یہ نظم ہمارے ایک استاذ محترم طاہر سلفی کی ہے جو میرے پڑوس کے گاؤں میں رہتے ہیں۔ اور اس میں کچھ مزید بھی ہے جسے ہم باقاعدہ مکالمے کی شکل میں اکثر مدرسے کے سالانہ انجمنوں میں پیش کرتے تھے۔ بہر حال اس پورے مکالمے کا جو بامقصد حصہ ہے وہ یہی ہے۔
یہاں تو ایسے بھی مسلمان ہیں جو اللہ تعلی کو سو ماں جتنا پیار ملے گا جان کر بس گناہ کرتے ہیں کے اللہ تو معاف کرنے والا ہے ۔ ریحان کے بلاگ سے آخری تحریر … بڑی عید مبارک
یہ ایک اختلافی موضوع ہے اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے بحث کے ڈر سے میں بات نہیں کرنا چاہتا بس یہ سوچ کر حیرت ہو رہی ہے ایک ہندو کی فریاد ایک مسلم کے نام
کیا کوئی بتا سکتا ہے کے ہندو کون سا مذہب ہے
ایک دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی کہا تھا کہ میں ہندو ہوں خرم شہزاد خرم کے بلاگ سے آخری تحریر … ‘صریرِ خامۂ وارث’ ایک مکمل ادبی بلاف
یہ ایک اختلافی موضوع ہے اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے بحث کے ڈر سے میں بات نہیں کرنا چاہتا بس یہ سوچ کر حیرت ہو رہی ہے ایک ہندو کی فریاد ایک مسلم کے نام
کیا کوئی بتا سکتا ہے کے ہندو کون سا مذہب ہے ایک دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی کہا تھا کہ میں ہندو ہوں
خرم بحث کا مقصد اگر علم ہے اور کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی تو میرا خیال ہے ڈرنا نہیں چاہے یہاں سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور اگر ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاہیں کہ بات ہاتھ سے نکل جائے گی تو پھر کوئی بھی کسی کے بلاگ پر تبصرہ نہ کرئے ۔ میرے بھائی بات ضرور کرو ۔ جب میں نے یہ نظم پڑھی تو یقین جانو مجھے خود تھوڑی دیر کو احساس ہوا کہ کوئی غلط مطلب نہ لے لیے لیکن پھر جو حقیقت مجھے نظر آئی سو میں نے یہ نظم آپ سب کے سامنے رکھ دی ۔۔۔ نیت اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔
ابن سعید صاحب آپ کے استاذ داد کے مستحق ہیں کس خوبی سے انہوں نے آج کے مسلمانون کی حالت زار کا موازنہ ہندوؤں کے ساتھ کیا ہے اور حق کیا ہے!
کیا ہی اچھا ہوتا کہ اپ اس نظم کے بقیہ اشعار بھی لکھ دیتے!
لیتا ہے اوتار پربھو اپنا گر ہر دیش میں
آپ نے سمجھا خدا کو مصطفی کے بھیس میں
اس نظم کی روح ہے یہ شعر کیونکہ باقی شرک کے سوتے یہیں سے پھوٹتے ہیں
اقتباس» خرم شہزاد خرم نے لکھا: یہ ایک اختلافی موضوع ہے اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے بحث کے ڈر سے میں بات نہیں کرنا چاہتا بس یہ سوچ کر حیرت ہو رہی ہے ایک ہندو کی فریاد ایک مسلم کے نامکیا کوئی بتا سکتا ہے کے ہندو کون سا مذہب ہےایک دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی کہا تھا کہ میں ہندو ہوں
ڈاکٹر ذاکر نائک کے مطابق ہندو ایک جغرافیائی ٹرم ہے اور ہندوستان کے رہنے والے تمام لوگ اس لحاظ سے ہندو ہیں جیسے پاکستان کے رہنے والے تمام لوگ پاکستانی ہیں،مگر وہ اسے اپنی مذہبی پہچان بنائے بیٹھے ہیں!
