کب تک یہ جنگ جاری رہے گی۔؟
میرا خیال ہے کوئی بچہ بھی جب دنیا میں آتا ہے ۔ تو وہ اپنی ماں کی کوک سے یہ نہیں سیکھتا کہ دنیا میں جانے کے بعد میں نے ایک ہی کام کرنا ہے وہ ہے جنگ ۔ حسد ایک دوسرے کے پیچھے باتیں کرنا ۔ ایک دوسرے کو دھمکی دینا ، گالیاں ۔یا پھر نیچا دکھانا ۔۔یہ معاشرہ اس کو سب کچھ سیکھتا ہے جس میں ہم سب رہتے ہیں ۔ ہمارا اپنا ہاتھ ہے ۔ ہم برائی کو روکنے کی بجائے لمبائی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اور پھر خوب مزے لیتے ہیں ۔ فارغ وقت میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر عورت کا تماشا بناتے ہیں ۔ اور مرد کے لیے اپنی مردانگی شو کرتےہیں ۔ یہ ہمارے ملک میں تو عام ہے ہی ۔ وہاں اگر شریف بندہ اپنی عزت کے لیے خاموش ہو گیا تو اس کو بزدلی کا نام دیا جاتا ہے ۔۔ طننے مار مار کر بدمعاشی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے ۔۔اب یہی حال بلاگستان پر ہو رہا ہے پاکستان کی جنگ سے تنگ تھے اب بلاگستان کی جنگ چھڑ چکی ہے ۔ بس کرو کب تک ایک دوسرے پر کیچر اچھلتے رہو گے ۔۔۔۔۔ اگر کچھ لکھنے کو نہیں ہے تو کوئی اچھی غزل یا گانا ہی لگا دو ۔۔۔ لیکن دوسروں کو معاف کر دو۔۔

ارے تانیہ جی ٹینشن نہ لیں۔بات ختم ھو جاتی ھے۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … افسوس صد افسوس
اس تبصرے کا جواب دیں
بات آپ نے بڑی پتے کی کی ہے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … کشمير ۔ کرفيو سے زندگی مفلوج
اس تبصرے کا جواب دیں
یاسر ٹنشین کی بات ہے ۔ ٹی وی پر بھی یہی کچھ ،، اخبارات میں بھی یہی کچھ عام زندگی میں بھی یہی کچھ ، ایک بلاگ بچا تھا جہاں یہ سوچ کر آتے تھے کہ اچھی سی تینشن سے پاک کوئی بات سننے یا دیکھنے کو ملے گی یہاں بھی جنگ جاری ہے نا ختم ہونے والی ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بس افتخار جی کبھی غرور نہیں کیا ۔ آپ نے اگر غور کیا ہو تو میں پورا درخت بیان کر دیتی ہوں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر غیرجانبداری سے دیکھا جائے تو پھپپے کٹنی کے جارحانہ انداز نے سارا معاملھ بگاڑا۔ اس کے بعد مرد حضرات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یوں اس آگ نے بلاگستان کو اپنی لپیٹمیںلے لیا۔ اب حل یہ ہے کہ پھپھے کٹنی صاحبہ سمیت سب کو سوچ بچار کرنا چاہیے اور جو کچھ ہوا اسے دہرانے سے بچنے کی سبیل کرنی چاہیے۔ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ ذاتیات پر بات کرنے کی بجائے موضوع پر بات کریں مگر ہماری کون سنتا ہے۔
بات آپ کی واقعی ہی سچ ہے۔ ہماری لڑائی کی نوے فیصد وجہ باتیںہوتی ہیں اور بچ جانے والے دس فیصد میںبڑے بڑے جرائم اتے ہیں۔ ہم باتوںکی لڑائی کو بڑے پیار سے ختم کر سکتے ہیںاگر تھوڑی سی عقل استعمال کر لیںتو۔
میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … طلاق
اس تبصرے کا جواب دیں
یہاں اب میں افتخار جی کی بات کروں گی کہ میرا بلکہ ہم سب کا پاکستان بڑے پتے کی بات کی ہے ویسے تو آپ ہمیشہ پتے کی باتیں کرتے ہیں ۔۔ بس ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ تیل اور تیلی کبھی اپنے گھر کو بھی جلا دیتے ہیں ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لڑا تو ہمیشہ لڑائی نہ ختم کرنے کے بہانے ہی جاتا ہے ۔ لوگ مختلف حیلوں اور حجتوں کے بہانے لڑنے والوں کا ساتھ دینے یا نہ دینے کے ڈرامے کرتے ہیں ۔ لڑنے والے اس دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں اور انکے جانے کے بعد بھی لوگ انکی لڑائیوں کو یاد کرتے ہوئے پرانی لڑائیاں لڑتے ہوئے اس دنیا سے گزر جاتے ہیں ۔ اگر سچ مچ میں بھی یہ لوگ لڑ رہے ہیں تو لڑنے دیں اور بات تو تب ہے کہ ان کی لڑائی کوئی بھی دوسرا نہ لڑے ۔ اور جی ایسا تو ہمارے سمیت کوئی بھی نہیں ماننے والا ۔
جاہل اور سنکی، جہالستان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہنسنا اور ہنسانا
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی آگر یہ جنگ بلاگستان پر بھی شروع ہو گی ہے تو پھر بلاگستان کی عمر بہت کم رہ گی ہے۔کیونکہ ہر انسان امن چاہتا ہے جنگ نہیں۔
تانیہ میری پسند کی غزل ہی لگا دیں
آواز راحت فتح علی خان کی۔۔۔ کوئ میرے دل دا حال نہ جانے ۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ ساری باتیں اس طرف نشاندہی کرتی ہیں کہ بحیثیت مجموعی ہمارا رویہ کیا بنتا جا رہا ہے ۔ عدم برداشت کا مادہ پروان چڑھ رہا ہے ۔ ہر انسان دوسرے سے کوئی انتقام لینا چاہتا ہے ۔ اچھا کہنے میں لیت و لعل مگر کوسنے میں پہلے ہم کا فارمولہ اپنایا جاتا ہے ۔ صرف بلاگستان کیا پورا معاشرہ اسی آگ میں جلتا جا رہا ہے ۔ دعا ہے کہ امن بھائی چارہ کی فصل بوئی جا سکے ۔ پیار و یگانگت کا پھل تیار ہو ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ماںکی کوک نہیںکوکھ ہوتی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
پھپھے کٹنی تو ہیں ہی پھپھپے کٹنی۔۔۔۔
لیکن یہ جو ایک سینئر “بلاگر” صاب نام لے لے کر مجھے لتاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟؟
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تبدیلی پتہ
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ پتہ ہے میرے ایک بزُرگ بہُت مزے کی ایک بات کہا کرتے ہیں
سب رَج دیاں مستیاں نے
یعنی سب بھرے پیٹ کی مستیاں ہیں
اور کرنے کو کُچھ نہیں تو چلو لڑائ لڑائ کھیلتے ہیں،،،،
شاہدہ اکرم کے بلاگ سے آخری تحریر … کہی ان کہی پارٹ ٹُو،،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
ویسے میرا پاکِستان کی بات سو فیصد درُست ہے لیکِن سُنے گا کون؟؟؟؟
شاہدہ اکرم کے بلاگ سے آخری تحریر … کہی ان کہی پارٹ ٹُو،،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بہناآپ نےبہت اچھی بات کی ہےدراصل ہم لوگوں نےبرائی کوروکنےکی کوشش نہیں کی اب جب کےبرائی بہت بڑھ چکی ہےتواب اس کوروکنےکےلیےبھی وقت چاہیے۔ اللہ تعالی ہم کومتحدرہنےکی اوربرداشت کی ہمت وحوصلہ عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
جاویداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر … Asus UL30A con Fedora 13- Ubuntu 104 y Backtrack 4
اس تبصرے کا جواب دیں
فیصل آپ صرف یہ درست کروانے کے لیے تشریف لائے تھے ن بہت شکریہ ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
امید تو یہی ہے کہ جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے کیونکہ اکثریت اب اس سے بیزار ہے لیکن پتہ نہیں آخری شعلے پر کب کوئی تیل پھینک دے۔ ابھی ابھی ایک تحریر پڑھی جس میںکچھ ایسا ہی لگ رہا تھا بلکہ لگ رہا تھا کہ لاشعوری طور پر جنگ پھر سے شروع کرنے کا پروگرام بن رہا ہے بس رخ موڑا جا رہا ہے۔
خیر میری دوستوں سے یہی گذارش ہے کہ پہلے تو سمجھایا جائے لیکن اگر سمجھ نہ آئے تو پھر بیچاروں کو مریض سمجھ کر بس دعا کی جائے۔ منا بھائی کی طرح گٹ ول سون کے پھول دیئے جائیں۔ ہو سکتا ہے کچھ بہتری ہو جائے۔ ویسے میرے خیال میں بہتر ہے کہ ایسی تحاریر پر تبصرہ نہ ہی کیا جائے بلکہ جو توانائی تبصرہ پر لگانی ہے وہ کسی تعمیری تحریر لکھنے یا تعمیری تحریر پر تبصرہ کرنے پر لگائیں۔
م بلال م کے بلاگ سے آخری تحریر … کھلا محبت نامہ آپ کے نام
اس تبصرے کا جواب دیں
بلال کتنے سمجھدار ہو گئے ہو ۔ یہ ہوتا ہے ہمارے ساتھ رہنے کا نتیجہ۔۔ ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اصل فساد کی جڑ یہ بی جمالو ٹائپ بلاگر اور تبصرہ نگار ہیں،جو کسی تعمیری کام میں تو شریک نہ ہوں گے ہاں جہاں کسی پر گند بلا اچھالا جارہا ہو وہاں ضرور مزہ لینے پہنچ جائیں گے،
اللہ ہم سب کو نیک ہدایت اور نیکی پر عمل کی توفیق عطافرمائے،آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
کرنے دیں جو بھی بچے کر رہے ہیں تھک ہار کر خود ہی ماں جائیں گے کیوں کے کسسی نے کہا ہے اور بوہت خوب کہا ہے کے کسسی عقلمند کو سمجھانے کی ضرورت نہیں کیوں کے وہ پہلے ہی جانتا ہے اور بیوقوف کو سمجھانے کی ضرورت نہیں کیوں کے وہ سنے گا نہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
[...] کہا جسطرح تم سے اميد تھی ; راجہ گدھ کھڑا مسکراتا رہا باريش تشريف لے آيا کہنے لگا ہم نے سارے معاملے ميں عورت کو غور سے [...]
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ رحمان صاحبہ- آپ کا عین الیقین کیا کہتا ہے – کیا عورت خود کو تماشا نہیں بنا رہی ھے ؟ – رہی بات مرد اور عورت کی جنگ وہ تو ازل سے چلی آرہی ہے اور ابد تک جاری رہیگی- شُکریہ
اس تبصرے کا جواب دیں
یار آپ لوگوں کی ساری تان عورت پر آکر ٹوٹتی ہے؟؟
اور آپ کو اخلاقیات کا ٹھیکیدار کس نے بنایا؟؟؟
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … تبدیلی پتہ
اس تبصرے کا جواب دیں
ایم ڈی اگر آپ کو لگا کہ میرا بلاگ آپ کے معیار کا نہیں ہے ۔ اور یہاں میں نے عورت کا تماشا بنایا ہے تو معذرت چاہوں گی ۔۔ لیکن بات کرنے سے پہلے ایک بار سوچ لیتے تو بہتر تھا۔کیونکہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات ِِِِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی آپ بہتر جانتے ہو۔ ہم اس جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ رحمان صاحبہ- میں نے جو کچھ لکھا ہے اب اسکی وضاحت پیش کرتا ہوں – آپ نے لکھا ہے مرد عورت کا تماشا بناتے ہیں – میں نے آپ سے پوچھا ہے آپ کا عین الیقین کیا کہتا ھے کیا عورت خود کو تماشا نہیں بنارہی ھے ؟ اب میں مثال پیش کرتا ہوں – چھوٹا کُرتا لمبی چاک جب ہوا آتی ھے تو دامن اُڑتاھے جسم نظر آنے لگتا ہے توخواتین دامن کو پکڑ کر کھینچتی ہیں کہ کپڑا نہ ہوا ربڑ ہُوا کہ کھنچ کر بڑا ہو جائے گا اور پھر دامن پکڑ ے پکڑے چلتی ہیں کہ ہوا پھر نہ اڑا دے – کیا اسطرح خود کو تماشا نہیں بنا لیتی ہیں ؟ مثالیں بہت ہیں چلئے ایک مثال اور دیتا ہوں – عمر تقریبا” 60- 65سال چہرے پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں چلنا دو بھر ہورہا ہے لیکن ہونٹوں پر لپ اسٹک لگی ہوئی ھے ، آنکھوں میں کاجل ڈلا ہوا ہے ، ہاتھ میں پرس سنبھالا ہوا ہے غرض اپنے آپ کو تماشا بنایا ہوا ہے – میت کے گھر بھی بغیر میک ا پ کے نہیں جایا جاتا -ایسے منظر آپنے بھی دیکھے ہونگے -ابھی میں نے اسٹیج اور فلموں کی بات نہیں کی ہے کہ اسُ میں عورت نے اپنا کیا تماشا بنایا ہوا ہے – رہی عورت مرد کی جنگ تو یہ ہمیشہ رہی گی -چونکہ دونوں کی سائیکی الگ الگ ھے اوپر میں نے جتنی مثالیں دیں ہیں وہ مرد کے سمجھ میں نہیں آرہی ہیں -لیکن عورت کے سمجھ آرہی ہونگی -یہی عورت مرد کا جھگڑا ہے – یار عثمان جب بلاگ میں عورت کی بات ہو تو تبصرہ بھی عورت پر ہی ہوگا نا – رہی بات اخلاق کی تو میرے یار میں کبھی اس پر بات نہیں کرتا ہوں -
md کے بلاگ سے آخری تحریر … قرآن اور انسان
اس تبصرے کا جواب دیں
بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔۔۔
اب تو بات نکل گئی دور ۔۔۔۔ لوگ بلاگ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یقینا کچھ لوگوں کے دلوں میں ٹھنڈک پر گئی ہو گی۔
عمران اشرف کے بلاگ سے آخری تحریر … انسانیت
اس تبصرے کا جواب دیں
عمران آپ نے عورت کا جو نقشیہ کھنچا ہے میں پورا اتفاق کرتی ہوں ،، میں نے کبھی بھی عورت کے غلط کاموں میں ساتھ نہیں دیا ۔ اگر ہو سکے تو میری کچھ پوسٹ ہوں گی جس میں میں نے خود عورت کے خلاف لکھا ہے ۔ لیکن ہم کسی کی ذات پر بات نہیں کر رہے کوئی ننگا ہے تو اس کی مرضی ۔۔ لیکن یہاں ایک ماحول بنا ہوا ہے ۔ پیچھے دوسالوں میں کچھ ایسا نہیں ہوا ۔ جوا بھی چند ماہ میں ہو رہا ہے ۔۔جس میں زیادہ تر مرد حضرات ہیں ۔ اور کئی مرد حضرات نے خود کہا ہے ۔ ہم خواتیں تو بہت بعد میں آہیں ہیں ۔ جس میں ایک میں ہوں یا پھر شاہدہ ۔وہ بھی ہم نے اپنی ساتھی کو سمججانے کے لیے کہا ہے ، بلاگ چھوڑنے کے لیے ہرگزہرگز نہیں ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ تو شائد نہیں لیکن آپ کی ساتھی نے لات مارنے کی کمال کوشش کی!
ان ساتھی صاحبہ المعروف خاتون اخلاق پر ایک لفظ آتا ہے جو قابل اشاعت نہیں!
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … اظہار تشکر
اس تبصرے کا جواب دیں
اور میں حیران ہو کہ آپکی ساتھی خاتون اخلاق کا بلاگستان کی اخلاقیات واپس آنے پر نیا خطبہ نہیں آیا۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … اظہار تشکر
اس تبصرے کا جواب دیں
عثمان میرا خیال ہے ابھی پوری طرح جانکاری نہیں ہوئی شاہدہ کے بارے میں بہت اچھی انسان ہیں ۔۔ وقت آنے پر پتا چل جائے گا ۔ ضروری نہیں جو ہم دیکھتے ہیں وہ ویسا ہی ہو ۔ اور جو ہم نہیں دیکھتے وہ ویسا نظر تو آتا ہو لیکن ہو ویسا نہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میرے بازُو میں شدید تکلیف ہے اور لِکھنے میں مسئلہ ہو رہا ہے اِس وجہ سے میں کُچھ بھی نہیں کر پا رہی،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
تلوار جی پہلے تو آنے کا شکریہ ۔ بچوں کو کیسے چھوڑ دیں آپ اور ہمارا بزگورں کا کام ہی یہی ہے ، کہ بچے غلط کام کریں تو ان کی راہنمائی کریں
اس تبصرے کا جواب دیں
شاہدہ بالکل پریشان مت ہو جب تک بازو ٹھیک نہیں ہو جاتا ۔ آرام کرو ۔ ہم سب اور بلاگستان بھی یہی ہیں آپ کی صحت سے بڑہ کر کچھ نہیں ۔ اللہ پاک جلد ی بازو کی تکلیف دور کرئے آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
عُثمان میرے بھائ پُوری بات لِکھ ہی دیتے نا کیا فرق پڑجاتا ،،،،آدھی بات کا مزہ نہیں آتا،،،،
شاہدہ اکرم کے بلاگ سے آخری تحریر … کہی ان کہی پارٹ ٹُو،،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
بات تودرست ہے مگر کیا کریں کے بچے آج کے دور کے چالاک ہوگے آپ نے میری بات سنی اور سمجھی اس کا شکریہ
اس تبصرے کا جواب دیں
معاف کرنے کا جذبہ دل میں نہ رہے
درگزر کی سیاست ختم ہو جائے
رواداری کے بند نا باندھے جائیں
ضبط کے پلو جب چھوٹ جائیں
تو دلوں میں کدورت ہی آجاتی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
مزاح کی دنیا پہلے تو آنے کا بہت شکریہ ۔۔۔۔اور اتنا خوب صورت تبصرے کے لیے واہ واہ
اس تبصرے کا جواب دیں