ابھی کچھ ماہ پہلے میں پاکستان گئی تھی ۔ ویسے تو ہم ہر سال پاکستان جاتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ اپنوں سے ملنا اور دوسرا اپنے بچوں میں یہ احساس پیدا کرنا کہ ملک کسے کہتے ہیں وہاں جا کر بچے سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ نا گرمی کا احساس ۔ اور نا ہی لوڈشیڈنگ پنکھا اگر نہیں چل رہا تو کوئی بات نہیں ۔ اے سی تو دور کی بات ہے ۔ وہ اپنے کھیل میں اتنے مگن رہتے ہیں ۔ یا اپنوں کے درمیاں رہنے کی خوشی ہوتی ہے ۔۔ جبکہ میں سب سے زیادہ اف اف کرتی ہوں ۔۔
یہ سلسلہ آنے جانے کا لگا ہوا ہے ۔ ہم جب بھی جاتے ہیں تو ہمارے کچھ رشتےدار جو ہر دفعہ ایک ہی بات کرتے ہیں کہ کافروں کے ملک میں کیا رکھا ہے ۔ نا روزہ نماز کا کچھ پتا ۔ نا ہی مسجد سے آذان کی آواز آتی ہے۔ ان کا خیال ہے ہم جنگل میں رہتے ہیں
واپس آ جاو اپنا ملک ہے ۔ روزی تو اللہ تعالی کی ذات دیتی ہے ۔ وہاں کوئی اپنا نہیں ہے ۔ پہلے تو یہ سب کچھ ہیمں سنا پڑتا ہے ۔ جواب میں وہی جب تک دانا پانی لکھا ہے ۔
اوراگر بات پاکستان کی جائے ۔ کہ اجکل کیا ہو رہا ہے ، حالات کیسے ہیں وغیرہ وغیرہ تو وہی تھوڑی دیر پہلے والی گفتگو یوں بدل جاتی ہے۔ کیا ہے پاکستان میں ۔ نا نوکری کا کوئی مزہ۔۔ آئے دن مہنگائی بڑتی جارہی ہے اب تو بجلی کا یہ حال ہے کہ اس کے آنے پر حیرت ہوتی ہے ،ہر طرف گندگی ہی گندگی ۔اب و ہوا تک صاف نہیں ہے ۔ بچے روز بیمار ہو جاتے ہیں ۔ سوچ رہیے ہیں کہ ملک سے باہر ہی چلے جاہیں ۔ کیا دیا ہے پاکستان نے ۔ اور تم لوگ بھی کمال کرتے ہو اتنا پیسہ خرچ کرکے یہاں کیا لینے آتے ہو کسی دوسرے ملک کا چکر لگا لیا کرو ، ہم ایک دفعہ چلے جاہیں واپس شکل نہیں دیکھیں گے۔یہ پیسہ جو پاکستان آنے جانے پر ہر سال لگتا ہے ۔۔ اب تک کئی ممالک کی سیر کر چکے ہوتے۔۔ہاں جی تب ہمارا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے ۔ یا خدا تھوڑی دیر پہلے کیا ماجرہ تھا، اور اب۔