ایک نظر کا سوال ہے بابا۔۔۔مقدمہ اخبار کراچی
چلو ہم بھول جاتے ہیں
بہت دنوں سے ایک عجیب طرح کی اداسی اور پریشانی نے گھیرا ہوا ہے۔جب کبھی کچھ لکھنے لگتی تو سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں ۔ دل و دماغ ہر روز ہونے والے حالات و واقعات دیکھنے اور سہنے کی طاقت کھو چکا ہے ۔ اور انکھیں مذید کچھ د یکھنے کی خواہش مند نہیں ہیں ۔ صفحے پر صفحے کالے کیے جارہے رہیں ۔ لیکن حاصل کچھ نہیں ہو رہا یوں تو لکھنے والے بہت ہیں ۔ اور خوب لکھ رہے ہیں ۔ میرا لکھنا آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔لیکن یہ کم نمک بھی بہت کام کر جاتا ہے کہیں تو ہائی بلیڈپریشر کے لیے مفید تو کہیں نہ ہونے کی وجہ سے روٹی کھانے سے انکار اگر کچھ بھی نہ ہو تو پھر ایک لمبی مجبوری کیونکہ اس پاپی پیٹ کی وجہ سے سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔اب آپ خود ہی دیکھ لیں ہمارے چاورں طرف کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ہمارا ملک آج کس صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ ۔ لیکن ملک کی پرواہ کسی حکمران کو نہیں ہے ہر کوئی اپنی دوکان چمکانے کے چکرمیں لگا ہوا ہے ۔ کہیں کیری لوگر بل نے ملک میں ایک عجیب و غریب صورت حال پیدا کر رکھی ہے ۔ہمارے حکمرانوں کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یہ بل انکی جیب کی نظر ہو اور وہ عوام کے نام پر لیے گئے پیسوں کو اپنے اپنے اکاونٹ میں جمع کروا لیں ۔جس کے بدلے میں ملک کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔
آج پیسے دینے والے اپنے ملک میں بیٹھ کر ہمارے اوپر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ اپنی شرائط پر پاکستان کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ جس کے لیے ہمارے لیڈران تیار بیٹھے ہیں ۔ اس لیے کہ انکو کوئی مسئلہ نہیں ہے انکے بچے پاکستان سے باہر رہ رہے ہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں علاج کے لیے اپنے بیوی بچوں کو حکومت کے خرچے پر بھیجا جاتا ہے ۔کوئی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ہے ۔ سارے کے سارے ایک تھیلی کے چٹے پٹے ہیں ۔۔کبھی چور نے چور سے پوچھا ہے کہ چوری کیوں کرتے ہویا کسی فقیر نے دوسرے فقیر سے کہا ہو کہ بھیگ مانگنا بری بات ہے ۔
اگر تھوڑی دیر کو سوچا جائے تو ہم اس کو بھی بھول جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اب ہم وہاں ہیں جہاں صرف اور صرف اپنی جان بچانے کی فکر ہے ، عوام زہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔ غریبی اور مہنگائی نے لوگوں کو بچے بیچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے لوگ اپنے معصوم بچوں کو خونی جیکٹ پہنانے سے بھی دریخ نہیں کر رہے وہ ننھی ننھی کلیاں جو ابھی پھول بنے کو تیار تھی ۔ دھماکوں میں اپنی جان دے رہے ہیں ۔ماں پاب کا خیال ہے اپنا ایک بچہ دے کر گھر کے باقی افراد کو تو بچایا جا سکتا ہے ۔انکو ۔لیکن وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس کا حل یہ نہیں ہے ۔سیاست دانوں نے ملک کو داو پر لگا کر خود عیاشی کر رہے ہیں
حکمرانوں نے صرف اور صرف اپنے مفاد کے لیے پورے ملک میں ایک خوف و حراس پیدا کیا ہوا ہے ۔ کبھی طالبان کی صورت میں تو کبھی ٓاٹا اور چینی کی صورت میں گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی مت مار دی تھی وہ کچھ سوچ نہیں سکتے تھے ۔ اور اب ملک میں چینی اور گیس کا بحران شروع ہو گیا ہے ۔ زہنی اور جسمانی طور پر مفلوج غریب عوام کیا اور کیسے سوچ سکتی ہے ۔پھر ہم یہی کہہ سکتے ہیں چلو ہم بھول جاتے ہیں ۔
یاد رکھنے کو این ٓار آو جو ہے ۔ جس پر خوب لے دے ہو رہی ہے میڈیا بھی خوب بڑ چڑ کر بول رہا ہے ۔ اور تمام سیاست دان بھی ۔ ابھی پشاور میں ہونے والے دھماکے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرہ ۔ جس میں 150 سے زیادہ افراد شہید ہوئے ۔ اور کہی سو زخمی ۔ کتنے گھر تباہ ہوئے ۔ کتنے خاندان جل کر خاک ہو گے ۔ اس دن میڈیا نے بھی ماتم کرنے کی بجائے مرنے والوں کے ساتھ انکے غم میں شریک ہونے غریبوں کی آہو پکار میں دو آنسو بہانے کی بجائے یہ خبر لگا کر اپنا کام پورا کر دیا ۔چونکہ ییہ ایک عام سی خبر تھی اس لیے اتنی اہم نہیں تھی دوسری طرف ہیلری کلنٹن کیری لوگر بل اس عام خبر سے کہیں گنا بڑ کے تھا ۔ جس میں ہر صحافی ٹی وی مہزبان کو اپنے نام کے ساتھ یہ ایواڈ بھی لگانا تھا کہ سب سے اچھا پروگرام کس ٹی وی چینل اور کس میزبان کا تھا
تب سے لے کر آج تک یہ بل پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے ۔ اب جہاں تک ہمارے حکمرانوں کا سوال ہے ، ان میں ہمارے صدر اور وزیر اعظم کو چاہئے کہ ایک ہی دفعہ لکھوا لیں اور پاکستان کے ہر گھر کے دروازے پر آویزں کرا دیں اور اس کو لازمی قرار دیا جائے کہ ہم آیندہ ہونے والے حادثات اور خودکش دھماکوں میں مرنے والوں کے خلاف پر زور مذمت کرتے ہیں
رحمان ملک نے یہ کہہ کر اپنی جان چھوڑا لی کہ بہت جلد دشتگرد آپ لوگوں کے سامنے ہوں گے ۔ دشت گرد اب بھی ہمارے سامنے ہیں وہ پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن ااس کے بعد کہاں جاتے ہیں ۔ نا معلوم مقام کی جانب ایسا لے جایا جاتا ہے کہ واپسی کا راستہ خود کو بھی معلوم نہیں ہوتا ۔ایسے نا معلوم مقام کا کیا فاہدہ جس کا حاصل ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔ عوام کو یقین دلانا ہے تو سرئے عام پھانسی لگاو ۔ اب تک کسی دشتگرد کو سر عام سزا نہیں دی گئی ۔۔ اگر یہ سزا عام کر دی جاتی سر کے بدلے سر تو حکومت کے پیدا کردہ دشتگرد کب کے ختم ہو چکے ہوتے ۔ یوں معصوم لوگوں کے لاشے نہ اٹھائے جاتے۔ بے گناہ بچیوں کے اسکولوں پر حملہ نہ کیا جاتا ۔ بچوں کے اسکولوںمیں دھمکی آمیزفون کرکے انکے مستقبل کو تاریک نہ کیا جاتا ۔ لیکن سب کچھ خود کروایا جا رہا ہے تو روکے کون اور کیوں؟ چلو ہم بھول جاتے ہیں ۔۔
کیونکہ اب ہمیں بھولنے کی عادت پڑہ گئی ہے ۔ ہم بے حس ہو چکے ہیں ہم یہ بھی بھول چکے ہیں یہ پاکستان جس کو قاہد نے ایک خاص مقصد کے تحت حاصل کیا تھا ۔ وہی ایک مقصد جو ہمارے بزرگوں کی قربانیوں سے پورا ہوا تھا ۔ ایک پر آمن پاکستان اایک آزاد اور خودمختار اسلامی ملک جس میں ہر پاکستانی کو یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ سکون سے رہ سکے ۔ جہاں اس کا اپنا قانون ہو اپنی عبادت ہو ۔ اپنا اصول ہو ایک ایسا ملک ہو اور وہ پر فضا مقام جہاں وہ سکون سے سانس لے سکے۔
کیا آج وہ سب کچھ ہمارے پاس ہے ۔ ہماری زندگی ویسی ہے ۔جیسی ہمارے بزرگوں نے چاہی تھی ۔ یا ہمارے قاہد نے سوچی تھی ۔ کہیں سکون آمن خوشی چہروں پر مسکراہٹ ، اگر نہیں تو دل کو بہلانے کے لیے یہ خیال اچھا ہے ، چلو ہم بھول جاتے ہیں

آپ کی بات بالکل درست ہے اتنے زیادہ مسائل کی وجہ سے کبھی کبھی لکھنے کو بالکل دل نہیںکرتا۔ دوسرے جب مسائل نہ حل ہوتے ہیں اور نہ اپنی سنی جاتی ہے تو پھر مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے۔
میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہم جنس پرستی
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا پاکستان بہت شکریہ ۔ آج پھر خودکش حملہ ہوا ۔ ایک نہیں دو دو ، آب کیا لکھا جائے ۔ مرنے والوں پر رویا جائے یا پھر حکومت پر ماتم کیا جائے ،،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
مایوسی بڑھتی ہے جب پیٹ خالی ہو۔
اور بے چینی بڑھتی ہے جب پیٹ ضرورت سے زیادہ بھرا ہو۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عارف تو کیا پاکستان مین لوگوں کا پیٹ بھرا ہوا ہے اس لیے وہ بے چین ہیں ۔۔۔مایوسی کی تو کئی وجوہات ہیں ۔ جن میں پہلے نمبر پر پیٹ کا خالی ہونا بھی بہت حد تک درست ہے ۔ لیکن مانگ کر پیٹ کا دوزخ کچھ نہ کچھ پورا کر لیا جاتا ہے ۔ لیکن موت اگر سر پر راج کر رہی ہو تو
اس تبصرے کا جواب دیں
Salaam
I am a Pakistani and from Lahore, currently i am working in London, I am with the people of Karachi in this time. I have worked 3 years in Karachi and love every part of it.
I must say this is a hard time for all Pakistanies and we are united under Pakistani Flag and Inshallah we will rise soon, I Request to everyone that please understand current conditions of our homeland in the light of international interests in region and we need to be focused on our unity, which is the only way out as a nation,
Pakistan Zindabad
Love and peace to all.
اس تبصرے کا جواب دیں