چترال کی خوبصورت وادی اور بری یادیں
مجھے پھرنے کا شوق ہے جب اور جہاں موقع ملتا ہے ، کہیں نا کہیں چل پڑتی ہوں ۔ کچھ عرصہ پہلے چترال جانے کا شوق چھڑا ۔ کیونکہ مجھے کیلاش دیکھنے اور خاص کر وہاں کی خواتین کے بارے میں جانے کا بہت شوق تھا ۔ سنا اور تصاویر میں دیکھا تھا ۔ لیکن حقیقت تو حقیقت ہوتی ہے ۔۔کیلاش کے بارے میں پھر سہی ابھی جو مجھے کچھ بری یادیں ، میرے دل و دماغ کو تنگ کر رہی ہیں سوچا ان کے بارے میں بات کی جائے ۔ اچھا لگے تو بہت اچھی بات ہے ورنہ آپ سب کی خوشی میں میری خوشی ہے
اسماعیلی وآغا خانی
اسماعیلی مذہب ‘ اسلام کے برخلاف واضح کفریہ عقائد اور قرآن وسنت کے منافی اعمال پر مشتمل مذہب ہے۔ اس مذہب کے بانی پیر صدر الدین ۷۰۰ھ میں ایران کے ایک گاؤں ”سبز وار“ میں پیدا ہوئے‘ خراسان سے ہندوستان آئے‘ سندھ‘ پنجاب اور کشمیر کے دورے کئے اور نئے مذہب کی بنیاد ڈالنے کے حوالے سے ان دوروں میں بڑے بڑے تجربات حاصل کئے۔ چنانچہ سندھ کے ایک گاؤں ”کوہاڈا“ کو اپنا مرکز ومسکن قرار دیا‘ ایک سو اٹھارہ سال کی طویل عمر پاکر پنجاب‘ بہاولپور کے ایک گاؤں ”اوچ“ میں اس کا انتقال ہوا‘ اس نے اسماعیلی مذہب کا کھوج لگا کر اسماعیلیوں کو یہ مذہب دیا۔ (۷) اسماعیلی مذہب کا کلمہ یہ ہے:
”اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ واشہد ان امیر المؤمنین علی اللہ“ (۸(
اسماعیلی مذہب کے عقیدہ امامت کے متعلق عجیب وغریب نظریات ہیں‘ ان کے نظریہ میں ”امام زمان“ ہی سب کچھ ہے‘ وہی خدا ہے‘ وہی قرآن ہے‘ وہی خانہ کعبہ ہے‘ وہی بیت المعمور (فرشتوں کا کعبہ) ہے‘ وہی جنت ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں لفظ ”اللہ“ آیا ہے‘ اس سے مراد بھی امام زمان ہی ہے۔ (۹) اسماعیلی ختم نبوت کے منکر ہیں‘ چنانچہ ان کے مذہب کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام: عالم دین کے اتوار ہیں‘حضرت نوح علیہ السلام: سوموار ہیں‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام: منگل ہیں‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام: بدھ ہیں‘ حضرت عیسی علیہ السلام: جمعرات ہیں اور حضرت محمد ا : عالم دین کے روز جمعہ ہیں اور سنیچر یعنی ہفتہ کے آنے کا انتظار ہے اورر وہ قائم القیامة ہے۔ ان کے زمانہ میں اعمال نہیں ہوں گے‘ بلکہ اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ (۱۰) اسماعیلی مذہب میں قرآن کریم اور قیامت کا انکار کیا گیا ہے‘ قرآن امام زمان کو قرار دیا گیا ہے اور ان کے ساتویں حضرت قائم القیامة کے زمانہ سنیچر کو قیامت قرار دیا گیا ہے۔ (۱۱(
اسماعیلی مذہب کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
۱․․․ دعا کے لئے ہمیشہ جماعت خانہ میں حاضر ہونا اور وہیں دعا پڑھنا۔۲․․․ آنکھ کی نظرپاک ہونا۔۳- سچ بولنا۔۴․․․ سچائی سے چلنا۔۵․․․نیک اعمال۔(۱۲) اسماعیلی مذہب میں نماز نہیں ہے‘ اس کی جگہ دعا ہے‘ روزہ فرض نہیں‘زکوٰة نہیں‘ اس کے بدلے میں مال کا دسواں حصہ بطور دسوند امام زمان کو دینا لازم ہے‘ حج نہیں ہے‘ اس کے بدلے میں امام زمان کا دیدار ہے یا اسماعیلیوں کا حج پہلے ایران میں ہوتا تھا‘ اب بمبئی بھی حج بھی جاتے ہیں

اسماعیلی شیعوں سے نکلے ہیں۔ امامت میں ساتویں امام سے ان میں اور شیعوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ عقاید کچھ حد تک ایک جیسے ہیں لیکن بہت سی چیزیں ان میں آپ کے بیان کے مطابق بھی پائی جاتی ہیں جو کہ شیعوں میں نہیں۔ میرے استاذ نے کہا تھا کہ اسماعیلی شیعوں سے دو ہاتھ آگے ہیں دین سے کھلواڑ کرنے میں، اور ان کے عقائد سے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اللہ رحم کرے لوگوں کے کیسے کیسے عقائد ہیں۔
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر … لے دس
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی۔۔
آپ کیوں ہاتھ دھو کر ان مردہ فرقوں کے پیچھے پڑ گئی ہیں۔
چھوڑ دیں ان کو ان کے حال پر۔۔
ویسے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ اسماعیلیوں کی تین نمازیں ہوتی ہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … واہیات قارئین
اس تبصرے کا جواب دیں
ٹایٹل پڑھ کر اندازہ لگایا تھا کہ چترال کی خوبصورت وادی کا تذکرہ ہوگا اور اس کے حوالے سے کچھ بری یادیں مگر یہاں بھی وہی فرقہ پرستی اور اپنے آپ کو صحیح مسلمان اور دوسروں کے عقائد کو باطل،ویسے تاریخی طور پے مضمون نہایت ناقص ہے پہلے مطالعہ کرکے لکھتیں تو بہتر تھا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ اتنی اچھی معلومات فراہم کرنے کا. ایک لنک منسلک کیا ہے جو کے ان تمام باتوں کی تصدیق ہے۔
http://www.shariati.com/messages/3236.html
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ اپنے سفر کے بارے میں لکھو اچھا۔
تانیہ ایک بات شیئر کرنا چاہتی ہوں ایک دفعہ میں چترال کی وڈیو دیکھ رہی تھی سب خواتین وحضرات نے لائٹ کے ساتھ بڑے بڑے ڈنڈے اٹھاے ہوے تھے اور ناچ رہے تھے اور ساتھ تابوت میں مردے کو بھی ناچ رہے تھے میں حیران تھی۔ جب میں نے ڈیڈ سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں مرنے والا سیدھا جنت میں چلا گیا اسں لیے یہ خود بھی ناچ رہے ہیں اور مردے کو بھی ناچ رہے ہیں ہے نہ عجیب بات
تانیہ میں نے آپکو اپنا افسانہ رواج سنایا تھا اسکو ذرا پاکیزہ میں پوسٹ کر دیں پلیز،
اس تبصرے کا جواب دیں
مردے کو بھی ‘نچا’ رہے ہیں۔
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر … لے دس
اس تبصرے کا جواب دیں
سیانی جی پہلے تو آپ کا بہت شکریہ ۔۔۔۔ مایوسی کے لیے معذرت آپ دیکھنے کچھ آئی تھی ۔ ویسا نہیں تھا۔ فرقہ پرستی سے مراد دوسروں کو آگاہ کرنا ہے ۔۔ اب تک ہم صرف اسلام اسلام تو کرتے ہیں ۔ کیا اچھے مسلمان بھی ہیں ۔۔۔ چترال کا ذکر کرنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ مجھے اسماعیلی فرقے کے بارے میں پتا نہیں تھا ۔ وہاں جا کر جو میں نے دیکھا تو لگا یہی صحیح ہیں ۔ ہم غلط ہیں ۔۔۔۔ انکے مطابق وہ صحیح ہوں گے ، ہر مزہب ہر فرقے کے لوگ اپنے آپ کو صھیح کہتے ہیں ۔ مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ہے کہ میں مسلمان گھر میں پیدا ہوئی ہوں ۔ جب تک میں خود ایک اچھی مسلمان اور ایک اچھی انسان نہیں بن جاتی ۔ آج ان غلط قسم کے فرقہ پرستی نے ملک کی کیا حالت کر رکھی ہے ، بے گناہ لوگ مر رہے ہیں ۔۔ چاہے وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ۔۔کسی کی جان لینا آپ کے نزدیک درست ہے ، ۔۔۔ یہاں جو معلومات مجھے ملی ہیں وہ میں نے لگا دی ہیں ۔۔آپ کو برا لگا آپ کچھ اور دیکھ کر پڑھ لو پھر بھی آپ کے معیار کا کچھ نہیں ہے تو بہت سے دوسرے بلاگ ہیں وہاں اپنے مطلب اور اپنے حال کے مطابق پڑھنے کی کوشش کرو ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اچھا معلوماتی موضوع ہے۔ اسماعیلی مذہب کے عقائد کچھ عجیب سی پراسراریت لیے ہوئے ہیں۔ کافی لوگوں کو اس کے بارے میں ذرا بھی علم نہیں ہے۔
