موت اپنا راستہ خود بناتی ہے
آج صبح صبح اس منحوس خبر نے ایک عجیب سی صور ت حال پیدا کر دی ۔ پہلے سیلاب کی تباہ کاری کے حوالے سے جگہ جگہ لوگ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔جو وقت لکھا ہے جہاں لکھا ہے ۔ وہ ٹل نہیں سکتا ؛ اب یہ معصوم لوگ کیا سوچ کر اپنے گھر سے نکلے تھے ۔ کتنے ایسے ہوں گے جو چھٹیاں گزارنے اپنے بچوں کےپاس جا رہے ہوں گے ۔ کتنے ایسے ہوں گے جو کسی غمی یا خوشی میں شرکت کے لیے لیکن اگلے لمحے یہ پتا نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے
اسلام آباد: نجی ایئر لائن کا جہاز پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ، ایک سو باون مسافر سوارپاکستان کی تاریخ کے بدترین فضائی حادثے میں دارالحکومت اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں سے ایر بلیولائن کا مسافر بردار جہاز ٹکرا کر تباہ۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور تاہم بچنے والے مسافروں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ حکومت نے انکوئری کمیٹی تشکیل دے دی اور ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
جانے والے چلے گے اب انکوئری کا کیا فاہدہ ۔۔ ویسے بھی چند ایک دن بعد ہم بھول جاہیں گے ۔۔ کیونکہ عوام خود اپنے لیے ہزاروں غم لیے ہوئے ہے ۔
آہیں ہم سب مل کر شہید ہونے والوں کے لیے دعا مغفرت کریں ۔ اور انکے لواحقین کے لیے صبر۔۔۔۔

اِنا للہ و اِنا اليہ راجعون ۔ اللہ مرنے والوں کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … بيوی ڈانٹتی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
اِنا للہ واِنا الیہ راجعون۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اللہ تعالٰی تمام مرحومین سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرماے۔ آمین۔ (اس دعامیں غیر مسلم فوت شدگان بھی شامل ہیں)
اس تبصرے کا جواب دیں
انا للہ وانا الیہ راجعون،
اللہ پاک تمام مرحومین کی مغفرت اور بخشش فرمائیں اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں آمین
ویسے تو ساری ہی جانیں قیمتی ہوتی ہیں مگر مجھے سب سے زیادہ دکھ یوتھ پارلیمینٹ کے 6 ارکان کی موت کا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے وہ زرخیز زہن تھے جنہیں آگے چل کر اس ملک کی باگ ڈور سمبھالنا تھی!!!
اس تبصرے کا جواب دیں
انا للہ و انا الیہ راجعون
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر … پھوڑے پھنسیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
اِنا للہ و اِنا اليہ راجعون
اِتنی ناگہانی اموات پر جِتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے
خاک میں کیا صُورتیں ہوں گی جو پِنہاں ہو گئیں
جب گھروں سے نِکلے ہوں گے تو کیا کیا ارمان اور باتیں ہوں گی دِلوں میں جب ہم منزِل کے قریب پہُنچ کر نیچے آبادی اور گھروں کو دیکھا کرتے ہیں تو کِتنی خُوشی محسُوس ہُوا کرتی ہے کیا جانتے ہوں گے کہ منزِل کے اِتنے قریب آکر اچانک موت اپنا داؤ چلا جائے گی،،،
اللہ تعالیٰ سب جانے والوں کے درجات بُلند کرے اور پسماندگان کو صبرِجمیل عطا کرے،،،آمین
شاہدہ اکرم کے بلاگ سے آخری تحریر … چلتے چلتے،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
اس تبصرے کا جواب دیں
انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ناجانے کتنے لوگوں کے لخت جگر ان سے چھن گئے۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
محمداسد کے بلاگ سے آخری تحریر … کچھ جامعۃ الرشید کے بارے میں
اس تبصرے کا جواب دیں
اِنا للہ و اِنا اليہ راجعون ۔
یاسرخوامخواہ جاپانی کے بلاگ سے آخری تحریر … اف یہ خوامخواہ کا پنگا
اس تبصرے کا جواب دیں
اللہ عزوجل تمام فوت ہونے والوں کی مغفرت فرمائے آمین
عدنان کے بلاگ سے آخری تحریر … اپیل برائے دعا
اس تبصرے کا جواب دیں
اللہ کرئے بلیک بکس مل جائے ۔ ورنہ ہمارے حکمرانوں نے اس کو بھی کسی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کمیٹی تشکیل دینے کے بارے میں بیانات دینے ہیں ۔ ۔۔۔۔اصل وجہ عوام سے پوشیدہ رکھنی ہے ۔۔کیونکہ جب تک حقیقت سامنے نہیں آ جاتی ۔۔ایر بلو کے بارے میں بھی جاننا بہت ضروری ہے کہ اگر فنی خرابی تھی تو سزا دلوانہ ضروری ہے۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک انتہائی افسوس ناک حادثہ کہ کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم پوگئے، یوتھ پارلیمنٹ کے چار ہونہار ساتھی بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ سانحہ ایسا کہ ایک طرف ہنی مون کےسفر پر روانہ ہوئے نوبیاہتا جوڑے کا پہلا سفر بھی آخری سفر بن گیا اور دوسری طرف اتوار کو پیا کے ساتھ بیاہنے کا خواب لئے اسکی راہ دیکھتی ہاتھوں میں مہندی لگائے بیٹھی بدنصیب کو بھی نہ پیا نہ ملا نا اسکی کوئی نشان راہ۔ چار فضائی میزبان بھی فضاوں میں ہی کہیں رہ گئیں کہ انکے پیارے زمین پر انکے لئے بلک رہے ہیں، جی یو آئی اٹک کے امیر بھی کام آئے اور ایک اڈھیر عمر تجربہ کار پائلیٹ سے بھی یہ ملک محروم ہوگیا۔ ہمارے کمپنی کے مالک کے کزن بھی 152 بدنصیبوں میں شامل تھے۔ آج قومی پرچم سرنگوں ہے اور سب پوری مغموم۔
صاحب جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا اب اسکو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی قدرت سے لڑائی۔ لیکن شفاف تحقیقات سے حادثے کی وجہ کا تعین کرکے مستقبل میں ایسے کسی اندوہ ناک سانحہ کے دوبارہ وقوع پزیر ہونے کو روکا جاسکتا ہے۔پاکستان میں اس طرح کی تحقیقات کو سامنے نہیں لایا جاتا اس لئے ہر معاملہ معمہ بن کے رہ جاتا اور ہر کوئی اس پر اپنی رائے قائم کرلیتا ہے۔ ماضی میں جرنل ضیاء الحق اور ائر مارشل مصحف علی میر کے طیاروں کو جو حادثے پیش آئے وہ بھی انہی وجوہات کی بنا پر آج تک معمہ بنی ہوئی ہیں۔
بہرحال مرنے والوں کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعائیں ہیں۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ
اس تبصرے کا جواب دیں
بلیک باکس مل چکا ہے، البتہ شفاف تحقیقات کے امکان کم ہیں، حکومت کا تو یہ حال ہے کہ وفاقی دارلحکومت میں ہوئے حادثے کے بارے میں وزیر داخلہ رحمن ملک نے حادثے کے فورا بعد کہا تھا کہ پانچ افراد زخمی ہیں۔ وہ ذخمی کہاں گئے انہوں نے یہ تو نہیں بتایا البتہ یہ ضرور کہا کہ حادثہ میں کوئی زندا نہیں بچا تو کیا کوئی پانچ مردے زخمی ہوئے تھے جنکی خبر رحمن ملک کو دی گئی تھے۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ
اس تبصرے کا جواب دیں
کاشف نصیر جی بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا وہ صرف ایک افوہ تھی سرچ جاری ہے رحمن مللک اپنے بیان بدل رہا ہے وہ تو بہت بڑا جھوٹا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اِنا للہ و اِنا اليہ راجعون ۔ اللہ مرنے والوں کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے
اس تبصرے کا جواب دیں
جانے والے تو چلے گئے، اب کہاں گئے یہ ان سے کیسے کنفرم کیا جائے ۔ جہاں بھی رہیں کم از کم اس دنیا جیسی جگہ پر نہ رہیں ۔
تانیہ صاحبہ کچھ ایسے بات کیا کریں کے کسی بھی معاشرے کو اج نہ ملے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
152 بدنصیبوں میں سے دو کا تعلق ہمارے شعبہ ابلاغ عامہ سے تھے، جن میں ایک تو بلال جامعی ہیں جو بی ایس 11 کے طالب علم تھے اور دوسرے پیار علی ہیں جو ہماری جماعت یعنی ایم اے فائنل میں تھے۔
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
کاشف بہت دکھ ہوا ۔ لیکن اللہ کی مرضی کہہ کر خود کو تسلی دے دیتے ہیں ۔مرضی تو اوپر والے کی ہی ہے لیکن غفلت ہماری بھی ہوتی ہے ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نے بھی اپنے پچھلے تبصرے میں شفاف تحقیقات کی ہی بات کی تھی تاکہ آئندہ اس طرح کے سانحات رونما ہونے سے بچا جا سکے، لیکن جو کم از کم جو سانحہ رونما ہوگیا اب اس پر صرف صبر ہی کیا جاسکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم سے اکثریت فضائی صفر کی تکنیکی معلومات سے نابلد ہے، اس لئے ہمیں اپنی طرف سے کوئی سوشہ نہیں چھوڑنا چاہئے اور جو لوگ کچھ تجربہ انہیں بھی کیونکہ بیگ گراونڈ معلوم نہیں اس لئے خاموش رہنا چاہئے اور کسی سازشی نظریہ کو قوت نہیں دینی چاہئے، صرف آزادانہ، صفاف اور کھلی تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
آپ نذیر ناجی کو دیکھیں انہوں نے کل اپنے کالم میں کتنی بکواس کی ہے اور ادھر ادھر کی من گھڑک تاویلات کرکے اور ساشی نظریہ جڑ کے طالبان اور با ریش پالیٹ کو مجرم ثابت کردیا ہے۔ وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جہاز کا پائلیٹ جہاز کو امریکی سفارت خانے پر لے جا کر ٹھکنا چاہتے تھے لیکن جہاز کے اندر موجود کسی راشد منہاز نے ایسا ہونے نہیں دیا۔
http://ejang.jang.com.pk/7-30-2010/pic.asp?picname=06_06.gif
کاشف نصیر کے بلاگ سے آخری تحریر … مصیبتوں نے اس ملک کی راہ دیکھ لی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
اس تبصرے کا جواب دیں
کاشف نذیز ناجی تو بہت بڑا چور ہے ۔ اور حیرت کی بات ہے کہ ابھی تک لوگ اس کو پڑھتے ہیں ۔ جس شخص کو بات کرنے کی تمیز نا ہو ۔ ۔۔ اسکے بارے میں تو بات کرنا ہی بیکار ہے ۔۔۔انکساری نام کی کوئی چیز اس بندے میں نہیں پائی جاتی ۔ پتا نہیں لوگ کیوں بھول جاتے ہیں ۔ کہ عزت اور زلت اللہ کے پاس ہے ۔۔۔ زرا سا نام ہو جائے تو اسمانوں میں اڑنے لگتے ہیں ۔۔۔ دوسری ہماری سب سے بڑی کمزوری امریکہ ہے وہاں کا مچھر پاکستان کے لیے کنیسر کا باعث بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں