میرا خیال ہے کوئی بچہ بھی جب دنیا میں آتا ہے ۔ تو وہ اپنی ماں کی کوک سے یہ نہیں سیکھتا کہ دنیا میں جانے کے بعد میں نے ایک ہی کام کرنا ہے وہ ہے جنگ ۔ حسد ایک دوسرے کے پیچھے باتیں کرنا ۔ ایک دوسرے کو دھمکی دینا ، گالیاں ۔یا پھر نیچا دکھانا ۔۔یہ معاشرہ اس کو سب کچھ سیکھتا ہے جس میں ہم سب رہتے ہیں ۔ ہمارا اپنا ہاتھ ہے ۔ ہم برائی کو روکنے کی بجائے لمبائی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اور پھر خوب مزے لیتے ہیں ۔ فارغ وقت میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر عورت کا تماشا بناتے ہیں ۔ اور مرد کے لیے اپنی مردانگی شو کرتےہیں ۔ یہ ہمارے ملک میں تو عام ہے ہی ۔ وہاں اگر شریف بندہ اپنی عزت کے لیے خاموش ہو گیا تو اس کو بزدلی کا نام دیا جاتا ہے ۔۔ طننے مار مار کر بدمعاشی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے ۔۔اب یہی حال بلاگستان پر ہو رہا ہے پاکستان کی جنگ سے تنگ تھے اب بلاگستان کی جنگ چھڑ چکی ہے ۔ بس کرو کب تک ایک دوسرے پر کیچر اچھلتے رہو گے ۔۔۔۔۔ اگر کچھ لکھنے کو نہیں ہے تو کوئی اچھی غزل یا گانا ہی لگا دو ۔۔۔ لیکن دوسروں کو معاف کر دو۔۔