بہائی ملت اور مسلمان ۔ فرق کیا ہے
یوکے اور کراچی میں بہائی ملت کے لوگ بہت پائے جاتے ہیں ۔ یہاں مسجد بھی ان کی اپنی ہے اور لباس بھی اپنا ایک خاص قسم کا ہوتا ہے ، آپ کی رائے چاہیے ۔
ضروریات دین میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری پیغمبر ماننا ہے جس کے بعد خدا وند متعال کی طرف سے نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ کوئی شریعت ،اس بات کے اثبات میں قرآن میں بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جیسے سورہٴ احزاب آیت ۴۰،سورہٴ فرقان آیت۱، سورہٴ فصلت آیت ۴۱۔۴۲۔سورہٴ انعام آیت ۱۹ ،سورہٴ سبا ، آیت ۲۸ وغیرہ ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ علیہم السلام کی بہت سی روایتیں آپ کے خاتم الانبیاء ہونے پر صریحی ور سے دلالت کرتی ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آنے والے زمانوں میں فریبی اور چالباز لوگوں نے نیا پیغمبر بنا کر آپ کی خاتمیت کو مخدوش بنانا چاہا۔ تاکہ اس طرح سے خود ساختہ ادیان جیسے قادیانیت، بابی گری اور بہائیت معاشرہ میں اپنا اثر ورسوخ پیدا کرسکیں۔
اب درج ذیل مناظرہ جو ایک مسلمان اور بہائی کے درمیان ہوا ملاحظہ فرمائیں:
پیغمبراسلام (ص) آخری نبی
ضروریات دین میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری پیغمبر ماننا ہے جس کے بعد خدا وند متعال کی طرف سے نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ کوئی شریعت ،اس بات کے اثبات میں قرآن میں بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جیسے سورہٴ احزاب آیت ۴۰،سورہٴ فرقان آیت۱، سورہٴ فصلت آیت ۴۱۔۴۲۔سورہٴ انعام آیت ۱۹ ،سورہٴ سبا ، آیت ۲۸ وغیرہ ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ علیہم السلام کی بہت سی روایتیں آپ کے خاتم الانبیاء ہونے پر صریحی ور سے دلالت کرتی ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آنے والے زمانوں میں فریبی اور چالباز لوگوں نے نیا پیغمبر بنا کر آپ کی خاتمیت کو مخدوش بنانا چاہا۔ تاکہ اس طرح سے خود ساختہ ادیان جیسے قادیانیت، بابی گری اور بہائیت معاشرہ میں اپنا اثر ورسوخ پیدا کرسکیں۔
اب درج ذیل مناظرہ جو ایک مسلمان اور بہائی کے درمیان ہوا ملاحظہ فرمائیں:
مسلمان: ”تم اپنی کتابوں اور تقریروں میں اسلام اور قرآن کو اس فرق کے ساتھ قبول کرتے ہو کہ اسلام نسخ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ دوسری شریعت آ گئی ہے اب میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن نے تو اپنی متعدد آیتوں میں اسلام کو ایک عالمی اور قیامت تک باقی رہنے والا مذہب کہا ہے اور ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خاتمیت کا اعلان کرتے ہوئے آنے والے نئے دین کا باطل قرار دیا ہے۔
بہائی: ”مثلاً کون سی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری پیغمبر ہیں ؟“
مسلمان: ”سورہٴ احزاب کی ۴۰ ویں آیت میں۔
”مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا “
”محمد ، تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر شئے کا علم رکھنے والا ہے“۔
آیت میں جملہ ”خاتم النبیین“ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری پیغمبر ہیں،کیونکہ لفظ خاتم کو جس طرح بھی پڑھا جائے اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے ،لہٰذا اس آیت سے صریحی طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد کوئی بھی پیغمبر اور شریعت نہیں آئے گی“۔
بہائی: ”خاتم انگوٹھی کے معنی میں بھی آیا ہے جو زینت کے لئے استعمال ہوتی ہے اس طرح اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انبیاء کی زینت ہیں“۔
مسلمان: ”لفظ خاتم کا رائج اور حقیقی معنی ختم کرنے والے کے ہیں اور کہیں پر یہ نہیں آیا کہ لفظ خاتم کسی انسان کے لئے آیا ہو جس سے زینت مراد لی گئی ہو اور اگر ہم لغات کی طرف رجوع کریں تو پتہ چلے گا کہ خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہی ہیں اب اگر کوئی لفظ اپنے معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ سیاق وسباق رکھتا ہو،ہم اس لفظ کے ساتھ کوئی قرینہ یا کسی طرح کی کوئی دلیل نہیں پاتے ہیں جس کی وجہ سے اصلی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لئے جائیں۔
یہاں پر لفظ خاتم کے بارے میں چند لغات آپ ملاحظہ فرمائیں فیروز آبادی ”قاموس اللغة“ میں کہتے ہیں ”ختم“مہر کرنے کے معنی میں آتا ہے اور ”ختم الشئی“یعنی کسی چیز کا آخر۔
جوہری ”صحاح“میں کہتے ہیں کہ ختم یعنی پہنچنا اور ”خاتمة الشئی“ یعنی اس چیز کا آخر۔
ابو منظور ”لسان العرب“میں کہتے ہیں کہ” ختام القوم“ یعنی قوم کی آخری فرد اور ”خاتم النبیین“ یعنی انبیاء کی آخری فرد۔
راغب ”مفردات“میں کہتے ہیں کہ خاتم النبیین یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود آ کر سلسلہ نبوت کو منقطع کر دیا اور نبوت کو تمام کر دیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ لفظ خاتم سے زینت معنی مراد لینا ظاہر کے خلاف ہے جس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے اور یہاں پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے“۔
بہائی: ”لفظ خاتم کے معنی خط پر آخری مہر ہے جس کے معنی تصدیق شدہ کے ہیں لہٰذا اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے سے پہلے کے انبیاء کی تصدیق کرنے والے تھے۔
مسلمان: ”غرض پہلے سوال کے جواب سے یہ واضح ہو گیا کہ خاتم کے اصلی اور رائج معنی تمام اور اختتام کے ہیں اور یہ کہیں پر نہیں سنا گیا ہے لفظ خاتم سے استعمال کے وقت تصدیق مراد لی گئی ہو،اتفاق سے اس سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خاتم یعنی آخر میں مہر لگانا یعنی خاتمہ کا اعلان کرنا“۔
بہائی: ”آیت کہتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاتم النبیین،یعنی پیغمبروں کے سلسلہ کوختم کرنے والے ہیں ،آیت یہ نہیں کہتی کہ مرسلین کے ختم کرنے والے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد رسول کے آنے کی نفی ہوتی ہے“۔
مسلمان: ”اگرچہ قرآن میں رسول اور نبی میں فرق پایا جاتا ہے مثلاً خداوند متعال نے قرآن میں جناب اسماعیل علیہ السلام کو رسول اور نبی دونوں کہا ہے
(سورہٴ مریم آیت ۵۴)
اور اسی طرح جناب موسیٰ کو بھی رسول اور نبی بھی کہا ہے (سورہٴ مریم آیت ۵۱) لیکن یہ چیز کسی بھی طرح لفظ خاتم میں شبہ نہیں پیدا کرتی ہے کیونکہ نبی یعنی ایسا پیغمبر جس پر خداوند متعال کی طرف سے وحی ہوتی ہے خواہ وہ لوگوں کی تبلیغ کرنے والا ہو یا نہ ہو، لیکن رسول وہ ہے جو صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہو لہٰذا ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے۔
نتیجہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خاتم انبیاء کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اس فرض کے ساتھ کہ ہر رسول پیغمبر ہے بس رسول بھی نہیں آئے گا مثال کے طور پر نبی اور رسول کی مثال انسان اور عالم دین (منطق کی زبان میں عموم خصوص مطلق )کی نسبت پائی جاتی ہے جب بھی ہم کہیں کہ آج ہمارے گھر کوئی انسان نہیں آیا یعنی عالم دین انسان بھی نہیں آیا، اور ہماری بحث میں اگر کہا جائے گیا کہ کوئی پیغمبر ،رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد نہیں آئے گا یعنی کوئی رسول بھی نہیں آئے گا“۔
بہائی: ”نبی اور رسول کے درمیان تباین (جدائی ) پایا جاتا ہے جو نبی ہوگا وہ رسول نہیں ہوگا اور جو رسول ہوگا وہ نبی نہیں ہوگا لہٰذا ہمارا اعتراض بجا ہے“۔
مسلمان: ”لفظ رسول ونبی میں اس طرح کا فرق ،علماء اور مفکرین اور آیات وروایات کے خلاف ہے اور یہ ایک مغالطہ ہے کیونکہ تمہارا یہ مسئلہ خود آیت میں ذکر ہوا ہے“۔
”وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ“
”اور لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں“۔
اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے:”وکان رسولا ”نبیا““موسیٰ علیہ السلام رسول بھی تھے اور نبی بھی
(سورہٴ نساء آیت ۱۷۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی
(سورہٴ نساء آیت ۱۷۱میں)
رسول کہہ کر پکارے گئے اور سورہٴ مریم آیت ۳۰،میں نبی کہہ کر پکارے گئے ہیں اگر لفظ نبی اور رسول آپس میں ایک دوسرے کے متضاد لفظ ہوتے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام جیسے انبیاء ان دو متضاد صفتوں کے حامل نہ ہوتے، اس کے علاوہ اور بہت سی روایتیں اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں جس میں پیغمبر اکرم کو خاتم المرسلین کہا گیا ہے جن میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہی ختم الرسل ہیں“۔
بہائی: ”جملہ خاتم النبیین سے ممکن ہے خاص پیغمبر مراد لئے گئے ہوں اس طرح تمام کے تمام پیغمبر اس آیت میں شامل نہیں ہوں گے“۔
مسلمان: ”اس طرح کا اعتراض دوسرے اعتراضوں سے زیادہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ جو شخص بھی عربی قواعد سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہوگا وہ اس طرح کے جملے میں ہر جگہ ”ال“سے مراد عموم لے گا اور یہاں اس الف اور لام سے مراد ”عہد“ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا اس سے عموم ہی مراد لیا جائے گا“

قادیانی بھی بہائیوں کی طرح اسی طرح کے جھوٹے دلائل تراشتے رہتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اور ذرا ایڈیٹ کر لیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … حرام کھیل
پہلے تین اقتباس دو دفعہ چھپ گئے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اس میں تو کوئی شک نہیں کذاب صرف کذابیت کرتے ہیں۔لیکن بھائی فرقے اور قادیانیوں میں ایک فرق ھے۔بھائی اپنے نظریات چھپا کرمسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔۔۔شاید۔۔۔لیکن قادیانی گل مل کر اپنے نظریات چھپا کر جب موقع ملتا ھے تو نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ میرا تجربہ ھے۔قادیانیوں کے مطلق۔۔۔بہائی فرقے کے ایک دو فرد سے ملاقات ضرور ھوئی لیکن انہیں بے ضرر محسوس کیا۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ایک کہانی پردیس کی
اس تبصرے کا جواب دیں
مثلاً؟
اس تبصرے کا جواب دیں
مثلاً؟
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ کہاں سے اخذ کرليا آپنے؟ کيا رسول کو زيادہ پتہ ہے يا آپ کو؟
http://www.urdupoint.com/daily/ayat/2010-07/1321_hadees.gif
