ڈاکٹر عافیہ کے لیے ہی کیوں ؟
ویسے تو میں کچھ دنوں سے مصروف تھی پوسٹ نہیں لگا سکی ۔ لیکن جب بار بار ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں پڑھا اور ٹی وی پر دیکھا تو یہ سوال خود اچھل اچھل کر جواب کے انتظار میں بیٹھا ہے
کہ پاکستان میں کتنی بیٹیاں کتنی خواتین ہیں جو روز ظلم کا شکار ہوتی ہیں ۔روز انکے سر ننگے کیے جاتے ہیں سر عام ان کی عزت کا جنازہ نکلا جاتا ہے ۔ معصوم بیچوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کوموت کے گھاٹ اترا جاتا ہے ۔ پھر ایک عافیہ ہی کیوں ۔ ؟ اس لیے کہ وہ امریکہ میں قید ہے بڑا ملک ہے اسی حساب سے بار بار میڈیا اور لوگ اس کی طرفداری کر رہے ہیں۔ اگر انسانیت کا انتا ہی خیال ہے تو سب سے پہلے اپنے ملک میں ہونے والے ظلم روکو ۔ اگر طاقت ہے تو معصوم بچیوں کو درندوں کی حوص کا نشانہ بنانے سے بچاو ۔ وہ مرد جو اپنے ملک کی عورت کی عزت کا محافظ نہیں بن سکتا ۔کسی عافیہ کا وکیل نا بنے ۔

یہ تو حضرت عیسی کی بات جیسی بات ہوگئی کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی یہ برا کام نہ کیا ہو ! :shock:
اس طرح تو عافیہ کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں میں خاصی کمی واقع ہوجائے گی خاص کر حکمراں کیسے بولیں گے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
پاکستان کی ان بیٹیوں کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے جو پاکستان میں ہے۔ بجا ۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ان کے حق میں نہ صرف آواز اٹھائی جاتی ہے بلکہ ہمارے لبرل طبقے کی این جی اوز کی دکانیںبلکہ ان کے شاہانہ اخراجات بھی اسی سے پورے ہوتے ہیں۔ عافیہ کا کیس کہاںمیڈیا میں؟ اگر یہ سب کچھ ایک امریکی بیٹی کے ساتھ ہوا ہوتا تو پھر آپ دیکھتیں کیا میڈیا کوریج کیا ہوتا ہے۔ میں میڈیا انالیسز کے شبعے سے گزشتہ دو سال سے وابسطہ ہوں اور میں عافیہ صدیقی کے ساتھ ہونے والے ظلم کو دکھانے کے لیے جو کوریج دی گئی ہے اس کو 30 فی صد کہہ سکتا ہوں ۔ ویسے عافیہ کو بریکٹ کیے بغیر آپ نے پاکستان کے اندر ہونے والے مظالم کو کتنا ہائی لائٹ کیا ہے؟
تلخاببہ کے بلاگ سے آخری تحریر … بلیک واٹر سے ڈرنے والی قوم کی ‘بہادر‘ بیٹیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ صاحب عافیہ کے ایشو کو انڈرمائن کیے بغیر آپ نے کتنا لکھا ہے کہ باقی پاکستانی خواتین کے اوپر ہونے والے ظلم کے بارے میں؟
ظلم ظلم ہے چاہے امریکا میں ہو یا پاکستان کے اندر چاہے مسلمان پر ہو یا کسی غیر مسلم پر لیکن عافیہ صدیقی پر تشدد اور اس کے خلاف فیصلہ صرف ایک عورت کے خلاف فیصلہ نہیں ہے ، اگر کبھی غورفرمائیں تو معلوم ہوگا کہ وہ ایک مسلمان عورت پر دہشت گردی کے عالمی مرکز امریکا کا تشدد ہے ۔ پاکستانی عورت پر جو ظلم ہے وہ ظالموں کا مظلوم کے اوپر ظلم ہے جس پر مجرموں کو سخت سزا دے کر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں سے تعصب پر مبنی فیصلہ کے محرکات اور نتائج کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ویسے میرا تو خیال ہے کہ عافیہ صدیقی کو دیا جانے والا کوریچ 20 فی صد بھی نہیںتھا۔ ٹی وی چینلز نے تو جو نمایاںکوریج اس وقت دی جب 98 فی صد پاکستان سو رہا تھا۔
حیرت ہے آپ کو کوریج پر حیرت ہوئی اور اس بات کو نوٹس نہیں کیا کہ حقوق نسواں کے نام پر اپنی دکان چمکانے والے اس مسئلے پر کیوں خاموش ہیں؟ عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی َ کشور ناہید وغیرہ کہاں لاپتا ہیں؟ کیا ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرانی پڑے گی؟
تلخاببہ کے بلاگ سے آخری تحریر … بلیک واٹر سے ڈرنے والی قوم کی ‘بہادر‘ بیٹیاں
اس تبصرے کا جواب دیں
تمعذرت کیساتھ، لخابہ اور ان سے منسلکہ لوگ صرف اپنی مارکیٹنگ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ملک کے اندر عورتوں اور قوم کی بیٹیوں کیساتھ کیا ہوتا ہے اس پہ گفگگو کر کے انہیں بھلا کیا شہرت ملے گی ۔ امریکہ اور اسکے حواریوں کو بھلا اس سے کیا دلچسپی کہ کوئ نائلہ یا شمائلہ پاکستان کے کسی قصبے میں اپنی عزت کیوں بیچ رہی ہے، کسی گیارہ سالہ لڑکی شادی کیوں اسی سال کے بڈھے سے ہو رہی ہے، لڑکیوں میں تعلیمی رھجان کیوں اتنا کم ہے۔ پاکستانی خواتین کی اکثریت کیوں اپنے دماغ سے سوچنے کی اور اپنے حالات زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ البتہ اگر آپ یہ موضوع چھیڑیں گی تو آپ کا ناطہ کسی این جی او سے جوڑ کر آپکی دھجیاں اڑائ جائیں گی۔ فی الحال تو انہیں عافیہ کے کیس پہ تندہی سے کام کرنے دیں۔ کہیں ذاتی شہرت اور سیاسی فائدے کے مواقع ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو افغانساتان کی جہاد کی فکر میں لوگوں کو اپنی جان قربان کروانے کے لئیے تیار کرواتے رہتے ہیں، لیکن اپنے ملک میں لوگ کیوں خود کشی کر رہے ہیں اسکے لئے کسی این جی او کو کام کرنا چاہئیے۔ کیونکہ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ملکی مسائل ہمارا مسئلہ نہیں ہیں۔ ہمارے مسائل وہ ہیں ۔ ہمارے مسائل میں سر فہرست، افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت قائم کروانا، امریکہ میں مسلمان ڈاکٹر عافیہ کی رہائ کے لئے تحریک چلانا، فرانس میں مسلمان خواتین کےحجاب کی پابندی کے خلاف تحریک چلانا۔
