آنکھ میں کوئی آنسو نہیں
۔ صبح سب سے پہلا کام ٹی وی لگا کر یہ دیکھنا کہ پاکستان کس حال میں ہے میرے اپنے کیسے ہیں اور یہی کام فون کا بھی ہے جب فون بے وقت بجتا ہے تو دل سے یہی آواز آتی ہے میرا خدا خیر ہو میرے وطن اور میرے وطن میں رہنے والوں کی ۔ آج کوئی ایسی خبر نہ ملے جس سے سارا دن بے حسی اور اداسی میں گزر جائےشاہد کہ آج ٹی وی پر کوئی اچھی سننے کو مل جائے ۔ اور رات کو سونے سے پہلے بھی یہی حال ہے کہ آخری خبریں سن کر سویا جائے ۔ ہو سکتا ہے ہماری حکومت کی جانب سے کوئی اچھی تجویز سننے کو مل جائے ۔ لیکن کئی ماہ سے ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہر روز وہی خودکش حملے میں اتنے سے اتنے لوگ شہید ہوگے ۔ جن میں عام لوگوں سے لے کر سیکورٹی اہل کار شامل ہیں ۔اب تو بے حسی اتنی بڑہ گئی ہے کہ یہ خبر بھی عام سی خبر بن کر رہ گئی ہے کہ فلاں ہسپتال میں فلاں ڈاکڑ کے ہاتھوں ٣ سالہ معصوم بچی ہلاک ہو گی ۔۔
پہلے جب خودکش حملے ہونے شروع ہوئے تھے تو سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر آنسو برسات کی طرح برستے تھے۔ لیکن اب ان آنسووں کی جگہ ایک عجیب سی سوچ نے لے لی ہے ۔ وہی میں اور ٹی وی وہی خودکش دھماکے وہی بے گناہوں کے جسم کے ٹکڑے ۔ وہی خون وہی ماوں کی آو و زاری ۔ سب کچھ وہی ہے لیکن انکھوں میں آنسو کیوں نہیں ۔ رونے کو دل کیوں نہیں کرتا ۔ دکھ کے الفاظ کہاں گم ہو گے ۔غصہ اور حکومت کو برا بھلا کہنا کیوں چھوڑ دیا ۔کیوں اب ہاتھ دعا کو نہیں اٹھتے۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کو میں اپنے آپ سے کرتی ہوں لیکن جواب نہیں مل رہا ۔اور میری یہ پریشانی روزبروز بڑھتی جا رہی ہے ۔۔کیوں

AOA, aap ka blog daka, baat theek hai, mare pass he moonmarket mai damaka hooa, aur fifty se zayad death ho ge, daka nahi jata, Allah humre rahnumey fermay , ameen,
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ محمد فراز آپ آئے اب تو وہی حال ہے کہ کہتے ہیں دعا کرو لیکن کون کرئے ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
شاید ہم عادی ہوچکے ہیں اور یہی ہماری روایت بھی بن چکی ہے۔ پہلے آواز اٹھاتے ہیں، پھر چپ ہوجاتے ہیں اور پھر کسی اور معاملہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔
ابھی میں لقمان کا پروگرام دیکھ رہا ہوں۔ اور یقین جانیے اتنا رونا لاہور میں ہونے والے خودکش حملہ پر نہیں آیا جتنا اس کے بعد زخمی اور شہید ہونے والوں کے ساتھ ہونے والے واقعات سن کر آرہا ہے۔ :cry:
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد اسد بالکل درست کہا ہم عادی ہو چکے ہیں ۔ یا پھر اپنا آپ اتنا بے بس لگتا ہے ۔کہ کچھ سمجھ نہیں آرہی کیا کریں کہاں سے اس مسلے کا حل ملے گا ۔ موجودہ حکمرانوں سے تو کوئی امید نہیں ہے ۔۔ ماسوائے پرزور مزمت کرنے کے ۔۔ جو شہید ہوئے وہ تو سکون کی نیند سوئے گئے لیکن اپنے پیچھے کتنے بے سہاروں کو چھوڑ گے ۔ اس کا جواب کون دے گا۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں پوری زندگی کبھی آواز سے نہیں رویا صرف آنکھیں نم ہوتی ہیں ۔ برسات کبھی نہیں ہوئی ۔ اب آنکھیں نم ہونے کے ساتھ دِل روتا ہے اور میں کافی دیر تک بولنے کے قابل نہیں ہوتا ۔
یہ ظُلم اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میرے ہموطن متفرق قومیں قرار دینا چھوڑ کر اپنے آپ کو ایک خاندان ایک قوم نہیں سمجھتے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کڑوی کسَیلی
اس تبصرے کا جواب دیں
پاکستان میں یہ ہورہا ہے “سانحہ مون مارکیٹ لاہورکے بارے میں ایک شرمناک بات”
کچھ خواتین جن کے ہاں شادی تھی۔مون مارکیٹ کے بیوٹی پارلر میں میک اپ وغیرہ کی لئے گئیں۔انہوں نے قیمتی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اسی دوران دھماکہ ہوا تو میو ہسپتال لاہور میںاُن عورتوں کے وہ کپڑے چوری کر لئے گئے اور اُن کی برہنہ لاشیں لواحقین کے سپرد کی گئيں۔
اس تبصرے کا جواب دیں