آپ کو نہیں لگتا
میں نہیں جانتی کہ جو بات میں سوچ رہی ہوں کیا آپ بھی ویسا ہی سوچتے ہیں ۔ یا پھر میرا سوچنا غلط ہے ۔۔ پاکستان میں ایک دن کوئی خودکش حملہ نہیں ہوتا ۔ تو بڑا عجیب سا لگتا ہے ۔ یا پھر یہ سوچ کر کہ ہو سکتا ہے کوئی بڑا حملہ ہونے والا ہے پھر کوئی ٢٠٠ یا ٣٠٠ لوگ شہید ہونے والے ہیں ، کئی سو زخمی ۔۔ اور پھر وہی پر زور مزمت ۔ بات ختم ۔ اور نہ ختم ہونے والا یہ سلسلے کے ہم عادی بنتے جا رہے ہیں ۔ہر کوئی دوسرے کو چھوڑ کر اپنے لیے سوچتا ہے پشاور میں تباہی ہوئی تو لاہور والوں نے کہا کہ چلو اچھا ہے ۔ دشت گرد ابھی پشاور میں ہیں ۔ جب لاہور میں یہ سب کچھ ہونے لگا ۔ تو کراچی والے سکون سے تھے کہ وہاں تک دشت گرد نہیں پہنچ سکتے ۔ اور یہی حال کوئٹہ کا تھا ۔ وہاں جو کچھ ہوتا رہا پشاور والے اپنی دنیا میں سو رہے تھے۔۔ اب پورا ملک اس ناسور میں آچکا ہے لیکن ابھی تک عوام سوئے بیٹھے ہیں ۔ کوئی ریلی نہیں نکالی گئی کوئی جلوس کوئی ہرتال نہیں ہوئی۔۔ نا ہی اپنے ملک میں اور نہ ہی بیرون ملک رہنے والوں نے ایسا کچھ کیا ۔تاکہ میڈیا کے ذریعے پوری دنیا تک یہ پیغام پہنچایا جاتا ۔کہ پاکستان میں بھی فلسطین جیسے بےگناہ مارے جا رہے ہیں ۔اگر١٨ کڑور عوام ایک دن ایک وقت مقرر کرکے سڑکوں پر آجاہیں ۔موت تو ویسے بھی آ رہی ہے کیوں نہ وہ موت ماریں جس کے پیچھے کوئی مقصد چھوڑ جاہیں ۔تاکہ پوری دنیا کو یہ اندازہ ہوجائے پاکستانی عوام کسی امریکہ یا اپنے حکمرانوں کی غلام نہیں ہے ۔۔۔تھوڑا سا وقت نکال کر سوچیں ۔اگرآپ کو لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے کچھ ہوسکتا ہے ۔۔تو ایک آواز ہو کر اللہ کا نام لے کر اپنے مشین کو شروع کریں ۔ پھر دیکھیں اللہ پاک ہماری دعایں سنتا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

میں آپ کی تجویز کی حمایت کرتا ہوں
تو پھر آپ کب آرہی ہیں پاکستان
اس پر عمل کرنے کے لئے؟؟؟؟
جعفر کے بلاگ سے آخری تحریر … ڈائجسٹ، جگت اور ڈاکٹر اقبال!
اس تبصرے کا جواب دیں
میں پاکستان میں ہوں جعفر اگر حمایت کرتے ہو تو بتاو کون سی تاریخ کو اس تجویز کا آغاز کریں
اس تبصرے کا جواب دیں