باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دوسرے صحابہ پر فضیلت کا بیان
حدیث نمبر : 3655
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال كنا نخير بين الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فنخير أبا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضى الله عنهم‏.‏
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میںجب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قراردیتے ، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ۔
تشریح :    حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے مذہب جمہور کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمام صحابہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فضیلت حاصل ہے۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے اور خلف میں سے بھی اکثر نے یہی کہا ہے۔ بعض محققین ایسا بھی کہتے ہیں کہ خلفاء اربعہ کو باہم ایک دوسرے پر فضیلت دینے میں کوئی نص قطعی نہیں ہے، لہذا یہ چاروں ہی افضل ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تمام صحابہ میں یہ چاروں افضل ہیں اور ان کی خلافت جس ترتیب کے ساتھ منعقد ہوئی اسی ترتیب سے وہ حق اور صحیح ہیں اور ان میں باہم فضیلت اسی ترتیب سے کی جاسکتی ہے۔ بہر حال جمہور کے مذہب کو ترجیح حاصل ہے۔
اس باب کے ذیل میں بہت سی روایات درج کی گئی ہیں جن سے کسی نہ کسی طرح سے حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت نکلتی ہے۔ اس نکتہ کو سمجھ کر مندرجہ ذیل روایات کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے۔

حدیث نمبر : 3656
حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا وهيب، حدثنا أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ ولو كنت متخذا من أمتي خليلا لاتخذت، أبا بكر ولكن أخي وصاحبي ‏”‏‏.‏
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا جانی دوست بناسکتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے دوست ہیں
حدیث نمبر : 3659
حدثنا الحميدي، ومحمد بن عبد الله، قالا حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه، قال أتت امرأة النبي صلى الله عليه وسلم فأمرها أن ترجع إليه‏.‏ قالت أرأيت إن جئت ولم أجدك كأنها تقول الموت‏.‏ قال عليه السلام ‏”‏ إن لم تجديني فأتي أبا بكر ‏”‏‏.‏
ہم سے حمیدی اور محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ پھر آئیو ۔ اس نے کہا : اگر میں آوں اور آپ کو نہ پاوں تو ؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کررہی تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاسکو تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی آنا
حدیث نمبر : 3662
حدثنا معلى بن أسد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، قال خالد الحذاء حدثنا عن أبي عثمان، قال حدثني عمرو بن العاص ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل، فأتيته فقلت أى الناس أحب إليك قال ‏”‏ عائشة ‏”‏‏.‏ فقلت من الرجال فقال ‏”‏ أبوها ‏”‏‏.‏ قلت ثم من قال ‏”‏ ثم عمر بن الخطاب ‏”‏‏.‏ فعد رجالا‏.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد حذاءنے ، کہا ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا ( عمر و رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اورمیں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا ) سے میں نے پوچھا ، اور مردوں میں ؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے ، میںنے پوچھا ، اس کے بعد ؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے