بلاگ اور ہم کیا فرق ہے ۔
دوستو ؛ آج اور ابھی ابھی میرے دماغ میں ایک بات آئی، سوچا چلو آپ سب سے بھی پوچھ لوں کیونکہ آپ بھی میری طرح بلاگ چلا رہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے ۔ بلاگ ایک عام سی چھوٹی سی سایٹ ہے ۔جس کو بنا کر لوگ ناجانے اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگتے ہیں ۔اور جو کے کہیں سے بھی آن لائن اخبار کے قابل نہیں ہے یا ویبسایٹز کے مقابل کچھ نہیں ہے ۔ جبکہ میرا کم علم کا خیال ہے بلاگ ایک بہت ہی خوبصورت راستہ ہے اظہار کا ۔ جب چاہا جہاں چاہا کچھ لکھ دیا ۔ اس کی مشال ایک ننھے چھوٹے بچے کی سی ہے جس کو بہت پیار اور حفاظت سے رکھا جاتا ہے۔ یہ بالکل اس ننھے پودے کی طرح ہے جس کی آبیاری بہت احتیاط سے کرنی پڑتی ہے ۔آپ سب چونکہ اپنا اپنا بلاگ چلا رہے ہو تو یقینا آپ کو اپنے بلاگ سے محبت ہو گی ۔ کیا فرق ہے ۔

میرے خیال سے تو بلاگ بہترین جگہ ہے کچھ بھی کہنے کے لیے
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر بلاگ پر موجود مواد معیاری ہو اور اسے پڑھنے والوں کی تعداد بھی معقول ہو تو وہ کسی بھی اچھی ویب سے کسی طرح کم نہیں! سو لکھتی رہیے اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہیے اور ایسی باتوں کی ہرگز پرواہ مت کیجے۔
محمد احمد کے بلاگ سے آخری تحریر … چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے
اس تبصرے کا جواب دیں
کون کہتا ہے ایسا کہ بلاگ بنا کر لوگ اپنے آپ کو نجانے کیا سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ ذرا بتائیں مجھے ۔۔ ابھی اس سے پوچھ لیتے ہیں۔۔۔ ویسے آپس کی بات ہے۔۔۔ کہتا تو ٹھیک ہی ہے۔۔۔ :mrgreen:
جعفر کے بلاگ سے آخری تحریر … نسوار بھرے پراٹھے
اس تبصرے کا جواب دیں
بلاگ کی اہمیت اس کے مواد سے ہی ہے لہذا اس پر چمکتے دمکتے اشتہار لگا کر قاری کی آنکھوں کا امتحان نہیں لینا چاہیئے ، جیسا کہ مفید کتابچہ ڈاونلوڈ کریں جیسے اشتہار
اس تبصرے کا جواب دیں
جو لوگ بھی آپ کے یا کسی کے بلاگ کا آن لائن اخبار سے تقابل کررہے ہیں سب سے پہلے تو ان لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھیں کہ آیا وہ جانتے بھی ہیں کہ بلاگنگ کیا ہے۔۔ کیونکہ کوئی بھی شخص جس کو بلاگنگ کی معمولی سمجھ بھی ہو تو وہ کبھی اس کا مقابلہ کسی آن لائن اخبار سے نہیں کرے گا۔۔ چناچہ آپ ان کی باتوں کو ناسمجھ کی ناسمجھی سمجھ کر درگزر کردیں اور انہیں بلاگنگ کے بارے میں معلومات فراہم کردیں۔ اور جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس طرح کا تقابل کرتے ہیں وہ دراصل بلاگنگ سے خوفزدہ اپنی دکانیں بند ہونے سے ڈرتے ہیں۔۔ ان کی دلجوئی کا اہتمام کریں تاکہ وہ آنے والے وقت کے لیے تیار رہیں۔ اور بلاگرز کے لیے اس میں یہی حکمت ہے کہ اپنے بلاگ کو بلاگ رہنے دیں کسی \"آن لائن اخبار\" سے مقابلہ کے چکر میں اسے اخبار نا بنائیں
اس تبصرے کا جواب دیں
عبدالقدوس بالکل میرے دل کی بات کی ۔ خوش رہو
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ محمد احمد میں تو اپنی کوشش کر رہی ہوں ۔ جتنا کچھ آتا ہے لکھ لیتی ہوں ۔ جہاں انسان رہتا ہے وہاں لوگوں کی پرواہ کرنی پڑتی ہے نا
اس تبصرے کا جواب دیں
جعفر کبھی نسوار بھرے پراٹھے نہ کھا کر لکھا کرو ۔ تاکہ پتا چلے کیا لکھا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
فارغ جی لگتا ہے آپ پہلی بار تشریف لائے ہیں بہت شکریہ آنے کا اور تبصرہ کرنے کا امید ہے آنا جانا لگا رہے گا
اس تبصرے کا جواب دیں
راشد بس یہ جاننا تھا کہ بلاگ والے کیوں پیچھے ہیں جبکہ ہم اتنی محنت اپنے بلاگ پر کرتے ہیں سب کے ساتھ اپنے آپ کو لے کر چلنا اسان نہیں ہوتا ۔ جبکہ ویب سایٹ پر تو آپ یا کوئی ایک بندہ ساتھ دیتا ہے ۔ دوسروں کے لکھے ہوئے بڑی آسانی سے لگا لیتے ہیں ۔۔ ارے نہیں مجھے کوئی شوق نہیں ہے ۔ اخبار کا ویسے اللہ کا بڑا حسان ہے ۔ کہ میں اخبار کے لیے اپنے کالم لکھ رہی ہوں ۔۔ جبکہ ابھی سیکھنے کا وقت ہے ۔۔ اور جب تک سانس چلتی ہے انسان اپنے بڑوں اور اپنے چھوٹوں سے سیکھتا رہتا ہے زندگی کا نام ہی سیکھنا ہے ۔۔۔ہر وقت ہر لمحہ
اس تبصرے کا جواب دیں
وھ جی آپ کہیں سب لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش کے مغالطے کا شکار تو نهیں هیں ؟؟
میں ایک اون لائین اخبار نما بھی چلاتا هوں اور بلاک بھی لکھتا هوں
اپ اس ایک مثال سے سمجھ لیں که اون لائین اخبار اور بلاگ میں کیا مخلتف ہے
آپ دونوں کو دیکھیں که بلاگ بلاگ هے اور اخبار نما اخبار نما
میں اخبار نما اس لیے لکھ رها هوں که یه اخبار بھی تو نہیں هے ناں جی
خبروں کا ترجمعه اور چربه اور اس کے علاوھ کچھ ہے تو تارکین وطن نو دولتیوں کی خود نمائی کی تصاویر
لیکن بلاگ تو بلاگ هی هے ناں جی
چوں چوں کا مربه ، کھٹیاں مٹھیاں ، کچھ اچھی باتیں اور کچھ بکواس ، کہیں مذہب کی بات تو کہیں گالیاں ،
اور جو اج هم لکھ رهے هیں اس کو پڑھنے والے قاری کی بجائے بلاکر هی هیں لیکن انے والے سالوں میں جس نے جتنا زیادھ لکھا هو گا وھ اتنا بڑا بلاگر هو گا
دس سال بعد جب ہر بندھ کمپیوٹر پر اردو لکھ پڑھ سکے گا آپ کا شمار پرانے بلاگروں میں هو گا اور میرا قدیم بلاگروں میں
جب میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو امید بھی نہیں تھی که میرے سوا بھی کوئی پڑھتا هو گا
وھ تو جی زکریا اجمل صاحب کے سیارے پر خود کو دیکھ معلوم هوا تھا که ایک دو بندے اور بھی پڑھتے هیں خاور کے بلاگ کو ـ
خاور کے بلاگ سے آخری تحریر … پیسے کتھوں آؤن گے
اس تبصرے کا جواب دیں
ہمارے خیال میں بلاگ لندن کا ہائیڈ پارک ہے جہاںآپ کچھ بھی بولیں،کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیںہے۔
میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … رائے عامہ بمقابلہ جمہوری ڈکٹیٹرز
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ جی کیا بات ہے اپ کی خاور جی آپ نے دودھ کا دوھ اور پانی کا پانی کر دیا ۔ میرا خیال ہے کہ خاور جی ہم اتنی دور کی نہ سوچیں تو بہتر ہے ۔ میرا خیال ہے جی آپ کی اس بات میں بھی بہت حد تک حقیقت ہے کہ جو ملک سے باہر پیسے کمانے والے بیٹھے ہیں انھوں نے کہیں تو خرچ کرنا ہے تو وہ پھر اخبار نکال کر ہی نام کما رہے ہیں ۔ ، میں نے یہ سوال کیا ہی اس لیے تھا کہ مجھے بلاگ اور اخبار کا پتا چل سکے تاکہ میں بھی نو دولتوں کی طرح اپنا زاتی اخبار نکال سکوں ۔ چاہے مجھے خود کچھ نہ آتا ہو لیکن دوسروں کو یہ کہہ کر کے آپ کا نام ہو گا ۔۔وہ زرا روب شوب ڈال سکوں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا پاکستان یہ تو پتا ہے ۔۔ ویسے بات بھی سمجھ آ ہی گئی ہے ۔۔۔ بلاگ ایک چوک ہے جہاں ہر کوئی اپنی تقریر کرتا ہے آنے جانے والے نہ چاہتے ہوئے بھی روک جاتے ہیں جن کی تحریر زیادہ اثر کر تی ہے اس پر تبصرہ بھی کر دیتے ہیں اور بعض اپنی دوستی کی لاج رکھنے کو بھی کچھ نہ کچھ لکھ دیتے ہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
<blockquote cite=\"comment-2215\"><b>اقتباس» </b><strong><a href=\"#comment-2215\">تانیہ رحمان نے لکھا: </a></strong>
جعفر کبھی نسوار بھرے پراٹھےنہ کھا کر لکھا کرو ۔ تاکہ پتا چلےکیا لکھا ہے
</blockquote>
لگتا ہے نسوار کی بے حرمتی پر آپ غصے میںہیں۔۔۔
:mrgreen:
اس تبصرے کا جواب دیں
ہاہاہا میرا خیال ہے یہ ٹھیک لکھا ہے نسوار کی بے حرمتی ۔ اب کیا کہوں نسوار نہ ہو گئی؟
اس تبصرے کا جواب دیں
میں راشد کامران کی بات سے متفق ہوں کہ بلاگ کا مقابلہ کسی اخبار سے ممکن نہیں۔ ہمارے یہاں ایک بڑی تعداد ابھی تک بلاگ کی حقیقت سے نا آشنا ہے۔ اکثر احباب جو بلاگ کو سرسری سا جانتے ہیں کو اخباری کالم، تجزیہ اور بلاگ ایک ہی جیسے محسوس ہوتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ بلاگ پر لکھنے کو بعض حلقوں میں اس لئے اہمیت نہیں دی جاتی کہ یہاں کوئی مخصوص قاعدہ یا قانون نہیں۔ اخبار یا رسائل میں تحریر شائع ہونے سے پہلے کئی مراحل سے گزرتی ہے جس میں اس کی نوک پلک بھی سنواری جاتی ہے جبکہ بلاگ پر ایسا کچھ نہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد اسد بہت شکریہ اتنا اچھا تبصرہ کرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب صاف ظاہر ہے بلاگ ۔ جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ آپی بہت خوبصورت تھیم منتخب کیا ہے آپ نے ۔ اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب تو بات یہ ہے کہ ہربندے کا کسی چیز کے بارے میں اپنا پوائنٹ آف ویو ہوتا ہے اور اکثر سائٹس پہ میں نے دیکھا ہے کہ ایڈمن کی مرضی کے بنا جو بھی مواد پوسٹ کیا جائے یا تو وہ ایڈٹ کردیا جاتا ہے یا پھر مکمل غائب تو ایسے میں اپنا بلاگ ایک ایسا موثر ذریعہ ہے جس پہ آپ اپنے دل کی باتیں دل کھول کے لکھ سکتے ہیں بناء کسی روک ٹوک کے۔
شکریہ
آپکا بھائی
عدنان
اس تبصرے کا جواب دیں
سب سے پہلے بھائی عدنان بہت شکریہ پسند کرنے کا اور تبصرہ کرنے کا ، بالکل درست فرمایا کہ جو آنلاین اخبار مالکان ہوتے ہیں ۔ انکی مرضی کے مطابق آپ لکھو تو آپ سے اچھا کوئی ہے نہیں کہیں آپ نے اپنی مرضی کر لی تو بس پھر آپ کی خیر نہیں ہے ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
چھوڑیں جی ساری باتیں بس یہ بتائیں کہ یہ بات کی کس نے ہے؟
میرے سامنے کریں اس کو
ویسے بھی میںنے آج چھریاں ٹوکے تیز کروائے ہیں
ڈفر – DuFFeR کے بلاگ سے آخری تحریر … عزت بچائی مبلغ چار ہزار روپے
اس تبصرے کا جواب دیں
ڈفر کوئی حال نہیں بس اپنے بکرے کی قربانی کرو ،اور جس نے بات کی مٹی پاو ۔ کچھ تو لوگ کہیں گے لوگوں کا کام ہے کہنا
اس تبصرے کا جواب دیں