مجھے پھرنے کا شوق ہے جب اور جہاں موقع ملتا ہے ، کہیں نا کہیں چل پڑتی ہوں ۔ کچھ عرصہ پہلے چترال جانے کا شوق چھڑا ۔ کیونکہ مجھے کیلاش دیکھنے اور خاص کر وہاں کی خواتین کے بارے میں جانے کا بہت شوق تھا ۔ سنا اور تصاویر میں دیکھا تھا ۔ لیکن حقیقت تو حقیقت ہوتی ہے ۔۔کیلاش کے بارے میں پھر سہی ابھی جو مجھے کچھ بری یادیں ، میرے دل و دماغ کو تنگ کر رہی ہیں سوچا ان کے بارے میں بات کی جائے ۔ اچھا لگے تو بہت اچھی بات ہے ورنہ آپ سب کی خوشی میں میری خوشی ہے

اسماعیلی وآغا خانی
اسماعیلی مذہب ‘ اسلام کے برخلاف واضح کفریہ عقائد اور قرآن وسنت کے منافی اعمال پر مشتمل مذہب ہے۔ اس مذہب کے بانی پیر صدر الدین ۷۰۰ھ میں ایران کے ایک گاؤں ”سبز وار“ میں پیدا ہوئے‘ خراسان سے ہندوستان آئے‘ سندھ‘ پنجاب اور کشمیر کے دورے کئے اور نئے مذہب کی بنیاد ڈالنے کے حوالے سے ان دوروں میں بڑے بڑے تجربات حاصل کئے۔ چنانچہ سندھ کے ایک گاؤں ”کوہاڈا“ کو اپنا مرکز ومسکن قرار دیا‘ ایک سو اٹھارہ سال کی طویل عمر پاکر پنجاب‘ بہاولپور کے ایک گاؤں ”اوچ“ میں اس کا انتقال ہوا‘ اس نے اسماعیلی مذہب کا کھوج لگا کر اسماعیلیوں کو یہ مذہب دیا۔ (۷) اسماعیلی مذہب کا کلمہ یہ ہے:
”اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ واشہد ان امیر المؤمنین علی اللہ“ (۸(
اسماعیلی مذہب کے عقیدہ امامت کے متعلق عجیب وغریب نظریات ہیں‘ ان کے نظریہ میں ”امام زمان“ ہی سب کچھ ہے‘ وہی خدا ہے‘ وہی قرآن ہے‘ وہی خانہ کعبہ ہے‘ وہی بیت المعمور (فرشتوں کا کعبہ) ہے‘ وہی جنت ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں لفظ ”اللہ“ آیا ہے‘ اس سے مراد بھی امام زمان ہی ہے۔ (۹) اسماعیلی ختم نبوت کے منکر ہیں‘ چنانچہ ان کے مذہب کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام: عالم دین کے اتوار ہیں‘حضرت نوح علیہ السلام: سوموار ہیں‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام: منگل ہیں‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام: بدھ ہیں‘ حضرت عیسی علیہ السلام: جمعرات ہیں اور حضرت محمد ا : عالم دین کے روز جمعہ ہیں اور سنیچر یعنی ہفتہ کے آنے کا انتظار ہے اورر وہ قائم القیامة ہے۔ ان کے زمانہ میں اعمال نہیں ہوں گے‘ بلکہ اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ (۱۰) اسماعیلی مذہب میں قرآن کریم اور قیامت کا انکار کیا گیا ہے‘ قرآن امام زمان کو قرار دیا گیا ہے اور ان کے ساتویں حضرت قائم القیامة کے زمانہ سنیچر کو قیامت قرار دیا گیا ہے۔ (۱۱(
اسماعیلی مذہب کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
۱․․․ دعا کے لئے ہمیشہ جماعت خانہ میں حاضر ہونا اور وہیں دعا پڑھنا۔۲․․․ آنکھ کی نظرپاک ہونا۔۳- سچ بولنا۔۴․․․ سچائی سے چلنا۔۵․․․نیک اعمال۔(۱۲) اسماعیلی مذہب میں نماز نہیں ہے‘ اس کی جگہ دعا ہے‘ روزہ فرض نہیں‘زکوٰة نہیں‘ اس کے بدلے میں مال کا دسواں حصہ بطور دسوند امام زمان کو دینا لازم ہے‘ حج نہیں ہے‘ اس کے بدلے میں امام زمان کا دیدار ہے یا اسماعیلیوں کا حج پہلے ایران میں ہوتا تھا‘ اب بمبئی بھی حج بھی جاتے ہیں