کلمہ شہادت ميں آخری کا لفظ کہاں آيا ہے؟ يقينا اللہ اور رسول ڈالنا بھول گئے جس کا درست کرنا آپکے ذمہ ٹہرا-
اس تبصرے کا جواب دیں
تو مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم ديوبند يہ کيا فرما رہے ہيں؟
http://www.youtube.com/watch?v=0sw6Qyqjh04
يقينا ديوبندی حضرات کو قاسم نانوتوی صاحب کو کافر ماننے ميں کوئی تردد نہيں ہوگا
اس تبصرے کا جواب دیں
تو پھر يہ تمام اکابرين دين بھی کافر ہوئے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر رسول وہ ہے جو صاحب شریعت ہو تو حضرت اسماعیل کونسی شريعت لے کر آئے تھے کہ انہيں رسول کہا گيا ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
اور حضرت اسماعیل کونسی کتاب لے کر آئے تھے کہ انہيں رسول کہا گيا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ رسول کی ليئے بھی نبی کی طرح صاحب شريعت اور صاحب کتاب ہونے کی قيد نہيں ورنہ حضرت اسماعیل کے ليئے رسول کا لفظ استعمال نہ کيا جاتا جو نہ صاحب شريعت تھے اور نہ صاحب کتاب۔
اس تبصرے کا جواب دیں
مفردات میں امام راغب نے ختم کے حقیقی معنی نقش پیدا کرنا کئے ہیں جبکہ اس کے مجازی معنی آخری کے بھی ہو سکتے ہیں (مفردات امام راغب)
اس تبصرے کا جواب دیں
حمید صاحب ہمیں صرف ایک بات پتا ہے اور وہی اہم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں! تم جتنی مرضی تاویلیں گھڑ لو ہم تمہارے جھوٹے نبی مرزے کو جھوٹا اور کذاب ہی کہیں گے! منہوس انگریز کا ٹٹو اپنی آخرت تو خراب کر ہی گیا مگر ساتھ تم لوگوں کو بھی گمراہ کر گیا۔ خدا تمہیں ہدایت دے
اس تبصرے کا جواب دیں
لعنتی مرزا کیلئے کچھ بھی کر لو۔ہم تو اسے جھوٹا ہی کہیں گئے۔دلائل چاھئے ہیں تو نیٹ پر ہی سرچ کرو مل جائیں گے۔ہمیں جہاں بھی لعنتی مرزا کا نام ملتا لاحول پڑھ لیتے۔خبیث کے چیلے خباثت کا گند ہی پھیلائیں گئے۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ایک کہانی پردیس کی
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنے مطلب کیلئے جو کچھ ہیر پھیر ھو سکتا تھاجمع کر کے لے آئے۔صحیح احادیث کا حوالہ بھی دو۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ایک کہانی پردیس کی
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ فرق ہے قادیانیوں اور بہائی فرقے میں۔فرقہ بہائیہ نےضرور عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا لیکن انہوں نے صاف صاف یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ایک الگ جماعت ہیں جو عرف عام کے اعتبار سے مسلمان نہیں۔ قادیانی ہر لحاظ سے مسلمانوں اور اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔اور اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر بھی بضد ہیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ایک کہانی پردیس کی
اس تبصرے کا جواب دیں
بلکل ٹھیک اور سچ و حق کہا سعد نے
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نے آپ سب کے تبصرے پڑھے ، اب آپ زرا یہ بھی پڑھ لیں ۔۔۔
ا مر بہائی کی تعریف ، بہائیوں کے موقع روۓ خط کے مطابق یوں بیان کی گئی ہے کہ ؛ یہ آزاد حیثیت رکھنے والے مذاہب میں سے دنیا کا سب سے نومولود مذہب ہے جس کے بانی ، مرزا حسین علی نوری (1817ء تا 1892ء) کو اس کے ماننے والے، ابراھیمی و غیرابراھیمی مذاہب کے پیامبروں میں سب سے حالیہ (نیا ترین) پیامبر قرار دیتے ہیں[1]۔ بعد میں مرزا حسن علی کے بڑے فرزند عبد البھاء نے بہائیت کو مشتہر کرنے اور وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا[2]۔ بہائیت کو ایک الگ مذہب سمجھا جاتا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود پیدائش و آغازِ بہائیت پر اسلام کی ؛ جغرافیائی حدود، معاشرتی نفسیات اور اس کے فکری محرکات جیسے عوامل کے اثر کی وجہ سے پیدا ہونے والی نسبت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا[3]۔ بہائیت اور اسلام کی اس تاریخی و معاشرتی نسبت سے بعض اوقات ایک ابہام کی کیفیت بھی دیکھنے میں آتی ہے جو ان افراد میں زیادہ پیدا ہوتا ہے کہ جو بہائیت کے تاریخی پس منظر سے ناواقف ہوں، یہ ابہام بہائی مت کی دستاویزات کے مطالعے کے دوران سامنے آنے والے قرآنی آیات و احادیث کے حوالوں کی موجودگی میں اس وقت واضح ہو جاتا ہے کہ جہاں ان کی تفسیر بہائیت کے نظریات کے مطابق پیش کی گئی ہو، جیسے رسول اور نبی میں فرق کا نظریہ[4]۔ بہائی مت کے ماننے والوں کی موجودہ تعداد بعض زرائع کے مطابق پچاس لاکھ[2] اور خود ایک بہائی موقع کے مطابق ساٹھ لاکھ سامنے آتی ہے[5]۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جناب حمید صاحب میں قاسم نانوتوی کو بھی کافر ماننے کو تیار ہوں اگر وہ یہی کہتا ہے کہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نہیں ہیں۔ اور جہاں تک مرزا صاحب کی بات ہے اس طرح کی کئی مسیح موعود اسلام کی ٹانگوں تلے سے گزر چکے ان چودہ سو سالوںمیں۔ آپ کے مرزا صاحب سے بھی نیا ماڈل موجود ہے ریاض گوہر شاہی۔ ہم الحمداللہ اس کی خرافات پر بھی لعنت بھیجتے ہیں اور مرزا صاحب کی خرافات پر بھی۔
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر … دل کے ارماں
اس تبصرے کا جواب دیں
یار مرزا صاب کی باتوں پر ہنسا کرو
ٹینشن نہ لیا کرو۔۔
مسخرے تھے، انگریزی دربار کے
اور قادیانی دوستوںکو یہ مشورہ ہے کہ
آپ مرزے کو جو مرضی سمجھو
ہمیں کوٕئی اعتراض نہیں
پر خود کو مسلمان نہ کہو۔۔۔
بس ۔۔۔
ویسے یہ مرزا ساب کی شریعت میں یہودی تو بالکل پکےسچے مومن ہیں۔۔۔ نہیں؟
جعفر کے بلاگ سے آخری تحریر … فیرہُن؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ذاتی فتوے کی کوئی حيثيت نہيں ذرا علما،، خاص طور سے علما ديوبند سے فتوی دلائيں-
پھر صرف نانوتوی صاحب نہيں؛ اکابرين کی ايک لمبی قطار ہے جو يہ عقيدہ رکھتی ہے ان پہ بھی کفر کا فتوی ہوجائے ليکن انکو کافر قرار دينے کے بہد اپنی کيا حيثيت رہ جائے گی-
اس تبصرے کا جواب دیں
دیکھے میدے یار اور کوئی معا ملہ ھوتو ہم مولویوں کے فتوی لے آئیں لیکن مسئلہ مردود مرزا کا ھے تو یہاں پر ہر مسلمان مفتی ھے کہ بس لعنت اوئے مردود مرزے پر ھزار لعنت
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ایک کہانی پردیس کی
اس تبصرے کا جواب دیں
ان حضرات کے عقائيد کے بارے کيا خيال ہے؟
http://www.youtube.com/watch?v=DjXYoX7l1zM
ابن عربی چھٹی صدی کے مجدد ہيں-
اس تبصرے کا جواب دیں
کيسے؟
http://www.youtube.com/watch?v=-1H2e-HeEEg
اس تبصرے کا جواب دیں
تو حضرت عيسی بھی نہيں تشريف لا رہے پھر- جب کہہ ديا کہ کوئی نبی نہيں تو پھر کوئی نبی نہيں-
اس تبصرے کا جواب دیں
“صحیح” احادیث کا حوالہ ان اکابرين کے ذمہ نہيں جو آخری نبی نہيں مانتے؟ ان اکابرين اور مجددين ميں کيا کمی ھی کہ انہيں وہ بات سمجھ نہ آسکی جو آپ کو ”سمجھ” آگئي-
اس تبصرے کا جواب دیں
بے شک- اور يقينا اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہيں کہ فتوی اپنے ہی اکابرين کے خلاف لگے گا-
کيا ريٹ چل رہا ہے آجکل؟ يہ فتوی کتنے ميں آئے ہوں گے؟
http://www.youtube.com/watch?v=X01htQUvKcQ
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
حمیدصاحب، بات ہےعقیدہ کی کیونکہ اسلام میں عقیدہ کواہم حثیت حاصل ہے۔جب آپ کاعقیدہ یہ ہوگیاکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی نہیں توآپ دائرہ اسلام سےخارج ہیں کسی طرح اسلام میں داخل نہیں ہوسکتےاوردوسری بات حضرت عیسی علیہ السلام کےمتعلق واضح حدیث صلی اللہ علیہ والہ وسلم موجودہیں اوروہ کوئي نئی شریعت نہیں لائیں گےبلکہ وہ تونمازبھی امام مہدی علیہ السلام کےپیچھےپڑھیں گے۔ اللہ تعالی ہم کوہدایت دےاورہم کوصحیح سمجھ بوجھ عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
جاویداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر … Asus UL30A con Fedora 13- Ubuntu 104 y Backtrack 4
اس تبصرے کا جواب دیں
شکريہ ۔ آپ نے ايک اہم موضوع سے سب کو روشناس کرايا
جس طريقہ سے حميد صاحب نے اُوپر بحث کی ہے ۔ يہ مرزائيوں کو مخصوص طريقہ ہے يعنی اتنے زيادہ موضوع چھيڑ دو کہ دوسرا ادھر اُدھر ديکھتا رہ جائے ۔ کيا حميد صاحب يہ بتائيں گے کہ
وہ کونسا خدا تھا جس نے مرزا غلام احمد کو حُکم ديا تھا کہ ملکہ وکٹوريہ کی اطاعت کرو ؟
اور مرزا غلام احمد کے مرنے کے بعد اُس کی مجہول باتيں جنہيں وحی کا نام ديا جاتا تھا اُن ميں تبديلياں کيوں کی گئيں ؟
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … کشمير ۔ کرفيو سے زندگی مفلوج
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک بات کا جواب مجھے چاہئے کہ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں ہیں ۔ اور کیا اس ذکر قرآن پاک میں نہیں آیا ۔ ۔ ہم مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد کن باتوں پر ہے ۔۔۔ اور ان میں سے ہم کسی ایک بات کو نہیں پانتے تو ہم مسلمان نہیں ہیں۔۔۔۔۔باقی بات ہو رہی تھی بہائی ملت کی ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بی بی – خداکو مانو-
یہ سب سے بڑا فتنہ ہے ؛ جس طرح ایک ملحد خدا کو نہ ماننے کے لیے پتا نہیں کیاکیا با تیں گھڑتا ہے اس طرح یہ فتنہ ہے جس طرح اللہ کو ماننے کے لیے کس بھی دلیل کی ضرورت نہیں ہے اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے کے لیے کسی ریسرچ ورک کی ضرورت نہیں-
اس تبصرے کا جواب دیں
ماموں آپ نے پوری طرح پڑھا نہیں کہ میں نے بہائی ملت کے بارے میں جانا چاہا ۔ اگر کسی فرقہ کے بارے میں جاننا فتنہ ہے تو ۔ پھر اسلام کے بارے میں کویہ بات نا کی جائے ۔۔۔۔بہائی ملت کے بارے میں کوئی زیادہ نہیں جاتنا ۔ پہلے تو میں بعد میں اور ۔ مجھے اس کے بارے میں جاننا ہے ۔ اپ کے پاس اگر معلومات ہے تو یہاں ہم سب سے شیئر کریں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بہائی اور مسلمان میں وہی فرق ہے جو کسی بھی اور غیر مسلم اور مسلمان میں ہے۔
اسلام کے بنیادی عقائد کو محض لفظوں کی مدد سے توڑا موڑا نہیں جا سکتا۔
احمد عرفان شفقت کے بلاگ سے آخری تحریر … کیا واقعی سٹاک مارکیٹ یوں چلتی ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے یہود و نصاری کو دین کی طرف بلانے کا حکم دیا تو فرمایا آؤ اس بات پر ایک ہوجاؤ جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے یعنی اللہ واحدہ لا شریک ہے!
اور یہی ایک ذریعہ ہے انسانون کو ایک کرنے کا اللہ اور اسکے نبی کو اپنا آپ منوانے کا شوق نہیں تھا یہ دین انسانون کے اس ظلم کو ختم کرنے کے لیئے آیا تھا جو انسانوں نے اللہ اور اس کے دین کے نام پر روا رکھاہوا تھا!
ورنہ اللہ پاک یہ نہیں فرماتے کہ اگر تم میں سے ہر شخص اس زمین کے سب سے زیادہ نیکوکار جتنا نیک ہوجائے تو میری سلطنت اور قدرت میں ایک مچھر کے پر کے برابر اضافہ نہیں کرسکتا اور اگر تم میں سے ہر شخص اس زمین پر موجود بدترین گناہ گار جتنا گناہ گار ہوجائے تو میری سلطنت اور قدرت میں ایک مچھر کے پر کے برابر کمی نہیں کرسکتا!
اصل معاملہ ظلم اور استحصال کا ہے جو بھی کرے وہ کتنا ہی عبادت گزار ہو اللہ کے یہاں اس کی عبادت کی رتی بھر اہمیت نہیں اور وہ جہنمی ہے!
اس تبصرے کا جواب دیں
باقی بہائی فرقے کے بارے میں وکی پیڈیا پر بھی کچھ مواد موجود ہے!!
The baha’i Faith
لکھ کر سرچ کریں
اس تبصرے کا جواب دیں
عبداللہ بہت شکریہ میں نے وی پیڈیا سے پڑھا ہے اور اسکے بعد ہی یہ پوسٹ لگائی ہے ۔ کہ چلو اس بہانے ہی سہی ہم کچھ اچھی اچھی باتیں سیکھ لیں گے ۔ ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محترمہ تانیہ صاحبہ، بہائئ مذہب شیعہ اسلام کے عقائد کا منطقی انجام ہے۔ جب امام غائب، غائب ہی رہیں گے تو ان کی جگہ فلسفی مزاج کے لوگ نمائندگی کا شوق تو ضرور رکھیں گے۔ باب اور بہاءاللہ بھی اسی قسم کے لوگ تھے۔ یہاں یہ تصحیح بھی فرما لیں کہ بہائی خود کو مسلمان نہیں کہتے اور بہا اللہ نے خدائئ کا دعویٰ کیا ہے- کتاب مقدس جو اس کی تحریر ہے اسے قرآن اور دیگر تمام صحف سے افضل مانا جاتا ہے۔ ان لوگوں سے مقابلہ اور بحث کرنے کا شوق عبث ہے کیونکہ ان کے ہاں مذہبی مناظرے نہ کرنے کا حکم ہے۔ بہائئ فلسفہ میں مجوسی خیالات بھی ملتے ہیں –
اگر مجھ سے پوچھیں تو بہائئ بلاشبہ غلطی پر ہیں-لیکن امن پسند لوگ ہیں اور ان کو مذہبی آزادی دینا سب مسلمانوں پر لازم ہے۔
جہاں تک احمدیت سے موازنہ کا تعلق ہے، نہ ہی بانی جماعت (علیہ السلام) نے اسلام سے متضاد کوئئ دعویٰ کیا، نہ ہی اسلامی شریعت اور حدود سے ایک قدم بھی باہر ہوئے۔ نبوت اور انقطاع نبوت کی بحث بہائیوں سے کیوں کی جائے جب کہ وہ اسلام اور قرآن سے خود کو ویسے ہی علٰیٰحدہ کرتے ہیں۔ اس طرح تو ڈیوڈ کوریش اور بے شمار اور غیر مسلم مدعیان کو بھی دعوت مناظرہ دیں اور سورۃ احزاب کی تفسیریں پیش کریں ۔
ہماری ہاں ہر اختلافی سوچ کو فتنہ کہ کر گفتگو سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ میرے نزدیک ہر نظریہ کو ترویج اور تبلیغ کی آزادی دینا اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ بہائئ ہو، گوہر شاہی ہو، محمد یوسف ہو (زید حامد والا) یا طاہرالقادری اور مودودی، سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ ماننا نہ ماننا عوام کا حق ہے۔ صرف پابندی ہے تو فساد اور بغاوت پر ہے۔ بنگلہ دیش میں مودودی صاحب کی کتب پر پابندی بھی ظلم ہے۔ اسلام تو بڑے حوصلے والا دین ہے- اور سچائئ کو انسانی ہتھکنڈوں سے روکا نہیں جا سکتا- یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ بطور احمدی مسلمان میں روز اس وعدے کو پورا ہوتا دیکھتا ہوں۔
یہاں ایک دلچسپ بات بھی پیش کر دوں۔ قرۃ العین طاہرہ نامی ایک معروف بہائئ شاعرہ ایران میں گزری ہیں جو غالبا‘ بہا اللہ کے ساتھیوں میں سے تھیں – علامہ اقبال نے قرۃالعین طاہرہ کو اپنی شاعری میں جنت کی سردار خاتون کہا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یار لطف السلام
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … اظہار تشکر
یہ دین کو کیا آپ نے موم کی گڑیا سمجھ رکھا ہے کہ جو مرضی تاویل گھڑ کر ناک و نقشہ کھینچ دیا؟
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ تمام اکابرين دين جن کے حوالہ جات اوپر ديئے ہيں جو آخری نبی نہيں مانتے، کيا يہ سب کافر ہيں؟ پورا قرآن ديکھ ليں کہيں بھی مسلمان کی تعريف ميں آخری کا لفظ نہيں آيا نہ ہی کلمہ شہادت مہيں اور نہ ہی کسی مستند حديث ميں مسلمان کی تعريف ميں ايسا کيا گيا ہے- احاديث کی چند مثاليں حاضر ہيں؛
تو کيا مسلمان کی تعريف اللہ اور رسول کی دی ہوئی لينی چاہيئے يا جاہل مولوی کي؟ يقينا جاہل مولوی کی کہ اس کو اسلام کا ذيادہ پتہ ہے۔
نئی شریعت نہ لانے والی بات تو ٹھيک ہے ليکن حضرت عیسی تو وفات پا چکے اور اس بات پہ اکابرين ميں ايک وسيع اجماع پايا جاتا ہے، حوالوں کے ليئے ديکھيں؛
http://zh-cn.facebook.com/topic.php?uid=295212268843&topic=12142
تو اب حضرت عیسی کہاں سے آئيں گے؟
بلکہ وہ تونمازبھی امام مہدی علیہ السلام کےپیچھےپڑھیں گے۔
حضرت عیسی اور امام مہدی ايک ہی ہيں، ملاحظہ کريں حديث سے دو حوالے؛
Ibn-e-Maja Kitab al-Fitan bab shuddat-uz-Zaman it is stated by the Holy Prophet (sa) that “La-al Mahdi illa Isa”,
In Musnad ahmad it is stated, “Kifa antum iza nazal Isa ibn-e-Maryam fikum Imaman mahdiyyan hakaman adalan”
تو ايک شخص اپنے ہی پيچھے کيسے نماز پڑھ سکتا ہے؟
—-
جہاں تک آخری نبی ماننے کا تعلق ہے يہ انٹرپريٹيشن کا معاملہ ہے۔ اگرکوئی ماننا چاہے تو آخری نبی مان لے ليکن اسکو کفر و اسلام کا معيار نہيں بنايا جاسکتا کيونکہ پھر کئی اکابرين کبار کو بھی کافر قرار دينا پڑے گا۔
علمی بات تو يہی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
احاديث کی چند مثاليں حاضر ہيں؛
http://www.urdupoint.com/daily/ayat/2010-07/1321_hadees.gif
http://www.urdupoint.com/daily/ayat/2010-07/1325_hadees.gif
اس تبصرے کا جواب دیں
کوئی علمی جواب ہے تو ديں طعنہ مارنے کا کيا مقصد ہے سوائے اس کے کہ اپنی کم علمی کا اعتراف ليکن ساتھ ہی ميں نہ مانوں-
اس تبصرے کا جواب دیں
قرآن پاک میں کہاں ذکر آیا ہے؟
مسلمان کون ہے اسکی تعريف کے ليئے دو حديثوں کے لنک اوپر ديئے ہيں- جو ان معيارات پہ اترے وہ مسلمان۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جواب تو ہمیشہ سے ملتے چلے آرہے ہیں۔ جواب سن کر پھر وہی میں نہ مانوں۔
ویسے آپ لوگوں کی اس دنیا میں واٹ لگ رہی ہے۔ اور جو ساری دنیا میںدر در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ آپ اسی کی مستحق تھے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … اظہار تشکر
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف اسلام
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … اظہار تشکر
بین السطور کم از کم تم نے یہ تو تسلیم کیا کہ تم محمد رسول اللہ کو آخری نبی نہیں مانتے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آخري نبی تو آپ کے اکابرين نے بھی نہيں کہا، چند مثاليں اوپر درج ہيں- پھر بھی کوئی مسئلہ ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ان تمام نقاط ميں کونسے زير نظر بحث سے غير متعلق تھے؟
کہاں کہا ہے؟ کوئی حوالہ ديتے تو جواب دينے ميں سہولت ہوتي-
ليکن اس اثنا ميں اتنا بتائيں کہ حضرت يوسف کو کس خدا نے عزيز مصر جو کافر تھا کی نوکری اور يوں اطاعت کرنے کا کہا تھا؟
مثلاً کونسي؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ضرت عیسی فوت ہو چکے ہيں، يہ مختصر ويڈيو ديکھيں اميد ہے وضاحت ہو جائے گي؛
Javaid Ahmad Ghamdi – No evidence of Jesus been raised alive in Quran or Hadith
http://www.youtube.com/watch?v=KX-jxZaI7qY
What is the problem is understanding this issue
http://www.youtube.com/watch?v=zI_GeykhJFU
اس تبصرے کا جواب دیں
علی الاعلان تو آپ اور تمام ملاں نہ صرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے، بلکہ ان کے بعد بنی اسرائیل کے نبی کی آمد کے قائل ہیں جو نہ صرف آسمان پر زندہ موجود ہے، بلکہ آپ کے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے کہ دو بار ہ دنیا میں مبعوث کیا جائےگا اورجو کام مسلمانوں سے نہ ہو سکا وہ بنی اسرائیل کا نبی آ کر مکمل کرے گا-
ہم احمدی تو حقیقی معنی میں ختم نبوت کے قائل ہیں- رسو ل اللہ (ص9) ہی آخری نبی ہیں جن پر شریعت اتری۔ آپ (ص) افضل الانبیاء ہیں۔ آپ (ص)کی قوت قدسی ایسی ہے کہ آپ کے امتی ہی مکالمہ الٰہی کا درجہ پا کر دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔ کسی پرانے نبی کو واپس بلانے کی ضرورت نہیں۔ انہی مجددین میں سے سب سے بلند مقام امام مہدی کو حاصل ہے جن کو احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کہا گیا – یعنی مسلمانوں کو بھی مسیحا دیا جائے گا جو واجب الاطاعت ہو گا- اور واجب الاطاعت امام ، جو مہدی بھی ہو، صاحب وحی اور الہام بھی ہو، اس کو امتی نبی کہا جاتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عبدل حمید صاحب آپ کے کسی ایک نقطہ میں بھی کوئی وزن نہیں۔ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کو قرآن کریم نے خاتم النبین قرار دیا ہے اور یہ قول اتنا واضع اور جامع ہے کہ اسے کسی تاویل، تشریح یا غور و غوض کی کوئی ضرورت نہیں۔ چودہ سو سال سے مسلمانوں نے اس صرف اور صرف ایک ہی مطلب سمجھا ہے یعنی محمدصلی و علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی، رسول یا حامل وحی نہیں آئے گا۔ اب اگر سیدنا علی جسے تلوار حق نے اور بیٹی نبی نے دی، حضرت عثمان رضی اللہ، حضرت عمر اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس آیت کی تاویل کریں تو ہم نہیں مانے گے، مرزا ملعون تو پھر کافر پلیت، کریکٹر کی موت ہے، اسکی بات تو ہم سنے بغیر مسترد کرتے ہیں۔
جہاں تک آپ کی یہ بات ہے کہ محمد صلی و علیہ وسلم کے بعد نبی تو آئیں گے لیکن شریعت وحی رہے گی تو صاحب پہلا سوال یہ کیا قادیانی شریعت اور مسلم شریعت یکساں ہے، جی نہیں آپ کے یہاں تو اصول دین ہی بدل دئے گئے ہیں۔ شریعت کے کئی احکامات آپ کے پلیت لیڈر نے منسوخ کردئے ہیں انکے بارے میں کیا خیال ہے۔ جیسے جہاد کا حکم وغیرا
دوسری بات اگر محمد صلی و علیہ وسلم کے بعد اگر کسی نبی کا آنا لازمی تھا تو قرآن میں آنے والے کی خبر کی خبر کیوں نہ دی گئی۔ پچھلی کتابوں جیسے تورات، انجیل اور زبور میں آنے والے انبیا کا ناصرف زکر ہے بلکہ انکی نشانیاں بھی بتائیں گئیں ہیں، لیکن پورے قرآن میں کوئی ایک آیت بھی نہیں جہاں کسی آنے والے کا زکر کیا گیا ہو۔ کیوں نہیں کیا گیا۔
