دوست کی دوست کا فون
آج میری ایک دوست سے کافی دنوں بعد فون پر بات ہوئی ۔ ویسے فون پر ہی بات ہوتی ہے ۔ ملاقات تو اب ایک خواب بن کر رہ گیا ہے یا پھر ہم نے خود اپنے آپ کو گھر تک محدود کر لیا ہے ۔۔ بات اشفاق احمد سے شروع ہوئی ۔۔۔ تو اس نے اپنی ایک دوست جس کو میں بھی جانتی ہوں ۔ کہنے لگی کہ عجیب لوگ ہیں دوسروں کو کہتے ہیں کہ عاجزی انکساری سے کام لو ۔ اپنے سے نیچے کو دیکھو ۔۔ ہمشیہ دوسروں کے کام آو وہ کام کرو جس سے خدا راضی ہو ۔۔۔ زیادہ شو شاہ کرنے سے پرہیز کرو ۔ اگر کوئی غلطی کر جائے تو معاف کر دینا چاہئے ۔۔۔لیکن ان سب باتوں میں کوئی کام بھی ایسا نہیں کرتے ۔ جس سے ان کا عمل نظر آئے ۔۔۔ کیا ایسے لوگ منافق ہوتے ہیں ۔۔۔جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں ۔۔ میں سوچ رہی تھی ، کہ ہاں کہوں یا کے نا ۔۔۔خیر کہہ تو دیا جو کہنا تھا ۔ اب آپ بتاسکتے ہیں ۔ کہ اتنے عظیم لوگ کہاں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔جو دوسروں کو معاف کرنے اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر سمجھتے ہوں ۔دولت عزت شہرت ہونے کے باوجود اپنے آپ کو صرف کہنے کی حد تک عاجز اور مسکین ظاہر نا کریں ۔۔۔پوری طرح اعلی ظریفی کا مظاہر بھی کریں

آپ کی تحریر کچھ سمجھ نہیں آسکی۔ جملے بے ربط سے محسوس ہو رہے ہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
اس تبصرے کا جواب دیں
میں هوں ناں جی
ناں منافت ہے ناں غرور ہے ، لوگوں کی مدد بھی کرتا هوں
اپنے سے نیچے کو دیکھتا هوں لیکن امیر هونے کے لیے امیروں کو بھی دیکھتا هوں
درگزر بھی کرتا هوں
لیکن میں ابھی غریب هوں
خاور کے بلاگ سے آخری تحریر … نام اور تعلیم
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر خاور ہیں تو میں کیوں نہیں جی؟
ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس امیر کروادیں اللہ میاں سے دعاکرکے
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … اب جاپان ائیر پورٹ پر بھی
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ فيصلہ کرنا بہت مشکل ہے ۔ اللہ ہميں منافقت سے سے بچائے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … دہشگرد کون ؟
ويسے آپ شايد جانتی نہيں جو وہی ہو جو وہ کہتا ہو اور دسروں کی مدد بھی خلوصِ نيت سے کرتا ہو اُسے عصرِ حاضر ميں بيوقوف يا پاگل کہتے ہيں
اس تبصرے کا جواب دیں
میں یہی کہوں گی کہ جو افتخار جی نے کہا ، وہی درست ہے ۔۔۔ جو ہیں اللہ ان کو مزید امیر کرئے ، جو غرور کرتا ہے ۔ مزید غرور بلکہ حسد بھی کرئے۔۔۔ دوسروں کو نیچا دکھا دکھا کر اپنے آپ کو مسکین ۔ اور عاجز ظاہر کرئے ۔۔۔۔ سانوں کی
اس تبصرے کا جواب دیں
تانی جی آپ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین طرح کے گروہ پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔ پہلا گروہ واضح دشمنوں پر مشتمل ہے۔ بھارت سرکار کی سرپرستی میں چلنے والے لابنگ کے ادارے دنیا بھر میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ امریکہ اور یورپ ہی نہیں بعض عرب ممالک میں بھی بھارت نواز اداروں نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں۔ یہ ادارے اور ان سے وابستہ لوگ پاکستان کے وجود کے خلاف نت نئے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں۔”پاکستان ناکام ریاست ہے“ ۔”پندرہ بیس سالوں میں پاکستان ٹوٹ جائے گا“۔ ”پاکستان پر امریکہ حملہ کرنے والا ہے “۔” پاکستان کا روپیہ ڈوبنے والا ہے“۔ یہ وہ نفسیاتی حملے ہیں جو آئے روز دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔
ہمارے معصوم اوورسیز پاکستانی ان حملوں کا پہلا ہدف ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے روزگار کے سلسلے میں دیار غیر میں پھنسے ہوتے ہیں۔ ان ہرزہ رسائیوں کا کوئی جواب دے نہیں سکتے۔ اس لئے گھبراتے ہوئے پاکستان آتے ہیں اور یہاں آکر پروپیگنڈے” کو حقائق“ کے طور پر پیش کرکے مایوسی کی فضاءقائم کردیتے ہیں۔ رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے ان پاکستان دشمن اداروں کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بہت بڑا حصہ وطن مخالف پروپیگنڈے کو اخبارات اورنیوز بلیٹن کا حصہ بنا کر ”آزادی صحافت“ کا مظاہرہ کرتا ہے۔
چونکہ ذرائع ابلاغ میں ایڈیٹوریل بورڈ کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے اس لئے ”چیک اینڈ بیلنس“ کا کوئی فارمولا ہی نہیں بن پا رہا۔ ”بریکنگ نیوز“ کے چکر میں ہر ملی اور اخلاقی ”حد“ کو بریک کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا رجحان جڑ پکڑ چکا ہے۔ اگر ہمارے ذرائع ابلاغ پاکستان مخالف خبر اچھالنے کی بجائے حب الوطنی کو سامنے رکھیں تو شائد دشمنوں کے پروپیگنڈے کو عوام میں پذیرائی حاصل نہ ہوسکے۔ امید رکھنی چاہئے کہ ہماری صحافت اس حوالے سے جلد ہی قومی ذمہ داریوں کو نبھانے کے قابل ہوجائے گی۔
دوسرا گروہ سابق دور حکومت میں شامل رہنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ وہ موجودہ حکومت اور سیاسی گروہوں کو ناکام ثابت کرنے کی دھن میں پاکستان کے وجود اور سا لمیت کے خاتمے کے اندیشے پھیلاتے رہتے ہیں۔ نااُمیدی اِن کا واحد اورمﺅثر ترین ہتھیار ہوتا ہے۔ عوام میں کسی نہ کسی طرح سے حالاتِ حاضرہ کے بارے میں بے چینی پیدا کرنا حزب اختلاف کا سیاسی حق ہوتا ہے لیکن انہیں یہ حق استعمال کرتے وقت اپنے پاﺅں ضرور بچانے چاہیں۔ حکومت کی مخالفت بجا لیکن پاکستان کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں۔ میں تمام سیاستدانوں کے ایسے بیسیوں بیانات حوالے کے طورپر درج کرسکتا ہوں جن کا فائدہ صرف اور صرف پاکستان مخالف قوتوں کو ہوتاہے۔ خصوصاً جب یہ لوگ نجی محفلوں میں ”سینہ گزٹ“ چلاتے ہوئے” حالات ٹھیک نہیں ہیں…. ملک کا اب اللہ ہی حافظ ہے“ جیسے جملے ادا کرتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ ان کا منہ نوچ لیا جائے۔ اتنی بڑی گاڑی‘ اتنا بنک بیلنس‘ اتنی بڑی پراپرٹی…. ہر طرح کے اللّے تللّے پھر بھی ان کے نزدیک ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ اگر ٹھیک ہوتے تو شائد اجلے لباس پہنے یہ لوگ نمرود اور شداد بن چکے ہوتے۔
تیسرا گروہ معصوم ذہنوں پر مشتمل ہے یہ بڑے درد دل کے ساتھ ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر کُڑھتے رہتے ہیں ۔ یہ کسی ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے ہوتے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ساٹھ سال پہلے معجزاتی طورپر آزاد ہونے والاپاکستان امریکہ اور یورپ کی طرح ترقی یافتہ بن جائے ۔ لیکن انہیں قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا علم نہیں ہوتا ۔ ایک طرف تو یہ گروہ اپنے لیڈروں کو ایمانداری اوراہلیت کے حوالے سے خلفائے راشدینؓ کے معیار پر پرکھتا ہے اور دوسری طرف ترقی کے اعتبار سے بھارت ‘چین اور جاپان کے برابر تولتا رہتا ہے۔
چونکہ یہ نیک نیت لوگ ہیں اس لئے ان کی رائے کا احترام ہونا چاہئے ملکی حالات کو بہتر سے بہتر بنانے کی تجاویز پر عمل پیرا رہنا چاہئے۔ ان پیارے پاکستانیوں سے بھی صرف اتنی گزارش ہے کہ لیڈر شپ اور مینجمنٹ کی خامیوں سے دلبرداشتہ ہو کر وہ ملک سے بددل نہ ہوں۔
