نا کر سکا تو چور ڈاکو بننے کے لیے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔پورا ملک سکون سے ہو جائے گا ۔ کیا رکھا ہے تعلیم میں وہ بھی ایسی جو شعور نا دے سکے ۔