آپ سب بھی یہی بات کرتے ہیں کہ ہم ایک غریب ملک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاں روٹی کپڑا اور مکان تو ایک خواب سا لگنے لگا ہے ، کیونکہ پہلے جن کے پاس گھر نما چھوٹا سا کمرہ ہوتا تھا ۔ جہاں وہ اپنے پانچ یا زیادہ بچوں بوڑھے ماں باپ کے ساتھ زندگی گزرتا ۔ ایک بلب مشکل سے جلتا ۔ لیکن ہماری حکومت نے غریب پر اتنی مہربانی کی کہ وہ ایک بلب یا گرمی میں ایک آواز نکالتا ہوا پنکھا بھی چھین لیا ۔ خیر بات ہم غریبی کی کر رہے تھے ، کہ کون کہتا ہے کہ غریب ہیں ہم ایک نجی چینل پر فیشن شو دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ جو ماڈلز دکھائی گئی ۔ ماشاء اللہ کیا کپڑے تھے ۔ کیا انداز تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ ہم پاکستان میں ہیں ہمارے مللک میں پڑوسی ملک کی خوب خوب نقل کی جا رہی ہے ۔ انکے رسم و رواج توپہلے بھی ساتھ رہتے ہوئے بہت حد تک ہم لوگوں نے اپنائے ہوئے تھے لیکن رہی سہی کس چینیلز نے پوری کر دی ہماری مسلمان خواتین ننگے بازو اور بڑے بڑے گلے پہن کر جب اپنے جسم کی نماش کرتی ہیں تو انکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔کیا ہم کچھ اچھا نہیں سیکھ سکتے ۔ہم ہر کام میں اپنی حددیں کیوں کراس کر جاتے ہیں ۔