اقتباس» SHUAIB نے لکھا: میں بولوں کہ سبھی مذاہب خود انسانوں کے ہی بنائے ہیںکیا ہندو کیا مسلمان سبھی ایک حمام میں ننگے ہیں
مزاہب انسانوں نے ضرور بنائے ہوں گے مگر دین تو اللہ نے بنایا اور انسانوں کے لیئے بنایا تاکہ انسان اور جانوروں میں تفریق ہوسکے!اگر اپ انسان ہین تو ضرور میری بات اپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی :cool:
عبد للہ بھائی باقی کے اشعار مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کیوں کہ بچپن کی بات ہے جب اسے پڑھتے تھے۔ ہاں وہ اشعار کچھ ایسے تھے جن سے مکالمے کا رنگ آتا تھا۔ مثلاً ابتداء یوں ہوتی ہے۔
آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے خاکسار
مدتوں سے اس حسیں لمحے کا تھا مجھے انتظار
اور مزید کچھ بھی تھا جس کے جواب میں کچھ ایسے مصرعے تھے۔
ایک سنی پختہ مومن اور اک کافر کہاں
اور شاید اس کے بعد جواب کچھ یوں تھا۔
پہلے سنئے بات میری پھر خفا ہوں اس قدر
گر غلط ٹھہرے تو جوتا آپ کا اور میرا سر
بہر کیف اس کے بعد سننے کی رضامندی ملتی ہے اور پھر مندرجہ بالا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اور اختتام میں یہ کہتے ہوئے بات ختم ہوتی تھی کہ۔
خیر اپنے مولوی سے پوچھ لیں گے ہم ضرور
کیا یہی تھا دین طاہر جس کو لائے تھے حضور
اگر کبھی مکمل مکالمہ مل گیا تو پیش کر دوں گا ان شاء اللہ۔
عبد للہ بھائی باقی کے اشعار مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کیوں کہ بچپن کی بات ہے جب اسے پڑھتے تھے۔ ہاں وہ اشعار کچھ ایسے تھے جن سے مکالمے کا رنگ آتا تھا۔ مثلاً ابتداء یوں ہوتی ہے۔
آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے خاکسار مدتوں سے اس حسیں لمحے کا تھا مجھے انتظار
اور مزید کچھ بھی تھا جس کے جواب میں کچھ ایسے مصرعے تھے۔
ایک سنی پختہ مومن اور اک کافر کہاں
اور شاید اس کے بعد جواب کچھ یوں تھا۔
پہلے سنئے بات میری پھر خفا ہوں اس قدر گر غلط ٹھہرے تو جوتا آپ کا اور میرا سر
بہر کیف اس کے بعد سننے کی رضامندی ملتی ہے اور پھر مندرجہ بالا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اور اختتام میں یہ کہتے ہوئے بات ختم ہوتی تھی کہ۔
خیر اپنے مولوی سے پوچھ لیں گے ہم ضرور کیا یہی تھا دین طاہر جس کو لائے تھے حضور
اگر کبھی مکمل مکالمہ مل گیا تو پیش کر دوں گا ان شاء اللہ۔
کیا بات ہے ابن سعید جی مزا آگیا باقی کے مل جاہیں ۔۔ انتظار رہے گا
اقتباس» خرم شہزاد خرم نے لکھا: یہ ایک اختلافی موضوع ہے اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے بحث کے ڈر سے میں بات نہیں کرنا چاہتا بس یہ سوچ کر حیرت ہو رہی ہے ایک ہندو کی فریاد ایک مسلم کے نامکیا کوئی بتا سکتا ہے کے ہندو کون سا مذہب ہے
ایک دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی کہا تھا کہ میں ہندو ہوں
خرم بھائی مجھے اس مکالمے کے خالق کی وکالت کی کوئی ضرورت تو نہیں پر دیکھ رہا ہوں کہ اپنے خرم بھیا کو اس میں اعتراضات ہیں لہٰذا مباحثہ تو نہیں ہاں بہمی مشاورت کے نام پر تھوڑی سی بات کر لینے میں کوئی ہرج نہیں۔
“ہندو” گرچہ اس مذہب کا درست نام نہیں بلکہ انھیں کے مشہور اسکالر سوامی وویکا نند تک نے اسے درست نہیں کہا ہے۔ پھر بھی یہ لفظ اب اس مذہب کی پہچان بن گیا ہے جسے مٹانا اتنا آسان نہیں۔ ویسے بھی اگر ویدک دھرم یا سناتن دھرم کہا جاتا تو شاید کئی لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو بھی یہ تو سمجھ میں آ ہی گیا ہوگا کہ ہندو کون ہیں؟ اگر ہاں تو بس مقصد حل ہوگا اور اس نظم کر کرداروں کو آپ باسانی سمجھ سکتے ہیں۔ نام کے حوالے سے علیحدہ بحث ہو سکتی ہے پر اس کا بہانہ بنا کر اصل موضوع سے فرار مناسب نہیں۔
دوسری بات یہ کہ نہ صرف اشعار کم پیش کئے گئے ہیں بلکہ اس کے عنوان میں بھی تحریف ہوئی ہے۔ اصل عنوان “مکالمہ دیوی دین بالے دین” تھا۔ غالباً ہوا یہ ہوگا کہ شائع کنندہ نے جب اس کے ابتدائی اور اختتامی اشعار نکالے ہونگے تو مکالمے کا رنگ جاتا رہا اور پھر دیوی دین بالے دین ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کو سمجھ میں آ سکتا ہے سبھی کو نہیں لہٰذا عنوان ہی بدل دیا ہوگا کہ پڑھنے والے کے سمجھ میں تو آئے۔ یہ میرا مفروضہ ہے ممکن ہے حقائق اس سے مختلف ہوں۔
خیر دیوی دین کا مطلب تو یہ ہے دیویوں دیوتاؤں کا مذہب جبکہ بالے دین ایک شخصیت کے نام سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک صاحب ہوتے تھے کسی دور میں جن کا نام تھا “بالے میاں” اور لوگوں کی بڑی تعداد ان کے مزار پر منتیں مانگنے اور حاجت روائی کے لئے جاتی تھی۔ لہٰذا اس طبقے کو اس مکالمے میں بالے دین کا نام دیا گیا تھا۔
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اس مکالمے میں جن جن باتوں کا موازنہ کیا گیا ہے کیا وہ درست ہیں۔ تو میں یہی کہوں گا کہ اس بات کو سمجھنے کے لئے اس مکالمے کے کرداروں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس مکالمے کے خالق اب خاصے بوڑھے ہو چکے ہیں نیز گاؤں سے تعلق ہے اور ان کے دور کے ذرائع ابلاغ کا آج کے وسائل سے کوئی مقابلہ ہی نہیں لہٰذا آپ ان کے مشاہدے کے محدود ہونے کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں انٹرنیٹ دستیاب ہے اور ہم مختلف سوشل نیٹورکس اور پورٹلز کے ذریعہ ایک بڑی کمیونٹی کا مشاہدہ کرنے کا موقع پاتے ہیں جس سے نہ صرف ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ رواداری بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یا آپ کسی کا مسلک غلط سمجھنے کے باوجود بھی زیادہ حجت نہیں کرتے بلکہ اس کی بات کو تحمل سے سنتے ہیں اور جس قدر ممکن ہو منصفانہ روایہ اختیار کرکے جواب دیتے ہیں۔ کیوں کہ کچھ اچھی اور کچھ غلط باتیں ہر کسی میں ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ ہم کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہماری بات سو فیصد درست جبکہ مقابل کی بات سو فیصد غلط ہے۔ یہ بات ایک محدود علاقائی مشاہدہ رکھنے والے شخص میں بھی پائ جائے یہ مشکل امر ہے۔
آپ شاعر بھی ہیں اس لئے یہ بھی جانتے ہونگے کہ کچھ مصرعے ضرورت شعری کے تحت ایسا رنگ لے لیتے ہیں جو عام طور پر شاید اس طرح نہ کہے جائیں۔
قبروں کی زیارت، مردوں کے حق میں دعاء تو عین اسلام ہے پر اس کی پوجا و حاجت روائی شاید کسی بھی اسلامی مسلک میں جائز نہ ہو۔ اور یہ مکالمہ ایسے ہی لوگوں کا رد ہے جنھیں مکالمے کے خالق راہ حق سے بھٹکا ہوا تصور کرتے ہیں۔
ان ساری باتوں کے باوجود ہم میں قبر پرستی کے ذرا سے بھی جراثیم ہیں تو یہ مکالمہ یا اس کے کچھ حصے ہمیں لمحہ فکریہ فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ نظم ہمارے ایک استاذ محترم طاہر سلفی کی ہے جو میرے پڑوس کے گاؤں میں رہتے ہیں۔ اور اس میں کچھ مزید بھی ہے جسے ہم باقاعدہ مکالمے کی شکل میں اکثر مدرسے کے سالانہ انجمنوں میں پیش کرتے تھے۔ بہر حال اس پورے مکالمے کا جو بامقصد حصہ ہے وہ یہی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں بولوں کہ سبھی مذاہب خود انسانوں کے ہی بنائے ہیں
کیا ہندو کیا مسلمان سبھی ایک حمام میں ننگے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
سمجھ والوں کے لیے ان اشعار کو پڑھنا شرت نہیں ۔۔
یہاں تو ایسے بھی مسلمان ہیں جو اللہ تعلی کو سو ماں جتنا پیار ملے گا جان کر بس گناہ کرتے ہیں کے اللہ تو معاف کرنے والا ہے ۔
ریحان کے بلاگ سے آخری تحریر … بڑی عید مبارک
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ ایک اختلافی موضوع ہے اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے بحث کے ڈر سے میں بات نہیں کرنا چاہتا بس یہ سوچ کر حیرت ہو رہی ہے ایک ہندو کی فریاد ایک مسلم کے نام
کیا کوئی بتا سکتا ہے کے ہندو کون سا مذہب ہے
ایک دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی کہا تھا کہ میں ہندو ہوں
خرم شہزاد خرم کے بلاگ سے آخری تحریر … ‘صریرِ خامۂ وارث’ ایک مکمل ادبی بلاف
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم بحث کا مقصد اگر علم ہے اور کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی تو میرا خیال ہے ڈرنا نہیں چاہے یہاں سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور اگر ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاہیں کہ بات ہاتھ سے نکل جائے گی تو پھر کوئی بھی کسی کے بلاگ پر تبصرہ نہ کرئے ۔ میرے بھائی بات ضرور کرو ۔ جب میں نے یہ نظم پڑھی تو یقین جانو مجھے خود تھوڑی دیر کو احساس ہوا کہ کوئی غلط مطلب نہ لے لیے لیکن پھر جو حقیقت مجھے نظر آئی سو میں نے یہ نظم آپ سب کے سامنے رکھ دی ۔۔۔ نیت اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ابن سعید صاحب آپ کے استاذ داد کے مستحق ہیں کس خوبی سے انہوں نے آج کے مسلمانون کی حالت زار کا موازنہ ہندوؤں کے ساتھ کیا ہے اور حق کیا ہے!
کیا ہی اچھا ہوتا کہ اپ اس نظم کے بقیہ اشعار بھی لکھ دیتے!
لیتا ہے اوتار پربھو اپنا گر ہر دیش میں
آپ نے سمجھا خدا کو مصطفی کے بھیس میں
اس نظم کی روح ہے یہ شعر کیونکہ باقی شرک کے سوتے یہیں سے پھوٹتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
ڈاکٹر ذاکر نائک کے مطابق ہندو ایک جغرافیائی ٹرم ہے اور ہندوستان کے رہنے والے تمام لوگ اس لحاظ سے ہندو ہیں جیسے پاکستان کے رہنے والے تمام لوگ پاکستانی ہیں،مگر وہ اسے اپنی مذہبی پہچان بنائے بیٹھے ہیں!
اس تبصرے کا جواب دیں
مزاہب انسانوں نے ضرور بنائے ہوں گے مگر دین تو اللہ نے بنایا اور انسانوں کے لیئے بنایا تاکہ انسان اور جانوروں میں تفریق ہوسکے!اگر اپ انسان ہین تو ضرور میری بات اپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی :cool:
اس تبصرے کا جواب دیں
عبد للہ بھائی باقی کے اشعار مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کیوں کہ بچپن کی بات ہے جب اسے پڑھتے تھے۔ ہاں وہ اشعار کچھ ایسے تھے جن سے مکالمے کا رنگ آتا تھا۔ مثلاً ابتداء یوں ہوتی ہے۔
آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے خاکسار
مدتوں سے اس حسیں لمحے کا تھا مجھے انتظار
اور مزید کچھ بھی تھا جس کے جواب میں کچھ ایسے مصرعے تھے۔
ایک سنی پختہ مومن اور اک کافر کہاں
اور شاید اس کے بعد جواب کچھ یوں تھا۔
پہلے سنئے بات میری پھر خفا ہوں اس قدر
گر غلط ٹھہرے تو جوتا آپ کا اور میرا سر
بہر کیف اس کے بعد سننے کی رضامندی ملتی ہے اور پھر مندرجہ بالا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اور اختتام میں یہ کہتے ہوئے بات ختم ہوتی تھی کہ۔
خیر اپنے مولوی سے پوچھ لیں گے ہم ضرور
کیا یہی تھا دین طاہر جس کو لائے تھے حضور
اگر کبھی مکمل مکالمہ مل گیا تو پیش کر دوں گا ان شاء اللہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کیا بات ہے ابن سعید جی مزا آگیا باقی کے مل جاہیں ۔۔ انتظار رہے گا
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم بھائی مجھے اس مکالمے کے خالق کی وکالت کی کوئی ضرورت تو نہیں پر دیکھ رہا ہوں کہ اپنے خرم بھیا کو اس میں اعتراضات ہیں لہٰذا مباحثہ تو نہیں ہاں بہمی مشاورت کے نام پر تھوڑی سی بات کر لینے میں کوئی ہرج نہیں۔
“ہندو” گرچہ اس مذہب کا درست نام نہیں بلکہ انھیں کے مشہور اسکالر سوامی وویکا نند تک نے اسے درست نہیں کہا ہے۔ پھر بھی یہ لفظ اب اس مذہب کی پہچان بن گیا ہے جسے مٹانا اتنا آسان نہیں۔ ویسے بھی اگر ویدک دھرم یا سناتن دھرم کہا جاتا تو شاید کئی لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو بھی یہ تو سمجھ میں آ ہی گیا ہوگا کہ ہندو کون ہیں؟ اگر ہاں تو بس مقصد حل ہوگا اور اس نظم کر کرداروں کو آپ باسانی سمجھ سکتے ہیں۔ نام کے حوالے سے علیحدہ بحث ہو سکتی ہے پر اس کا بہانہ بنا کر اصل موضوع سے فرار مناسب نہیں۔
دوسری بات یہ کہ نہ صرف اشعار کم پیش کئے گئے ہیں بلکہ اس کے عنوان میں بھی تحریف ہوئی ہے۔ اصل عنوان “مکالمہ دیوی دین بالے دین” تھا۔ غالباً ہوا یہ ہوگا کہ شائع کنندہ نے جب اس کے ابتدائی اور اختتامی اشعار نکالے ہونگے تو مکالمے کا رنگ جاتا رہا اور پھر دیوی دین بالے دین ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کو سمجھ میں آ سکتا ہے سبھی کو نہیں لہٰذا عنوان ہی بدل دیا ہوگا کہ پڑھنے والے کے سمجھ میں تو آئے۔ یہ میرا مفروضہ ہے ممکن ہے حقائق اس سے مختلف ہوں۔
خیر دیوی دین کا مطلب تو یہ ہے دیویوں دیوتاؤں کا مذہب جبکہ بالے دین ایک شخصیت کے نام سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک صاحب ہوتے تھے کسی دور میں جن کا نام تھا “بالے میاں” اور لوگوں کی بڑی تعداد ان کے مزار پر منتیں مانگنے اور حاجت روائی کے لئے جاتی تھی۔ لہٰذا اس طبقے کو اس مکالمے میں بالے دین کا نام دیا گیا تھا۔
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اس مکالمے میں جن جن باتوں کا موازنہ کیا گیا ہے کیا وہ درست ہیں۔ تو میں یہی کہوں گا کہ اس بات کو سمجھنے کے لئے اس مکالمے کے کرداروں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس مکالمے کے خالق اب خاصے بوڑھے ہو چکے ہیں نیز گاؤں سے تعلق ہے اور ان کے دور کے ذرائع ابلاغ کا آج کے وسائل سے کوئی مقابلہ ہی نہیں لہٰذا آپ ان کے مشاہدے کے محدود ہونے کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں انٹرنیٹ دستیاب ہے اور ہم مختلف سوشل نیٹورکس اور پورٹلز کے ذریعہ ایک بڑی کمیونٹی کا مشاہدہ کرنے کا موقع پاتے ہیں جس سے نہ صرف ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ رواداری بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یا آپ کسی کا مسلک غلط سمجھنے کے باوجود بھی زیادہ حجت نہیں کرتے بلکہ اس کی بات کو تحمل سے سنتے ہیں اور جس قدر ممکن ہو منصفانہ روایہ اختیار کرکے جواب دیتے ہیں۔ کیوں کہ کچھ اچھی اور کچھ غلط باتیں ہر کسی میں ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ ہم کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہماری بات سو فیصد درست جبکہ مقابل کی بات سو فیصد غلط ہے۔ یہ بات ایک محدود علاقائی مشاہدہ رکھنے والے شخص میں بھی پائ جائے یہ مشکل امر ہے۔
آپ شاعر بھی ہیں اس لئے یہ بھی جانتے ہونگے کہ کچھ مصرعے ضرورت شعری کے تحت ایسا رنگ لے لیتے ہیں جو عام طور پر شاید اس طرح نہ کہے جائیں۔
قبروں کی زیارت، مردوں کے حق میں دعاء تو عین اسلام ہے پر اس کی پوجا و حاجت روائی شاید کسی بھی اسلامی مسلک میں جائز نہ ہو۔ اور یہ مکالمہ ایسے ہی لوگوں کا رد ہے جنھیں مکالمے کے خالق راہ حق سے بھٹکا ہوا تصور کرتے ہیں۔
ان ساری باتوں کے باوجود ہم میں قبر پرستی کے ذرا سے بھی جراثیم ہیں تو یہ مکالمہ یا اس کے کچھ حصے ہمیں لمحہ فکریہ فراہم کر سکتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں اس بلاگ کا مشکور ھون جس کی بدولت مجھے فونیٹک کی بورڈ کا راستہ ملا
اس تبصرے کا جواب دیں
ڈاکٹر صاحب میں آپ کی مشکو ر ہوں کہ آپ آئے اور ہیمں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔ اللہ پاک خوش رکھے آمین
اس تبصرے کا جواب دیں