اور اگر ہمیں اس سے فرصت کے چند لمحے ملیں تو کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی کی تحریک کے خلاف مصروف رہنا۔ اور ملکی طالبان کی پیٹھ ٹھونکتے رہنا کہ آپ اس وقت ملک میں رجعت پسندی کی علامت ہیں۔ واللہ اگر آپ صرف خود کش حملوں کے مشغلے سے نجات پا لیں تو ہمیں جو ہلکی سی شرمندگی آپکی حمایت میں ہوتی ہے اس سے بھی نجات مل جائے۔
اب آپ نے اتنے عظیم مقامات و آہ فغاں میں کیوں ہاتھ ڈالدیا۔ چہ پدی چہ پدی کا شوربہ۔میری دعائیں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ ہیں۔ خدا انکی جلد رہائ کے امکان پیدا کرے۔ تاکہ ہمارے با غیرت سپوت غیر ملکی این جی اوز کو ملک میں بے راہ روی پھیلانے کے بجائے یہ کام خود اپنے دست مبارک میں لیں اور ڈاکٹر عافیہ کو پتہ چلے کہ وہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گئ ہیں۔
درپردہ تو مجھے لگتا ہے کہ عافیہ کی رہائ کے لئے کام کرنے والے دل ہی دل میں سوچتے رہتے ہیں کہ خدا نہ کرے ایسا ہوگیا تو پھر کسی دوسری عافیہ کا بندو بست کیسے ہوگا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
او بی بی جی کہیں سے تو شروع هو گا ناں جی
کوئی کیس تو پہلا هو گا ناں جی کہیں سے هی سہی شروع تو هو لینے دیں
باقیوں کی بھی باری آ هی جائے گی
باقی جی عورت تو ہے هی مظلوم ایک تھپڑ کو بھی اتنی تفصیل سے بیان کرتی ہے که . . . . .
اس یه رویه چھوڑیں که جب بھی کوئی لوگ کوئی کام شروع کریں ان پر تنقید شروع کردیں
آپ اس بات کا خیال رکھیں کیا مثبت کیا ہے اور منفی کیا
مثبت کرنے والوں کو چھوڑ دیں اور منفی والوں پر تنقید کر لیں
ورنه آپ کا حال بھی اس بڑھیا جیسا هو گا جس کو گرمیوں کی چاندنی میں چھت پر سلانے پر بڑھیا نے ساری رات دھوپ میں سلانے کا واویلا شروع کردیا تھا
اب سننے والوں کا ھاسا نکل گیا که رات اور دھوپ
ایک بات کا خیال رهے که میری یه تنقید آپ کی تحریر پر ہے . آپ کی ذات پر نهیں اس لیے براھ مہربانی مجھے رگڑ نا نہیں جی
آپ کا مخلص
خاور (پینڈو)
خاور کے بلاگ سے آخری تحریر … زبان یار من
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی
خاور بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
ویسے میرے خیال میں ملک کے اندر جو ناانصافی ہو رہی ہے اس پر بھی آوازیں اٹھائی جاتی ہیں، لیکن اکثر آواز اٹھاانے والے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جو لوگوں کی مشکلات کو اپنے حق میں کیش کرنا چاہتے ہوتے ہیں، اگر کسی تکلیف دور کرنے سے ایسے لوگوں کا کوئی فائدہ نہ ہو رہا ہوتو وہ خاموشی سے گھر میں بیٹھ کر انگریزی فلم دیکھتے ہیں۔
دنیا مطلب دی اے جی
اس تبصرے کا جواب دیں
ٹھیک کہتی ہیں، بھاڑ میں ڈالو عافیہ صدیقی کو، ہم ویسے ہی عافیاؤں میں خود کفیل ہیں، ہر گلی میں ایک نئی عافیہ موجود ہے تو ایک ایسی عورت کے بارے میں کیوں درد سر لیں جو امریکہ کی قید میں ہے۔ جس کو بغیر کسی ثبوت کے مجرم تک قرار دے دیا گیا ہے، جس کی ہر مرتبہ برہنہ تلاشی لی جاتی ہے، جس کو دوران قید کئی مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا، جس کے بچے بھی چھین لیے گئے۔ المیہ صرف یہ نہیں المیہ یہ بھی ہے کہ وہ کوئی گاؤں کی رہنے والی جاہل عورت نہیں بلکہ امریکہ ہی کے ایک تعلیمی ادارے سے پڑھ لکھ کر باہر نکلنے والی عورت ہے، جو معاشرے کی ترقی کا اہم عنصر یعنی پڑھے لکھے طبقے کی ایک اکائی ہے۔ خیر! ہمیں کیا لینا دینا ہمیں تو وہ ہزاروں مکھیاں چاہئیں، جو کسی کام کی نہیں، ہمیں اس ایک شہد کی مکھی سے کوئی سروکار نہیں۔ کبھی یہ بھی غور کیجیے گا کہ یہاں کی جو خواتین مظالم کا شکار ہیں ان کی زندگیاں خراب کرنے والا انسانی حقوق کا چیمپین ہونے کا دعویدار نہیں جبکہ عافیہ صدیقی کی زندگی کو موت سے بدتر بنانے والا دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ کبھی ہو سکے تو اس پہلو پر بھی غور کیجیے گا۔
ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگ قارئین سے رابطہ، آسان ترین ذریعہ
اس تبصرے کا جواب دیں
جی نہیں مجھے اس پہ اعتراض نہیں کہ عافیہ کے حق کے لئیے احتجاج کیا جائے۔ مجھے اس چیز پہ اعتراض ہے کہ اس حق کے لئے باتیں بنانے والے وہ ہیں جو خود اس قسم کے کسی اور حق پہ یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی اس کے لئےجدوجہد کرتے ہیں۔ آپ نے صحیح کہا کہ یہ وہاں ہوا جو حقوق انسانی کا علمبرادر ہے اور جو اسکے خلاف بولنے والے ہیں اس لءیے اس احتجاج کی حقیقت یہ ہے کہ حب علی میں نہیں بغض معاویہ میں ہو رہا ہے۔ ظلم کرنیوالے بھی اس بات سے واقف ہے۔ اور انکو اس سیاسی احتجاج کی کیا فکر ہو سکتی ہے۔ وہ جانتے ہیں آپ کتنے پانی میں ہیں۔ ورنہ معاشرے کی پڑھی لکھی عورت ہو یا جاہل یہی لوگ اسکے ساتھ یہاں کیا سلوک کرتے ہیں یہ کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جب سوات میں کسی عورت کو کوڑے پڑتے ہیں تو یہی عناصر فرماتے ہیں کہ وہ ویڈیو جھوٹی ہے، اس عورت کا کچھ قصور ہوگا، یہ ایک شرعی سزا تھی اور اسی طرح کے مزید بہانے۔ کیوں یہ سلوک اس عورت پہ امریکہ میں ہوتا تو آپ سب اسی طرح اس ویڈیو کو جھوٹی قرار دیتے ۔ یعنی اگر کسی کو آپ لوگوں سے کچھ کروانا ہو تو کسی طرح اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو امریکہ سے وابستہ کر دیں۔ بس جناب سب کی غیرتیں جاگ اٹھیں گی۔۔
جبکہ آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ فی الواقعہ ان خاتون کیساتھ ہوا کیا ہے۔ لیکن جبکہ آپ جانتے تھے کہ سوات میں اس عورت کیساتھ کیا ہوا۔ لیکن آپکو اس وقت اس سے غرض نہیں تھی۔ بھاڑ میں جائے وہ عورت اور اس جیسی مزید جہنمی عورتیں۔
میرے محترم ساتھیوں، آپکی یہ ادائیں یہی نتائج لاتی ہیں جو لا رہی ہیں۔ اخلاقی اصولوں کی یہ دوہری شکل آپ اپناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا ہوتا ہے اور ہم متحد نہیں اور دوسرے ہمارے ساتھ یہ زیادتی کرتے ہیں۔ کیا کہنے والے نے صحیح نہیں کہا تھا کہ سب برابر ہیں مگر بعض ، بعضوں سے زیادہ برابر ہیں۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہمارے یہاں برابری کی سطحیں اپنے آپ سے باہر نکل کر تلاش کی جاتی ہیں۔
اور وہ جو سمجھتے ہیں کہ یہ کسی چیز کا آغاز ہو رہا ہے اور کہیں سے تو آغاز ہو۔ تو انہیں بھی جلد یا بدیر یہ پتہ چل جائیگا کہ یہ کسی چیز کا آغاز نہیں ہے یہ تو اپنے اپنے نام کو چمکانے کا معرکہ ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
“او بی بی جی کہیں سے تو شروع هو گا ناں جی”
خاور صاحب شروع کرنا ہے تو گھر سے شروع کريں- گھر کی بات تو آپ گول کر جاتے ہيں؛
Lahore, Muslim lawyers will “burn alive” anyone who defends murdered 12 year old Christian
http://www.asianews.it/news-en/Lahore,-Muslim-lawyers-will-burn-alive-anyone-who-defends-murdered-12-year-old-Christian-17559.htm
منافقت کی حد ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
کم ازکم آفيہ کو ڈيفينس وکلا تو ميسر ہيں، ان مسيحيوں کا مقدمہ کون لڑرہا ہے؟ اور آفيہ کے ليئے شور مچانے والوں کو اپنی ناک کے نيچے نظر کيں نہيں آرہا؟
Muslims Burn Christians Alive In Pakistan
http://www.youtube.com/watch?v=hSrpf5vRyuM
اس تبصرے کا جواب دیں
اپنے ہاں تو مذہب کے نام پہ ظلم کی سيل لگی ہے جسے يار لوگ مسلسل نظر انداز کرنا چارہے ہيں؛
Pakistan: Human rights activist jailed on blasphemy charge for objecting to the destruction of a church
http://www.petitiononline.com/HAleem/petition.html
اس تبصرے کا جواب دیں
اگر یہ ڈاکٹر عافیہ امریکل میں نہ ہوتی پاکستان میں قیدی ہوتیں انکے ساتھ زیادتی ہوتی ۔ پاکستانی پولیس سے لے کر وزیر تک انکے پاس جاتے اس کو اپنی حوص کا ناشنہ بناتے۔تو پھر میں ہمارے لیڈارن کیا کرتا ۔ اور عوام کیا اس پاکستانی قیدی عافیہ کو رہائی دلاواسکتے ۔ انکے لیے یہی سب کچھ کرتے جو امریکہ میں بیٹھی عافیہ کے لیے ہو رہا ہے ۔ اور کیا ایک عافیہ کو رہائی مل جانے کے بعد ہمارے ملک میں سب نیک ہو جاہئں گے ۔ کسی بہن بیٹی کی عزت پر کوئی حرف نہیں آئے گا ۔ اگر مردوں کے اس معاشرے میں ہمیں یقین دلایا جائے تو ہم بھی آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملانے کو تیار ہیں ۔۔۔ہمارا المیہ یہ ہے ۔ ایک بات کے پیچھے پڑہ جاہیں تو اس کا انجام کیسا بھی ہو بغیر سوچے سمجھے چل پڑتے ہیں ۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بالکل جی آپ نے بالکل ٹھیک لکھا
بلکہ میںتو کہتا ہوں کہ عافیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو بھی ریلیز کردینی چاہئے امریکیوں کو۔۔۔
اور اسے لبرل ازم اور سیکولرازم کے ثبوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے
اور حقوق انسانی کے سلسلے میں بھی صرف عورتوں کے حقوق پر ہی آواز اٹھانی چاہئے
چاہے ایک دن میں ستر ستر بندے پھٹٹر کر دئیے جائیں، سیاسی جاگیر پر قبضے کے لئے
ان کا تو کوئی حق انسانی نہیںہوتا ناںجی۔۔۔
ان کے پیچھے جو بیوائیں اور مائیں روتی رہ جاتی ہیں، وہ بھی عورتیں نہیںہوتیں۔۔۔ شاید تیسری جنس سے تعلق ہو ان کا
اور عافیہ کو تو جی ایسے ہی عبرت کا نشان بنانا چاہئے، بلکہ اس کے جو بچے بچ گئے ہیںان کو بھی مار دینا چاہئے، سانپ کا بچہ بھی تو سانپ ہی ہوتا ہے ناںجی۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جعفر صاحب، لبرل ازم اور سیکولیرزم کے محدود دائرے سے باہر بھی نکلیں۔ یہ طریقہ ء کار خاصہ پرانا ہو گیا ہے کہ جس کسی نے معاشرے کی دقیانوسیت پہ بات کی اس پہ اس طرح کے لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور اگر آپ اپنی سوچ کے دائرے کو وسیع کریں تو بات صرف عورتوں کے حقوق کی بھی نہیں ہے۔ یہ اس معاشرے کی دوغلی سوچ ہے۔ جہاں چیزیں اگر آپکے نظرئیے سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو وہاں آپکی زبان خاموش اور جہاں آپکے دشمن پہ وار کرنے کا موقع ہو وہاں آپ ان اصولوں کی بات کرتے ہیں جن پہ آپ کو یقین نہیں ہوتا۔
آپ واقف ہیں عافیہ کی تاریخ سے یا بس آپکی غیرت اس بات پہ جوش کھا رہی ہے کہ اسے امریکنز نے اپنی ہوس کا نشانہ
بنایا کسی پاکستانی نے کیوں نہیں بنایا۔ اگر وہ پاکستان مین ہوس کا نشانہ بنتی تو بھی آپکو اعتراض نہین ہوتا۔ آپکو پاکستان میں
اسکے ساتھ زیادتی پہ صرف ایک صورت میں اعتراض ہوتا اور وہ یہ کہ وہ سر پہ اسکارف پہنتی،
کسی دائیں بازو کی پارٹی سے انکا تعلق ہوتا۔ وہ آپکے مذہب کو اپنی شناخت کے طور پہ استعمال کرتی۔ پھر وہ چاہے کچھ صحیح کرتی یا غلط آپ کی آواز اسکے ساتھ ہوتی۔معاف کیجئیے گا آپ سب اپنی نظری فکر کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہوتے اور دوسروں کو اس بات کا طعنہ یتے ہیں جنکے وہ خطا وار بھی نہیں ہوتے۔
آپ نے آج تک نہیں بتایا کہ طالبان لوگوں کے گھروں میں گھس کرمال و متاع لوٹ کر لیجاتے ہیں اور گھر میں موجود عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہیں۔ علاقے میں بھگدڑ مچ جاتی ہے اور جب لوگ ریوڑ کی صورت میں بھاگتے ہیں تو اس افراتفری میں طالبان عورتوں کو گھسیٹ لیتے ہیں۔ ایسی لا پتہ ہونے والی عورتوں کا کوئ ریکارڈ نہیں اور انکی کوئ پوچھ نہیں۔ انکے بچے، بچے نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ کسی امریکن کے ہاتھوں اس ظلم کا شکار نہیں ہوتیں۔ یہ سب باتیں مجھے کسی مغربی میڈیا کے ذریعے یا این جی اوز سے نہیں پتہ چلیں۔ یہ سب باتیں، مجھے وہاں کے ایک رہائشی پٹھان نے بتائیں۔
یہ عورتیں کیا تیسری جنس سے تعلق رکھتی ہیں یا انہیں عبرت کا نشان بنایا جا رہا ہے۔ ان کی حمایت میں بھی آپکے قلم کے تیر چلنے چاہئیں۔ لیکن آپ چلائیں گے تو یا تو ایم کیو ایم پہ یا عافیہ کے لئیے۔
حیرت کی بات ہے کہ امریکنز جنہیں کسی کو مارنے میں کوئ تامل نہیں ہوتا، جنہوں نے اپنے مخالفین کو اتنی صفائ سے صفحہ ء ہستی سے مٹا دیا۔ وہ عافیہ کو اتنی رعایت دیتے ہیں کہ کہ پچھلے آٹھ سال سے اسکے تمام کوائف کا علم ہونے کے باوجود اسے نہ صرف زندہ رکھا بلکہ عدالتی کارروائ بھی کی اور اب سزا بھی سنادی۔ شاید کسی دن رہا بھی کر دیں گے جیسے بیت اللہ محسود کو رہا کر دیا تھا۔
لیکن نہیں جناب، آپ ابھی کراچی سے باہر بیٹھ کر صرف کراچی میں سانپوں کا خاتمہ کیجئیے یہ آپکی دودھ کی پیالی میں اپنی زبان ڈالتے ہیں۔ یا ان لوگوں پہ تبرہ کرتے رہیں جو کہتے ہیں کہ اپنی حالت تو سدھارو۔
جب مقامی خواتین پہ ظلم کی بات ہو تو پھر جنسی زیادتی کی ویڈیوز کی بات کریں۔ وہ قوم جو فحش سائیٹس دیکھنے میں گوگل میں بہترین پوزیشن حاصل کرتی ہے اور جہاں ہر تھوڑے دن بعد کوئ نہ کوئ گینگ ریپ ضرور ہوتا ہے اور جہاں جنسی زیادتی اور تشدد کا شکار ایک تین سال کی بچی بھی ہوسکتی ہے وہاں عافیہ کی جنسی تشدد کی ویڈیو پہ آپکی غیرت کو جوش آنا بڑے تعجب کی بات ہے۔
حیرت ہے کہ اپ نے سوات میں عورت پہ برستے کوڑے کو نہ دیکھا، نہ کبھی اسکے متعلق لکھا۔ جب چار مردوں کی ٹآنگوں کے نیچے دبی ایک عورت انصاف کے لئے چیخ رہی تھی تب آپکو خیال نہ آیا کہ اسکے خلاف بھی اسی جذبے سےلکھنا چاہئیے۔ یہ کون سا تعصب ہے یا گروہ بندی۔
چلیں ، خاور صاحب کے خیال میں مجھے اور تمام پاکستانی مظلومین کو خیال کرنا چاہئیے کہ کہیں سے تو آغاز ہوا۔ اب دیکھیں یہ آغاز ہی اختتام ثابت ہوتا ہے یا یہاں سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا ہے۔ تمام پاکستانی مظلومین آپکی نگاہ کرم کے منتظر ہیں۔
عنیقہ ناز کے بلاگ سے آخری تحریر … نئے افکار کا حصول اور انکی ترویج-۳
اس تبصرے کا جواب دیں
جعفر آپکو اور ابو شامل جيسے جماعت اسلامی والوں کو جھوٹ گھڑنے کے علاوہ کوئ کام نہيں- جس پہ چاہتے ہيں جو مرضی جھوٹ گھڑ کے لگاديتے ہيں- عافيہ کے ساتھ جنسی ذيادتی کب ہوئی ہے؟ عافيہ نے صرف نفسياتی تشدد کا الزام لگايا ہے-
مدعی سست گواہ چست-
اس تبصرے کا جواب دیں
تانيہ صاحبہ اور عنيقہ صاحبہ سے گزارش ہے کہ بھينسوں کے آگے بين بجانا بند کريں ميں نے بھی گھر ميں موجود ايک بھينس کے آگے بين بجانا بند کر ديا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
عنیقہ کے پر مغز، مدلل، چشم کشا، حقائق افروز تبصرے پر ایک شعر ان کی نذر ہے
سارے جہاں پر ہوں میں چھائی ہوئی
مستند ہے میری فرمائی ہوئی
شعر میں کی گئی سترہویں ترمیم سے اگرچہ یہ وزن اور بحر سے خارج ہوگیا ہے لیکن عنیقہ بی بی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اتنی سی بد احتیاطی تو قابل معافی ہے۔ اور پاکستانی قوم کی مفافقت پر اللہ اوہ معاف کیجئے، مذہب کو بیچ میں لے آیا، فطرت ان کو غارت کرے۔
GOD BLESS AMERICA
اس تبصرے کا جواب دیں
عافيہ کے کارنامے عافيہ کے پرستاروں کی خدمت ميں- ہر دہشتگرد ان کے ليئے ہيرو بن جاتا ہے/جاتی ہے-
1. She was married to a person who bought night-vision goggles and body armour worth $10,000 allegedly for “big game hunting” in Pakistan. He himself subsequently narrates Aafia’s violent personality, extremist views and concerns over her involvement in Jihadi activities.
2. Her second marriage a mere 6 months after her divorce, was to Ammar al-Baluchi, also known as Ali Abd al-Aziz Ali who happens to be the nephew of Khalid Sheikh Mohammed (the 9/11 Conspirator) and a cousin of Ramzi Yousef who was convicted of the 1993 WTC Bombing. Al-Baluchi will be put on trail in New York for his involvement in mass terrorism.
3. During her stay in the US, the charities she was involved with were subsequently linked to the 1998 US Embassy bombings such as the Mercy International Relief Agency (http://www.guardian.co.uk/world/2009/nov/24/aafia-siddiqui-al-qaida). She herself ran an Islamic Charity called Islamic Research and Teaching from her flat. These activities gained her access to criminals in local prisons (http://www.bostonmagazine.com/articles/whos_afraid_of_aafia_siddiqui/)
4. During the jury selection process Dr Siddiqui insisted on having all the jury members “DNA tested” to ensure that there were no Jews on the jury bench. Her similar statements in court are equally anti-Semitic.
http://www.pickledpolitics.com/archives/7458
اس تبصرے کا جواب دیں
عافيہ کے کارنامے عافيہ کے پرستاروں کی خدمت ميں- ہر دہشتگرد ان کے ليئے ہيرو بن جاتا ہے/جاتی ہے-
1. She was married to a person who bought night-vision goggles and body armour worth $10,000 allegedly for “big game hunting” in Pakistan. He himself subsequently narrates Aafia’s violent personality, extremist views and concerns over her involvement in Jihadi activities.
2. Her second marriage a mere 6 months after her divorce, was to Ammar al-Baluchi, also known as Ali Abd al-Aziz Ali who happens to be the nephew of Khalid Sheikh Mohammed (the 9/11 Conspirator) and a cousin of Ramzi Yousef who was convicted of the 1993 WTC Bombing. Al-Baluchi will be put on trail in New York for his involvement in mass terrorism.
3. During her stay in the US, the charities she was involved with were subsequently linked to the 1998 US Embassy bombings such as the Mercy International Relief Agency. She herself ran an Islamic Charity called Islamic Research and Teaching from her flat. These activities gained her access to criminals in local prisons.
4. During the jury selection process Dr Siddiqui insisted on having all the jury members “DNA tested” to ensure that there were no Jews on the jury bench. Her similar statements in court are equally anti-Semitic.
http://www.pickledpolitics.com/archives/7458
اس تبصرے کا جواب دیں
چلیے جی ۔۔۔۔ یہاں تو گواہ چست کے فقرے بھی کس دیے گئے۔ محترمہ عنیقہ! صرف تھوڑی دیر کے لیے مجھے ایک جانب رکھ کر تبصرہ پڑھیے اور پھر جواب دیجیے۔ یہ میری شخصیت کو زد میں رکھ کر آپ اتنے لمبے لمبے جواب دے رہی ہیں، انتہائی معذرت کے ساتھ کہ ان کا میری صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اس طرح کے دقیانوسی دلائل میں روزانہ سنتا ہوں۔
خدا آپ کو بھی سلامت رکھے، اور قادیانیت اور امریکہ کے متوالوں کو بھی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ ساتھیوں سے میری یہ گزارش ہے کہ عنیقہ کے دلاہل پر توجہ دیں ۔ وہ بیکار آپ لوگوں کے ساتھ اپنا وقت برباد نہیں کر رہیں ۔ ۔ نہ تو آپ لوگوں سے عنیقہ کو کچھ چاہے اور نہ ہی عافیہ سے ۔ ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کی ان سب خواتین کا جو ہر روز ذایاتی کا نشانہ بنتی ہیں ۔ لیکن کیا ہوتا ہے آپ سب مرد حضرات ٹی وی کے آگے بیٹھے اس ایک لمحے کو تھوڑی دیر کے لیے محسوس تو کرتے ہولیکن بھول جاتے ہو کہ ان کے لیے بھی کچھ لکھا جائے ۔ اب عافیہ کا تعلق چونکہ امریکہ سے ہے اس لیے آپ سب کو یہ پریشانی کھائے جارہی ہے کہ اس کے ساتھ ذیادتی ہوئی ۔ وہ مظلوم ہے ۔۔۔ایک عافیہ کے لیے ہی کیوں اپنے ملک کی باقی خواتین اس رویے کی حقدار نہیں ہیں ۔ چار سالہ معصوم بچی کے ساتھ کیا ہوا ۔ ؟ روز ونی کے نام پر قتل ہوتی لڑکیوں کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا ۔ سوڑا جوڑا کے نام پر 9 سالہ بچی کو بوڑھے شخص کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے ۔ اس وقت آپ کا اسلام کہاں ہوتا ہے ۔ مجھے بہت ہی معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑہ رہا ہے ۔ کہ جہاں آپ مرد حضرات کو اپنی تسلی نظر آتی ہے وہاں آپ لمبے لمبے تبصرے لگا دیتے ہو ۔ جہاں حق ۔ اور سچائی یا حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں آپ لوگ بیکار قسم کے دالاہل یا باتوں سے دوسرے کو چپ کرانے کی کوشش میں ہوتے ہو ۔ بلاگ کی دنیا میں ایک عنیقہ ہی آپسب کی ٹکر کی ہیں ۔ جو ہر بات کا جواب کھل کر دیتی ہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ظلم جب حدسے بڑھتاہے تو پھرقدرت کا قانون اس کے خلاف حرکت میں آجاتاہے۔
فرحان دانش کے بلاگ سے آخری تحریر … اجمل خٹک
اس تبصرے کا جواب دیں
عافيہ کے شوہر کا ماموں 9/11 کا ماسٹرمائينڈ تھا جو القائدہ کے ديگر افراد کے ساتھ جماعت اسلامی کے گھروں سے برآمد ہوئے- اب دہشتگردی کے يہ متوالے جماعت اسلامی والے ايکسپوز ہو جائيں تو دوسروں کو قادیانیت اور امریکہ کے متوالے قرار دے کر بات دبانے کی کوشش- کھسيانی بلی کھمبا نوچے-
” چار سالہ معصوم بچی کے ساتھ کیا ہوا ۔ ؟ روز ونی کے نام پر قتل ہوتی لڑکیوں کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا ۔”
کيوں کہ يہ دہشتگرد نہيں ہيں- جماعت اسلامی والوں کو صرف دہشتگردوں سے ہمدردي ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
<blockquote cite=\"comment-2543\"><b>اقتباس» </b><strong><a href=\"#comment-2543\">Hasan نے لکھا: </a></strong> جماعت اسلامی </blockquote>
جماعت اسلامی توصرف نام کی اسلامی جماعت ہے اور ان :evil: کے واے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
ابو شامل یہ صرف آپکی شخصیت کو سامنے رکھ کر نہیں کہا گیا۔ میں تو بھول ہی گئ تھی کہ آپ نے کیا لکھا۔ یہ ہمارے ان عناصر کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے جو ویسے تو بڑی آزادیاں انجوائے کرتے ہیں مگر جب خواتین کی باری آتی ہے تو ان سے زیادہ دقیانوسی اور بیکار فکر کا حامل کوئ نہیں ہوتا۔ یہ ان عناصر کے لئیے لکھا گیا ہے جو پاکستان میں اپنے اور اپنے جیسے ظاہری حلئے والے لوگوں کے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے اور جو اگر لڑتے بھی ہیں تو صرف اپنی اسی کمیونٹی کے لئیے۔ ویسے وہ اسلام زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔
جہاں تک ان سب چیزوں کے دقیانوسی دلائل ہونے کا خیال ہے اور آپ ان پہ ذرا دھیان نہیں دیتے تو پھر کیا مجھے یہ کہنا چاہئیے کہ یہ وہ قلوب ہیں جن پہ مہر لگ چکی ہے۔ میں آپکی قلب ماہیت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ جہاں سب اپنے ہر قسم کے خیالات کو جمع کروا رہے ہیں وہاں میں بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ یہ کام کروں۔ میں اپنے بچوں کے سامنے آنیوالے کل میں شرمندہ نہیں کھڑا ہونا چاہتی کہ میں نے اپنے حصے کا کام نہیں کیا۔ میں اس معاشرہ کے اندر جو ماحول انکے لئیے چاہتی تھی اسکے لئیے میں نے اسٹینڈ لیا۔ میں آپ سب کی بے نظری سے دلچسپی نہیں رکھتی۔ میں آنیوالے وقتوں میں اپنا سر اونچا رکھنا چاہتی ہوں، آنیوالے انسانوں کے سامنے۔ میں جب لکھتی ہوں تو میرے سامنے میری بیٹی ہوتی ہے اور آپ جب لکھتے ہیں تو آپکے سامنے بس آپ ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ جسے آپ میں سے کوئ بمشکل پار کر سکتا ہے۔ جب میں نے پڑھا کہ ایک تین سالہ بچی کا ریپ کر کے قتل کر دیا گیا تو میری تین سالہ بیٹی میرے سامنے کھڑی تھی اور مجھے لگا کہ اس نے مجھے مدد کے لئیے پکارا۔ ایک عورت جو میدان جنگ میں اپنی آزادی، رضا اور مرضی سے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت نعرہ ء جہاد لگا کر کود چکی ہو اس سے زیادہ تکلیف تو مجھے اس بچی کے لئیے ہوگی جو ابھی زندگی کے مطلب بھی نہیں سمجھتی اور کوئ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردے۔، اس سے زیادہ ہمدردی مجھے اس عورت سے ہوگی جس نے کبھی آزاد فضا کو نہیں برتا۔ خیر ان دقیانوسی دلائل سے آپکو کوئ فرق نہیں پڑتا، کیونکہ آپکے سامنے زندگی کے زیادہ اعلی مقاصد ہیں۔
جعفر، نہیں مجھے یہ اعتراف کرنے دیں کہ میرے مدلل اور چشم کشا تبصرے نہیں آپکی جذباتیت مستند ہے۔ جس کی آکاس بیل کی طرح کوئ جڑ نہیں ہے۔ میری ذات کو گھسیٹنے کے بجائے اگر میرے نکات کی دھجیاں اڑائیں تو زیادہ فوکس اور پیداواری رہیں گے آپ۔
اور ہاں ابو شامل وکیپیڈیا پہ عافیہ کے متعلق سائیٹ کو ضرور ایڈٹ کیجئیے، یہاں بڑی مس انفارمیشن ہیں انکے بارے میں اور وہیں سے حسن حوالے دیتے رہتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے اسے پڑھئیے گا ضرور۔
عنیقہ ناز کے بلاگ سے آخری تحریر … نئے افکار کا حصول اور انکی ترویج-۳
اس تبصرے کا جواب دیں
عنیقہ میں دل سے آپ کی مشکور ہوں ۔ جو میرے دل میں تھا وہ سب کچھ آپ نے بیان کر دیا ۔ ایک ایک لفظ کو اتنی خوب صورتی سے لکھا ہے ۔ کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔ آپ نے اپنے بچوں کی بات کی ۔یہاں میں یہی کہوں گی کہ یہ بات صرف عنیقہ کے بچوں کی نہیں ہے ہم سب کے بچوں کی ہے ۔۔ اگر ہم سچے دل سے اپنے آپ سے سوال کریں ۔ہم صرف اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں اسلام کے مطابق عمل نہیں کرتے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزانے کے بارے میں تو کہتے ہیں لیکن ویسا کرتے نہیں ہیں ۔ کیا ہماری زندگی میں پانچ وقت کی نماز روزے کے بعد اسلام ختم ہو جاتا ہے ۔ آج اگر ان حضرات کو عافیہ پر غصہ ہے تو صرف اس بات پر کہ عافیہ پاکستان کے مردوں کے ہاتھوں رسواہ کیوں نہیں ہوئی ۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر کچھ بھی کہنے اور سننے کو نہیں تھا ۔ اللہ پاک آپ کو ہیمشہ خوش رکھے اور آپ کے قلم کو مزید سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
۔ہم صرف اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں اسلام کے مطابق عمل نہیں کرتے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزانے کے بارے میں تو کہتے ہیں لیکن ویسا کرتے نہیں ہیں ۔
تانیہ اب تو آپ سمجھ ہی گئی ہیں کہ ہمارا اسلام یہی ہے کہ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت! :oops:
اس تبصرے کا جواب دیں
انتہائی قابل احترام عنیقہ صاحبہ! بدقسمتی سے خواتین کے ایشوز پر میں نے کبھی اپنے بلاگ پر نہیں لکھا اس لیے آپ مجھے ان “عناصر” میں شامل نہیں کر سکتیں جو خواتین کی آزادی کے قائل نہیں ہیں۔ عافیہ کے معاملے میں میرا موقف صرف اتنا ہے کہ جب خواتین کے حقوق کا اتنا شور و غل مچایا جاتا ہے تو عافیہ کے معاملے پر کیوں نہیں مچایا جاتا۔ میرا اشارہ سول سوسائٹی کی طرف ہے۔ کیا عافیہ عورت نہیں ہے؟ دوسری بات یہ کہ خود امریکی عدالت میں اس کے خلاف جو گواہیاں اور دلائل پیش کیے گئے، وہ سب کے سامنے ہیں کہ ان میں کوئی دم نہیں تھا اور ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ باقی امریکہ میں عدالت تک پہنچنے تک ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا، اگر کوئی ان تمام چیزوں سے انکاری ہے تو میرے خیال میں اسے عافیہ صدیقی کے معاملے کی شروع سے اسٹڈی کرنی چاہیے۔ ان کے ساتھ بار ہا زیادتیاں کی گئیں، برہنہ تلاشی کی گئی۔ بچوں کو کس طرح غائب کرایا گیا، یہ تو سب ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آنے والی باتیں ہیں۔ اگر کوئی پھر بھی انکار کرتا ہے تو میرے خیال میں حقوق نسواں اور انساں کا حقیقی علمبردار نہیں ہے۔ ویسے بڑی حیرت کی بات ہے کہ آپ کو میری قلب ماہیت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن آپ نے نجانے کیسے یہ لکھ دیا کہ میں جب لکھتا ہوں تو میرے سامنے صرف میری ذات ہوتی ہے۔ خیر! اس الزام کے جواب میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
باقی دیگر احباب جو کیچڑ اچھال رہے ہیں، ان سے میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو جواب نہیں دینا چاہتا، جس کا کوئی اصل نام ہی نہ ہو، جس کو تمیز سے بات کرنا بھی نہ آتی ہو۔ پردے کے پیچھے یہ یہ سوقیانہ انداز اختیار کرنا ہی اس بات کا اظہار ہے کہ ان کے نظریات کتنے اعلیٰ و ارفع ہیں؟ اور مجھے بہت افسوس ہوگا کہ عنیقہ جیسی جہاندیدہ خاتون کی ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے افراد ہوں۔
ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگ قارئین سے رابطہ، آسان ترین ذریعہ
اس تبصرے کا جواب دیں
<blockquote cite=\"comment-2548\"><b>اقتباس» </b><strong><a href=\"#comment-2548\">تانیہ رحمان نے لکھا: </a></strong> عنیقہ میں دل سے آپ کی مشکور ہوں ۔ جو میرے دل میں تھا وہ سب کچھ آپ نے بیان کر دیا ۔ ایک ایک لفظ کو اتنی خوب صورتی سے لکھا ہے ۔ کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔ آپ نے اپنے بچوں کی بات کی ۔یہاں میں یہی کہوں گی کہ یہ بات صرف عنیقہ کے بچوں کی نہیں ہے ہم سب کے بچوں کی ہے ۔۔ اگر ہم سچے دل سے اپنے آپ سے سوال کریں ۔ہم صرف اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں اسلام کے مطابق عمل نہیں کرتے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلمکے مطابق زندگی گزانے کے بارے میں تو کہتے ہیں لیکن ویسا کرتے نہیں ہیں ۔ کیا ہماری زندگی میں پانچ وقت کی نماز روزے کے بعد اسلام ختم ہو جاتا ہے ۔ آج اگر ان حضرات کو عافیہ پر غصہ ہے تو صرف اس بات پر کہ عافیہ پاکستان کے مردوں کے ہاتھوں رسواہ کیوں نہیں ہوئی ۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر کچھ بھی کہنے اور سننے کو نہیں تھا ۔ اللہ پاک آپ کو ہیمشہ خوش رکھے اور آپ کے قلم کو مزید سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
</blockquote>
انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔۔ محترمہ آپ نے بہت بڑا الزام لگایا ہے کہ ہمیں اس بات پر غصہ ہے کہ عافیہ پاکستانی مردوں کے ہاتھوں کیوں نہیں رسوا ہوئی۔ اس کا معاملہ میں اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ لیکن میرا آپ سے یہ سوال رہے گا کہ اگر کوئی خاتون امریکیوں کے ہاتھوں رسوا ہو تو کیا یہ قبول ہے؟
خواتین کے حوالے سے میرے نظریات کیا ہیں؟ اس حوالے سے آپ کیا جانتی ہیں کچھ مجھے بھی بتائیے، جہاں تک میں جانتا ہوں کہ میں نے کبھی حقوق نسواں کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔
ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگ قارئین سے رابطہ، آسان ترین ذریعہ
اس تبصرے کا جواب دیں
جذبات کے بغیر تو انسان پتھر ہی ہوتا ہے ناں جی اور
انساں ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
اور یہ جون آف آرک ٹائپ کی تقریر جو آپ نے بدکردار مردوں کی شان میں کی ہے، اس میں سے دلیل، منطق، فلسفہ کہاںہے؟؟؟
یہ تقریر اگر آپ الطاف انکل کے ٹیلیفونک خطاب کے بعد ناگن چورنگی کے اگلے جلسے میں کریں، تو جئے الطاف کے ساتھ ساتھ جئے عنیقہ کے نعرے بھی لگیں گے ۔۔۔۔
باقی تانیہ بی بی کی معصومیت کا تو میں روز ازل سے ہی قائل ہوں۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
نرم دل تانیہ جی ،،،
میری دعا ہے کہ آپ سدا خوش رہیں ۔آباد رہیں ۔شاد رہیں۔
مجھے آپ سے اتفاق بھی ہے اور تھوڑا سا اختلاف بھی ہے ۔
آپ نے بہت اچھی بات لکھی ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں عدل وانصاف مہیا کرنا چاہئے ۔ درست،، مجھے آپ سے سوفیصد اتفاق ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مسلے کو دراصل سیاسی بنا دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ جیسے بہت سارے پاکستانی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسلہ جتنا زیادہ اچھالا گیا ہے ۔اتنی سپورٹ یا پریس کوریج کسی عام مظلوم پاکستانی لڑکی کے بارے میں کبھی بھی نہیں کی جاتی ۔
مگر سوال تو یہ ہے کہ عافیہ بھی اسی طرح سے ہماری بیٹی ہے جیسے مائی مختار یا کوئی اورمظلوم لڑکی ہماری بیٹی ہے ۔ظلم کی بات تو یہ ہے کہ جس طرح سے مختار مائی کے کیس سے مغرب پرست سیاسی اور سماجی تنظیموں نے فائدہ اٹھایا ہے اسی طرح سے ہی اس وقت بہت ساری مذہبی اور سیاسی تنظیمیں عافیہ کے کیس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ حالانکہ مذکورہ دونوں ہی عورتیں مظلوم ہیں ۔اگر کوئی مفاد پرست کسی مظلوم بے بس اور دبے ہوئے کی مظلومیت کے قصے کو اچھال کراپنا مفاد نکالتا ہے یا اپنا الو سیدھا کرتا ہے تو اس میں اس مظلوم کا کیا قصور ؟؟؟ کیا اس مظلوم نے کسی مفاد پرست سے درخواست کی تھی کہ کوئی مفاد پرست اس کو ایشو بنا کر اپنی سیاسی یا مذہبی دکان داری کو چمکاتا پھرے ؟؟؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہر مظلوم کی مدد کرنی چاہئے چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو ۔ مسلم ہو یا غیر مسلم ۔ پاکستانی ہے یا کوئی غیر ملکی ۔ مختار مائی ہے یا پھر ڈاکٹر عافیہ صدیقی،، ہمیں سبھی کی مدد کرنی چاہئیے اور ہر مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا چاہئیے۔ ہمارے پیش نظر یہی ہونا چاہئیے کہ اس دنیا میں ہر مظلوم کی مدد کی جائے۔ یہی دین اسلام کا منشورہے اور یہی اسلام کا مقصد ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ سب ابو شامل جعفر عبداللہ حسن آسما فرحان یاسر خاور اور خاص کر ڈاکٹر عصمت علوی صاحب کا شکریہ ادا کروں گئی کہ آپ سب نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر مجھ کم علم کی پوسٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری بالکل نہیں تھا ۔ اسمیدان میں آپ سب کا علم بہت زیادہ ہے ۔آپ سب سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اب اس پوسٹ کی وجہ سے ہی دیکھ لیں مجھے کئی باتوں کا علم نہیں تھا یا میری معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ڈاکٹر ساحب نے اتنی خوب صورتی سے آ کر کے روشنی ڈالی ۔بلاگ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ دل کی بات کوکھل کر بیان کر سکتے ہو ۔۔ اپنی رائے کا اظہار اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا ہمارا فرض اولین ہے ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
\"مگر سوال تو یہ ہے کہ عافیہ بھی اسی طرح سے ہماری بیٹی ہے جیسے مائی مختار یا کوئی اورمظلوم لڑکی ہماری بیٹی ہے \"
مگر مائی مختار اور ديگر پہ دہشتگردی کا کوئی الزام نہيں اسليئے عافیہ صدیقي مجاہدہ کے ليئے مذہبی انتہاپسند تنظيميں اتنا شور مچارہی ہيں- جماعت اسلامی جيسي طالبان، جو ايک ہی بم دھماکہ ميں سو سو بندے مار رہے ہيں، کی حمايتی جماعت کا انسانی حقوق سے کيا تعلق؟ يہ تو صرف ڈرامہ بازی کررہی ہے اور ٹھيکيداری چمکا رہی ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
حسن میں نے بھی یہ پوسٹ صرف اور صرف ایک ڈرامہ باز کی وجہ سے لگائی تھی ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کے پروگرام میں جب اس نے یہ کہا کہ ہماری بہن کی چادر چھین لی گئی ۔ ہماری بہن کو ننگے سر کر دیا گیا ۔ اس وقت اس نے کیا سوچا ہو گا ، اس پر اتنا ظلم ہوا ۔ یہ لگ رہا تھا کہ جیسے میں شام غریبان میں بیٹھی ہوں ۔ تب مجھے لگا یہ پروگرام کے ذریعے اور میڈیا اپنے نام کے کے لیے عافیہ عافیہ کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔کیونکہ ہم جزباتی لوگ ہیں بہت جلد ان ڈراموں سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ تو عافیہ کے لیے ہمدردی تھی یا نہیں یہ میرا خدا جانتا ہے ۔ لیکن امریکہ سے دشمنی ضرور تھی ۔ورنہ وہی با ت تکہ اگر امریکہ نے عافیہ کے ساتھ برا کرنا تھا تو وہ اتنے برس کس کا انتظار کر رہے تھے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اسماء بین بجانا بند نہ کریں جب تک یا تو بین نہ رہے یا بھینس بھینس نہ رہے :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
عبداللہ یہ دونوں باتیں ممکن نہیں ہیں ۔ بین اور بھین کا چولی دام کا ساتھ ہے۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
میں سب پڑھ رھا تھا اب چونکہ معاملہ کافی حد تک ٹھنڈا بلکہ ختم ہو چکا ہے سب اپنی اپنی توپوں سے گولا باری کر کے آرام کر رہے ہیں اس لیے میں اب آیا ہوں ۔
مجھے حیرت ہوئی کہ ایک مسلمان عورت ایک پاکستانی ایک ماں ایک بیوی ایک بہن ان سب رشتوں سے ہم سب کا تعلق ہے مگر جس طرح چند خواتین اپنی علمی قابلیت کو ثابت کرنے کے لیے کسی دوسری ہم ذات کو ایسے الفاظ سے نوازیں گئیں اس سے اندازہ لگا ئیں ہم کتنے غیرت مند پڑھے لکھے پاکستانی ہیں احساس تو ہم میں ختم ہو چکا بس بہت شرمندہ ہوں یہ سب پڑھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :cry:
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگی دھشت گردی ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
کامی بھائی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثابت ہوا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لایعنی بحث۔۔۔۔۔۔۔۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر … قادیانی جماعت خانوں پر بم دھماکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل مذمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں