اصل مقصد کیا ہوتا ہے
آپ سب نے دیکھا اور بار ہا دیکھا ۔ کہ اکثر لوگ دوسروں کی مدد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ مدد ہرگزہرگز نہیں ہے ، جو صبح سویرئے اسکول کالج جاتے ہوئے لڑکے لڑکیوں کی کرتے ہیں ۔۔ کبھی کسی کی کتابیں گر جاہیں تو اٹھانے میں مدد کریں گئے ،کسی کا جوتا ٹوٹ جائے تو بھاگے بھاگے موچی کی دوکان تلاش کریں گے اور اگر موچی نہیں ملا تو سیدھا گھر جا کر دھاگے سے سی کرلے آہیں گے ۔ تب تک دیر ہونے کی وجہ سے لڑکی یا تو اسکول یا کالج جا چکی ہو گی یا پھر ننگے پاوں بیٹھی اپنی جوتی کا انتظار کر رہی ہو گی دور سے آتے ہوئے اپنے محسن کو دیکھ کر خوشی سےاپنی جوتی لے کر پاوں میں ڈال کر بہت شکریہ بھیا کہہ کر یہ جا وہ جا ۔۔اب بھیا پر جو گزری سو گزری ، لیکن بھائی صاحب نے بھی گھر سے نکلتے ہوئے قسم کھائی ہوتی ہے ۔۔ یہ نہ سہی دوسری سہی مشن جاری رہتا ہے ۔۔ کبھی بس میں اپنی سیٹ دے کر کھڑے رہ کر بار بار لڑکی کی جانب دیکھنا کہ کب بولے گی آپ بھی ساتھ بیٹھ جاو ۔ میراخیال ہے جو بات ہو رہی تھی اسی کی طرف واپس آتے ہیں تو بات ہو رہی تھی مدد کی کچھ لوگ دوسروں کوپیسے دے کر تو کوئی لڑکیوں کی شادی کروا کر کوئی کسی کی کفالت کا زمہ لے کر اپنی اس خواہش کی تکمیل کرتے ہیں ۔ اس سب باتوں کے پیچھے کیا جذبہ کارِفرما ہوتا ہے ۔ کیا ان کو اصل میں نیکی کرنے کا شوق ہوتا ہے۔۔۔۔ یا پھر اپنی خودنمائی ۔؟

مشاہدہ اچھا ہے اور مشاہدے کا بیان اس سے بھی کہیںزیادہ اچھا ہے۔ ہاں پر مشاہدہ یک طرفہ سا ہے۔ ممکن ہے اکثریت ایسے ہی ہو اس لئے دوسرا رخ نظر نہ آیا ہو یا دانستہ نظر انداز کر دیا گیا ہو۔
رہا سوال اصل مقصد کیا ہے؟ تو اس کا کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ یہ فرد واحد کی سوچ اور مزاج پر منحصر ہے۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو قدرے کمزور تصور کیا جاتا ہے (مجھے اس تصور کے صحت پر اصرار نہیں)۔ اس لئے لا شعوری طور پر کسی بھی ایسے موقع پر لوگ مدد کو دوڑتے ہیں۔ اب اس کے پیچھے ان کی کوئی بھی سوچ کارفرما ہو سکتی ہے۔ آپ کے بیان کردہ توقعات بھی ہو سکتے ہیں، خلوص للٰہیت بھی ہو سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں فقط لاشعوری عادت بھی ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی کسی نے قرآن کی “الرجال قوامون” والی آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے “مرد عورتوں کے لئے اٹھ کھڑے ہونے والے ہیں”۔ یعنی مردوں کا مزاج ہی ایسا ہوتا ہے کہ کسی عورت کو ان کی ضرورت در پیش ہو تو اس کی اعانت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ کبھی مشاہدہ کیجئے گا تو ایسے مرد بھی مل جائیں گے جو آپ کے لئے اپنی سیٹ خالی کر کے ممکن ہوا تو کسی ایسے گوشے میں چلے جائیں گے جہاں آپ شکریہ کہنے کے لئے تلاشیں بھی تو نا پائیں۔
بھیا یا ماموں والے لطیفے اس قدر بازاری ہو گئے ہیں کہ مجھے ان سے کراہیت سی ہوتی ہے۔ کم از کم ان پاکیزہ رشتوں کی ایسی پامالی میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ مجھے تو بلا تفریق مذہب و ملت، مرد و زن، پیر و جوان کوئی بھائی کہہ دے تو نہال ہو جاتا ہوں۔ یہ اپنے آپ میں اعزاز کی بات ہے کہ کوئی ہمیں اس قابل سمجھتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
پتہ نہیں کیوں ابن سعید بھائی مجھے خرم ہی لگتے ہیں یا پھر خرم ابن سعید ہے۔ ہماری بہت سی باتیں ملتی ہیں کچھ کچھ فرق ہوتا ہے لیکن صرف الفاظ میں فرق ہوتا ہے۔ میں سعود بھائی کی بات سے متفق ہوں اور آپی جی پہلے والی مدد اور دوسرے والی مدد میں میرے حساب سے کوئی فرق نہیں ہے۔ کیونکہ مدد کرنے والے سے مدد کرنے والے کی نیت کا پتہ نہیں چلتا۔ اور ویسے بھی عمل کا ثواب نیت دیکھ کر ہی ملے گا۔ میں نے بہت سے ایسے انسان دیکھ ہیں جنوں نے لڑکیوں کی شادیاں بھی کروائیں ہیں۔ لیکن ان کی زندگی میں ان کے گھر والوں کو بھی پتہ نہیں چلا۔ ہمارے خاندان میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہستی پیدا کی ہے جن کے بارے میں میرے علاوہ شاہد کسی کوپتہ نا ہو۔ اور ایسے بھی بہت سے دیکھیں ہیں جو کام بعد میں کرتے ہیں لیکن اس کی مشہوری پہلے کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب نہیں کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں۔ کوئی لڑکیوں کی مدد اپنی بہن سمجھ کر کرتے ہیں اور کوئی دوسروں کی بہن سمجھ کر خیر
بات یہاں ہی ختم کرتے ہیں عمل نیت سے نکھرتا ہے
خرم شہزاد خرم کے بلاگ سے آخری تحریر … مامتا از کرشن چندر
اس تبصرے کا جواب دیں
<blockquote cite=\"comment-2364\"><b>اقتباس» </b><strong><a href=\"#comment-2364\">ابن سعید نے لکھا: </a></strong> مشاہدہ اچھا ہے اور مشاہدے کا بیان اس سے بھی کہیںزیادہ اچھا ہے۔ ہاں پر مشاہدہ یک طرفہ سا ہے۔ ممکن ہے اکثریت ایسے ہی ہو اس لئے دوسرا رخ نظر نہ آیا ہو یا دانستہ نظر انداز کر دیا گیا ہو۔رہا سوال اصل مقصد کیا ہے؟ تو اس کا کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ یہ فرد واحد کی سوچ اور مزاج پر منحصر ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کو قدرے کمزور تصور کیا جاتا ہے (مجھے اس تصور کے صحت پر اصرار نہیں)۔ اس لئے لا شعوری طور پر کسی بھی ایسے موقع پر لوگ مدد کو دوڑتے ہیں۔ اب اس کے پیچھے ان کی کوئی بھی سوچ کارفرما ہو سکتی ہے۔ آپ کے بیان کردہ توقعات بھی ہو سکتے ہیں، خلوص للٰہیت بھی ہو سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں فقط لاشعوری عادت بھی ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی کسی نے قرآن کی “الرجال قوامون” والی آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے “مرد عورتوں کے لئے اٹھ کھڑے ہونے والے ہیں”۔ یعنی مردوں کا مزاج ہی ایسا ہوتا ہے کہ کسی عورت کو ان کی ضرورت در پیش ہو تو اس کی اعانت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ کبھی مشاہدہ کیجئے گا تو ایسے مرد بھی مل جائیں گے جو آپ کے لئے اپنی سیٹ خالی کر کے ممکن ہوا تو کسی ایسے گوشے میں چلے جائیں گے جہاں آپ شکریہ کہنے کے لئے تلاشیں بھی تو نا پائیں۔بھیا یا ماموں والے لطیفے اس قدر بازاری ہو گئے ہیں کہ مجھے ان سے کراہیت سی ہوتی ہے۔ کم از کم ان پاکیزہ رشتوں کی ایسی پامالی میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ مجھے تو بلا تفریق مذہب و ملت، مرد و زن، پیر و جوان کوئی بھائی کہہ دے تو نہال ہو جاتا ہوں۔ یہ اپنے آپ میں اعزاز کی بات ہے کہ کوئی ہمیں اس قابل سمجھتا ہے۔
</blockquote>
بہت خوب سعود بھائی
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم بھائی آپ کی محبت ہے اور کیا کہوں۔ میری اور آپ کی سوچ کہیں ملتی ہے تو اسے گاؤں اور شہر کا ملن کہہ لیجئے کیوں کہ میں تو دیہاتی آدمی ہوں۔ بچپن سے ہی گاؤں کے انداز و اطوار اور معیار زندگی و معاشرت کا تجربہ رہا ہے۔ کسی کے سینڈل تو شاید سل کر لانے کی نوبت نہیں آئی ہوگی ہاں یہ ضرور ہوا ہوگا کہ بھینس کے پیچھے دوڑتے ہوئے یا کھلیان میں کھیلتے ہوئے کسی کے چپل کا فیتہ نکل گیا ہو تو اسے پرونے میں مدد کی ہو۔ یا شاید کسی کی بدکی ہوئی گائے یا بھینس کو سنبھالنے میں تعاون کیا ہو۔ اسکول جاتے ہوئے کسی بچے کی وزنی تختی یا ناشتہ دان پکڑ لیا ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں میں عورتوں اور بزرگوں کے لئے سیٹوں سے اٹھا بھی ہوں پر وہاں یہ فرض تصور کیا جاتا ہے کوئی احسان نہیں۔ لہٰذا ایسی اعانت کے بعد کسی قسم کی توقعات کم از کم اس ماحول میں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ شہروں کے رنگ یہاں کی سوچ، رہن سہن اور باہمی تعلقات کے انداز تو بہت بعد میں مشاہدے میں آئے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ابن سعید صاحب آپکے تبصرے کچھ عرصے سے نظر سے گزر رہے ہیں اور ان کی شائستگی دل کو موہ لیتی ہے!اس وقت بھی آپنے بہت عمدہ پیرائے میں جواب دیا ہے ماشاءاللہ :smile:
اس تبصرے کا جواب دیں
عبد اللہ بھائی کیا میں اور کیا میرا پیرایا۔ بس یہ تو ایک گنوار دیہاتی کی زبان ہے اور اسی کے احساسات ہیں۔ نہ تو کھراد مشین پر چڑھائے ہوئے جملے ہیں اور نہ ہی دقیق ادب میں لتھڑے ہوئے فقرے۔ سیدھی سادی باتیں ہیں جیسا عموماً روانی میں زبانی بولی جاتی ہیں۔
اب آپ نے میری تعریف کی ہے تو ایک عدد شکوہ کرکے اس تعریف کی پذیرائی کرنا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ آپ جذبات کی شدت میں بزرگوں کا لحاظ ملحوظ نہیں رکھتے ہیں۔ آزادئ رائے کا جو حق آپ کو میسر ہے وہ ادب و احترام کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔ اختلاف تو ہر دو شخص کے درمیان ہو سکتا ہے پر اس اختلاف سے نمٹنے کے بے شمار طریقوں میں سے کچھ شائستگی کے خطے سے ہو کر بھی گزرتے ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ عموماً آپ اپنے انداز کے باعث اپنے بعض ہم خیالوں کی ہمدردیاں اور تعاون کھو دیتے ہیں۔ ویسے یہ عام مشاہدہ ہے کہ آپ جیسے قدرے جذباتی لوگ بہت صاف گو ہوتے ہیں پر بہتری کی گنجائش تو ہر مشت خاکی میں ہوتی ہے جس سے کوئی مبرا نہیں۔
اللہ ہم سب کو عقل سلیم کی دولت سے نوازے۔ آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
کل والینٹرز کا عالمی دن تھا۔ آپ کی تحریر پڑھنا شروع کی تو اسی موضوع پر محسوس ہوئی لیکن آخر میں یہ احساس دم توڑ گیا۔ بہرحال! ساری بات نیت پر منحصر ہے۔ بہت سی ایسی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جنہوں نے مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق سے بالاتر ہوکر دوسروں کی مدد کی۔ دوسری طرف ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جو اے سی کے ٹھنڈے روم میں بیٹھ کر غریبوں کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد ہمارے معاشرے میں الحمدللہ کم ہی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
نفسیات دانوں نے کہا کہ انسان ایک سماجی جانور ہے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتا ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پہ جحگڑے تو بعد میں شروع ہوتے ہیں۔
تو دوسروں کی مدد کا جذبہ صرف دو خانوں یعنی نیکی اورخود نمائ میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ یہاں اور بہت سے عوامل بھی ہیں۔
دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو یوم جزا سزا پہ یقین نہیں رکھتے مگر مدد کرتے ہیں۔کچھ لوگ فطرتا خلوت پسند ہوتے ہیں مگر وہ بھی دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔
ہر جذبہ انسان کے دل پہ اسکی روح پہ اثر ڈالتا ہے اور دوسروں کی مدد بھی ایسا ہی جذبہ ہے جس سے انسان بہت دیر تک سرشار رہتا ہے۔ لیکن سرشاری کی یہ کیفیت نیتوں سے وابستہ ہوتی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ابن سعید صاحب آپنے بلکل درست فرمایا! مگر جب دل ذخمی ہوں اور ذخم دینے والے ان پر مزید نمک پاشی کریں تو حدود و قیود اور ادب آداب دم توڑنے لگ جاتے ہیں،وہ کہتے ہیں نا قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
ابن سعید جی پہلے تو دل سے آپ کی مشکور ہوں اتنا خوبصورت تبصرہ کیا کہ کچھ نہیں بچا کہنے کو ، جہاں سب ساتھیوں نے اپ سے اتفاق کیا وہاں میں کیسے انکار کر سکتی ہوں ۔اور جن الفاظ کو آپ نے موتیوں کی صورت میں یکجا کیا ہے وہ اپنی مشال آپ ہیں ۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ مجھے کسی پر شک ہے ۔ آجکل کچھ فیشن بن چکا ہے کہ لوگ اپنے پیسے کی نماہش کرتے ہوئے دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن میں نے محسوس کیا ۔ یا پھر یوں کہہ لیں کہ دل میں بات آئی تو سوچا آپ سب سے بھی شیر کر لوں ، امید ہے کہ آپ یوں ہی خوبصورت اور معلوماتی تبصروں سے ہمیں فیض یاب کرتے رہیں گے ۔ خوش رہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
عنیقہ بالکل درست کہا کہ کئی لوگ ہیں اور خاص کر یورپی ممالک میں جہاں کسی قسم کی تفریق کے بغیر لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ میں اس دن کو کبھی نہیں بھول سکتی جب پاکستان میں 8 اکتوبر کو زلزلہ آیا تھا ، میں نے خود ایک ایک گھر جا کر پیسے اکٹھا کیے تھے ۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ کس طرح لوگوں نے مدد کی اور ان میں سب سے آگے بوڑھے لوگ تھے ۔ اور ان میں ایسے بھی تھے کہ جو ہمارے اپنے ملک سے تعلق رکھتے تھے ۔ لیکن یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ بہت کچھ پاکستان کو مل چکا ہے ۔ دوسرے ممالک سے ۔ ہم تو وہاں رہتے نہیں ہیں ۔ اس لیے چندہ بھی دینے سے انکار کر دیا ۔ لیکن اپنی خریداری کرنے اور اپنے فیشن کے لیے کوئی کمی نہیں تھی۔ خیر یہ اپنی اپنی سوچ ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
عبداللہ جی اور محمد اسد جی بہت شکریہ آپ نے اس قابل سمجھا ۔ اللہ پاک ہمیشہ خوش رکھے آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم نیکی تو نیکی ہے چاہے وہ پیسے کی صورت میں ہو کہ اچھی بات کی صورت میں ۔ کسی کوہنسی دی جائے ۔ یا پھر کوئی اچھا مشورہ ہاں بار بار یہ کہہ کر کہ ہم نے یہ کیا ہم نے وہ کیا اپنی نیکی کو خود ضائع کرنے والی بات ہے ۔۔۔ باقی خرم مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ابن سعید اور اپ دونوں ایک ہی گاوں سے تعلق رکھتے ہو ۔ بہت خوش قسمت ہے وہ گاوں جہاں آپ دونوں جیسے مہان ہستی پیدا ہوہیں ۔ کیوں ٹھیک کہا نا ۔۔۔ ویسے آپ کو انکار کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
پہلی بات تو یہ کہ ستائش و پذیرائی پر ممنوں ہوں پر شکریہ کہہ کر اس احساس کو کم نہیں ہونے دوں گا۔ اور اپنی الجھن کا اظہار بھی کرنا چاہوں گا، ایا ایک ہی گاؤں سے ہونے والی بات کے پیچھے آپ کا مطلب نہیں سمجھ سکا یا آپ کو ہی ہمارے تبصرے مربوط کرنے میں کوئی مغالطہ ہوا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپی ایک ہی گاؤں سے کیا مراد :razz: ہم ایک ہی انداز کے مالک ہیں کاش میں اس گاؤں کا ہوتا جہاں کے ابن سیعد بھائی ہیں ذرہ توجہ فرمائیں میں پاکستان راولپنڈی کا ہوں اور جناب ابن سیعد بھائی انڈیا کے ہیں
خرم شہزاد خرم کے بلاگ سے آخری تحریر … ‘صریرِ خامۂ وارث’ ایک مکمل ادبی بلاف
اس تبصرے کا جواب دیں
ابن سعید جی ا ور خرم بھائی میرا مطلب گاوں سے وہ گاوں نہیں ہے جہاں ہم پیدا ہوئے ۔ یہاں اگر میں یہ کہہ دوں ۔ کہ میرے نزدیک گاوں بہت خوبصورت جگہ سے مراد ہے ۔ جہاں پر سکون محبت ۔ ایک دوسرے کے لیے جان تک دینا ہے ۔ تو غلط نہیں ہو گا ۔ میں نے آپ دونوں کو ویسا ہی سمجھا ۔ جو ایک دوسرے سے محبت ۔ خلوص ۔ اور عزت سے بات کرتے ہیں ۔ انڈیا یا پاکستان کے کسی گاوں کا ہرگز مقصد نہیں ہے ۔ اور جہاں تک ان دو ملکوں کا تعلق ہے تو بھی پہلے ساتھ تھے ۔ اب الگ ہیں تو کیا ہوا ۔ ہم جو زبان بول یا لکھ رہے ہیں اس کی تو کوئی سرحد نہیں ہے اور اظہار کے لیے کسی سرحد کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں