اصل مقصد کیا ہے ۔۔۔۔؟آپ کی رائے
ایک ای میل آئی یقینا آپ کے پاس بھی آئی ہو گی ۔ مجھے لگا کہ ہم بیکار باتوں میں اپنا اور دوسروں کا وقت کیوں برباد کرتے ہیں ۔ ہمارا اصل مقصد کیا ہے ۔ میں نے غلط سمجھا یا پھر سستی شہرت حاصل کرنے والے غلط کر رہے ہیں اس ای میل کو آپ کے سامنے لانے کا میرا مقصد آپ سمجھ گے ہوں گے ،
ایک عام سی عورت کو اتنی عظیم ہستی حضرت خدیجہ – رضہ ہم جس کے پاوں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں ۔ یوں مقابلہ کرانے کا مقصد کیا ہے۔
۔ یوں اسلام اور ہماری بیبیوں کا مذاق اڑانے والے کیا چاہتے ہیں ۔ اور پھر ہر ایک کو یہ ای میل بھج کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔مجھے تو ایک بچگانہ سی بات لگی ہے ،اگر میں غلط ہوں اللہ پاک مجھے معاف فرمائےآمین۔
حضرت خدیجہ – رض
بمقابلہ
کاکروچ لیڈی ڈیانا
کاکروچ لیڈی ڈیانا جو کہ ایک بین الاقوامی طوائف تھی اور جس نے (700) سات سو بوائے فرینڈ رکھے ھوئے تھے ، مسلمان عورتوں کی ھیرو کسی صورت میں نہیں ھو سکتی اور نہ ھی ھو گی ۔ کاکروچ لیڈی ڈیانا چونکہ خود ایک طوا ئف تھی ، اس لیئے اس کو ھیرو کے طور پر ماننے والی تمام عورتیں بھی طوائف ھی ھیں ، شریف عورتیں نہیں ۔
.
بی بی سی کو نفرت سے “کاکروچ بی بی سی” کہا جاتا ھے کیونکہ برطانیہ کو نفرت سے کاکروچ برطانیہ اور تمام انگریزوں کو نفرت سے شیکسپیئر کاکروچ کہا جاتا ھے ۔ اسی مناسبت سے لیڈی ڈیانا کو کاکروچ ڈیانا کہا جاتا ھے ۔
ساری کائنات کی اطلاع کے لیئے عرض ھے کہ دنیا کی نیک ترین عورت ، عالی مرتبہ حضرت خدیجہ رض ھیں اور کاکروچ لیڈی ڈیانا کڑوڑوں سالوں میں بھی ان کے اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتی

یہ ای میل ایک بیمار ذہن کی پیداوار ہے اسلئے توجہ کے قابل نہیں
اماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شخصیت عظیم تھی عظیم ہے اور عظیم ہی رہے گی
میرے نظریہ کے مطابق کسی غیر مُسلم کو بھی سوائے اس جُرم کے جو اُس نے کیا ہو کسی بُرے نام سے پکارنا ناپسندیدہ فعل ہے ۔ معاشرت کے اس پہلو پر میں اِن شاء اللہ عنقریب پانچویں ستوں کے تحت لکھوں گا ۔ اسلام کے چار ستونوں کيا مختصر جائزہ میں پیش کر چکا ہوں
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … Scuba TV
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ افتخار جی آپ نے درست فرمایا ۔ لیکن اس طرح کی ای میلز کو سامنے لانا بھی ضرور ہے ۔ پہلے تو جو الٍفاظ استعمال ہوئے وہ اتنے نازیبا ہیں ۔ چاہے ڈیانا جو بھی تھی ۔ کیا ہم کو زیب دیتا ہے کہ ہم گالیاں دے کر دوسرے کو برا ثابت کریں ۔ اماں خدیجہ کی تو بات ہی اور ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
کون گدھے کا بچہ کر رہا ہے یہ سب-
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیا بی بی
جو کوءی اس حرکت کا موجد ہے یقینا قابل نفرت ہے آپ اے نظر انداز کریں اور بی بی خدیجہ کا اسوہ حسنہ اپنانے کی کوشش کریں ۔ بی بی کی تعریف آپ نے اپنی تحریر میں کر دی ہے جزاک اللہ ۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو
محمد ریاض شاہد کے بلاگ سے آخری تحریر … پڑھے لکھوں والی بات
اس تبصرے کا جواب دیں
مجھے تو کوئی ای میل نہیں ملی
اس تبصرے کا جواب دیں
ایسی حرکات کرنے والوں جاہلوں پر لعنت ہو
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد ریاض جی بہت شکریہ اللہ پاک ہم کو توفیق عطا فرمائے ۔ ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم
رہے گا یوہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائے جل جانے والے
خرم ابنِ شبیر کے بلاگ سے آخری تحریر …
اس تبصرے کا جواب دیں
علی شاہ آپ کو میں ای میل فاروڈ کر دوں گی ۔ ۔ بالکل صحیح کہا فرحان ۔ اللہ سے دعا کرو نیکی کی توفیق عطا فرمائے ۔ خرم بہت خوب ۔ خوش رہو
اس تبصرے کا جواب دیں
میرا خیال ہے ایسی چیزوں کو نظر انداز کرنا چاہیے اور پھیلانے سے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ذیادہ بے ادبی نہ ہو اور ایسا کرنے والے پر لعنت ہو اللہ انکو دنیا میں عبرت ناک عذاب سے نوازے ۔ آمین
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … کھٹی املی
اس تبصرے کا جواب دیں
جہاں تک مجھے لگتا ہے یہ بیمار ذہن کے لوگ ایسے کام کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ہوا دے کر مسلمانوں کا امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور ہماری اکثریت ان کے ہاتھوں استعمال بھی ہو رہی ہے۔ جیسے خاکوں والی بات پر ہوا۔ گستاخی انہوں نے کی اور ہمارے لوگوں نے اپنے ہی ملک اور اپنے ہی شہروں کو جلا ڈالا اور کئی غریب لوگوں کے کاروبار برباد کر دیئے۔
یہ بڑا مشکل لمحہ آن پہنچا ہے ہمیں یہاں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔
ایم بلال کے بلاگ سے آخری تحریر … جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ
اس تبصرے کا جواب دیں
میں جناب بلال جہاں صاحب کی بات اور خیال سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس وقت صہیونی صلیبی اور ہندو ہمارے جذبات کو ابھارتے ہیں اور ہمیں خود ہمارے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں۔ الم ناک بات تو یہ ہے کہ ایسا اؔج سے نہیں بلکہ صدیوں سے ہو رہا ہے ۔اور المیہ یہ ہے کہ جب کچھ مفاد پرست نام نہاد رہنما ہمارے جذبات کو بڑھکا کر ہمیں ہمارے خلاف ہی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔اس وقت معدودے چند معتدل مزاج مخلص لیڈر بھی ہوتے ہیں اور وہ مخلص لیڈر ہم امت مسلمہ کو اعتدال اور ہوش سے کام لینے کی تلقین کرتے ہیں مگر ہم جذباتی مسلمان قوم ان کی نہیں سنتے بلکہ بے عقل جذباتی اور عجلت پسند عناصر کی پیروی کرتے ہیں یوں اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔
ماضی بعید میں ہمارے معتدل مزاج لیڈر سر سید احند خان تھے ۔وہ حقیقت پسند اور معتدل مزاج تھے۔ انہی کی مخلص کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اؔج ہمارے پاس پاکستان ہے۔اس کے بعد ہماری جذباتی غلطیوں کی ایک لمبی داستان ہے اسے مختصر کرتے ہوٕیے میں یہی عرض کروں گا کہ ہمیں جذبات کو علم اور حکمت کے تحت رکھنا چاہیے اسی میں ہماری فلاح ہے۔
اور علم و حکمت ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے ہی حاصل ہوتی ہے ۔ وما علینا الالبلاغ؛؛؛
اس تبصرے کا جواب دیں