آج میں نے سوچا کہ کیوں نا اپنے بارے میں کچھ کہوں ۔ ارے ارے ۔ آپ تو پریشان ہو گئے میں اپنی تعریف نہیں کرنے جا رہی بے فکر ہو جاو ۔ ہو سکتا ہے جو میں بتانے جا رہی ہوں ۔ کئی ساتھیوں کو خوشی بھی ہو ، میں نے جب بلاگ شروع کیا ۔ تو لکھتے وقت کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ آپ بھی ایسے حالات سے گزرے ہوں گے ۔ کہیں سے آ تو کہیں سے ب یوں جوڑتے جوڑتے جملے لکھے ، اب تو کافی حد تک اس مشکل پر قابو پا لیا ہے ۔۔لیکن ایک جو سب سے بری عادت جس کو میں دور نہیں کر سکی اور کوشش بھی نہیں کی ۔ وہ ہے میری املا کی غلطیاں ۔۔۔۔ میری اس نالائقی کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے ۔۔ یہ میں خود نہیں جاتی کہی ساتھیوں نے کہا کہ لکھنا چھوڑ دو ۔ کچھ نے کہا کہ بی بی روشنی اسکول سے میڑک تو کر لو ۔ کچھ نے مشورہ دیا ۔ کہ اردو کی استانی رکھ لو ۔ استانی پر یاد آیا جب میں چھوٹی تھی ۔ میری استانی یا گھر میں کوئی بڑا کاپی دیکھتا تو پہلا سوال یہی ہوتا یہ کیا کیڑے مکوڑے ڈالے ہیں ۔۔۔اب یہاں تو کیڑے مکوڑوں سے تو رہی ۔ لیکن باقی بہت کچھ غلط ہو جاتا ہے ۔ بلاگ چھوڑ دو ۔ کالم چھوڑ دو ۔ لیکن ہم بھی ٹھیرے ایک نمبر کے ضدی اور نکمیے ۔ نا بلاگ چھوڑا نا کالم اور نا افسانے کہانی ۔۔۔۔۔اب یہ ظالم لکھائی جو ایک بار ہاتھوں کو لگ گئی تو کیسے اترے گی اس کی سیاہی