انگریزی کے صاحب طرز لکھاری جناب طارق جان‘لیتھونیا کے اعزازی کونسل جنرل اور دیارِ غیر میں پاکستان کی مدللّ آواز جناب مسعود خان اور سب سے بڑھ کر تحریک پاکستان کے دوران پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما جناب نسیم انور بیگ بھی موجود تھے۔ لاہور سے جناب ڈاکٹر چوہدری صاحب بھی اس محفل میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے بیس برس کویت میں گزارے اور اب کچھ عرصہ سے پاکستان میں ہیں اور لاہور میں میڈیکل سے وابستہ کاروبار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مُلکی حالات کے بارے میں بڑے پریشان دکھائی دیئے۔اُن کے خیال میں پاکستان کو کم از کم کویت کی طرح دمکتا چمکتا ملک بن جانا چاہئے تھا۔مجھے ان کی یاسئیت بھری گفتگو سن کر بڑا تاسف ہوا۔ خدا نے انہیں اس ملک کے طفیل بہت کچھ
دیا ہے۔ کاش کہ وہ اپنے افکار کو ازسرنو ترتیب دیں۔
جناب طارق جان صاحب نے بڑی اہم بات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ برصغیر میں مسلمان کبھی بھی محکوم نہیں رہے۔ 1857 میں انگریزوں نے فریب کاری کے ذریعے مسلم ہندوستان پر قبضہ کرلیا۔ لیکن 1947ءمیں پاکستان کی شکل میں مسلمانوں کو ایک بار پھر حکومت بنانے کے موقع مل گیا۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق تھا۔پاکستان اسی حق کا اظہار ہے۔ میاں
جاوید صاحب نے بتایا کہ وائس آف امریکہ ریڈیو سروس کی طرف سے بلوچستان کے ایشو کو اچھالنے کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس ملکی قانون کے تحت غیر ملکی ریڈیو یہاں اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں؟
اس نشست کی ایک اہم بات یہ تھی کہ ”pakmediaalert.wordpress.com“ کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں شائع ہونے والاپاکستان مخالف مواد سامنے لایا جاتا ہے۔
آخر میںیہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان نہیں اس کی قیادت ناکام ہوسکتی ہے۔ ملک ٹوٹ جانے کی باتیں کرنے والے ملک بننے کے ہی مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پہلے پانچ برس میںہی پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔”پِن“ کی جگہ کیکر کے کانٹے استعمال کرنے والے لوگوں نے ایٹم بم بنا لیا۔ یہ بات دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ حَسد کی آگ میں جل کر راکھ ہوجائیں گے۔ پاکستان سترہ کروڑ کلمہ گو عوام کے لئے پائندہ رہے گا!
لَاتَقنَطُو مِن رَحمة اللہ!“
اس تبصرے کا جواب دیں
” ایسے مسلمانوں کے سوالات سے ہوشیار رہنا چاہیے، جو استفسار کرتے ہیں کہ اسامہ بن لادن حق پر ہیں یا ناحق؟ ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔اگر میرا ذاتی خیال پوچھا جائے تو میرا کہنا ہے کہ ناتو میں اسامہ بن لادن سے ملا ہوں اور ناہی میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اس وقت کیا کررہا ہے؟ لیکن اگر مجھے اس بات کا علم ہو جائے کہ اس کے سبب امریکا جیسے دہشت گردوں پر خوف و دہشت طاری ہے تو یقینا میں اسامہ بن لادن کی حمایت کروں گا اور چاہوں گا کہ ہرمسلمان کو ایسا ہی دہشت گرد ہونا چاہیے۔“
یہ بیان 2006ءمیں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک پروگرام میں تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے دیا تھا۔ مغرب کو اچانک چار سال بعد یہ انتہائی آسان بیان اتنا ناگوار گزرا کہ نئی برطانوی سیکرٹری داخلہ ”تھریسامے“ نے انہیں برطانیہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اسی ماہ برطانیہ میں ”الخیر پیس 2010“ کے تحت کئی پروگرامات کرنے تھے اور امید ظاہر کی جارہی تھی کہ سیکڑوں لوگ ان اجتماعات میں اسلام قبول کریں گے، لیکن مغرب کو بھلا کیونکر یہ گوارا ہوتا! برطانوی سیکرٹری داخلہ ”مادام تھریسا“ نے کہا:”مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ناصرف خود اپنے آپ کو دہشت گرد کہا بلکہ یہ بھی منطق پیش کی: ’ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہیے۔“
عجیب بات یہ ہے جس ملک نے ان کی آمد پر پابندی لگائی ہے وہی ملک اپنے ایک سروے کے دوران اعتراف کرتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک برطانیہ اور بھارت میں تین بڑے مذہبی مبلغین میں سے ایک ہیں، جن کو خود بھارت اور پاکستان میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ کراچی سے شائع ہونے والا ایک روزنامہ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ برطانوی وزارت خارجہ اصل میں اس بات پر ناراض تھی کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یورپ میں خواتین پر ہونے والی زیادتیوں کے واقعات کا بنیادی اور جائز سبب بتاتے ہوئے کہا ہے: ”مغربی سوسائٹی نے عورت کو اس کا اصل مقام دینے کے بجائے اسے ”داشتہ“ اور معاشرے کی ”تتلی“ بناکر رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف اس کارروائی پر برطانوی اراکین پالیمان نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔“
خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ”الخیر پیس کنونشن 2010“ کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ سارا کھیل کھیلا گیا۔ پیشگوئی کی جارہی تھی کہ اس کنونشن سے سیکڑوں عیسائی اور ہندوﺅں کے قبول اسلام اور اسلام کو برطانوی معاشرے میں پھیلنے کا موقع میسر آئے گا۔ ڈاکٹر ذاکرنائیک کے بہترین طرزِ تبلیغ نے جہاں ان کی شہرت کو چار چاند لگائے ہیں وہیں ان کے مذہبی خیالات اور آراءسے سخت اختلاف رکھنے والوں میں کئی مغربی ممالک اور خصوصاً آسٹریلیا سرفہرست ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے بارے میں بھی اتنی مبسوط معلومات رکھتے ہیں کہ اکثر وبیشتر عیسائیوں اور اہل ہنود کو ان ہی کی کتب کے حوالے دے کر قائل کرلیتے ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ ”پیس چینل“ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان سمیت مشرقی وسطیٰ کے کئی دیگر ممالک میں بڑے انہماک سے دیکھا جاتا ہے۔
مغرب سے یہ سب ہضم ہونے والا نہیں تھا۔ ان کا اگربس چلتا تو وہ یقینا ڈاکٹر صاحب کو گوانتا نامو میں بھی لے جاتے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار حضرات مغرب کے حد سے زیادہ ”دلدادہ“ ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ ذرا اپنے پیارے مغرب کی ان باتوں پر بھی نظر دوڑائیں۔
یہ تو تھا برطانیہ کا چہرہ، اب اس کے ”آقا ومولیٰ“ کے گھر کا واقعہ ملاحظہ کیجیے جو مغرب کے سیاہ چہرے کومزید بے نقاب کردیتا ہے۔ رواداری اور آزادی صحافت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟
”فریڈم فلوٹیلا“ پر حملے کے بعد اسلامی دنیا کے احتجاج کے علاوہ مغرب کے بھی بیشتر ملکوں نے اسے اسرائیل کی کھلی جارحیت قرار دیا۔ انہی انصاف پسندوں میں ایک ”ہیلن تھامس“ بھی تھیں۔ 4 اگست 1920ءکو پیدا ہونے والی ہیلن تھامس نے 57 برس تک وائٹ ہاﺅس میں بطور نمایندہ خصوصی خدمات انجام دےے اور اس کے بعد قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوتی گئی۔ اس نے ”یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل“ کے لیے وائٹ ہاﺅس بیورو چیف کی ذمہ داریاں اداکیں۔ اس کے علاوہ امریکا کے تقریباً اپنے دور میں تمام صدور کی پریس کانفرنسز کو رپورٹ کیا۔ وہ ایک چھوٹے سے اخبار ”کاپی گرل“ میں کام کرتے کرتے وائٹ ہاﺅس میں جاپہنچی۔ اس کی کرسی پر اب بھی اس کی صحافتی خدمات کے عوض اس کا نام کندہ کیا گیا ہے۔ ہیلن تھامس 57 سال تک وائٹ ہاﺅس سے وابستہ رہی۔ وہ وائٹ ہاﺅس ”پریس کور“ کی واحد رکن تھی جس کی وائٹ ہاﺅس بریفنگ روم میں ”ذاتی“ نشست تھی۔ قارئین کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں نشستیں افراد کے بجائے ابلاغی گروپوں کو مختص کی جاتی ہیں۔
آپ کو یہ ساری تفصیل بتانے کا مقصد یہی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ ” ہیلن تھامس“ کوئی عام عورت نہیں۔ وہ 90 سال کی ایک ایسی عورت ہے جس کے پاس 60 سے 70 سال کا تجربہ ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اس نے بس اتنا کہا: ”وہ (یہودی) فلسطین سے نکل جائیں۔ انہیں اپنے گھر جانا چاہیے۔ پولینڈ، جرمنی، امریکا یا پھر دوسرے ملکوں کو چلے جانا چاہیے۔ وہ جہاں بھی جائیں بس دفع ہوجائیں۔“ بس ان کا اتنا کہنا ہی کافی تھا۔ وہاں کے طاقتور یہودی حلقوں نے فوراً ”لال“ جھنڈی دکھادی۔ وہ ”اوباما“ جس نے اپنی 48 ویں اور ہیلن تھامس نے اپنی 89 ویں سالگرہ پیدائش کی تاریخ اور مہینہ ایک ہونے کی وجہ سے ساتھ منائی، اسی اوبامانے ان کے جبری استعفے کو درست قرار دیتے ہوئے ان کے بیان کو ”جارحانہ“ اور ”نامناسب“ قرار دیا۔
اسرائیل نے 20 انسانی جانوں کا خون بہاکر اور آزادی کا مشعل روشن کرنے والے امدادی بحری بیڑے ”فریڈم فلوٹیلا“ کو فلسطین پہنچنے سے پہلے اس پر حملہ کردیا لیکن امریکا اسرائیل کواب بھی ”فرشتہ“ مان رہا ہے۔ جو کبھی کوئی غلط اقدام نہیں اٹھاسکتا لیکن جب اس اسرائیل کے خلاف کوئی لب کشائی کرتا ہے تو پھر عشروں کی وابستگیاں بھی کسی سڑے ہوئے گوشت کی طرح بساند دینے لگتی ہیں۔
یہ سب کچھ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ امریکا کس چیز کا دعویدار ہے؟ امن کا؟ آزادی صحافت کا؟ جمہوریت کا؟ لیکن اس کے تو ہر کام امن دشمنی والے…. آزادی صحافت کو کچلنے والے…. اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنے والے ہیں۔ کیا ان دو واقعات کے بعد اب بھی ہم برطانیہ اور امریکا کو وہ ”پنڈت“ مان لے جو ”پوتر“ ہو۔ یہ تو صرف دوا بھی کے تازہ تازہ واقعات ہیں۔ اگر امریکا کی منافقانہ روش کا جائزہ لیا جائے تو ہزاروں ایسے واقعات کا پنڈورا بکس ہے جس کا ایک ایک واقعہ امریکا کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے اور اسی دھبہ کی وجہ سے امریکا کا یہ چہرہ بھرکر سیاہ ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک پر کچھ اور بس نہیں چلا تو برطانیہ آمد پر پابندی لگوادی۔ ہیلن تھامس کی معافی مانگنے کے باوجود اسے وہائٹ ہاﺅس سے استعفیٰ لینے پر مجبور کردیا…. لیکن اب کیا ہوگا؟ کیا اب ہمارے کالم نگار اور اینکر پرسن ڈاکٹر ذاکر نائیک کو غلط ثابت کریں گے یا ہیلن تھامس کی بد چلنی ثابت کریں گے؟
وہ با طل پرست صفحے سیاہ کرتے رہے ہمیں تو اب آگے بڑھنا ہے۔ مغرب کے اس مکڑی کے جال کو توڑ نا ہے اور ایک لڑائی لڑنی ہے۔ اسلام دشمنوں کے خلاف…. اندر کے بتوں کے خلاف…. اپنوں کی منافقانہ روش کے خلاف…. اور وقت کے ساتھ چلنا ہے تیز ہواﺅں کے ساتھ….
استدعا ہے اے وقت ٹھہر جا!
