آپ تیار ہیں ۔ شروع کریں
انجم وفا نے کہا کہ بیت بازی ہو جائے ۔ اب یہ ہو نہیں سکتا کوئی فرمائش کرئے اور ہم انکار کریں
عرض کیا ہے لفظ ہوا ، روگ ، بہار
ہم عجیب طرز کے لوگ تھے ، ہمارے اور ہی روگ تھے
میں خزاں میں اسکا تھا، منتظر اسے انتظار بہار تھا
کبھی لمحہ بھر کی بھر گفتگو، میری اس کے ساتھ نہ ہو سکی
مجھے فرصتیں نہیں مل سکیں ، وہ ہوا کی دوش پر سوار تھا

–دو منظر–
کمرے سے باہر کا منظر
بادل، بارش اور ہوا
کمرے کے اندر کا منظر
آنکھیں، آنسو اور دعا
(حسن عباسی)
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ صاحبہ
قطعہ پسند آیا۔ لگتا ہے اس میںایک دو املا کی غلطیاں ہیںانہیںدرست کر لیجئے۔
اگر ہم غلط نہیں تو بیت بازی میں تو دوسرا شعر پہلے شعر کے حرف سے شروع کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے ناں۔ اس طرح جعفر صاحب کو بیت بازی کے اصول کی پابندی کرتے ہوئے دوبارہ شعر لکھنا پڑے گا۔
حبیب جالب کی نظم “یہ وزیران کرام” کا آخری بند بیت بازی کی نظر ہے۔
ان کی محبوبہ وزارت داشتائیں کرسیاں
جان جاتی ہے تو جائے نہ جائیںکرسیاں
دیکھیے یہ کب تلک یوںہی چلائیںکرسیاں
عارضی ان کی حکومت عارضی ان کا قیام
یہ وزیران کرام
اس تبصرے کا جواب دیں
افضل صاحب کی بات تو ٹھیک ہے۔۔۔۔
میں غلط سمجھا کہ شاید ہوا، بہار اور روگ کا لفظ ، تانیہ بی بی نے لکھا ہے تو وہی استعمال کرنا ہے
بہر حال یہ لیں جی پھر ایک اور شعر عرض کرتا ہوں۔۔۔
اپنی جانب سے بھی دیتا ہوں کچوکے جسم کو
اس کی جانب سے بھی اپنے زخم سہلاتا ہوں میں
عباس تابش
اس تبصرے کا جواب دیں
اندر کے موسم پر کُچھ عرض ہے آپ اِسے روگ کہہ ليں
ہم سے کہيئے درد کے قِصّے
ہم سے کيجئے رنج کی بات
ہم پر بيتے کيا کيا موسم
تنہا دِل ،لاکھوں آفات
آج ہی دِل کُچھ ٹھہرا تھا
اور آج ہی آنکھيں خُشک سی تھيں
آج ہی ظالِم ٹُوٹ کے برسی
موسم کی پہلی برسات
اس تبصرے کا جواب دیں
افضل بھائ کے کہنے کے بقول آخری لفظ يعنی نُون سے شعر حاضِر ہے
نہيں مِلتيں اگر اپنے پاتھوں کی لکيريں
تو مُمکِن ہے ميرا غم تيرے غم سے مِلتا ہو
اس تبصرے کا جواب دیں
تو نے دیکھا ہے کبھی اک نظر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ شاہد اکرم صاحب اور میری پوسٹ میں وقت کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ گیا
اس تبصرے کا جواب دیں
دُکھ ہی کُچھ ايسا تھا رويا تيرا مُحسِن ورنہ
اُسے ہر غم چُھپا کر ہنستے اکثر ديکھا تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
شاہد اکرم نہيں شاہدہ اکرم
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی :smile:
بہت شکریہ
تانیہ آپکی اجازت سے ایک بات کہنا چاہوں گی
آگر کسی دوست کی اپنی شاعر ی ہے تو ساتھ ابنا نام بھی لکھے۔شکریہ
اس تبصرے کا جواب دیں
ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے
ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو
احمد فراز
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ ستم گر تھا ۔۔ ستم گریا کر گیا
ہوتے عادت سے تو رسم وفا ادا کرتے
اس تبصرے کا جواب دیں
ریحان کا شعر ٹوٹا ی پر
یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا میری بات مان جاو
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ برقعہ پوش تھا اک زمانے میں
نعرہ اےٹھا ہ کر گیا ایک تھانے میں
اس تبصرے کا جواب دیں
ہو گیا ساری بیت بازی کا وڑم سریلا :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
یہی نہیں کہ فقط ہم بھی اضطراب میں ہیں
ہمارے بھولنے والے بھی اس عذاب میں ہیں
اعتبار ساجد
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا بات ہے سب کے سب بہت خوب ۔ افضل جی آپ نے درست کہا لیکن آخری حرف پر اگر شعر ختم ہوتا تو تھوڑی مشکل ہو جاتی میں نے لکھا وہ شعر جس میں ہوا ۔ روگ یا بہار آئے ۔ شعر میں لفظ آنا لازمی ہے ، اور اگر آپ اتفاق نہیں کرتے ہو تو پھر بتا دو کیا کرنا ہے ۔جن خواتین و حضرات نے سب سے اچھے اشعار لکھے ۔ انکے لیے جج صاحبان ہیں محمد وراث اور مم مم مغل جی ۔ جیسے
ہوا کے دوش پر رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
اگر بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی
اس تبصرے کا جواب دیں
چلی ہے تھام کے بادل کے ھاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھرا
اس تبصرے کا جواب دیں
شبِ سیاہ کو تماشہ بنانے لگتے ہیں
چراغ جیسے جلے دل جلانے لگتے ہیں
بھار آئے مگر پھر بھی میرے شھر کے لوگ
اداسیوں کی کہانی سنانے لگتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو
گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہوا آباد
کس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
اس تبصرے کا جواب دیں
ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر ُاداس ہیں
تم کیا گئے ک روٹھ گئے دن بہار کے
اس تبصرے کا جواب دیں
نشے سے کم تو نہیں یاد ِ یار کا عالم
کہ لے اُڑا ھے کوئی دوش پر ھوا کے مُجھے
اس تبصرے کا جواب دیں
بس وہی ُسر خرو ُہوا جس نے
بحر خوں میں شناوری کی ہے
جو گزرتے تھے “داغ” پر صدمے
اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
نذر مانگے جو گلستاں سے ُخداوند خزاں
ساغر و خم میں لئے خون_بہاراں چلئے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ وہ رنگ فصل بہار کا، نہ روش وہ ابر بہار کی
جس ادا سے یار تھے آشنا وہ مزاج بادصبا گیا
ابھی بادباں کو تہ رکھو، ابھی مضطرب ہے ُرخ ہوا
کسی راستے میں ہے ُمنتظر، وہ سکوں جو آکے چلا گیا
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ چھیڑ اے نگہت ِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تُجھے اٹھکیلیاں سُوجھی ھیں ھم بیزار بیٹھے ھیں
اس تبصرے کا جواب دیں
رات یوں دل میں تیری کھوئی ھُوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراوں میں ھولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے
کہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکے
کریں گے مر کے بقاء دوام کیا حاصل
جو زندہ رہ کے مقام حیات پا نہ سکے
(جوش ملیح آبادی)
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنے تاروں سے کہنا چمکتيں رہيں
ميری آنکھوں ميں ايک رتجگا اور ہے
اب تو ہے راکھ کی ايک مٹھی يہ دل
جو ہوا سے لڑا تھا وہ ديا اور ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ خزاں کی زرد سی شام میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوئوں سے ہرا کرو
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ میرے لُطف پہ حیراں، نہ اپنی اُلجھن پر
مُجھے یہ شخص تو ہر شخص سے جُدا ہی لگا
سحاب تھا کہ ستارہ، گُریزپا ہی لگا
وہ اپنی ذات کے ہر رنگ میں ہوا ہی لگا
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حبابِ موجِ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے ،لیکن اب یہ بے دماغی ھے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
(غالب)
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ رنگِ خوں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے بھی
حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے بھی
یہ پیش خیمۂ بیدادِ تازہ ہو نہ کہیں
بدل رہی ہے ہوا سازگار اگر ہے بھی
اس تبصرے کا جواب دیں
کبھی ہمارے گھر مہمان بن کر آنا
ہم آپکو
کولڈ ڈرنک
چکن بریانی
قورمہ
تکہ بوٹی
کسٹرڈ
گلاب جامن
اور
آئیس کریم کی
تصویریں دکھائیں گے
بولو
آؤ گے نا ۔۔۔؟
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت خوب جاوید گوندل جی آپنے تو میدان مار لیا
اس تبصرے کا جواب دیں
کانچ کی سرخ چوڑی
میرے ہاتھ میں
آج ایسے کھنکنے لگی
جیسے کل رات سے شبنم
تیرے ہاتھ کی شوخیوں کو
ہواؤں نے سر دیا ہو جیسے
پروین شاکر
اس تبصرے کا جواب دیں
کھلتے پھولوں کی ردا ہو جاے
اتنی حساس ہوا ہو جاے
مانگتے ہاتھ پہ کلیاں رکھ دے
اتنا مہربان خدا ہو جاے
وفا
اس تبصرے کا جواب دیں
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو
اس تبصرے کا جواب دیں
غم کے سنجوگ اچھے لگتے ہیں
مستقل روگ اچھے لگتے ہیں
کوئ وعدہ وفا نہ کر کہ مجھے
بےوفا لوگ اچھے لگتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ روپ دھارا ہو
اس تبصرے کا جواب دیں
یوں بھی تبدیل بہاروں میں خزاں ہو جاتی
اپنے دامن سے وہ چہرے پہ ہوا کر دیتا
اس تبصرے کا جواب دیں
اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تیز بھی اتنی کے سارا شہر سُونا کر گئی !
دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
عشق پابند وفا ہوتا ہے مجھ کو علم ہے
میں کلی بن کے کھلی تو وہ ہوا ہو جاے گا
میں پرستش کی حدوں تک آگئ ہوں عشقمیں
اک قدم آگے بڑھی تو وہ خدا ہو جاے گا
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ ہوائیں، یہ فضائیں۔یہ گھٹا، اور اس کی یاد
ہم تو مضرابِ الم سے سازِ دل چھیڑا کیے
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں
اس تبصرے کا جواب دیں
ریت پر جو گھر بنائے ہم نے
ہوا کے ظلم آزمائے ہم نے
کتنی دفعہ یونہی مُسکرائے
کتنے غم یوں چُھپا ئے ہم نے
اس تبصرے کا جواب دیں
نا خدا دور، ہوا تیز، قریں کامِ نہنگ
وقت ہے پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا
اس تبصرے کا جواب دیں
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
اداسی میں ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں
محبت کی دنیا پر شام آ چکی ہے
سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں
(فیض احمد فیض)
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ کون آ گئی دلربا مہکی مہکی
فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی
(حسرت جے پوری)
اس تبصرے کا جواب دیں
آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھے
یہ دیا کیسے جلتا ہوا رہ گیا
(وسیم بریلوی)
اس تبصرے کا جواب دیں
نئی رتوں کا پیام دے کر ہوا کی مانند چلا گیا وہ۔۔۔۔۔۔۔
پرانی چاہت کے دیپ سارے ہمارے دل سے بجھا گیا وہ
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے
ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہی ہوا جو بجھا کر گزر گئی ہم کو
اسی ہوا پہ ہمیں اعتبار کتنا تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ اتارو ہوا کے کاندھوں سے
اس مسافر کا رخت ہیں ہم لوگ
اس تبصرے کا جواب دیں
یاد اُس کی بھی ہوا سے باندھی ہے شاید
اک جھولا سا ہمیں جس نے جُھلا رکھا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
خوشبو کو ہواؤں کو گرفتار کرؤ گے
ترتیب نہ دے پاؤ گے تصویر ہماری
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت خوب
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ رُت بہار کی ٹھہری تو پھر سرِ گلشن
بجھا گئی ہے ہوا ہر گلاب کیوں آخر
اس تبصرے کا جواب دیں
اس دنیا میں کب کسی کا درد اپناتے ہیں لوگ
رخ ہوا کا دیکھ کر اکثر بدل جاتے ہیں لوگ
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا ہی ایسی چلی ہے کہ جی بحال نہیں
ورنہ ہم تو بہت کم اداس رہتے تھے
اس تبصرے کا جواب دیں
نفرتوں کو ہوا نہ دو اتنی
ورنہ یہ آگ پھیل جاتی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
بہار
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
اس تبصرے کا جواب دیں
ایسا لگتا ہے کہ ہر موسمِ ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمھارے لے کر
اس تبصرے کا جواب دیں
نغمہ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دمِ نیم سوز کو طائرکہہ بہار کر
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم نے دل میں سجا لئے گلشن
جب بہاروں نے بے رخی کی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
(فیض احمد فیض)
اس تبصرے کا جواب دیں
بہار اب کے گلستاں سے بے مُراد گئی
کچھ اہتمام ہی محسن نہ رنگ و بُو نے کیا
محسن احسان
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ کس فضا میں گزرتے ہیں روز و شب یارو
نہ جبر کا ہے نہ یہ اختیار کا موسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُلوں کے کھلنے پہ ہی منحصر نہیں محسن
ملے وہ جس میں وہی ہے بہار کا موسم۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یوں بزم گل رُخاں میں ہے اس دل کو اضطراب
جیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطراب
مصطفی خان شیفتہ
اس تبصرے کا جواب دیں
یہاں سے اب کہیں لے چل خیالِ یار مجھے
چمن میں راس نہ آئے گی یہ بہار مجھے
عزیز وارثی
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ رنگِ بہارِ عالم ھے، کیا فکر تجھ کو اے ساقی
محفل تو تیری سونی نہ ہوئی، کچھ اٹھ بھی گۓ کچھ آ بھی گۓ
اس تبصرے کا جواب دیں
ادھر بھی خاک اڑی ہے، اُدھر بھی زخم پڑے
جدھر سے ہو کے بہاروں کے کارواں نکلے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ کیا بہار کا جوبن ہے یہ کیا نشاط کا رنگ
فسردہ میکدہ والے، اداس میخانے
صوفی تبسم
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ چھیڑ نکہتِ باد بہاری جا راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ غنچہ و گل ہیں سب مسافر
ہے قافلہء بہار کچھ دیر
ناصر کاظمی
اس تبصرے کا جواب دیں
اے دل وہ عاشقي کے فسانے کدہر گئے؟
وھ عمر کيا ہوئي ، وہ زمانے کدہر گئے؟
ويراں ہيں صحن و باغ، بہاروں کو کيا ہوا
وہ بلبليں کہاں وہ ترانے کدہر گئے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ ذکر کیا کہ خرد میں بہت تضنع ہے
ستم یہ ہے کہ جنوں میں بھی سادگی نہ رہی
دکھائیں کیا تمہیں داغوں کی لالہ انگیزی
گذر گئیں وہ بہاریں،وہ فصل ہی نہ رہی
اس تبصرے کا جواب دیں
نکل اے دِ لربا گھر سوں کہ وقت بے حجابی ہے
چمن میں چل بہار نسترن ہے ماہتابی کا
آج گل گشت چمن کا وقت ہے اے نو بہار
بادہ گل رنگ سوں ہر بام گل لبریز ہے
ولی دکنی
اس تبصرے کا جواب دیں
بس ۔۔۔ بس۔۔۔۔ بس۔۔۔
:shock:
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم ۔۔۔ اچھی بات ہے۔۔
اب نماز بریک
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم ۔۔۔ اچھی بات ہے۔۔
اب نماز بریک
اس تبصرے کا جواب دیں
جاویدگوندل جی :smile:
بہت اچھا انتخاب
marvellous…weldone…Beautiful :smi
le
اس تبصرے کا جواب دیں
وفا رقمطراز ہيں:
جاویدگوندل جی
بہت اچھا انتخاب
marvellous…weldone…Beautiful
شکریہ ۔۔۔
آپ کا ذوق بھی برا نہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا بات ہے جاوید بھائی اور وفا جی آپ دونوں نے کیا خوب مقابلہ شروع کیا ہوا ہے ۔ ویسے ابھی تک جاوید بھائی آگے ہیں باقی کہاں چلے گئے لکتا ہے ڈر گئے ہیں ۔ شاہدہ جعفر ۔ خرم مسٹر افضل سب کہاں ہو ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کہنے کو تو بہار اب بھی آئی تھی
دل ویران نا سمجھ پائے تو کیا کروں
ہواوں زرا آہستہ چلو بہت نازک ہو چلے ہیں
ہلکی سی آہٹ بھی کسی کے آنے کاپیغام دیتی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ بجھا بجھا سا چراغ تھا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
اسے لے گئی ہے کہاں ہوا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
کئی لوگ جان سے جاہیں گے میرئے قاتلوں کی تلاش میں
میرے قتل میں میرا ہاتھ تھا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
اس تبصرے کا جواب دیں
شاہدہ بھاگنے والوں میں سے نہیں بس گھر کے کام کاج اور واہ بھئ مزہ آگیا جاوید بھائ اور وفا نے تو سماں باندھ دیا جیو جب تک جی چاہے
و سے شعر حاضِر ہے
وُہ آکےجا بھی چُکا ہے
میں اِنتِظار میں ہُوں
اس تبصرے کا جواب دیں
نا ہم پُوچھیں نا تُم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیئے اپنی جبیں سے
اس تبصرے کا جواب دیں
یا رب نا وُہ سمجھے ہیں نا سمجھیں گے میری بات
دے اور دِل اُن کو جو نا دے مُجھ کو زباں اور
اس تبصرے کا جواب دیں
شایدہ یہ کیا لگتا ہے گھر کے کاموں میں اتنی مصروف کے شعر کچھ اور ہی
یا رب نا وُہ سمجھے ہیں نا سمجھیں گے میری بات
دے اور دِل اُن کو جو نا دے مُجھ کو زباں اور
یہاں ۔ہوا بہار اور روگ کہاں ہے میرا خیال ہے کہیں تھا اب نظر نہیں آرہا
اس تبصرے کا جواب دیں
:!: شاہد اکرم نہيں شاہدہ اکرم :!:
معذرت چاہتا ہوں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ارے تانيہ ميں پہلے تو موضُوع کے حِساب سے اور پِھر افضل بھائ کے کہنے پرآخری لفظ کے چکر ميں رہی اور پِھر بُھول گئ ،يعنی پِھر
چراغوں ميں روشنی نا رہی
اس تبصرے کا جواب دیں
کوئ بات نہيں رِضوان بھائ
اس تبصرے کا جواب دیں
اتنا رش سیکیورٹی رسک ہے اگر کوئی طالب آگیا تو پتا ہے نا کیا ہو گا ۔۔۔ :cry:
اس تبصرے کا جواب دیں
کامی ابھی طالبان ختم ہو گئے ہیں ۔ آپ اگر چاہو تو شعر عرض کر سکتے ہو ۔ ہم یہ بات طالبان تک نہیں لے کر جاہیں گے یہ شاہدہ کا وعدہ رہا ۔ ارے شاہدہ خدا کے لیے ایک آپ ہی سہارا ہو روشنی ہو اگر آپ کے چراغ بجھ گئے تو باقی لوگوں کا کیا ہو گا ۔ یہ جج حضرات کہاں ہیں کوئی زرا جا کر ان کو خبر تو کرئے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یقین تو ہے کہ کھلے گا، نہ کھل سکا بھی اگر
درِ بہار پہ دستک دئیے ہی جائیں گے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ رنگِ بہارِ عالم ہے کیا فکر ہے تجھ کو اے ساقی
محفل تو تیری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے
مجاز لکھنوی
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ جانے کیا سمجھ کر چپ ہوں اے صیاد میں، ورنہ
وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے
قمر جلالوی
اس تبصرے کا جواب دیں
امیر جاتی جوانی یہ مجھ سے کہتی ہے
خزاں نہ سمجھو مجھے آخری بہار ہوں میں
امیر مینائی
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ کہہ ساقی بہار آنے کے دن ہیں
جگر کے داغ چھل جانے کے دن ہیں
بیخود دہلوی
اس تبصرے کا جواب دیں
روگ
یہ قید ماہ و سال تو عمر بھر کا روگ
کب ہوگا وصال،اگر اس برس نہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ دل کا روگ، یہ چاہت خدا کسی کو نہ دے
بری بلا ہے محبت خدا کسی کو نہ دے
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جو عمر بھر کی ریاضتیں ، یہ نگر نگر کی مسافتیں
یہ تو روگ ہیں مہ و سال کا، یہ تو گردشیں ہیں سفر نہیں
فرحت عباس شاہ
اس تبصرے کا جواب دیں
ناسور بن گیا ہے فرقت کا روگ بھی
بڑھتا ہی جا رہا ہے جتنی دوا کروں
اس تبصرے کا جواب دیں
عرض کیا ہے :smile:
بہار
بدلا تو ایسا بدلا ہے کچھ رنگ گلستان
اک پھول پہ بہار ہے ایک پھول پر خزاں
زندگی بھر غم جدائ مجھے تڑپاے گا
ہر نیا مو سم پرانی یاد لے کرآے گا
اس تبصرے کا جواب دیں
گلشن میں بہار آئ کہ زنداں ہوا آباد
کس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
فیض احمد فیض
اس تبصرے کا جواب دیں
روش روش ہے وہی انتظار کا موسم
نہیں ہے کوئ بھی موسم، بہار کا موسم
فیض احمد فیض
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا۔۔
چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
پروین شاکر
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا
ہوا چخچل سہیلی کی طرح باہر کھڑ ی ہے
دیکھتے ہی مسکراے گی
مجھے چھو کر تری ہر بات پالے گی
تجھے مجھ سے چرالے گی
زمانے بھر سے کہہ دے گی،میں تجھ سے مل کر آئ ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں
نہیں کہ حسن ہی نیرنگیوں میں طاق نہیں
جنوں بھی کھیل رہا ہے سیاستیں کیسی
عبیداللہ علیم
اس تبصرے کا جواب دیں
تیرا گزر جو ادھر برنگ صبا ہوا
آئ بہار یاد کا پتہ ہرا ہوا
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد احمد ۔
بلاگ بر خوش آمدید
پلیز ۔بیت بازی کے اصول فالو کریں ۔شکریہ
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت اچھا لگا رہا ہے ۔ اور جاوید بھائی آپ ک لیے کیا کہوں اتنا خوبصورت انتخاب ہر شعر لاجواب ۔ اور وفا بھی پوری کوشش میں ہیں ۔ کہ کسی طرح پیچھے نہیں رہنا ۔ میں لگے رہو منا بھائی ۔ باقی تو لگتا ہے کتابیں لینے گئے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ سسٹر!
شکریہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جو عمر بھر کی ریاضتیں ، یہ نگر نگر کی مسافتیں
یہ تو روگ ہیں مہ و سال کا، یہ تو گردشیں ہیں سفر نہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
غموں کے سنجوگ اچھے لگتے ہیں،مستقل روگ اچھے لگتے ہیں
کوئی وعدہ وفا نہ کر کہ مجھے،بے وفا لوگ اچھے لگتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ زندگی تو فقط روگ بن گئی ھے
دل تباہ کا ہر پل خیال کیا کرنا
اسے بھلانا بڑی بات تو نہیں پھر بھی
اسے بھلانے کا کوئی کمال کیا کرنا
اس تبصرے کا جواب دیں
روگ
محبت اس کے بس کا روگ کب تھی
تماشا شہر کو دکھلا رہا تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
بہار
چمن میں گُل نے جو کل دعوٰی جمال کیا
جمال یارنےمنہ اسکا خوب لال کیا
بہار رفتہ پھر آئی تیرے تماشے کو
چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
اس تبصرے کا جواب دیں
یوں آیا وہ جان بہار
جیسے جگ میں پھیلے بات
رنگ کھُلے صحرا کی دھوپ
زُلف گھنے جنگل کی رات
ناصر کاظمی
اس تبصرے کا جواب دیں
اب کے برس کچھ ایسی تدبیر کرتے ہیں
مل کے اک شہر محبت تعمیر کرتے ہیں
خزاں کی اُجاڑ شامیں نہ آئیں اگلے برس
اس بہار کی رُت کو زنجیر کرتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
خوشنودئی خیال سرابوں نے لوٹ لی
ہر خواہشِ وصال عذابوں نے لوٹ لی
رنگِ حنا شفق نے لیا میرے خون سے
سُرخی تیرے لبوں کی گلابوں نے لوٹ لی
چِلمن کے پاس پاس رہے شوقِ دید سے
ساری بہارِ حُسن حجابوں نے لوٹ لی
اس تبصرے کا جواب دیں
جُھلس رہا ہے تیرے اعتبار کا موسم
خزاں رسیدہ ہوا اب بہار کا موسم
اس تبصرے کا جواب دیں
زندگی کی بہاریں جو درکار ہیں
باغِ طیبہ کی آب و ہوا مانگ لو
اس تبصرے کا جواب دیں
تصور میں بہاروں کا سماں ہے
مگر دل میں کہیں داغِ خزاں ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
اُٹھائے ہاتھ تو ابرِ بہاراں جھوم کر آیا
ہماری ہی دعاؤں کے اثر میں پھول کھلتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ جڑوں کی کمزوری کا قصور ہوتا ہے
کچھ شجر بہاروں میں بے ثمر سے رہتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
پیار اُس کا چھا گیا ابرِ بہاراں کی طرح
شمع غم کی دھوپ سے اس نے بچایا ہے مجھے
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا سماں تھا بہار سے پہلے
غم کہاں تھا پیار سے پہلے
اس تبصرے کا جواب دیں
آتے جاتے سارے موسم اس سے نسبت رکھتے ہیں
اس کا ہجر خزاروں جیسا اس کا قرب بہاروں جیسا
بود بہار غم میں میں وہ آرام بھی نا تھا
وہ شخص آج شام لب بام بھی نہ تھا
درد فراق میں ہی کٹی ساری زندگی
گرچہ تیرا وصال بڑا کام بھی نہ تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت خوب ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میرے وجود کی مجھ میں تلاش چھوڑ گیا
جو پوری نہ ہو کبھی ایسی آس چھوڑ گیا
بہاروں سے مجھے اسی لئے تو نفرت ہے
انہی رتوں میں وہ مجھ کو اداس چھوڑ گیا
اس تبصرے کا جواب دیں
بہار
یوں نہیں بہار کا جھو نکا اچھا لگا
تازہ ہوا کے، یاد پرانی بھی ساتھ ہے
پروین شاکر
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ کیا قیامت ہے باغبانو کہ جنکی خاطر بہار آئ
وہی شگوفےکھٹک رہےہیں تمھاری آنکھوں میں خار بن کر
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا
نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہو گی
اس تبصرے کا جواب دیں
بہار آئی تو سوچا تھا لوٹ آئیں گے
عمر بھر اک نویدِ صبح کے منتظر رہے
اس تبصرے کا جواب دیں
گھر کی دیواروں پر اداسیاں قابض تھیں ایسے
بہار روتی رہی پہروں، اس کی دہلیز سے لپٹ کر
اس تبصرے کا جواب دیں
تم سے بچھڑ کر، برف میں ڈھل گیا وہ شخص
جوبہار کی طرح کھلتا تھا، ہوا کے چھیڑنے سے
اس تبصرے کا جواب دیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئیے نذرانہ ِ عقید ت
محمد مصطفٰی آئے بہاروں پر بہار آئی
زمیں کو چومنے جنت کی خوشبو بار بار آئی
وہ آئے تو منا دی ہو گئی صائم زمانے میں
بہار آئی ، بہار آئی، بہار آئی، بہار آئی
شاعر صائم چشتی
اس تبصرے کا جواب دیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں
-
احمد فراز
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش
گداز جسم ، قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سروِ سہی نماز کرے
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا میں شوخئ رفتار کی ادائیں ہیں
فضا میں نرمئ گفتار کی صدائیں ہیں
غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزوِ منظر ہے
نیازِ عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا
دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا
اس تبصرے کا جواب دیں
میں بہاروں کے گیت گاتی ہوں
چاند تاروں کے گیت گاتی ہوں
آنشاروں کے گیت گاتی ہوں
کوہساروں کے گیت گاتی ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں
الجھنوں سے جو پیار کرتے ہیں
زندگی استوار کرتے ہیں
خشک شاخوں کو دے کے اپنا لہو
انتظارِ بہارکرتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ مل سکا جنیہں دامن خلوص کا اب تک
کچھ ایسے اشک بھی پلکوں پہ تھرتھراۓ ہیں
یہ انتشار، یہ بد نظمیِ چمن انجم
بہار پر بھی مسلّط خزاں کے ساۓ ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
نشاطِ داغِ غمِ عشق کی بہار نہ پُوچھ
شگفتگی ہے شہیدِ گُلِ خزانیِ شمع
جلے ہے ، دیکھ کے بالینِ یار پر مجھ کو
نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغِ بدگمانیِ شمع
غالب
اس تبصرے کا جواب دیں
مملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامور
عرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نامدار ایک
گلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاں
مے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
غالب
اس تبصرے کا جواب دیں
دونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول (ص) پر فِدا
ایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایک
جانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہار
فرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایک
لایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دور
کر کے دل و زبان کو غالب خاکسار ایک
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت خوب یہاں کوب تو کہنا غلط ہو گا سبحان اللہ، میرا خیال ہے ۔ باقی سب دوست میدان چھوڑ گئے ہیں ۔ شاعری سے آپ کی محبت اور اظہار ہم سب کے سامنے ہے ۔ جہاں آپ دوسری معلومات میں ماہر ہے وہاں شاعری میں بھی کمال کر دیا ۔ نیری طرف سے واٹر کولر آپ کا ہوا ۔ آگر کوئی اور نا آیا ۔ پھر کسی بڑے انعام کا اعلان کریں گئے
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئیے نذرانہ ِ عقید ت
محمد مصطفٰی آئے بہاروں پر بہار آئی
زمیں کو چومنے جنت کی خوشبو بار بار آئی
وہ آئے تو منا دی ہو گئی صائم زمانے میں
بہار آئی ، بہار آئی، بہار آئی، بہار آئی
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا کے دوش پہ رکھے ہُوئے چراغ ہیں ہم
جو بُجھ گئے تو ہوا سے شِکایتیں کیسی
اس تبصرے کا جواب دیں
دُعا بہار کی مانگی تو اِتنے پُھول کِھلے
کہیں جگہ نا مِلی میرے آشیانے کو
اس تبصرے کا جواب دیں
میں نے کہا تھا جاوید بھائ کہ ہم آپ کے سامنے طِفلِ مکتب ہیں بہت شاندار اِنتخاب اور سلیکشن ہے مزہ آگیا
اور تانیہ دُنیا اور گھر کے دھندے بھی تو ساتھ ساتھ ہوتے ہیں نا کافی مہمان ہیں گھر میں ،پِھر بھی شوق دا کوئ مُل نہیں سو موقع نِکالا بےحد تھکاوٹ کے باوجُود
اس تبصرے کا جواب دیں
بے فائدہ ہے لوٹ کے آنا ہواؤں کا
ہم نے سبھی پُرانے ٹِھکانے بدل لِئے
اس تبصرے کا جواب دیں
جب تیز ہوا چلتی ہے بستی میں سرِشام
برساتی ہیں اطراف سے پتھر تیری آنکھیں
اس تبصرے کا جواب دیں
حیرت ہے وُہ برسوں کی ہوا باندھ رہے ہیں
ہم کو تو بھروسہ نہیں آتے ہُوئے دم کا
اس تبصرے کا جواب دیں
شام ہوتے ہی یادیں اُتر آتی ہیں
جیسے چِڑیاں کہیں دُور سے گھر آتی ہیں
روز لے جاتی ہیں اِک خواب ہوائیں
اور ایک ہی شخص کی دہلیز پہ رکھ آتی ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
ہوا کی زد پہ بھی دو اک چراغ روشن ہیں
بلاکے حوصلے دیکھے ہین سخت جانوں کے
درخت ماؤں کی مانِند اِنتِظار میں ہیں
طیُورلَوٹ کے آئے ناآشیانوں میں
اس تبصرے کا جواب دیں
پتوں سے بھر رہے تھے ہواؤں کی جھولیاں
گِرتے ہُوئے شجر بھی سخی اِنتِہا کے تھے
اس تبصرے کا جواب دیں
تُجھے بُھول جانے کی کوشِشیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تیری یاد شاخِ گُلاب ہے جو ہوا چلی تو مچل اُٹھی
اس تبصرے کا جواب دیں
بندھا ہُوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا
جہاں رُکا تھا میں کانٹے نِکالنے کے لِئے
کُنوئیں میں پھینک کے پچھتا رہا ہُوں اے دانِش
کمند تھی جو سِتاروں پہ ڈالنے کے لِئے
اس تبصرے کا جواب دیں
اِک گردنِ مخلُوق جو ہر حال میں خم ہے
اِک بازُوئے قاتِل کہ خُوں ریز بہُت ہے
کِیُوں مِشعلِ دِل فیض چُھپاؤ تہِ داماں
بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہُت ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی :smile:
بہت زبردست تھا۔مقابلہ بیت بازی
مجھے بلکل بھی یقین نہیں تھا۔کہ ایک دن میں بات کرؤں گی اور دوسرے دن دھماکہ ہو جا ے گا۔
میری ایک چھوٹی سی کوشش۔آمید ہے دوستوں کو پسند آئ ہوگی
ہاں آپنے کہا۔میرا اور جاوید گوندل جی کا اچھا مقابلہ جا رہا یے۔لیکن میں تو جاوید جی کی ایک سٹوڈنٹ ہوں۔اس تک تو میں پہنچ نہیں سکتی کیونکہ ابھی تو میں نئے لکھنے والوں میں سے ایک ہوں۔اور اللہ کا شکر ہے کہ بہت حوصلہ افزائ ہو رہی ہے۔جبکہ یہ میری لائن بھی نہیں۔
وفا ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تُجھے بُھول جانے کی کوشِشیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تیری یاد شاخِ گُلاب ہے جو ہوا چلی تو مچل اُٹھی
بہت خوب شاہدہ لگتا ہے کل کا دن اشعار تلاش کرنے میں لگا ۔ میں بھی سوچتی رہی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے شاہدہ کے اشعار تو تھال میں ہوتے ہیں ۔کم کیسے ہو گئے۔خوش رہو
اس تبصرے کا جواب دیں
جی تو پھر آخری شعر میرا بھی سن لیں ایک۔۔۔
عرض کیا ہے۔۔۔
پھول تو کھلنا ہے، پھول تو کھلے گا
گرمی بڑی اے اک شکنجوی دا گلاس ملے گا
اس تبصرے کا جواب دیں
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئ
دُنیا کی وُہی رونق دِل کی وُہی تنہائ
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ مُجھے اپنی کالِج کی اُردو کی پرو فیسر کی ایک بات یاد آگئ کہا کرتی تھیں ارے بیٹا اُس بے چارے کو کیا کِھلاؤگی کیا صِرف شعر اور آج وُہ وقت یاد آگیا اِس بیت بازی سے، نا جانے کہاں ہوں گی وُہ پیاری اور مُحترم ہستیاں کاش کبھی اُنہیں بتا سکتی کہ کیا کُچھ بنانا آگیا اب ہاہ
اس تبصرے کا جواب دیں
شاہدہ ان ہیستوں کو سکون سے رہنے دو ۔اگر وہ زندہ ہیں تو صحت کے ساتھ رہیں اور اگر نہیں ہیں تو ان کی روح کو پریشان نا کر ورنہ اسی بلاگ پر روح آکر شعر لکھا کرئے گی ۔ ویسے اگر کبھی خواب میں آہیں تو کہہ دینا میرا اپنا کچن بھی ہے جہاں ہر چیز تھال میں ہوتی ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جعفر لگتا ہے بجلی آئی اور ساتھ میں جعفر نے جلدی سے شعر لکھ دیا ۔ یہان تو نہیں شاہدہ کے کچن میں گلاس اور لیمن پڑے ہیں بنا لو
اس تبصرے کا جواب دیں
ضرُور جعفر بلکہ آؤ اور پی لو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی بنائ ہے اِتفاق سے سکنجبین
اس تبصرے کا جواب دیں
نہ کوئی میرا تھا ۔نہ میں کسی کا بن سکا
میں کیا سے کیا ہوا ۔ کوئی میرا نہ بن سکا
ہوا کے جھونکے لہروں کو یونہی اڑاتے رہے
تہہ میں بیٹھ گیا کچا گھڑا کنارہ نہ بن سکا
جاوید گوندل (اجنبی)
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ بہن! اور بہن شاہدہ اکرم! کا مشکور ہوں۔ جنہوں نے میری اس قدر عزت افزائی کی۔
وفاجی! کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے قدرافزائی سے نوازا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محترم خواتین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ”شکنجوی“ کی دعوت مجھ عاجز کو ارزانی کی ہے۔۔۔
(کیسی اردو ہے!!! واہ واہ)
بجلی نہیں جاتی یو اے ای میں۔۔۔ جناب۔۔۔
موجیں کرتے ہیں فل اے سی میں۔۔۔
:cool:
اس تبصرے کا جواب دیں
جعفر جو اردو لکھی ہے وہ مجھ کم علم کو تو نہیں پتا ہاں علم والے روشنی تو ناممکن ہے کہ بجلی ہی نہیں دن کے اجائے میں جواب لکھ دیں ،
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ میرے ساتھ چل کر مجھے اپنا ہمسفر سا لگتا تھا۔۔
یہ گمان تو میرا تھاجب رمیاں فاصلہ سا لگتا تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
کچھ میری ڈائری سے
فاصلے ایسے بھی ہوں گے کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئ بھی آیا نہ تھا
آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لئے
آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا
یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں
آنکھ دھندلائ ہوئ تھی شہر دھندلایا نہ تھا
یاد کرکے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم
بھول جانے کے سوا اب کوئ چارہ نہ تھا
اس تبصرے کا جواب دیں