باب : حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی کے فضائل کا بیان
وقال النبي صلى الله عليه وسلم لعلي ” أنت مني وأنا منك ”. وقال عمر توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنه راض.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
تشریح : امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوالتراب ہے۔ آٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور غزوہ تبوک کے سوا تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ یہ گندمی رنگ والے ، بڑی روشن، خوبصورت آنکھوں والے تھے، طویل القامت نہ تھے، داڑھی بہت بھری ہوئی تھی۔ آخر میں سر اور داڑھی ہردو کے بال سفید ہوگئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن جمعہ کو 18 ذی الحجہ 35 ھ میں تاج خلافت ان کے سرپر رکھا گیا اور 18 رمضان 40 ھ میں جمعہ کے دن عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے آپ کے سرپر تلوار سے حملہ کیا جس کے تین دن بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے آپ کو غسل دیا۔ حسن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ صبح کے وقت آپ کو دفن کیا گیا، آپ کی عمر 63سال کی تھی، مدت خلافت چار سال ، نوماہ اور کچھ دن ہے۔
عنوان باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق حدیث ” انت منی وانا منک “ مذکور ہے یعنی تم مجھ سے اور میں تم سے ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ تبوک میں جانے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میںچھوڑ گئے ان کو رنج ہوا، کہنے لگے آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جاتے ہیں اس وقت آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی یعنی جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کو جاتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا جانشیں کرگئے تھے، ایسا ہی میں تم کو اپنا قائم مقام کرکے جاتاہوں، اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ میرے بعد متصلا تم ہی میرے خلیفہ ہوگے۔ کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات میں گزرگئے تھے۔ دوسری روایت میں اتنا اور زیادہ ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہوگا۔
حدیث نمبر : 3701
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ” لأعطين الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه ” قال فبات الناس يدوكون ليلتهم أيهم يعطاها فلما أصبح الناس، غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجو أن يعطاها فقال ” أين علي بن أبي طالب ”. فقالوا يشتكي عينيه يا رسول الله. قال ” فأرسلوا إليه فأتوني به ”. فلما جاء بصق في عينيه، ودعا له، فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع، فأعطاه الراية. فقال علي يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا فقال ” انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم ”.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہاہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی علم دوںگا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا ، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئے علم کسے ملتا ہے ، جب صبح ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات ( جو سرکردہ تھے ) حاضر ہوئے ، سب کو امید تھی کہ علم انہیں ہی ملے گا ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایاکہ ان کی آنکھوں میں درد ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوالو ، جب وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی ، اس سے انہیں ایسی شفا حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھاہی نہیں ، چنانچہ آپ نے علم انہیں کو عنایت فرمایا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں ( یعنی مسلمان بن جائیں ) آپ نے فرمایا : ابھی یوں ہی چلتے رہو ، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاو کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں ، خداکی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں ( کی دولت ) سے بہتر ہے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ جہاں تک ممکن ہو لڑائی کی نوبت نہ آنے پائے، اسلام لڑائی کرنے کا حامی نہیں ہے، اسلام امن چاہتاہے، اس کی جنگ صرف مدافعانہ ہے۔
جزاک اللہ خیرٌ
آپ نے ماشاء اللہ بڑا اچھا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ کو مزید ہمت و استقلال بخشے ۔ آمین افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اخوت
جزاک اللہ خیرٌ
آپ نے ماشاء اللہ بڑا اچھا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ کو مزید ہمت و استقلال بخشے ۔ آمین
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اخوت
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار جی آپ کابہت شکریہ ۔ حوصلہ افزائی کرنے کا ۔ ایک کوشش کر رہی ہوں ۔ بس دعا کریں اگر غلطی ہو جائے تو اللہ پاک معاف فرمائےآمین
اس تبصرے کا جواب دیں