تھم جا کہ ابھی کام باقی ہے
رک جا کہ ابھی تو آنکھ کھلی ہے
ابھی تو میں نے سمجھا کہ میں عبد ہوں
اور یہ دنیا دارلعمل ہے
ابھی تو مقصد زندگی سمجھ آیا ہے
تعمیر باقی ہے میرے جنت کے گھرکی
زیر کرنا ہے ابھی نفس شورش زدہ کو
لڑنی ہے لڑائی ابھی اندر کے بتوں سے
ڈھانا ہے ابھی مسکنِ شیطان
خدارا ابھی مہلت دے کہ!
میری جنت مجھے آواز دیتی ہے….
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی۔۔۔۔۔لگتا ھے آپ بھی کافی تھک گئی ہیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … اب جاپان ائیر پورٹ پر بھی
اس تبصرے کا جواب دیں
طارق پہلے تو آپ کا شکریہ جو پورا کالم یہاں لگا دیا ۔۔ ، بات یہ ہے کہ امید پر پوری دنیا قائم ہے ۔۔ مجھے صرف ایک بات کا جواب چاہے کہ یہ دوسرے ممالک ہم سے کیوں آگے نکل گے ہیں ۔ ہم پاکستان اسلامی جبہورہیہ پاکستان جہاں ۔ مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔۔ نماز رورزے حج زکوہ کے پابند لوگ ۔۔ کسی حد تک پردہ بھی کرتے ہیں ۔ پھر اللہ پاک ان پر کیوں مہربان نہیں ہوتا۔۔ کیوں آج یہ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جل رہے ہیں ۔۔۔ باقی ممالک جو اس وقت ترقی یافتہ کہلائے جاتے ہیں ۔ وہاں مسلمان بھی آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔ لیکن وہ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ کیوں؟۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یاسر جس دن بلاگ بند ہو گیا سمجھ لینا میں تھک گئی ہوں ۔ ہاں اللہ پاک کا کرم رہا ۔۔ اور زندگی نے ساتھ دیا تو ضرور آپ سب کے درمیاں رہوں گئی ۔ باقی اللہ پاک کو کیا منظور ہوتا ہے ۔ کچھ نہیں کہہ سکتی
اس تبصرے کا جواب دیں
امن بھائی اللہ کرئے آپ امن ہی لے کر آہیں ۔ لگتا ہے کہ دونوں بھائوں نے مل کر یہ کالم لکھا ہے ، خیر بہت اچھا لکھا ۔۔ سزا اور جزا اوپر والے کے ہاتھ میں ہے ۔۔آپ کے پاس ان سب سوالات کا جواب ہے کیا؟
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کا بلاگ تو اخبار ہی ہو گیا۔
کالم کاروں نے کالم کاری ہی شروع کردی۔ مزے کی بات ہے فلسفہ بھی ان کا وہی ہے۔ گھسے پٹے اردو اخبارات والا
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان جی پہلے تو تانیہ جی نے ایسا کچھ نہیں لکھا جو آپکی سمجھ سے بالا تر ھو۔
اس تبصرے کا جواب دیں
وفا جی ۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
تانیہ جی کا قصور نہیں۔ میں ذرا پھوہڑ دماغ کا ہوں ۔ سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اور ویسے بھی میں آجکل تانیہ جی سے ذرا ناراض ہوں۔ انھوں نے مجھے اپنی شاگردی میں لینے کی حامی جو نہیں بھری۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
اب یہی دیکھ لیں۔ ڈیڑھ مہینے سے میرا ایک افسانہ پھنسا ہوا ہے۔ اس کا اینڈ ہی نہیں سمجھ آ رہا۔ شروع میں نے رومانس سے کیا تھا۔ اختتام اس کا ایکشن فلم پر ہو رہا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان لگتا ہے اب مجھ سے مار کھاو گے ۔ ویسے یہ طنز بہت اچھا ہے ۔ شاگردی والا ۔۔ دیکھ بلاگ کا یہ فاہدہ تو ہوا نا کہ ، کالم بھی پڑھنے کو مل گئے ۔ لکھے لکھائے ،،
وفا عثمان نے درست کہا یہ بہت اسان تحریر سمجھ نہیں پاتے ۔ ان کے لیے مشکل والی بات اسان ہوتی ہے ۔ اور ہم ا۔ ب ۔ت لکھنے والے ہیں ۔ یہ تو بڑی بات ہے عثمان جی میرے بلاگ پر تشریف لاتے ہیں ۔۔۔کیوں عثمان ٹھیک کہا نا