اگر آپ کے مطابق ابھی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا تو مرزا کے بعد اور کتنے نبی آئیں گے اور انکی کتنی نشانیاں ہونگی، کیا کسی ایک بھی آنے والے کا زکر مرزا ملعون نے کیا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لطیف الکفر صاحب، پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی آنے والے کا واضع اشارہ قرآن کریم میں کہیں بھی نہیں ہے، صحیح حدیث میں حضرت عیسی ابن مریم کے نزول کا زکر موجود ہے اور مسیح دجال کے ساتھ انکی لڑائی کا زکر ہے، ساتھ ہی مجدد امت امام مہدی کے زمانے کی بھی خبر ہے، حدیث کی صحیح کتابوں میں ان احادیث کی تعداد ایک درجن سے بھی کم ہے اور یہ احادیث اتنی صاف اور واضع ہیں کہ چھٹی کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔
بہائی اور قادیانیوں میں فرق ہے، بہائی خود کو کافر کہتے ہیں اس لئے “من بدل دینی فقتلو” والی حدیث اور فقہاء کرام کے زندیق کے ساتھ معالے کی زد میں نہیں آتے لیکن قادیانی حضرات کیوں کہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اسلئے کافروں کی تیسری کیٹگری “زندیق” کے زمرے میں آتے ہیں اور ایک اسلامی ریاست میں یہ لوگ واجب القتل ہیں۔ اتمام حجت اور عدل و انصاب کے تقاضے پورے کرنے کے بعد خلیفہ امت پر فرض ہے کہ قادیانیوں سے دنیا کو پاک کرے۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
کاشف صاحب آپ کو قرآن میں کسی آنے والے کا ذکر نظر نہ آئے تو یہ آپ کی نظر کا قصور ہے- لیکن لوگوں کو برے ناموں سے پکارنے اور مذہبی رہنماؤں کو گالیاں دینے کے متعلق سیدھی سیدھی قرآنی تعلیم آپ کو دکھائی نہیں دیتی۔ امام مہدی کو کیا پہچانیں گے؟
واجب القتل؟ بھئی یہ خلیفے کا انتظار بھی بہانہ ہی ہے۔ قتل کرنے والے قتل کر رہے ہیں اور آپ جیسے ان خبروں پر بغلیںبجاتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف الا کفر صاحب اگر کوئی مذہبی رہنماء ہو تو مانا کہ اسکی عزت و تکریم کرنی چاہئے، لیکن آپ سے کس نے کس نے کہ دیا کہ مرزا صاحب کوئی مذہبی رہنما تھے۔ وہ تو —- خیر چھوڑئے، اسلام ہمیں گالیوں سے روکتا ہے اور اسی لئے ہم مرزا کو چاہتے ہوئے بھی گالیاں نہیں دیتے۔ چلئے ہم اسے ملعون اور پلیت نہیں کہتے لیکن آپ بھی ایک معمولی سے انسان کو نبی، مسیح اور مہدی کہنا تو چھوڑیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ بھی لطف الا کفر سے لطف الا سلام ہوجائیں۔ وہ اسلام جو چودہ سو سال پہلے مدینہ میں محمد رسول اللہ صلہ و علیہ وسلم مکمل ہوگیا تھا نا کہ اسلام سے متصادم وہ مرزائی عمارت جو صنم خانہ ہند کے علاقہ قادیان میں کھڑی کی گئی۔
صاحب ہم نے پوچھا کہ آنے والے کی قرآن کریم میں کیا خبر اور نشانی ہے؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ آنے والے کے بعد بھی کوئی آئے گا یا نہیں؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ اگر آنے والے کے بعد بھی کوئی آنے والا آئے گا تو اسکی کہاں نشانی اور خبر ہے؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ جناب ہر آنے والے کی خبر اس سے پہلے آنے والے نے وحی کے زریعے بیان کی، تورات، زبور اور انجیل میں آئندہ آنے والوں کی خبریں اور نشانیاں بتائیں گئیں تو آپ جیسے موعود یعنی وعدہ شدہ قرار دیتے ہیں کہ آنے کھڑی کی گئیں۔
لطیف الا کفر صاحب، یاد رکھیں ہم آپ سے اس لئے دلیل نہیں مانگ رہے کہ ہم قدیانیت کے بارے میں ازسر نو سوچیں بلکہ ہم دلیل اس لئے مانگ رہے ہیں آپ کو کچھ عقل آئے اور آپ توبہ تائب کرکے محمد صلی و علیہ وسلم کی محبت میں مرزا جیسوں کو شریک کرنے کی جرت سے باز آجائیں۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف الا کفر صاحب اگر کوئی مذہبی رہنماء ہو تو مانا کہ اسکی عزت و تکریم کرنی چاہئے، لیکن آپ سے کس نے کہ دیا کہ مرزا صاحب کوئی مذہبی رہنما تھے۔ وہ تو — خیر چھوڑئے، اسلام ہمیں گالیوں سے روکتا ہے اور اسی لئے ہم مرزا کو چاہتے ہوئے بھی گالیاں نہیں دیتے۔ چلئے ہم اسے ملعون اور پلیت بھی نہیں کہتے لیکن آپ بھی ایک معمولی سے انسان کو نبی، مسیح اور مہدی کہنا تو چھوڑیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ بھی لطف الا کفر سے لطف الا سلام ہوجائیں۔ وہ اسلام جو چودہ سو سال پہلے مدینہ میں محمد رسول اللہ صلہ و علیہ وسلم کے ہاتھوں مکمل ہوگیا تھا نا کہ اسلام سے متصادم وہ مرزائی عمارت جو صنم خانہ ہند کے علاقہ قادیان میں کھڑی کی گئی اور جس میں اصل اسلام کی تحریف شدہ نقل جڑی گئی۔
صاحب ہم نے پوچھا کہ آنے والے کی قرآن کریم میں کیا خبر اور نشانی ہے؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ آنے والے کے بعد بھی کوئی آئے گا یا نہیں؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ اگر آنے والے کے بعد بھی کوئی آنے والا آئے گا تو اسکی کہاں نشانی اور خبر ہے؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ جناب ہر آنے والے کی خبر اس سے پہلے آنے والے نے وحی کے زریعے بیان کی، تورات، زبور اور انجیل میں آئندہ آنے والوں کی خبریں اور نشانیاں بتائیں گئیں تو آپ جسے موعود یعنی وعدہ شدہ قرار دیتے ہیں کہ آنے کی کوئی واضع خبر اور نشانی قرآن کریم میں کیوں نہ دی گئی اور بلا وجہ میں خام النبین کا سوشہ چھوڑ کر کیوں لوگوں کو پریشان کیا گیا؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
لطیف الا کفر صاحب، یاد رکھیں ہم آپ سے اس لئے دلیل نہیں مانگ رہے کہ ہم قدیانیت کے بارے میں ازسر نو سوچیں بلکہ ہم دلیل اس لئے مانگ رہے ہیں آپ کو کچھ عقل آئے اور آپ توبہ تائب کرکے محمد صلی و علیہ وسلم کی محبت میں مرزا جیسوں کو شریک کرنے کی جرت سے باز آجائیں۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
مزرا کا زکر قرآن و سنت کی روشی میں بیان کیا جائے ۔ ہم صرف قرآن اور سنت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ خود کے بنائے ہوئے نبی پر نہیں ۔ ہاں کسی کو گالی دینا یا برا کہنا بہت بری بات ہے ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف الا کفر صاحب اگر کوئی مذہبی رہنماء ہو تو مانا کہ اسکی عزت و تکریم کرنی چاہئے، لیکن آپ سے کس نے کہ دیا کہ مرزا صاحب کوئی مذہبی رہنما تھے۔ وہ تو — خیر چھوڑئے، اسلام ہمیں گالیوں سے روکتا ہے اور اسی لئے ہم مرزا کو چاہتے ہوئے بھی گالیاں نہیں دیتے۔ چلئے ہم اسے ملعون اور پلیت بھی نہیں کہتے لیکن آپ بھی ایک معمولی سے انسان کو نبی، مسیح اور مہدی کہنا تو چھوڑیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ بھی لطف الا کفر سے لطف الا سلام ہوجائیں۔ وہ اسلام جو چودہ سو سال پہلے مدینہ میں محمد رسول اللہ صلہ و علیہ وسلم کے ہاتھوں مکمل ہوگیا تھا نا کہ اسلام سے متصادم وہ مرزائی عمارت جو صنم خانہ ہند کے علاقہ قادیان میں کھڑی کی گئی اور جس میں اصل اسلام کی تحریف شدہ نقل جڑی گئی۔
صاحب ہم نے پوچھا کہ آنے والے کی قرآن کریم میں کیا خبر اور نشانی ہے؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ آنے والے کے بعد بھی کوئی آئے گا یا نہیں؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ اگر آنے والے کے بعد بھی کوئی آنے والا آئے گا تو اسکی کہاں نشانی اور خبر ہے؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے کہا کہ جناب ہر آنے والے کی خبر اس سے پہلے آنے والے نے وحی کے زریعے بیان کی، تورات، زبور اور انجیل میں آئندہ آنے والوں کی خبریں اور نشانیاں بتائیں گئیں تو آپ جسے موعود یعنی وعدہ شدہ قرار دیتے ہیں کہ آنے کی کوئی واضع خبر اور نشانی قرآن کریم میں کیوں نہ دی گئی اور بلا وجہ میں خاتم النبین کا سوشہ چھوڑ کر کیوں لوگوں کو پریشان کیا گیا؟؟؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
لطیف الا کفر صاحب، یاد رکھیں ہم آپ سے اس لئے دلیل نہیں مانگ رہے کہ ہم قادیانیت کے بارے میں ازسر نو سوچیں بلکہ ہم دلیل اس لئے مانگ رہے ہیں آپ کو کچھ عقل آئے اور آپ توبہ تائب کرکے محمد صلی و علیہ وسلم کی محبت میں مرزا جیسوں کو شریک کرنے کی جرت سے باز آجائیں۔ اللہ آپ کو ہدایت دے “آمین”
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر کاشف صاحب اپنی زبان درست کر لیں اور اسلامی اخلاق کا کم از کم رسمی مظاہرہ کر لیں تو قرآن اور حدیث کی بات پیش کر دوں گا۔ جب کوئی میرا نام صحیح طرح لینا پسند نہیں کرتا، اس سے بات کیا کرنی؟ قرآن کا حکم ہے کہ جہلاء کی مجلس سے سلام کر کے اٹھ جاؤ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اس بات کا سياق وسباق کے ساتھ مکمل حوالہ آپکی طرف ادھار ليکن اس اثنا ميں مختلف جيد اکابرين کے تاج برطانيہ کے ليئے جذبات پيش خدمت ہيں؛
سيد احمد بريلوی اور انگريز؛
سيد صاحب کلکتہ سے جہاد کے ليئے چلے اور پوری انگريزی عملداری سے گزر کر پنجاب پہنچے- اس دوران سيد صاحب کو انگريزوں سے جہاد کا خيال بھی نہيں آيا بلکہ انگريزوں سے ہمدردی رکھتے تھے- ملاحظہ کريں؛
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768350922154.jpg
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768351023655.jpg
اس تبصرے کا جواب دیں
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768351098983.jpg
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768351456738.jpg
اس تبصرے کا جواب دیں
علماۓ ديوبند کے انگريزوں سے تعلقات؛
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768339258756.jpg
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768339350539.jpg
اس تبصرے کا جواب دیں
علماۓ اہلحديث اور وہابيوں کے انگريزوں کے بارے خيالات؛
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-1276835601507.jpg
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768352762829.jpg
اس تبصرے کا جواب دیں
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768355698337.jpg
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768355810271.jpg
اس تبصرے کا جواب دیں
علماۓ اہلحديث اور وہابيوں کے انگريزوں کے بارے خيالات؛
http://www.islamimehfil.info/uploads/monthly_06_2010/post-3206-12768355905702.jpg
اس تبصرے کا جواب دیں
حکيم الامت ڈاکٹر سر محمد اقبال
ملکہ وکٹوريہ کی وفات پہ `حکيم الامت` علامہ اقبال نے انتہائی دکھ بھری ماتمی نظم لکھ کر اپنے دکھ کا اظہار کيا۔ ملاحظہ ہو نيچے۔ کس امت کے حکيم تھے علامہ؟ مسلم يا برطانوي؟
Upon the death of Queen Victoria in 1901, Dr. Iqbal penned an epicedium of ten pages, entitled ‘Tears of Blood’, from which we give a few verses below. The Queen died on the day of Eid-ul-Fitr, and Iqbal wrote:
“Happiness came, but grief came along with it,Yesterday was Eid, but today muharram came.
“Easier than the grief and mourning of this day, Would be the coming of the morn of the day of judgment.
“Ah! the Queen of the realm of the heart has passed away, My scarred heart has become a house of mourning.
“O India, thy lover has passed away, She who sighed at thy troubles has passed away.
“O India, the protective shadow of God has been lifted from above you, She who sympathised with your inhabitants has gone.
“Victoria is not dead as her good name remains, this is the life to whomever God gives it.
“May the deceased receive abundant heavenly reward, and may we show goodly patience.”
(Baqiyyat-i Iqbal, Poem runs over pages 71– 90.)
In December 1911, on the occasion of the coronation of King George V, Iqbal wrote and read out a poem entitled ‘Our King’:
“It is the height of our good fortune, That our King is crowned today.
“By his life our peoples have honour, By his name our respect is established.
“With him have the Indians made a bond of loyalty, On the dust of his footsteps are our hearts sacrifced.”
(Baqiyyat-i Iqbal, p. 206.)
افتخار صاحب اگر کوئي باقی رہ گيا ہے تو بتائيں تاکہ ان کے حوالے بھی پيش کر ديئے جائيں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہماری ہاں ہر اختلافی سوچ کو فتنہ کہ کر گفتگو سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ میرے نزدیک ہر نظریہ کو ترویج اور تبلیغ کی آزادی دینا اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ بہائئ ہو، گوہر شاہی ہو، محمد یوسف ہو (زید حامد والا) یا طاہرالقادری اور مودودی، سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ ماننا نہ ماننا عوام کا حق ہے۔ صرف پابندی ہے تو فساد اور بغاوت پر ہے۔
لطف اسلام صاحب آپ نے بہت خوب صورت بات کی ہے ۔ ہمارا مقصد اسلام کے ابرے میں جاننا ہے ۔ میرا اصل عنوان وہی رہ گیا بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ، حمید صاحب آپ کا شکریہ ۔۔۔ لیکن آپ جو لنک دے رہے ہیں میرا مقصد وہ ہرگز ہرگز نہیں ہے ۔ اس کے بعد اگر قرآن اور حدیث کے علاوہ کویہ تبصرہ بھی آیا تو نہایت معذرت کے ساتھ وہ حدف کر دیا جائے گا۔۔۔میں نا ہی کسی کی ذاتیات پر بات کرتی ہوں اور نا ہی چاہوں گی میرے بلاگ پر ایسا ہو ۔ اس لیے ابھی تک میں انتظار کرتی رہی ۔۔ آپ کو پورا پورا اختیار دیا گیا اپنے اپنے موقف بیان کرنے کا ۔ لیکن لڑائی میرا مقصد نہیں ہے ۔۔۔۔۔ سب خوش رہو ۔۔ اللہ پاک ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
<افتخار صاحباقتباس» کاشف نصیر نے لکھا: عبدل حمید صاحب آپ کے کسی ایک نقطہ میں بھی کوئی وزن نہیں۔
يہ اتنے بے وزن نقطہ ہيں کہ جواب دينے کی توفيق کسی کی بھی نہيں ہوئي- وزن تو خود ہی ثابت ہوگيا ہے۔
اور جو يہ اتنے اکابرين اسلام، جو سوائے وہابيوں کے سب کے ليئے کے قابل احترام ہيں، کے حوالہ ديئے گئے ہيں جو کہتے ہيں نبی آسکتا ہے کيا يہ سب اکابرين کافر ہيں؟ اور پھر جو بدبخت ان اکابرين کو کافر قرار دے اس کی اپنی اوقات کيا رہ جاتی ہے۔
پھر مسيح کا آنا بڑا واضح طور پہ بيان کيا گيا ہے- يہ بات کسی سے چھپی نہيں اور ايک بڑی تعداد يہ عقيدہ رکھتی ہے-
باقی گالم گلوچ اگنور کردی گئي ہے کيونکہ رسول اللہ کا بھی يہی طريق تھا کہ کفار مکہ گالم گلوچ کرتے تھے اور رسول اللہ نظرانداز کيا کرتے تھے۔ اس سے بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ کون کس کا پيروکار ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
مسيح کا آنا بڑا واضح طور پہ بيان کيا گيا ہے اور کيا چاہيئے آپ کو؟ حوالے ديئے جاسکتے ہيں ليکن يہ حوالے تو پہلے ہي سب کو معلوم ہيں اور ايک بڑی تعداد لوگوں کی يہ عقيدہ رکھتی ہے-
باقی يہ کہ دنيا کی بھاری تعداد اہل کتاب سميت، رسول اللہ کو خود کا بنايا ہوا نبی سمجھتی ہے، آپ بھی اکثريت کے رائے مان ليں-
جتنے بھی جواب يہاں آئے ہيں کسی نے بھی قرآن و سنت سے جواب نہيں ديا، گالم گلوچ پہ اتر آنا صاحب کلام کی تعليمی استعداد کو خوب ظاہر کر ديتا ہے- اس سے يہ بھی صاف ثابت ہوجاتا ہے کہ معاملہ قرآن و سنت کی انٹرپريٹيشن بلکہ کچھ اور ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
محترمہ، آپ کا بلاگ ہمیشہ مہذبانہ ہوتا ہے، لیکن چند کرم فرما یہاں بھی خرافات، گالی گلوچ کا بازار گرم کر کے خود کو مسلمان ثابت کر رہے ہیں۔
میری عرض صرف یہ ہے کہ بہائیت کا آغاز شیعہ اسلام سے ہوا اور جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ تحریک اسلام کی ضد نہیں بلکہ ایسا فلسفہ ہے جو ملائیت اور ماورائی داستانوں کا رد عمل ہے۔ عیسائت میں بھی جہووا وٹنسز ، سیونتھ ڈے اڈونٹسٹ، اور مورمن فرقے نکلے جو ان داستانوں کو حقیقت بنانے کی کوشش تھی جو عیسائی “دیومالاؤں” میں رائج ہیں۔
اسلام چونکہ ایک محفوظ دین ہے، اس میں اس قسم کے فلسفوں کی گنجائش نہیں – اس لئے اس مذھب کے بانیان نے بابیت اور بہائت کو اسلام سے خود ہی الگ کر دیا۔
احمدی اسلام کو ان فرقوں سے کوئی مماثلت نہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف الاسلام۔۔
بہائیوں اور دوسرے گمراہ فرقوں نے فورا ہی اپنا غیرمسلم ہونا تسلیم نہیں کر لیا۔ بلکہ یہ کرنے میں کافی وقت لگا۔
سو پچاس برس اور گزر جانے دو۔ تم لوگ بھی کان پکڑلو گے!!
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
بہائی فرقہ نے کب مسلمان ہونے کی ضد کی؟ یہ بھی بتا دیں۔
میرا ایمان بھی سو، پچاس سال میں جماعت احمدیہ کے غلبہ کا ہے۔ انشاءاللہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ان فرقوں کی تاریخ پڑھو پھر پتا چلے گا۔ لیکن جب ہر چیز کے بارے میں آپ کا اپنا ہی الّو ہو تو جو مرضی اخذ کرو۔
“جماعت احمدیہ کا غلبہ”
جن جگہوں سے یہ مردود تحریک شروع ہوئی وہاں کے لوگ تو تمھیں ٹکنے نہیں دیتے۔ تمھاری جائے پیدائش پاکستان اور ہندوستان میں جو تمھارا حال کیا جاتا ہے وہ تو تمھیں اچھی طرح پتا ہے۔ تم دنیا پر غلبہ کی بات کرتے ہو؟۔۔۔کیا لطیفہ ہے!
تمھاری قوم کے چند لاکھ لوگ مغربی ممالک میںریفیوجی کلیم کرکے بھگوڑوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ پچاس برس گذرنے دو۔۔۔۔ پہچان بھی نہ رہے گی۔ انشااللہ!!
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
خوارج ، اسماعلیہ ، بہائ، دروز، مرزائیت ۔۔۔ مسلمانوں میں یہ فتنے ہمیشہ سے جنم لیتے رہے ہیں اور قیامت تک لیتے رہے گے۔ تم مسخروں کا ٹولہ نہ پہلا فرقہ فتنہ ہو نہ آخری!
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جو لکھا ہوا ہے حمید صاحب آپ اس کو مانتے ہیں ۔ ۔۔۔
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
احمدیہ جسے عرف عام میں قادیانیت بھی کہا جاتا ہے ایک مسیحیہ تحریک ہے جو کہ 1889ء میں مرزا غلام احمد (1839ء تا 1908ء) نے قادیان (پنجاب) میں قائم کی۔ 1889ء میں مرزا نے اعلان کیا کہ مرزا کو الہام کے زریعے اپنے پیروکاروں سے بعیت لینے کی اجازت دی گئی ہے ؛ اسکے بعد مرزا نے (1891ء) میں اپنے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا اور یہی وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامِ راسِخ (orthodox) علماء کی جانب سے مرزا کی عمومی مخالفت سامنے آنا شروع ہوئی۔ شیعہ اور سنی دونوں تفرقے ہی حضرت امام مہدی کے بارے میں نظریات رکھتے ہیں لہٰذا یہ مسیحائی (عہد کا راہنما یا مہدی) ہونے کا دعویٰ مسلمان علماء کے لیئے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں تھا بلکہ مسئلہ (بطور خاص سنی علماء کے لیئے) اس وقت شدت اختیار کر گیا کہ جب مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا (گو احمدی اس نبوت کو ختم نبوت کی مخصوص تاویل کی مدد سے محمد کی ختم نبوت کی اصطلاح سے انکار نہیں کہتے)[1]۔ مرزا کے عقائد میں اسلام کے ساتھ صوفی ، ہندوستانی اور مغربی عناصر کی آمیزش بھی نمایاں ہے اور مرزا نے اپنے تبلیغی انداز میں عیسائی ، ہندو اور سکھ تبلیغیوں کے طریقۂ کار کو بھی استعمال کیا[2]۔ مرزا کی وفات کے بعد مولانا نورالدین کو خلیفہ منتخب کیا گیا ، 1914ء میں نورالدین کا انتقال ہوا تو پیروکاروں کا اجتماع دو گروہوں میں بٹ گیا جن میں ایک کو احمدیہ مسلم جماعت اور دوسرے کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام تحریک یا لاہوری احمدیہ بھی کہا جاتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ تعارف بہت مختصر ہے اور مزید حقائق جاننا ضروری ہے۔ لیکن اس فقرہ سے مجھے خاص اختلاف ہے۔ حضرت بانئ جماعت احمدیہ مسلمہ نے قرآن اور حدیث کے علاوہ کوئی بات نہیں کی۔ متعصب تجزیہ کار ایسے شکوک پیدا کرتے ہیں لیکن اس معاملہ میں کبھی کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
احمدیہ جسے عرف عام میں قادیانیت بھی کہا جاتا ہے ایک مسیحیہ تحریک ہے جو کہ 1889ء میں مرزا غلام احمد (1839ء تا 1908ء) نے قادیان (پنجاب) میں قائم کی۔ 1889ء میں مرزا نے اعلان کیا کہ مرزا کو الہام کے زریعے اپنے پیروکاروں سے بعیت لینے کی اجازت دی گئی ہے ؛ اسکے بعد مرزا نے (1891ء) میں اپنے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا اور یہی وہ زمانہ تھا کہ
یہ جو تاریخ پیداہش ہیں درست ہیں۔۔۔ یا ان سے بھی پہلے کی بات ہے ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تاریخ پیدائش 1835درست ہے۔ لیکن چونکہ معین تاریخ کسی ریکارڈ سے معلوم نہیں تھی اس لئے ایک دو مقامات پر 1839 بھی لکھی ہے۔ بعد کی تحقیق سے 1835 ثابت ہے۔ اس کے علاوہ احمدیہ تحریک کو عرف عام میں احمدیت کہا جاتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
يقين کريں آپ کی طرح کا مسلمان بننے سے ہم ابھی بھی پناہ مانگتے ہيں۔ آج بھی دو مسيحيوں کو قتل کرديا۔ يہ مذہب ہے يا دہشتگردی کی آئيڈيالوجي-
ہٹلر ميں کيا خرابی تھي؟
اس تبصرے کا جواب دیں
صحيع معلومات يہاں سے مليں گي؛
http://www.alislam.org
http://www.mta.tv
اس تبصرے کا جواب دیں
بالکل ٹھيک؛
Peace Village Canada
http://www.youtube.com/watch?v=5dGDsDDZ63A
Canada’s Largest Mosque Open’s in Calgary
http://www.cbc.ca/canada/calgary/story/2008/07/05/calgary-mosque.html
اس تبصرے کا جواب دیں
کینیڈا کے لنک مجھے دینا چھوڑو۔ میں خود کینیڈا میںہوں اور آپ کا یہ چھوٹا سا “پیس ویلیج” پھر چکا ہوں۔ ریفیوجی کلیم پر آئے اور ویلفئیر پر پلنے والے مرزائی خاندان یہیں آباد ہیں۔ نا صرف پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ کینیڈین نظام پر بھی ایک بوجھ ہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
لیکن کینیڈین حکومت بھی اب ان فرسودہ ریفیوجی قوانین کو بدلنے پر غور کر رہی ہے۔ اور نظام میں بھی کئی سختیاں کی گئی ہیں۔ آپ لوگوں کا ناطقہ یہاں بھی بند ہونے کو ہے۔ جو تھوڑے بہت آرہے ہیں۔ تھوڑے ہی ہیں۔ اور تھوڑے ہی ہوتے چلے جائیں گے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ديکھنے کی بات يہ ہے کہ عرب اتنی تعداد ميں احمديت ميں کيوں داخل ہورہے ہيں؛
1:00 کے بعد ديکھيں
http://www.youtube.com/watch?v=cBvsR8xOoZ0
عرب اہل زبان ہيں ان کو پتہ ہے قرآن وسنت ميں کيا لکھا ہے اور اسکا مطلب کيا ہے۔
عرب اہل زبان ہيں کيا ان کو نہيں پتہ قرآن وسنت ميں کيا لکھا ہے اور اسکا مطلب کيا ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کی زرہ نوازی کے باعث، ليکن ہجرت سنت رسول ہے-
نا صرف پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں
پاکستان کی اس نيک نامی کا باعث آپ ہی کے مسلک کی مذہبی غنڈہ گردی ہے اور کچھ نہيں- دھشتگردی کا مذہب بلاوجہ تو نہيں کہا جا رہا-
اس تبصرے کا جواب دیں
پاکستان کی اس نيک نامی کا باعث آپ ہی کے مسلک کی مذہبی غنڈہ گردی ہے اور کچھ نہيں- دھشتگردی کا مذہب بلاوجہ تو نہيں کہا جا رہا
اس تبصرے کا جواب دیں
استغفراللہ!
رسول اللہ اور ان کے مہاجر ساتھیوں نے غیر مسلم حکومت سے ویلفئیر نہیں وصول کی۔
جب کہ آپ کی نسلیں ہی کینیڈین حکومت کے ویلفئر (بھیک) پر پل رہی ہے۔ پاکستانی یہاں آ کر محنت سے روزی کماتے ہیں۔ جبکہ آپ کا گروہ ویلفئر لے کر پاکستان اور پاکستانیوں دونوں کو بدنام کر رہا ہے۔
باقی اسلام کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کا اپنا مشن فتنہ جاری رکھیے۔ کہ آپ کے جد امجد کا منصوبہ یہی تھا۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
جو لوگ حبشہ گئے تھے وہ کس کی مہمان نوازی سے بہرہ ور ہوئے؟ حبشہ کے عيسائی بادشاہ کی- رسول اللہ اور صحابہ نے کئی کافر جاننے والوں سے مدد لي-
اس تبصرے کا جواب دیں
ماشا يہ نيک کام آپ کا ہی ہے- کينيڈا ميں کسی سے بھی پوچھ ليں دہشتگردی کا مذہب کونسا ہے اور دہشتگردی کا گڑھ کونسا ملک ہے، بتادے گا- زبان خلق کو نقارہ خدا۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
و
اسلام کودہشت گردی کا مذہب کس نے قرار دلوايا ہے، ذيل کی مثال سے واضح ہے؛
Muslim hate-monger Zakir Naik banned from entering Canada
http://www.religionnewsblog.com/24475/muslim-hate-monger-zakir-nair-banned-from-entering-canada
مزيد مثاليں دی جاسکتی ہيں ليکن عقل مند کے ليئے اشارہ کافی ہے۔
اسکے مقابلے ميں؛
Muslims for Peace
http://www.youtube.com/watch?v=-1H2e-HeEEg
اس تبصرے کا جواب دیں
ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی عرب اور اہل زبان تھے۔ اس کے علاوہ آج بھی عرب اہل زبان لوگوں کی بڑی تعداد عیسائی ہے۔ تو اہل زبان ہونا کیا دلیل ہوئی صراط مستقیم پر ہونے کی؟ بات تو ایمان لانے کی ہے اللہ کی بات پر۔
احمد عرفان شفقت کے بلاگ سے آخری تحریر … عجب آزادمردتھا
اس تبصرے کا جواب دیں
مہاجرین حبشہ ملک حبشہ کی ویلفئر پر پل رہے تھے؟؟
مہمان نوازی اور ماہانہ ویلفئر کے چیک میں آپ کو فرق نہیں معلوم؟
اپنے بے ڈھنگے مقاصد کو دلیل کا جامہ پہنانے کے لئے فرقہ فتنہ کسی حد تک جاسکتا ہے۔۔۔۔معلوم نہیں تھا۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
مجھے انتہائی خوشی ہے کہ آپ متعصب ترین چینل فوکس نیوز کی گود میں بھی جا بیٹھے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس چینل کا مسلمانوں اور عربوں کے ساتھ کیا رویہ ہے اس کی شکایت تو شمالی امریکہ کے گورے بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ سے انکی خصوصی محبت بے جا نہیں ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ بہائیوں نے بھی اپنا ہیڈکواٹر حیفہ اسرائیل ہی میں بنا رکھا ہے۔
لنک دینا کا شکریہ!!
اس تبصرے کا جواب دیں
یقیناً عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔
اللہ نے آپ کے فرقہ فتنہ کو عزت دینی ہوتی تو مرزا مردود کی موت کے بعد ساری عمر اسکے پیروکاروں کو غیر مسلم اقوام کی بھیک پر نہ پلاتا۔
کیا نصیب پایا ہے۔
اپنے ہم وطنوں سے دھتکارے جاتے ہو۔
اپنے مذہب کو برقرار رکھنے کی سعی میں غیر مسلم اقوام کی بھیک پر پلتے ہو۔
سبحان اللہ!
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر آئينہ ميں اپنی شکل ديکھ ليتےتو شائيد ايسی بات نہ کہتے- کونسا ملک دنيا کا سب سے بڑا بھکاری ہے، اور انکا مسلک کونسا ہے؟ آئی ايم ايف اور امريکہ کی بھيک کے ليئے آپ نے اپنا ملک بھی مکمل طور سے بيچ ديا ہے اور اپنا مذہب بھي- ہر وقت آپ کا ہاتھ دنيا کے آگے پھیلا رہتا ہے- عملی طور پہ آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور سے اغيار کی داشتہ بنا رکھا ہے، اس سے بڑھ کر بھی کوئی بے غيرتي ہوسکتی ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ ہيلري کلنٹن اور رچرڈ ہالبروک کے آگے پيچھے کون پھر رہا ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
متعصب ترین چینل کے ناظرين کو ہی سب سے زيادہ اسلام کا اصل پرامن چہرہ دکھانے کي ضرورت ہے-
اسلام کو ايک پرامن مذہب کے طور پہ پيش کرنے کو نفرت سے ديکھنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ نہ آپ کو اسلام کی عزت کی پرواہ ہے نہ رسول کی عزت کی بلکہ تعصب ميں گھٹيا پن کی ہر حد پھلانگنے کو تيار ہيں- جہاں ديگر فرقے دہشتگردی ميں ملوث ہوکے اسلام کے نيک نام کو بٹہ لگارہے ہيں، وہاں جماعت احمديہ اپنے قول وفعل سے اسلام کو ايک پرامن مذہب کے طور پہ پيش کررہے تھے۔
اگر کوئی اسلام کی نيک نامی کے ليئے کوئی کام کررہا ہو تو پھر بھی اس پہ اعتراض کرنے والے کی مسلمانی پہ حيرت بلکہ افسوس-
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ بھی جانتے ہیں کہ کون جاہل اور کون صحیح بات کررہا ہے۔ لیکن باجود اسکے آپ کی طرف سے جواب دینے کے بجائے فرار کی راہ اپنانے کی روش بتارہی ہے کہ آپ کے پاس کوئی جواب نہیں؟ خدا کے لئے عقل کے ناخن لیں اور دائمی بربادی سے اپنے آپ کو نکال لیں۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
کيا فرق ہے؟ اس زمانے ميں ويلفير چيک کا طريقہ نہيں تھا ورنہ مہمان نوازی تو تھي-
برطانيہ ميں تو پاکستانی ہر ممکن طريقہ سے سوشل سيکيوريٹی لوٹنے ميں لگے رہتے ہيں، يہ ماننا مشکل ہے کہ دنيا کی سب سے کرپٹ قوم يعني آپکے ہم مسلک کينيڈا جاتے ہي نيک شريف ہوجاتے ہوں گے- کوئی فيکٹس فيگر ہيں آپکے پاس کہ کس مسلک کے لوگ ذيادہ ويلفيئر پہ ہيں؟ افواہ بازی اور تعصب کو چھوڑ کے-
اس تبصرے کا جواب دیں
یعنی کہ آپ کے نزدیک ہم کافر ہیں؟؟؟
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
آپکے مسلک کے لوگ جسطرح امريکہ سے بھيک ليکر اپنی ہی ہم مسلکوں کو ہلاک کررہے ہيں بچے، بوڑھے، خواتين سب۔ کيا اس سے بڑی بے غيرتی بھی کچھ ممکن ہوسکتی ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
میرے اس سوال کا جواب
ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی عرب اور اہل زبان تھے۔ اس کے علاوہ آج بھی عرب اہل زبان لوگوں کی بڑی تعداد عیسائی ہے۔ تو اہل زبان ہونا کیا دلیل ہوئی صراط مستقیم پر ہونے کی؟ بات تو ایمان لانے کی ہے اللہ کی بات پر
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جو آپ فرما رہے ہیں کہ ایل عرب کیوں احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں ۔ ظاہر ہے وہاں جو عیسائی ہیں وہ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں ۔ تو اس میں اتنی حیرت والی بات کیا ہے ۔۔۔میری ایک سعودی دوست مریم جس کے میاں کا نام عثمان تھا ۔۔ اہل عرب تھی ۔۔ لیکن وہ عسیائی تھی ۔ پہلے مجھے بھی اندازہ نہیں ہوا ۔ کیونکہ وہ عربی بولتی تھی ۔ ہمارے نزدیک کوئی عربی بولے چاہے وہ گالی ہی کیوں نا دے ۔ ہم سبحان اللہ ماشااللہ کہتے رہتے ہیں ۔کیوں کے ہمارے نبی کی زبان ہے ۔ اس محبت میں اور قرآن کی محبت مین بھول جاتے ہیں کہ عربی دوسری زبانوں کی طرح ہی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ بھی مغالطہ ہے۔ عرب مسلمان جماعت احمدیہ کی تفسیر قرآن اور علم الکلام سے متاثر ہو کر احمدی ہوتے ہیں۔ چند مسیحی عرب بھی ہو سکتا ہوں شامل ہوئے ہوں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بھیکاریوں کو بھیک اور خیرات “مہمان نوازی” ہی دکھائی دیتی ہے۔ آپ کی بات سن کر حیرانگی نہیں ہوئی۔

عام پاکستانی کینڈا میں ریفیوجی نہیں ہوتے۔ اور ریفیوجی سب سے ذیادہ خیرات لینے والے ہوتے ہیں۔ اس میں اعداد و شمار کی بات ہی نہیں سیدھا سادھا قانونی نقطہ ہے۔
پیس ویلیج اور ٹورنٹو کا شمال مغربی حصہ نارتھ یارک خیرات لینے والے ریفیوجی مرزائیوں سے بھر پرا ہے۔ میں اس علاقے میں کچھ عرصہ گذار چکا ہوں۔ اور خیراتی مرزائیوں سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔
اپنے ہم مسلکوں کو کہوں کہ بھیک لے کر پاکستان کو بدنام کرنا اور حکومت کینڈا کے ٹکڑوں پر پلنا بند کریں۔ اپنے ہاتھ سے روزی کمانا سیکھو۔
جہاں تک حکومتوں کی بات ہے تو یقناً کچھ مسلم ممالک بشمول پاکستان کی حکومتیں قرضے لیتی ہے۔ لیکن اس مکروہ عمل میں عام پاکستانی شامل نہیں۔ عام پاکستانی محنت سے روزی کماتا ہے۔ مرازائیوں کی طرح غیروں کی خیرات نہیں ڈکارتا۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
ظاہر ہے دہشتگردی کرنے والے کيسے ريفيوجی ہو سکتے ہيں صرف دہشتگردی کا شکار ہونے والے ہی ريفيوجی ہوسکتے ہيں- يہ بغليں بجانے کی بات نہيں ليکن دہشتگردی کے مذہب کے ماننے والے ايک طرف مذہبی جذبے سے دہشتگردی جاری رکھے ہوئے ہيں اور دوسروں طرف جلاپے کا شکار ہيں کہ لوگ دہشتگردی کے مذہب کا شکار بننے کی بجائے دوسرے ملکوں کو ہجرت کيوں کرجاتے ہيں۔
کينيڈا سميت ديگر مغربی ممالک ميں تمام ”اسلامي” ممالک سے ريفيوجيز پناہ ليتے ہيں جن ميں تہارے ہی مسلک کے لوگوں کی بھاری اکثريت ہے اسطرح پناہ دينے والے ممالک پہ تمہارے مسلک کے لوگ ہی بہت بڑا بوجھ ہيں- اب ذرا اپنی چارپائی کے نيچے ڈانگ پھيرو اور اپنے مسلک کے لوگوں کو کام کی تلقين کرو-
پاکستان کو بدنامی سے بچانا ہے تو مذہبی دہشتگردی ختم کرو اور دہشتگردی کا مذہب چھوڑ کے کوئی ڈھنگ کا مذہب اختيار کرو- پاکستان تمارے مسلک کے اس قسم کے کرتوں سے بدنام ہورہا ہے؛
Muslims Burn Christians Alive In Pakistan
http://www.youtube.com/watch?v=hSrpf5vRyuM
مظلوم لوگوں کے پناہ لينے سے نہيں-
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ ظاہر کيسے ہے کہ يہ عيسائي ہيں اور ديگر اسلامي فرقوں کے لوگ نہيں ہيں جو احمديت ميں داخل ہورہے ہيں؟ مجھ جيسی معمولی سوچ رکھنے والے کو يہ سمجھاديں-
اس تبصرے کا جواب دیں
ابوجہل نے اپنا مسلک تو نہيں تبديل کيا – جبکہ ان لوگوں نے حق کو سمجھا اور اپنے آبا و اجداد کا دين چھوڑ کر راہ حق اختيار کيا صحابہ رسول کی طرح حالانکہ اس راستہ ميں بڑی آزمائشيں ہيں۔
Egypt Ahmadis detained under emergency law: rights group
http://www.google.com/hostednews/afp/article/ALeqM5gz0txMsTCCfV4e0BI1Slg2yYOxFg
اور ان ميں سے کئی افراد کی خود اللہ تعالی نے حق کی طرف رہنمائی کی خوابوں اور بشارتوں کے ذريعے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
حمید صاحب آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔۔ اور احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں ۔ آپ کے پاس کیا دلائل ہیں ۔۔۔زیادہ تر غیر مسلم ہی احمدیت کی طرف آ رہے ہیں ۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ وہ پوری طرح جانتے نہیں ہیں ۔۔ ہو سکتا ہے کہ جب وہ یہ جان جاہیں تو احمدیت کو چھوڑ کر اسلام کی طرف آ جاہیں ۔ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے ۔۔۔ دیکھیں جہاں ہم باقی فرقوں کے ساتھ رہتے ہیں خاص کر میں اپنی بات کرتی ہوں ۔۔ کوئی کیا ہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میں ایک خدا کی مخلوق اور انسانیت کے ناطے بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنے تبصرے کو میرے نام سے شائع کردیا۔ ہاتھ پاؤں تو تمھارے کانپ رہے ہیں۔ بڑی جلدی ناک آؤٹ ہوگئے یار۔۔۔
ریفیوجی فورا کسی ملک کے شہری نہیں بن جاتے۔ کئی سال مقدمہ چلتا ہے۔ جس میں آپ کے بھائی بند ریفیوجی سٹیٹس پر بیٹھ کر کینیڈین شہریوں کے ادا کئے گئے ٹیکس سے خیرات لیتے ہیں۔ مقدمہ جیتنے کے بعد اگر پرمننٹ ریزیڈنسی مل بھی جائے تو آپ کے بھائی بند پھر بھی خیرات لے کر کھاتے رہتے ہیں۔
مجھے جلن اس لیے ہو رہی ہے کہ میں کما کر ٹیکس دینے والوں میں سے ہوں۔ میرے اور میرے جیسوں کے ادا کئے گئے
ٹیکسوں کی رقوم آپ کے خیراتی بھائی بندوں کے پیٹ میں جاتی ہے۔ جو کھا پی کر الٹا کینیڈین پر ہی ڈکار مانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دیہاتی عورتوں کی طرح کون بے نقط سنا رہا ہے اور کس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں وہ تو واضح ہو ہی چکا ہے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی۔۔۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
آپ کے بلاگ پر تو آج کل ان مرزائیوں نے خوب سرکس لگا رکھا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ سننے کو مل رہا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
فوکس نیوز نے بالکل صحیح لوگوں سے رابطہ کیا ہے۔ اسلام کو دہشت گرد ثابت کرنے کا مشن تم سے بہتر اور کون ادا کر سکتا ہے۔ لو اپنے الفاظ اوپر خود ہی پڑھ لو!!
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
ماشاء اللہ ایسے ہی مسلمان ہیں جو ہمیں فیس بک سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حمید صاحب نے جو میرے عزیزوں کے “اکابرین” کی پٹیاں اتاری ہیں اس کے جواب میں جس قسم کے سوال گندم جواب چنا جیسے تبصرے پڑھے ہیں ، واللہ دل گارڈن گارڈن ہو گیا ۔ شاکر ، شکریہ ، رسول اللہ کو کوئی آخری نبی نہ مانے وہ کوئی اکابر ہو ، مجتہد ، محدث ہو کوئی بڑی پگڑی والا ہو یا چھوٹی پگڑی والا ہمارے نزدیک اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ، کسی فرقے مسلک سے ہو تو ہو ۔ کیونکہ قران نے بالکل سیدھے سیدے اور صاف صاف آپ کے آخری نبی ہونے کا نا صرف اعلان کر دیا بلکہ کسی اور نبی کے آنے کے بارے میں صفر اشارات موجود ہیں۔
اور حمید صاحب آپ نے یہ نکتہ بھی خوب اٹھایا ہے کہ ان “اکابرین ” پر اگر فتوے لگ جائیں تو ہماری کیا حیثیت رہ جائے گی ، میرے عزیز آپ سمیت اکثر احباب کا مسئلہ ہے کہ آج تک ان کی اپنی کوئی حیثیت طے ہی نہیں ہو پائی اور جو شخصیت پرستی کے ہو کر رہ جائیں ان کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آتا ہے ۔
وسلام
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان میں تبصرے حدف بھی کر سکتی ہوں ۔ لیکن میں ایسا کرنا نہیں چاہتی ، کیونکہ جب حق کی بات ہو رہی ہے تو پھر بلاگ کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اگر حمید صاحب کے لیے اپنے آپ کو پروف کرنے کے لیےدلائل ہیں ۔ تو ان کو موقع ملنا چاہئے ، میں نے بلاگ کسی ایک مسلک کے لیے نہیں بنایا ۔ یہاں سب کو اجازت ہے اپنی بات کہنے کی اور دوسرے کی بات سننے کی ۔احترام لازم ہے ۔ دل آزاری نا ہو ۔ اس بات کا خیال ضرور رکھا جائے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف الا سلام نام والے بھائی اور حمید صاحب، میں نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کی جماعت احمدیہ کے نزدیک جو شخص خود کو مسلمان کہے اور مرزا غلام کی تکذیب کرے وہ مسلمان ہوسکتا ہے کیا وہ جنت میں جاسکتا ہے، جیسا کہ آپ نے اوپر اشارہ دیا اور جیسا کہ آپ کی قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے لیکن ابھی تک آپ پھوٹے نہیں۔
بھیا اب بول بھی دو کہ تمہارے نزدیک ہم مسلمان ہیں بھی یا نہیں۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
قرآن ميں کہيں نبی نہ آنے کا ذکر نہيں، زبردستی يہ مطلب نکالنا چاہيں تو اور بات ہے- حوالہ دينا چاہيں تو بڑے شوق سے ديں ليکن کليئر کٹ ہو، بحث طلب نہ ہو اور آپ کے اپنے ہی اکابرين کی تشريحی رائے اس کے خلاف موجود نہ ہو کيونکہ دوسروں کو کہنے سے پہلے خود سے اتفاق رائے ہونا چاہيئے- يہ بڑا مناسب معيار ہے، اگر آپکا حوالہ اس پہ بھی پورا نہ اترے تو دوسرے کو آپ کيا کہہ سکتے ہيں۔
مسيح کے آنے کا بار بار ذکر ہے اور مسيح نبی ہيں يہ بھی سب مانتے ہيں۔
يہ شخصیت پرستی نہيں بلکہ وہ مجددين ہيں جنہيں صديوں سے لوگ مانتے آئے ہيں- چودہ سو سال ميں کسي کو جرآت نہيں ہوئی کہ اجماع سے ان کو کافر قرار دے۔ آخر اسلام کی چودہ سو سالہ ميراث کی کوئی حيثيت ہے يا نہيں، يا اسلام سيدھا پاکستان ميں جاہل ملا پہ نازل ہوا- اب يکايک يہ اکابرين تو کافر ہوگئے اور آجکے کے دور کے بدترين لوگ ذيادہ مسلمان ہوگئے- يہيں سے مسئلہ واضح ہوجاتا ہے کہ يہ کوئی اچھے لوگ نہيں ہيں جو برے لوگوں کو کافر قرار ديتے ہيں بلکہ برے لوگ ہيں جو اچھے لوگوں کو کافرقرار ديتے ہيں اور يہ وہی زمانہ ہے جس کی پيشگوئی کردی گئی تھي؛
اس کنفيوزن کی وجہ وہابيت کا نفوز جسکے ذريعے پيٹرو ڈالر کے زور پہ تمام اسلامی ممالک ميں اکثروبيشتر صرف ايک نقطہ نظر پھيلايا گيا ہے اور اختلاف کرنے والے کو کافر، واجب القتل وغيرہ قرار دے ديا جا تا ہے- اسطرح ايک پوری نسل اس بات سے لاعلم ہے کہ اس مسئلہ پے ديگر نقطہ نظر اسلامی تاريخ ميں ہميشہ موجود رہے ہيں- يہ مسئلہ سياسی ہے اور کچھ نہيں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ تمام لوگ قرآن وسنت پہ بحث کے نتيجے ميں مسلمان ہورہے ہيں بائيبل يا کسی کتاب پہ نہيں- آپ نے ابھی تک نہيں بتايا کہ آپ کا ذہن فورا غير مسلموں کے مفروضے پہ کيوں چلا جاتا ہے جبکہ ايسی کوئی انڈيکيشن نظر نہيں آرہي، کسی استثنا کو چھوڑ کے-
آپ کے مولوی پہ اعتراف کرتے ہيں؛
http://www.youtube.com/watch?v=4Vg2mf0Ddvk
اس تبصرے کا جواب دیں
فتوی کسطرح آتے اور جاتے ہيں؛
Saudi disillusionment with the religious establishment
http://saudiwoman.wordpress.com/2010/07/20/saudi-disillusionment-with-the-religious-establishment/
اس تبصرے کا جواب دیں
غير جانبدار رائے؛
http://www.theamericanmuslim.net/index.php?option=com_content&view=article&id=1952:watch-what-they-say-and-watch-what-they-do&catid=249:islam
اس تبصرے کا جواب دیں
تکذیب کرنے والا اللہ اور اللہ کے رسول (ص) کی حدیثوں کی تکذیب کرتا ہے۔ اور اس کا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔ جہاں تک جنت جانے کا تعلق ہے، ہمارے نزدیک ہر وہ شخص جو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرے اور جزا سزا پر یقین رکھے اس کو اللہ نے جنت کی بشارت دی ہے۔ یہاں مسلمان، مسیحی، یہودی، صابی ہونے کی قید نہیں۔ اعمال صالح البتہ ضرور ہونے چاہییں۔ اللہ کے مامور کی تکذیب بڑا گناہ ہے۔ جو لوگ اپنی کم علمی اور دیکھا دیکھی میں ایسا کرتے ہیں ان کے اعمال کے ذمہ دار وہ شیاطین ہیں جو قوموں کی لیڈری کے شوق میں اللہ کی دشمنی مول لیتے ہیں۔
جنت جہنم کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ ہمارے لٹریچر میں ایسے فیصلے نہیں دیکھیں گے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جب وحی اور خاتم النبین جیسے کلیر کٹ الفاظ کے معنی تم نے اپنی ایجاد کردہ لغت میں کچھ اور ہی رکھ ڈالے ہیں۔ تو بحث کہاں سے آگئی؟
کمپیوٹر کا نام کھوتا رکھ دو۔ اور پھر اصرار کرتے جاؤ کہ کمپیوٹر کی چار ٹانگیں ہیں۔
مسیح تو کب کے انتقال کر چکے۔ ان کی واپسی کا ذکر قرآن میں کہں نہیں۔ کسی مزید مسیح کے آنے کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔ کسی نئے نبی کے آنے کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں
تم نے اپنے مسخریاں کہاں سے گھڑ لیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
اس تبصرے کا جواب دیں
اور معلوم ہوتا ہے کہ خیراتی ہونے کا طعنہ ان خیراتی مرزائیوں کو بڑی زور سے متھے پر جا لگا ہے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … پردہ اور مغرب
سچ بڑا اوکھا ہوتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
حضرت والا عرصے سے میں اس آیت کی تلاش میں ہوں جس میں مسیح نبی کی واپسی کا ذکر ہے ۔ سیدنا مسیح کو واپس نہ آنا ہے نہ آئے ہیں اور نہ آئیں گے ۔ میں کسی بحث میں پڑنے سے بہتر جانتا ہوں کہ آپ کو اور دوسرے احباب کو ڈاکٹر غلام جیلانی کی کتاب “حرف محرمانہ” پڑھنے کا مشورہ دوں ۔ یوں تو رد قادیانیت پر سینکڑوں کتابیں موجود ہیں مگر میں ہمیشہ اس کتاب کا حوالہ اس لئے دیا کرتا ہوں کہ یہ رد قادیانیت نہیں بلکہ قادیانی حضرات کو بلاوا ہے ، تمیز تہذیب اور نہ رد کئے جا سکنے والے دلائل کا انبار۔ اور جو طرز استدلال آپ نے میرے لئے جواب میں اختیار کیا ہے اسی طرز استدلال پر بڑی خوبصورت بحث کی گئ ہے ۔ امید ہے مطالعہ فرمائیں گے۔
http://www.aboutquran.com پر یہ کتاب موجود ہے ۔
وسلام
اس تبصرے کا جواب دیں
حضرت آپ نے بڑے دھڑلے سے فرمايا تھا کہ قرآن ميں واضح لکھا ہے کہ نبی نہيں آسکتا- آپ سے عرض کيا تھا کہ کھلا حوالہ دے ديں- اب اگر نہيں معلوم تو اس گھماؤ پھراؤ کی کيا ضرورت ہے، صاف فرماديں کہ نہيں معلوم کہ آپ کہ عقيدہ کی بنياد کيا ہے، صرف آباؤاجداد کا دين ہونے کی وجہ سے اپنا رکھا ہے-
باقی جن کتابيں کا حوالہ آپ نے ديا ايسی بہت ہيں ليکن يہ صرف بيوقوفوں کو مزيد بيوقوف بنانے کے ليئے ہيں اور کچھ نہيں- اور باتوں کے علاوہ جن کا عقيدہ اپنے آباؤاجداد کے عقيدہ سے فرق ہے وہ پہلے آباؤاجداد اور اکابرين کو کافر قرار ديں تاکہ بات آگے بڑھے-
اس تبصرے کا جواب دیں
ويسے يہ بلاوہ ہے کسطرف اور کيا خوبياں ہيں بلانے والوں ميں؟ جنکو ہروقت اپنے مذہب پہ شرمندہ رہنا پڑھتا ہے انکے بلاوے کو دور سے سلام بہتر نہيں؟
اس تبصرے کا جواب دیں
طالوت صاحب- جس ویب سائٹ کا حوالہ آپ نے دیاہے وہاں عبیداللہ سندھی صاحب کا نام بھی دیکھا۔ مرحوم کے نزدیک قرآن کے سب سے بڑے عالم ان کے دور میں مولوی نورالدین تھے جو قادیان میں اکثر مولانا سندھی کی میزبانی کیا کرتے تھے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ان کتابيں لکھنے والوں اور انکے دلائل کے انبار کی اوقات کيا ہے يہاں سن ليجيئے؛
http://www.youtube.com/watch?v=wVOMV7vDFck
آجکل بھی عالم اسلام کی حالت ان کتابيں لکھنے والوں کے باوجود ہے- يعنی کيا تو کچھ نہيں نہ پہلے نہ اب صرف اپنے منہ مياں مٹھو بننے والی بات ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
وہابی داتا دربار پہ حملہ کی تلقين کرتے ہوئے؛
http://www.youtube.com/watch?v=Ijv-bsKhWl4
اسلام کے اصل دشمن تو ناک کے نيچے ہيں، کوئی نہ ديکھنا چاہے تو اور بات ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
Nice brief and this post helped me alot in my college assignement. Say thank you you as your information.
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ سب کا بہت شکریہ جنھوں نے اپنے اپنے لنک اور معلومات سے نوازہ ۔۔ ۔۔۔ اب یہاں باقی کوئی تبصرہ نہیں ہو گا ۔ اور نا ہی کوئی بحث ، ۔۔۔ جو پوسٹ اچھے طریقے سے انجام تک پہنچ جائے ،،، اس کو وہی پر ختم کر دیا جائے ۔۔ میرا خیال ہے کسی کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں ہو گی ، جو نفرت کا باعث بنے ۔۔۔۔۔سب خوش رہو ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اس تبصرے کا جواب دیں