عمران اشرف کے بلاگ سے آخری تحریر … مرد
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی۔
اب تو عجیب عجیب حرکتیں مذہب کے نام پر ہر گلی کو چے میں ھوتی ہیں۔
نقلی یا جعلی تابوت نکالنا پھر ان تابوتوں کو سمندر برد کرنا۔
ایک دفعہ تو عید میلاد النبی کا کیک کاٹنے کی خبر تصویر کے ساتھ کہیں دیکھی تھی۔
نہ تو اسی مسلک کے حضرات کے مسلک سے یہ چیزیں ثابت ھوتی ہیں نہ ہی انہی کی تاریخ سے۔
اس لئے ہم غیر مقلد ھو گئے ہیں۔قرآن اور حدیث دیکھتے ہیں اور اللہ اللہ کرتے ہیں۔
اہلسنت کے چار امام جو ہیں ان سے رجوع کر لیتا ہوں۔لیکن شخصیت پرستی نہیں کرتا کہ یہ فساد کی ابتدا لگتی ہے۔
قرآن ہمیں آسانی سے ہر بات سمجھا دیتا ھے اور ضروری مسائل کا حل احادیث کی کتب سے مل جاتےہیں۔
میرے خیال میں پتے کھانے کا دور آچکا ھے۔شرک یا بد عت کو دیکھ کر برا محسوس کرتا ہوں۔ہو سکے تو منع کر تا ہوں نہیں تو خاموشی سے گذر جاتا ہوں۔آپ ہی بتائیں کیا غلط کرتا ہوں؟
یاسرخوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ہماری بے وقوفی
اس تبصرے کا جواب دیں
آپنے جو عقائد لکھیں ہیں، ان کی تصدیق توارش کے دیئے گئے ربط میں ہو جاتی ہے۔ پتا نہیں یہ مستند ہے یا نہیں۔
میرا یہ سوال ہے کہ اگر یہ باتیں درست ہیں تو ان کے عقائد کے بارے کبھی سننے کو کیوں نہیں ملتا۔۔۔ اگر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا سکتا ہے تو ان کو کیا قرار دیں گے۔۔۔؟ یہ اہلِ تشیع کی ہی ایک شاخ ہے جو ساتویں امام کے بعد الگ ہوتی ہے، اور شیعیت کی تمام دیگر شاخوں میں انہی کے امام زمانہ زندہ حالت میں ہیں(کریم آغا خان)۔ تاریخ کے جائزے سے تو ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جن میں ان کے عقائد بھی قادیانیوں ایسے ہی ہیں۔۔۔ بس نام مختلف ہیں۔
کہیں اس کی وجہ سر آغا خان کی تاریخی حیثیت تو نہیں۔۔۔۔؟
عیم لام میم کے بلاگ سے آخری تحریر … یہ دیکھیں؛ نئی تھیم
اس تبصرے کا جواب دیں
يہ والا عقيدہ بالکل ٹھيک ہے؛
http://www.youtube.com/watch?v=Ijv-bsKhWl4
اور يہ والا بھي؛
http://www.youtube.com/watch?v=X01htQUvKcQ
اس تبصرے کا جواب دیں
پیسے دے کر گناہ معاف کروانے کے عقیدے تک تو پتھ ھے، تہجد کی نماز پڑھتے ھیں یھ لوگ یھ بھی کنفرم ھے مجھے، باقی نمازوں کی تفصیل نہیں معلوم۔ میرا واسطھ رہا ھے ان لوگوں سے عقیدہ اپنی جگھ مگر ایک بات میں ضرور کہوں گا، کے دین کے علاوہ باقی معاملات میں یھ ھم سے بہت بہتر لوگ ھوتے ھیں ھم جنہیں مسلمان ھونے پر بہت فخر ھے صرف نام کے ہی مسلمان ھیں، عمل اس لوگوں کے پاس ھے، یھ لوگ سچے ھوتے ھیں دھوکا نہیں دیتے فریب نہیں دیتے اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہیں دیتے جب کے یھ ساری خوبیاں ھم لوگوں میں تھوک کے حساب سے پائی جاتی ہیں۔اسلئیے میں سمجھتا ھوں کے عمل کے حساب سے یھ ھم سے کہیں بہتر لوگ ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
دراصل رافضیوں میں سے بے شمار فرقوں نے جنم لیا لیکن موجودہ زمانے میں اس مذہب کے تین بڑے فرقے موجود ہیں۔ اثناء عشریہ، زیدیہ اور اسماعلیلی۔
تینوں فرقوں کا بنیادی موقف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانشینی اور افصلیت ہے۔ اور تینوں ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو غاصب اور فاسق قرار دیتے ہیں۔ امام زین العابدین کی امامت تک تینوں میں اتفاق ہے لیکن اسکے بعد کے آئمہ پر تینوں فرقوں میں سخت اختلاف ہے۔
اثناء عشریہ بارا آئمہ کے قائل ہیں جو انکے عقیدے کے مطابق معصوم اور منجانب اللہ ہیں، یہ تمام بارا آئمہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ کے اولاد ہیں، یعنی ایک کے بعد ایک۔ جو یہ ہیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت زین العبابدین، حضرت امام باقر، حضرت جعفر صادق، موسع قاظم، محمد تقی، علی نقی، حسن عسکری اور انکے بیٹے محمد جو بچپن میں ہی لاپتہ ہوگئے تھے۔ اثناء اشعریہ انہیں ہی امام زمانہ اور مہدی آخرزماں قرار دیتے ہیں۔
زیدیہ امام زین العاندین کے بیٹے باقر ابن علی کے بجائے بنو امیہ کے خلاف خروج پر رضامند ہونے والے زیدا بن علی کی امامت کے قائل ہیں۔ ان لوگوں کی بڑی تعداد آج بھی یمن میں آباد ہے۔ سنا ہے کہ زیدیہ حنفی سنیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور پانچ آئمہ اہل بیت کے قائل ہیں جو انکے عقیدے کے مطابق معصوم اور منجانب اللہ ہیں۔
اسماعلی فرقہ حضرت جعفر صادق تک تمام آئمہ کو امام مانتا ہے لیکن اسکے بعد اگلے امام پر انکا بھی اثنا عشریہ سے اختلاف ہے۔ یہ لوگ جعفر صادق کے بیٹے موسع قاضم کے بجائے دوسرے بیٹے اسماعیل کی امامت کے قائل ہیں۔ اس فرقے کے مزید کئی فرقے ہیں۔ مصر کی فاطمی خلافت بھی درحقیقت حقیقی اسماعیلی خلافت تھی۔ فاطمی خلیفہ مستنصر باللہ کی وفات کے بعد اسماعیلیوں میں کئی فرقوں نے جنم لیا۔ آج کل داودی بوہری جماعت اور آغاخانی جماعت اسماعیلی شعائزم کی علیحدہ علیحدہ شاخیں ہیں۔ واضع رہے کہ اورنگزیب عالمگیر نے دوادی جماعت کے ایک امام کوگجرات میں قتل کرایا تھا اور اس فرقے کے خلاف علمائے کرام سے فتوے حاصل کئے تھے۔
آپ یقینا آغاخانی جماعت کے بارے میں بات کررہی ہیں۔ اس جماعت کا موجودہ ہیڈ کوارٹر فرانس میں پیرس کے قریب واقع ہے۔ دولت کی ریل پیل عام ہے، عبادت کا کوئی کلچر نہیں، صرف سوشل سروس ہے اور بھی اپنے لوگوں کےلئے۔ ہفتہ میں ایک دن جماعت خانہ میں دعائیہ تقریب ہوتی ہے اور وہی انکے یہاں کافی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اس فرقے کے سرکردہ لوگوں نے گلگت بلتستان، چترال اور افغان صوبہ نورستان کا رخ کیا اور وہاں کی غربت اور جہالت کا فائدہ اٹھاتے اس فرقہ کی خوب دعوت پھیلائی۔
چلتے چلتے ایک اور بات کے شیعہ مذہب کا ہر فرقہ دوسرے فرقہ پر سخت ترین کفر کا فتوا لگاتا ہے۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی ایک شریف جج کی
اس تبصرے کا جواب دیں
کاشف نصير صاحب نے درست معلومات دی ہيں ۔ ميرے کمپيوٹر میں کافی تاريخی اور اعتقادی معلومات ہيں جو ميں نے کسی زمانہ ميں کئی سالوں کے مطالعہ مذاہب کے دوران اکٹھی کيں تھيں ۔ ميں دو دن سے اپنے چھوٹے بيٹے کے پاس دبئی ميں ہوں واپسی ايک ماہ تک ہو گی ۔ اسلئے فی الحال حوالے نہيں دے سکتا
اس تبصرے کا جواب دیں
اسماعیلیوں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ ان کے چاہے کتنے ہی گہرے دوست کیوں نہ بن جائیں، یہ آپ کو اپنے عقائد نہیں بتائیں گے
سعد کے بلاگ سے آخری تحریر … آج کا اخبار
اس تبصرے کا جواب دیں
میدے ایک بات پکی ھے یہ سارے فتنے اٹھانے والے اور سادہ دل مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر انگریز کی گود میں بیٹھنے والے قادیانی خبیث ہی ہیں۔ ہم بیابان میں نکل جائیں گئے۔پتے کھا لیں گے لیکن خبیث مرزا قادیانی پر لعنت ہی بھیجیں گے۔
ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کے ذہنوں پراگندہ کر نے والے لنک لگانا ہی قادیانیوں کی خباثت کا ثبوت ھے۔
ایک وڈیو کا لنک دیا کہ یہ غیر مقلد ھے اور اس کے خیالات کچھ ایسے ہیں۔دوسرا دیا کہ دیوبندیوں کو یہ ایسا کہہ رھے ہیں۔اب اس کا مقصد اس کے علاوہ اور کیا ھو سکتا ھے۔کہ یہاں پر جس جس مسلک کے لوگ آئیں ان میں فساد برپا کیا جائے۔اور ان سب میں تفرقہ پڑے۔
ایسی حرکتوں سے قادیانی صرف نفرت خرید تے ہیں اور بعد میں شور کرتے ہیں کہ مسلمان ہم سے نفرت کرتے ہیں۔اب جنہیں اللہ میاں نے ہی ملعون کر دیا ہو ان سے نفرت ہی ھوگی۔
یاسرخوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … ہماری بے وقوفی
اس تبصرے کا جواب دیں
واہ جي، کھسيانی بلی کھمبہ نوچے۔۔۔ کرتوت اپنے اور غصہ دوسرے پہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یاسر اور حمید صاحب اب بس مزید کوئی بات ایسی نہیں کرنی کہ مجھے خود پر افسوس ہو ۔ میری درخواست ہے ۔ میں معلومات کے لیے پوسٹ لگاتی ہوں ۔ اب ہمیں اسماعیلی فرقے کے بارے میں پتا نہیں تھا ۔ اور مجھے اندازہ ہے کہ باقی ساتھیوں کو بھی معلوم نہیں ہو گا ۔ میرا مقصد کسی کا آپس میں لڑائی جھگڑا کروانا نہیں ہے ۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اسماعیلی و دوسرے اہل تشیع فرقوں کے ہاں تقیہ یعنی اپنے عقائد کو چھپانا ایک اہم عقیدہ ہے۔ اس لیے یہ لوگ اپنے عقائد کے بارے میںاردگرد والوں کو کم ہی پتا چلنے دیتے ہیں۔
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر … پھوڑے پھنسیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
اسمٰعیلی فرقہ بھی مسلمانوں کا ہی فرقہ ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ (ص)کی رسالت مانتے ہیں- دیگر شیعہ فرقوں کی طرح امامت، عبادت کے طریق پر اختلاف ہوا تو کیا؟ شیعہ فرقوں کی تفاسیر اور سیرت کی کتب پڑھیں تو اور ہی دنیا نظر آتی ہے۔
ان کو بھی انسان سمجھیں۔ غور کریں کہ ان کی اخلاقی تعلیمات معاشرے کے لئے فائدہ مند ہیں یا نہیں۔ اس کا جواب اگر ہاں میں ہے تو اسلام اور غیر اسلام کی بحث ختم ہو جانی چاہیے۔ ملا نے تو کاروبار چلانا ہے اور اس کاروبار میں کفر اور اسلام خرید و فروخت ہوتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
لطف اسلام صاحب بات یہی پر ختم ہو جاتی ہے کہ نبی آخری ہیں اور تاقیامت آخری رہیں گے ۔ یہ ہمارا ایمان ہے باقی میری نظڑ میں کون کیا کرتا ہے کس فرقے سے ہے ۔۔۔۔۔ میرا مسلہ نہیں ہے ۔۔۔ خدا کو جواب آپ نے اپنی جگہ دنیا ہے ۔۔۔۔۔ فرقوں کے بارے میں میری پوسٹ کا اصل مقصد کہ کتنے فرقوں میں ہم بٹ چکے ہیں ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے ۔ ۔۔۔۔ کیونکہ وہ وقت دور نہیں جب اس طرح کے اور بھی فرقے ہمارے سامنے آہیں گے ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی آپکو اور آپکی فیملی کو اور تمام دوستوں کو یہ با برکت رات بہت بہت مبارک ہو۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کے عقائد میں اہل سنت بھی آتے ہیں کہ نہیں
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … واہیات قارئین
اس تبصرے کا جواب دیں
محترمہ، یہ اختتام نبوت کا معاملہ بھی ملاں کی اختراع ہے۔ اس کی کوئی بنیاد قران حدیث اور اسلاف میں نہیں ملتی۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام چھوڑ دے تو ملاں کا کام بن جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنےچنیدوں سے کلام کرتا ہے۔ اسی کا نام نبوت ہے۔ جب سچے خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہوے تو وہ براہ راست کلام جو اللہ نے اپنے اولیاء سے کیا اسے کیا کہیں گے؟
اور وہ وحی جس کا وعدہ اللہ تعالیٰنے آخرین سے فرمایا اور رسول اللہ (ص) نے اپنے صحابہ میںمسیح محمدی کو نبی اللہ اور اس کے ساتھیوں کو صحابہ کا لقب عنائت فرمایا، تو آپ اور آپ کے مذہبی راہنما کون ہوتے ہیں اللہ کے نبی (ص) کے وعدوں کو غلط کہنے والے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ہمارے عقائد احناف و اہل سنت میں ہی آتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اور انھیں کو غیر مسلم بھی کہتے ہو،
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … واہیات قارئین
اس تبصرے کا جواب دیں
اور تمھارے قرقہ ذلالت کی بنیاد قرآن اور حدیث میں ملتی ہے۔
کیا بکواس ہے!
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … واہیات قارئین
اس تبصرے کا جواب دیں
کیاہر گلی محلے میں ایک نبی چاہتے ہیں ؟ یہ میری گلی ھے یہ میرا محلہ اور یہ میرا نبی ھے۔
یاسرخوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … اف یہ خوامخواہ کا پنگا
اس تبصرے کا جواب دیں
اسماعلیوں اور دوسرے ملعون فرقوں کی ایک مثبت بات یہ ہے کہ یہ اپنی گمراہ خیالات کی تبلیغ نہیں کرتے۔ نہ ہی دوسروں پر اپنے خیالات تھوپتے ہیں۔ بس جس بات پر یقین رکھتے ہیں۔ بڑی حد تک اپنے آپ تک ہی محدود رکھتے ہیں۔
قادیانی مذہب کی ڈرامہ بازی یہ ہے کہ یہ چوری چُھپے مسلمانوں اور حتیٰ کہ اہل سنت کے کمبل میںگھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان گردانتے ہیں۔ اور پھر جونہی موقع ملے تو اسلام اور عالم اسلام کو زک پہنچانے سے باز نہیں آتے۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … واہیات قارئین
اس تبصرے کا جواب دیں
اسماعلیوں کا مسئلہ اور قادیانیوں کا مسئلہ ایک نہیں اور جیسے اوپر زکر ہوا کہ اسماعلی اہل تشیوں کا ہی ایک فرقہ ہے اس لئے ان سے اختلاف اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف اور یہاں بات کرتے ہوئے وہی اصول لازم آتے ہیں۔ اہل سنت اور اہل تشیع کا بنیادی اختلاف مسئلہ خلافت اور تصور امامت پر ہے۔ جس نقطہ پر دونوں کے درمیان زیادہ ان بن ہوتی ہے وہ صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین کی حرمت ہے۔ اثنا عشریہ کے اکثر شیعہ علماء اصحاب رسول کی اہانت کو جائز ہی نہیں مستحب اور مباح بھی سمجھتے ہیں لیکن کئی شیعہ علماء اہانت اور تکفیر صحابہ کے مخالف ہیں اور صرف اصولی اختلاف کی بات کرتے ہیں۔اہل سنت میں سے بعض اہل تشیع پر تحریف قرآن کے عقیدہ کا بھی الزام لگاتے ہیں لیکن آج کے شیعہ علماء اس عقیدے سے انکار کرتے ہیں۔ ایک مسئلہ تقیہ یعنی عقیدہ کو پوشیدہ رکھنے کا بھی ہے جس کی وجہ سے کئی سنی علماء شیعوں کی وضاحت قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔
البتہ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اختلاف کو اسلام اور قادیانیت کے اختلاف پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ علماء اہل سنت میں سے کئی شیعوں پر بلکل بھی تکفیر نہیں کرتے، بعض سنی علماء صرف شیعہ علماء کی تکفیر کرتے ہیں اور شیعہ عوام سے رعایت برتتے ہیں ۔ اور بعض پوری شیعہ براداری کو خارج قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں کا معاملا ایسا نہیں۔ ہر فرقہ اور ہر مسلک کو مرزا کے امتیوں کے کفر میں رتی برابر بھی شک نہیں، کیونکہ یہاں تو نبی ہی بدل دیا گیا۔تھیم اہل سنت کی رکھی گئی اور تحریف اور ایجاد کی اجارا داری کا پورا پورا اختیار مرزا کو دے دیا گیا۔
گویا وجہ ختم نبوت ہے۔دین کے تمام عقیدوں میں ختم نبوت سب سے بنیادی عقیدہ ہے۔ محمدیت کا آغاز اور انتہا دونوں محمد ابن عبداللہ صلی اللہ و علیہ وسلم پر ہوتی ہے۔ تمام عقائد، یہاں تک خود اللہ کی وحدانیت کا عقیدہ بھی ہمیں محمدیت کے بعد ہی ملتا ہے۔ یعنی پہلے محمدیت اور بعد میں سب کچھ۔اہل سنت ہوں یا اہل تشیع کے درمیان جتنے بھی اختلاف ہوں دونوں محمدی کہتے ہیں، یعنی دونوں ختم محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں۔ قادیانیوں کا مسئلہ الگ ہے وہ محمد صلی و علیہ وسلم کے بعد ایک دوسرے نبی کی بھی بات کرتے ہیں۔ یعنی وہ محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے نہیں مرزا کے امتی ہیں۔ ایک دوسرا نبی یعنی مزید وحی، یعنی مزید احکامات، یعنی تکمیل دین کا قرآنی باطل ہوگیا۔ یعنی ختم النبوت کے قرآنی عقیدے کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … جرنل کیانی اور امریکی نانی
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا خیال ہے اب اس بحث کو ختم کرنا ہے ۔ اس بات پر کہ جو خدا کے رسول کو آخری نہیں مانتا وہ کافر ہے ۔۔۔۔۔یہ ہم نہیںخدا کا قرآن کہتا ہے ۔۔۔ اپنے بنائےہوئے فرقوں پر چلنے والے ۔۔۔۔۔ جو بھی ہیں اگر وہ خدا اور اسکے رسول کے بنائے ہوئے راستے پر نہیں چلتے ۔۔ تو وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ اگر یہ غلط ہے تو اس کا گناہ بھی ہیم کو ملے گا ۔۔۔۔ نا ماننے والے بے فکر ہو جاہیں ۔ ۔۔ اگر ہم غلط ہیں تو ہمارا ٹھکانہ جہنم ہو گا ۔ ،،، چاہے ہم اخلاق کے کتنے ہی اچھے ہو جاہیں ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محترمہ، غلط ہونا، اور جان بوجھ کر غلطی پر قائم رہنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اور جہنم گناہ پر دوام پکڑنے والوں کا ٹھکانہ ہے۔ میں نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ قرآن کریم جنت کو صرف صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے خاص نہیں کرتا۔ ہاں، وہ جو تمام ماموروں کو مانے، اللہ کے دین کے قیام کے لیے جہاد میں حصہ لے، اس کا مقام دوسروں سے بہر حال بلند ہوگا۔ لیکن براہ مہربانی ان بیچارے غیر مسلموں اور گمراہ فرقوں کو جہنم نہ بھیجیں۔ یہ بھی تکبر کی نشانی ہے اور قرآن کے صریح اعلان کی مخالفت ہے۔ اللہ کی وحدانیت، یوم قیامت اور اعمال صالح شرط ہیں جنت کے لیے۔ اور کسی عقیدہ، عمل اور عبادت کا ذکر نہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محترم اگر آپ بات پوری طرح پڑھ لیتے تو میرا خیال ہے ، مجھے پھر جواب دینے کی زحمت نا کرنا پرتی ، میں نے یہ کہا ہے اگر آپ صھیح ہو ۔ تو ٹھیک ہے جبکہ میں خدا کے رسول کو آ خری نبی مانتی ہوں ۔ اگر مجھے اس لیے جہنم ملے گی تو ٹھیک ہے ۔ باقی اللہ پاک بہتر جانتا ہے ۔۔۔۔ کس کو جنت یا جہنم ملے گی۔اب یہاں ختم ،اس کے بعد اگر کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو کسی اور پوسٹ پر خوشی سے تشریف لاہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ خود کو بھی جہنم نہ بھیجیں۔ اللہ تعالٰی سب سے ان کی نیت اور علم کے مطابق سلوک کرتا ہے۔ اھدناالصراط المستقیم کی دعا انشاءاللہ قبول ہو اور اللہ سب کو امام وقت کو پہچاننے کی توفیق دے۔ آمین۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کس بنياد پہ؟ آخر اسکی اسلام ميں کوئی بنياد تو ہوگي، وہ کيا ہے؟
کہاں کہتا ہے، آپ نے ابھی تک کوئی ثبوت نہيں ديا- اور ديگر اکابرين اور مجددين جو يہ مانتے ہيں وہ کافر ہيں؟ يہيں سے آپکو معلوم ہوجانا چاہيئے کہ آپکے عقيدہ کی بنياد کتنی کمزور ہے۔
يہ تو نہ اسلامی جواب ہے نہ منتطقي- آپ کو معلوم نہيں آپ کا عقيدہ کس بنياد پہ ہے ليکن اسکے ليئے جہنم جانے کو تيار ہيں- يہ تو صرف اپنے آباؤاجداد کے دين کو بغير سوچے سمجھنے والی بات ہے جسکی قرآن ميں مذمت کی گئی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ابے اوو لطف الاسلام نام والے بھائی جان، تانیہ بہن نے بحث کرنے سے روک ورنہ آپکو بتاتا کہ آپکے ابو جی نے اپنے مخالفین پر کس طرح اور کتنی کفر کے فتووں کی بوچھاڑ کی ہے۔ صاحب تھوڑا سمبھل کر کیا آپ کے چھوٹے ابو نے پاکستان کی اسمبلی میں ہم سب مسلمانوں کو غیر قادنیانی ارکان اسمبلی کو کافر قرار نہیں دیا تھا اور کیا آپ کے تایا جی ارے وہی سر ظفر اللہ نے نہیں کہا تھا کہ میں کافر ملک کا مسلمان وزیر ہوں۔ یہ بات ہے نہیں ہے تو وہ قائد اعظم کے جنازے میں کیوں نہیں تھے۔ وقت کے ساتھ کیا آپ کا مذہب بھی بدل جاتا۔ ویسے آپکا اگلا نبی کون ہوگا، کہیں آپ پر بھی تو الہام شروع نہیں ہوگیا۔
اور ہاں اب یہاں پر غلط باتیں پھیلا رہے ہیں۔ صاحب سچ بولنا سیکھیں ورنہ ہم نے پول پٹیاں کھولنا شروع کی تو منہ چھپاتے پھریں گے۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ
اس تبصرے کا جواب دیں
رک جائیںپھر۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اسلام کا حقيقی نمونہ؛
http://www.alislam.org/mta/?stream=1&sa=Go
يہ جلسہ تين دن جمعہ ہفتہ اور اتوار جاری رہے گا۔ اسلامی اخوت کا حقيقی نمونہ نوٹ فرمائيں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اچھا تو قادیانیوں کی اخوات کا مظاہرہ اسطرح ہوتا ہے۔
بھئی مسلمان تو حج پر جاتے ہیں۔
عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … کتاب بیزاری۔۔۔۱
اس تبصرے کا جواب دیں