اس تبصرے کا جواب دیں
لیجئیے۔۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
آپ کو میری درخواست طنز لگ رہی ہے۔ ادھر میں مرا جا رہا ہوں۔ مایوس ہوکر میں نے مستنصر کے پڑھے ہوئے سفرنامے دوبارہ پڑھنے شروع کردیے ہیں کہ شائد اسی میں سے مجھے کچھ مل جائے۔
لیکن نا۔ میرا کچھ نہیں بننا۔
ویسے ایک درخواست ہے۔ اپنے بلاگ پر بھی کبھی کبھار افسانچے لکھ دیا کریں۔ میرے جیسے کو کوئی ٹرک ہی مل جایا کرے۔ اور افسانچے کا مزا الگ
اس تبصرے کا جواب دیں
دیکھیں تانیہ جی۔۔

عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
آپ ٹھہریں ایک افسانہ نگار
اور میں ہوں ایک عظیم بلاگر
اب آپ کا اور میرا بھلا کیا مقابلہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان ویسے یہ عظیم بلاگر والی بات اچھی لگی ۔ جہاں تک افسانہ نگاری کی بات ہے وہ فسانہ ہوتا ہے ۔ جو بعد میں فساد ڈالتا ہے ۔۔۔لگتا ہے میرے جون والا افسانہ پڑھ لیا ہے پاکیزہ میں
اس تبصرے کا جواب دیں
کاش لوگ ان گھسے پٹے کالموں سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے تو شاید زندگی سنور جائے۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانی جی آپ کا مکمل تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس قوم سے کافی مایوس لگتی ہیں آپ۔۔۔۔۔کیوں؟
اس تبصرے کا جواب دیں
طارق میں نے کہا کہ مایوسی گناہ ہے ۔۔۔ لیکن حالات کیسے ٹھیک ہوں گے ۔ اب تو دعایں بھی کام نہیں آ رہی ۔۔۔۔میں اپنے قوم کے غریبوں کے لیے ناامید ہوں ۔ جو پہلے سے منہ میں سونے کا چمچہ ڈالے ہوئے ہیں ۔۔ ان کو کای فرق پڑتا ہے ۔۔۔غریب کو جتنا قریب سے میں نے دیکھا ہے ۔اور دیکھ رہی ہوں ۔۔۔یہ کوئی مجھ سے پوچھے ۔۔مجھے پتا ہے آپ نے مجھ سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں ۔ تو اللہ کا بڑا کرم ہے ۔جو ہم اس وقت جتنے لوگوں کے لیے کر رہے ہیں ۔۔لیکن یہ اپنی خوشی اور تسلی کے لیے ہے مجھے جنت یا دوزخ کی فکر نہیں ہے ۔ اور نا میں کوئی کام یہ سوچ کر کرتی ہوں کہ میری واہ واہ ہو ۔۔باقی باتیں آپ کے باقی سوالات پر ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان جی آپ نے جو اپنے دماغ کی تعریف لکھی پڑھ کر اچھا لگا آہو
اس تبصرے کا جواب دیں
وفا جی۔۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تکلفات
آپ صرف تانیہ جی کے بلاگ کے ساتھ ہی وفا کرتی ہیں؟ اردو بلاگستان کے دوسرے عظیم بلاگروں پر آپ نے اب تک نظر ڈالی کے نہیں؟
اس تبصرے کا جواب دیں
لگتا تو ایسے ہی ہے کہ اب دنیا سے خلوصختم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ ریا کاری اور منافقت نے لے لی ہے ۔ لیکن تانیہ جی
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
اس تبصرے کا جواب دیں
معظم شاہ بہت شکریہ بلاگ پر تشریف لانے کا ، بالکل ابھی اچھے لوگ باقی ہیں ،،، ورنہ تو لوگ چڑتے سورج کے پوجاری ہیں ۔ ہوا کا رخ دیکھتے ہیں ۔ انسانوں کے خلوص کی قدر تو جیسے ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان جی آپکو پہلے ہی ان عظیم بلاگووں کی سمجھ نہیں آرہی آگر میں نے ان عظیم بلاگووں پر نظر ثانی کی تو پھر معاملہ گڑبڑ ہو جاے گا آہو جی
اس تبصرے کا جواب دیں
وفا جی۔۔۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … حرام کھیل
تو پھر اس معاملے میں آپ ہی کچھ مدد کریں نا جی۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں