کون کہتا ہے کہ غریب ہیں ہم
آپ سب بھی یہی بات کرتے ہیں کہ ہم ایک غریب ملک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جہاں روٹی کپڑا اور مکان تو ایک خواب سا لگنے لگا ہے ، کیونکہ پہلے جن کے پاس گھر نما چھوٹا سا کمرہ ہوتا تھا ۔ جہاں وہ اپنے پانچ یا زیادہ بچوں بوڑھے ماں باپ کے ساتھ زندگی گزرتا ۔ ایک بلب مشکل سے جلتا ۔ لیکن ہماری حکومت نے غریب پر اتنی مہربانی کی کہ وہ ایک بلب یا گرمی میں ایک آواز نکالتا ہوا پنکھا بھی چھین لیا ۔ خیر بات ہم غریبی کی کر رہے تھے ، کہ کون کہتا ہے کہ غریب ہیں ہم ایک نجی چینل پر فیشن شو دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ جو ماڈلز دکھائی گئی ۔ ماشاء اللہ کیا کپڑے تھے ۔ کیا انداز تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ ہم پاکستان میں ہیں ہمارے مللک میں پڑوسی ملک کی خوب خوب نقل کی جا رہی ہے ۔ انکے رسم و رواج توپہلے بھی ساتھ رہتے ہوئے بہت حد تک ہم لوگوں نے اپنائے ہوئے تھے لیکن رہی سہی کس چینیلز نے پوری کر دی ہماری مسلمان خواتین ننگے بازو اور بڑے بڑے گلے پہن کر جب اپنے جسم کی نماش کرتی ہیں تو انکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔کیا ہم کچھ اچھا نہیں سیکھ سکتے ۔ہم ہر کام میں اپنی حددیں کیوں کراس کر جاتے ہیں ۔

جو قوم اپنی تہذیب دوسروں کی نقالی میں ضائع کردے۔ اس سے زیادہ غریب اور کون ہوگا؟
اس تبصرے کا جواب دیں
اس لیئے کہ ہم ابھی تک اپنی حدود کا تعین ہی نہیں کرسکے ہیں :oops:
اس تبصرے کا جواب دیں
غالباً آپ نے کراچی میں ہونے والے فیشن شو کا ذکر کیا ہے۔ آپ کا تجزیہ درست لیکن ایک حلقہ میں یہ شو بڑا سراہا گیا ہے اور اسے برقع واریت کے خلاف مہم کی طرف پہلا قدم قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی اس ٹینشن بھرے ماحول میں انٹرٹینمنٹ فراہم کرنے کا بھرپور عزم کا اظہار کیا ہے۔ :|
اس تبصرے کا جواب دیں
محمد اسدشائد آپکو علم نہ ہو کہ یہ فیشن شوز صرف کراچی میں نہیں ہوتے ہیں ان کی ابتداء لاہور سے ہوئی اور پھر یہ پورے پنجاب کے بڑے شہروں میں پھیلتے ہوئے کراچی تک پہنچے اور اس سلسلے کا اگلا شو بھی پنجاب میں ہی منعقد ہورہا ہے !
اس تبصرے کا جواب دیں
لگتا ہے آپ کی سعدیہ :shock: انیقہ :shock: اور اسماء :shock: سے نہیں بنتی اسی لیے یہ پوسٹا ہے ویسے اس معاملے میًں آپکا ہم آواز ہوں بہت شکریہ آپکے شرمانے کا۔ :shock:
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگی دھشت گردی ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
فیشن شو ان لوگوں کی علت ہیں جو دولتمند ہوں ۔ اسی طرح شادی کی بیہودہ رسوم پر بے جا خرچ کیا جاتا ہے
عبداللہ صاحب کا مرض پنجابوفوبیا ہے اسلئے وھ ہر برائی کو پنجاب یا پنجابیوں کے سر تھوپ دیتے ہیں ۔ فیشن شو اور فحاشی کو پنجابیوں نے نہیں ایم کیو ایم کے چہیتے آمر اوباش جنرل پرویز مشرف نے روشن خیالوں کی مدد سے ملک میں پھیلانے کی کوشش کی ۔ مگر فیشن شو اسلام آباد میں ہوتے تھے ۔ ایک آدھ بار لاہور میں ہوا ۔ پنجاب کے دیگر کسی شہر میں فیشن شونہیں ہوا
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … کہانی شیخ جی کے زخمی ہونے کی
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار اجمل اس قدر تڑپ کر کوسنے کاٹنے کی بجائے اگر آپ دھیان سے پہلے اسد کے لکھے اور پھر میرے لکھے کو پڑھتے تو کچھ ریزن ایبل تبصرہ کر پاتے،اور یہ جو آپ کے دماغ میں فتور ہے کہ میں پنجابیوں کا مخالف ہوں اور اس فتور کو آپ اپنی تحریروں کے ذریعے دوسروں کے ذہنوں میں بھی ٹھونسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس کیڑے کو دماغ سے نکالیں تو بات صحیح طرح سے جناب کی سمجھ میں آجائے گی، کیونکہ اسد کا انداز ایسا تھا جیسے اس برائی میں صرف کراچی ہی ملوث ہے تو ان کو اصل صورتحال بتانے کے لیئے جو کچھ مینے لکھا اس میں کچھ جھوٹ نہ تھا،
اس تبصرے کا جواب دیں
کنفیوز کامی آپکی بات کا جواب تو انیقہ، سعدیہ اور اسماء ہی دیں گی ،میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ مجھے تو ان خواتین کی کسی بات سے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ اس طرح کی واہیات حرکتوں کو پسند کرتی ہیں پھر جناب نے یہ اندازہ کیسے لگا لیا :roll:
اس تبصرے کا جواب دیں
ماشاء اللہ، ان تبصروں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سطحی سوچ رکھنے والے عناصر ایسی باتوں کو کیسی غیبی امداد سمجھتے ہیں۔ اور انکی سمجھ کا یہ عالم ہے کہ جب بنیادی حقوق اور انکی فراہمی کی بات کی جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کپڑے اتار کر برہنہ پھرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب پاک سر زمین پر بہنہ خواتین کی بازار مین پریڈ ہوتی ہیں تو میرے ان بھائیوں اور بزرگون کے قلم کی سیاہی اور انگلیوں کی طاقت ختم ہوجاتی ہے۔
کنفیوز کامی، آپ جب تک زندگی کے ، لوگون کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں کریں گے اسی طرح کنفیوز رہیں گے۔ میری کتنی تصاویر آپ نے مختصر کپڑوں میں دیکھی ہیں جو آپکو اس بات پہ میں یاد آئ یا میری تحریروں میں عریانیت اور فحاشی کی کون سی مثالیں آپ نے پائ ہیں جو مجھے یاد کیا۔ ہاں آپکے نزدیک دوپٹے کا سر پہ نہ ہونا بے حیائ ہے اور میرے نزدیک نہیں ہے۔ آپکے نزدیک میں بے شرم ہوں جو یہ کہہ دہتی ہوں کہ اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا اور آپکے نزدیک برقعے میں لپٹ کر گھر کے اندر دفن ہوجائیں تو بھی کم ہے۔ جناب ابھی آپکو بہت کچھ دیکھنا اور سمجھنا باقی ہے۔ جب آپ دنیا کو اس سطح تک دیکھ لیں تو پھر بات کیجئیے گا کسی کو مخاطب کر کے۔ س وقت تک صرف اپنے خیالات بتائیں تاکہ اس میں مزید اضافہ کی گنجائش رہے۔
باقی ان لوگوں کے لئیے جو اس بات پہ کراچی کو لعن طعن کرتے ہیں اگر وہ فیشن کے متعلق تھوڑا بہت بھی علم رکھتے ہوں یا جاننے کی کوشش کریں تو انہیں پتہ چلے گا کہ لاہور فیشن کے معاملے میں پاکستان کا پیرس کہلاتا ہے۔ پاکستان کی سپر ماڈلز اور فیشن ڈیزائنرز میں سے بیشتر کا تعلق پنجاب سے ہے۔ حتی کہ پاکستان میں فلم اور فنکاری سے بھی تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اسی لئیے ہماری فلمی مصروفیات کا مرکز کراچی نہیں، لاہور ہے۔ اگر آپ فیشن کے افق پہ نظر رکھنے والوں سے جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں فیشن کو کہاں سے دیکھنا چاہئیے تو اسکی نگاہ لاہور کی طرف جائے گی۔
لیکن میرے یہ عزیز اپنے تعصب میں اپنی قابل فخر باتیں بھی بھول جاتے ہیں۔ کراچی کی خواتین کو فیشن کے معاملے میں انتہائ دقیانوسی کہا جاتا ہے۔ اور اس چیز کو لاہور اور کراچی کی فضا کا سب سے بڑا فرق سمجھا جاتا ہے۔آج کراچی میں خواتین کی اکثریت پیشہ ورانہ میدانوں سے تعلق رکھتی ہے اور وہ روز اپنے کپڑوں کی ساخت تبدیل کرنے کا وقت نہیں پاتیں۔ آج کپڑوں کے بہترین پرنٹس کراچی میں نہیں پنجاب میں بنتے ہیں۔ کراچی میں تو لے دیکر ایک گرمی کا موسم ہے جو سارا سال رہتا ہے یہ تو ملک کے دوسرے علاقے ہیں جہاں سال میں چار موسم آتے ہیں اور چار فیشن کی گنجائش رہتی ہے۔
آپ لوگوں اگر اپنے اپنے کنوءوں سے دیکھنے کے بجائے باہر نکل کر دیکھیں تو اپنے ان تبصرون پہ بڑا شرمندہ ہونگے۔ اور اگر کوئ لاہور کا فیشن ڈیزائنر ان چیزوں کو پڑھے گا تو بڑا کڑھے گا۔ اور یہی حال ان کڑیوں کا ہوگا۔
تانیہ آپکی اس پوسٹ کے لئے میں سنجیدہ طور پہ یہی کہونگی کہ یہ تیسری دنیا کے ممالک کی بد قسمتی ہے کہ انکے میڈیا پہ اس طبقے کی نمائندگی ہوتی ہے جو انکی آبادی ایک فیصد بھی نہیں ہوتے۔ دور کیوں جائیں اپنے پڑوسی ملک انڈیا کو دیکھیں، انکے ڈراموں سے لیکر فلموں تک جو فضا دکھائ جاتی ہے کیا اس سے کوئ اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ وہ ملک ہے جسکی تیس فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذارتی ہے۔ یہ وہ افیون ہے جسکے ذریعے لوگوں کو سلا کر رکھا جاتا ہے۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہم نہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ جی :smile:
عنیقہ ناز کے تبصرے سے متفق ہوں
وفا-
اس تبصرے کا جواب دیں
کامی آپ کی یہ بات میری سمجھ میں بھی نہیں آئی۔۔
میرے عزیز ہم وطنوں میں کسی صوبے کی بات نہیں کر رہی کر جگہ اچھا اور برا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز ہرگز نہیں کہ ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے۔میرا سوال تھا کہ ہر کام کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی ۔ فلم تو پاکستانی دیکھنے والی نہیں ہوتی ۔ اور ڈراموں کا یہ حال ہے کہ اس میں اتنا کچھ دکھایا جاتا ہے ۔ کہ اصل کہانی کہیں گم ہو جاتی ہے ۔۔۔عنیقہ آپ ڈوپٹہ لیں یا نہ لیں یہ اپ کا ذاتی مسلہ ہے میری بہن اصل بات نیت کی ہے ۔ اور آپ کی یہ سب سے بڑی خوبی ہے کہ جو آپ کے اندر ہے وہی باہر ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے اور صاف گوہ ہوتے ہیں ۔ برقعہ میں کیا کچھ ہو رہا ہے سب کو اندازہ ہے ۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہم ایک غریب ملک سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں سارے لوگ غریب ہی ہیں ۔پاکستان میں نہایت امیر وکبیر لوگ بھی رہتے ہیں ۔پاکستان میں فیشن شوکے علاوہ بھی بہت سے ایسے کام بھی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر آنکھیں شرم سے تو بعد میں جھکیں گی پہلے آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گی ۔اگر ہم کچھ اچھا سیکھ سکتے تو آج ہم بھی ایک سپر پاور ہوتے۔کیوں کہ پاکستانی جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو اپنی تمام حددیں پار کر جاتا ہے۔
فرحان دانش کے بلاگ سے آخری تحریر … اسپرنٹ کوئین نسیم حمید
اس تبصرے کا جواب دیں
بڑے افسوس کی بات ہے کہ میری بات کا بتنگڑ بنا دیا گیا اتنا گہرا تو میں نے لکھا نہیں تھا جتنا گہرا جواب لکھ دیا گیا میں نے کیا سوچ کر لکھا وہ یہ تھا ” کہ آپ نے عورت ہوتے ہوئے عورتوں کے بارے میں لکھ ڈالا مطلب عورت ہو کر عورت کی برائی بیان کر دی ۔ ویسے دیکھا جائے تو اس پوسٹ میں اتنی عریانیت نہیں جتنی تبصروں میں کی گئی ہے ۔ لگتا ہے آپ نے کچھ ذیادہ ہی علم حاصل کر لیا ہے مگر بحث کرنے کے لیے کسی کا پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں اپنی حدود میں جینا جانتا ہوں آپ جیسے تعلیم سے لبالب بھرے ہوئے لوگوں کا کیا ہے کسی بھی بات پر علم چھلک کر باہر گر جاتا ہے بازار میں ننگی ہونے والی عورت کو آپ مسلہ بنالیتی ہیں اور اگر یہ ہی عورت فیشن شو میں ننگی ہو تو اسے عورتوں کے بنیادی حقوق بیان کر دیتیں ہیں اگر غصے سے قلم پھنکارنے لگے تو اس سے لسانیت بھی اگل دیتیں ہیں۔ اس علم کا مزہ تب آتا اگر آپ کراچی لاہور کا موازنہ کرنے اور کس شہر میں کتنی گندگی ہے بتانے کی بجائے یکجہتی اور اتفاق کی بات کرتیں آپکی ان باتوں سے میری نہیں آپکے علم اور قلم کی عزت گھٹ گئی ہے ۔
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگی دھشت گردی ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
کنفیوز کامی، آپ نے صحیح لکھا کہ آپکو سمجھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اپنے تئیں آپ نے ایک مکمل سمجھ ھاصل کر لی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں لکھا کہآپ اپنی حدیں جانتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں لکھا کہ میں عورتوں کے فیشن شوز میں انکے کم کپڑوں کو عورتوں کو انکے بنیادی حقوق میں شامل سمجحتی ہوں۔ اب اگر میں آپکو دروغ گو نہ کہوں تو میرا حسن ظن کیونکہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ آپ اپنے ذہن میں موجود ایک بات سے بڑھ کر نہیں سمجھ پاتے۔ اور آپکی سمجھ دانی کا یہ عالم ہے کہ اگر میں خواتین میں موجود کمزوریوں کا تذکرہ کروں تو آپ یہ سمجھیں گے اب میں نے عورت ہو کر عورت کی برائ شروع کر دی۔ پی ایچ ڈی نہیں مختلف قسم کے لوگوں سے ملنے جلنے کا عمل، مختلف طرح کی چیزوں کا علم ذہن کو وسعت دیتا ہے۔ ورنہ یہ دو شہروں کی گندگی کا تذکرہ نہیں ہورہا بلکہ دو شہروں کے مزاج کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ لاہور میں وافع فلم انڈسٹری نے اس شہر کے مزاج پہ اسکا اثر چھوڑا ہے جو اسے صرف کراچی ہی نہیں گوادر اور پشاور سے بھی مختلف شہر بناتا ہے۔ لسانیت کو میں نے نہیں ان صاحب نے فروغ دیا جنہوں نے یہ ثآبت کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب مشرف کے دور میں ہوا اور چونکہ کراچی میں مشرف کے خلاف اتنی مضبوط فضا نہیں تو دراصل یہ کراچی والے ہیں جو اس چیزکو اپنے یہاں نافذ کرتے ہیں۔ یا اسلام آباد والے۔ لیکن آپ چونکہ انکے روحانی متاثرین میں سے ہیں اس لئیے انکا یہ تبصرہ آپکو برا نہیں لگا۔
میں نے جو باتیں کیں انکے متعلق کہیں اور نہیں صرف نیٹ پہ ریسرچ کر لیجئیے گا۔ ہر وقت اتفاق اور یکجہتی کی باتیں نہیں ہوتیں کچھ باتیں اس موضوع سے باہر بھی ہوتی ہیں۔
یہاں ہر روز کوئ نہ کوئ شخص میرے قلم کی عظمت گھٹاتا رہتا ہے۔ فی الحال تو اسے کوئ عظمت بھی حاصل نہیں ہوئ جو کم ہوجائے۔ دوسرے میں جسے صحیح سمجحتی ہوں وہی لکھونگی۔ میں اس میں عظمت پیدا کرنے کے لئے کسی زید بکر کو راضی کرنا ضروری نہیں سمجھتی۔ اس لئے میرا خیال ہے اب آپ لوگوں کو بڑآ ہوجانا چاہئے۔ بہتر یہ ہے کہ دوسروں کو انکا علم کا طعنہ دینے کے بجائے اپنے علم کی سطح بڑھائیے۔ ورنہ میں ہی کیا کوئ بھی ذی ہوش شخص آپکی باتوں کو خاطر میں نہ لائے گا۔ کسی بھی شخص کو یہ کہہ دینے سے کہ ہونگی آپ کہیں کی پی ایچ ڈی آپ کے اپنےعلم اور شعور میں کوئ اضافہ نہیں ہوتا یہ صرف آپکی ذہنی ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جائیے، کچھ سال نہیں، مہینے نہیں صرف کچھ دن اپنی سوچ کو صحیح ثابت کرنے والے
علم کو پڑھنے پہ خرچ کریں۔ میری باتوں کو غلط ثابت کرنے والے علم کو بیٹھ کر پڑھیں پھر بات کیجئے گا۔ یہ ادھر ادھر کی سنی باتوں کو آگے بڑھانا اور دل کڑھانا اس سے مجھے تو کوئ فرق نہیں پڑتا کہ میں اس دوران آپ سے مزید آگے جانے کے لئیے کوشاں ہون۔ اس لئے کہ کنفیوز کامی نے مجھے ابھی تک متاءثر نہیں کیا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپکی باتوں پہ کان دھروں تو آپ کو اپنے آپکو اس قابل بنانا ہوگا کہ میں آپ سے متاءثر تو ہو جائووں۔ مجھے اس چیز کا احساس تو ہو کہ یہ شخص کتنی گہرائ سے چیزوں کو دیکھتا ہے اب آپکا جو دل چاہےلکھتے رہیں میری طرف سے بات ختم۔
ان سب باتوں سے الگ باقی لوگوں کے لئے، چونکہ میں اس چیز پہ یقین رکھتی ہوں کہ خواتین کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں یا اپنی دوسری صلاھیتوں کو اس طرح استعمال میں لانا چاہئیے کہ وہ معاشرے کی بہتری میں ذہنی طور پہ حصہ لے سکیں۔ محض اپنی جسمانی نمائش کو اپنا معراج سمجھنا درست نہیں۔ اس سے مردوں کی اکثریت انہیں استعمال کی چیز سمجھتی ہے جیسا کہ کوئ اور دل بہلانے والی چیز۔ جاذب نظر آنا اور اپنی خوبصورتی کی قیمت وصول کرنا دو بےحد مختلف چیزیں ہیں۔ لیڈی ڈیانا نے اپنی خوبصورتی کو ایڈز کے مریضوں میں زندگی کی امنگ پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا۔ یا اس وقت کی شہزادی راعنیہ بھی اسکا فائدہ عوامی کاموں میں انوالو ہو کر اٹھا رہی ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ا وففففففففففف آپ لکھنے میں اس حد تک ہیں بولنے میں کس حد تک ہوں گٰیں۔ :roll:
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگی دھشت گردی ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
میرے پارے پارے ننھے ننھے بچوں اللہ پاک آپ سب کو خوش رکھے ، میں نے یہ پوسٹ اس لیے لگائی تھی کہ ہم خواتیں جہاں کچھ غلط دیکھتیں ہیں ۔ چاہے وہ خاتوں کر رہی ہے کہ مرد غلط ہے تو غلط ہے ۔۔ میں نے آج تک یہ سوچ کر نہیں لکھا کہ سب سے زیادہ تبصرے میرے حصے میں آہیں یا میرے بلاگ کو سب سے اچھا بلاگ کہا جائے ، جو بات میرے دماغ میں آٹک جاتی ہے ۔ میں اس کو لکھ دیتی ہوں ۔ ہاں اس بات کا خیال ضرور رکھتی ہوں کہ کسی کی ذات سے وابستہ کوئی بات نہ ہو اور نہ ہی کسی کی دل آزاری ہو ۔۔جب عافیہ کے لیے لکھا تو سب نے اس کے حق میں لکھا تھا اور میں واحد بندی تھی جس نے اس کے خلاف لکھا یہ سوچ کر نہیں کہ سب اس کے حق میں لکھ رہے ہیں بلکہ یہ سوچ کر کہ بیکار میں ہم ایک ایسی خاتون کو ہیرو بنا رہے ہیں ۔ جسے پیچھے کئی باتیں پوشیدہ ہیں ۔ اس سے زیادہ مظلوم خواتیں ہمارے مملک میں پائی جاتیں ہیں ۔اور اسے طرح جب حد سے ذیادہ آزادی نظر آئی تو مجھے یہ بات پسند نہیں آئی ہم باہر رہنے والے جب اپنے پاکستان جاتے ہیں تو ہمارے رشتےدار ہیمں یوں دیکھتے ہیں جیسے ہم دوسری دنیا کے لوگ ہوں ۔ کیونکہ انکے دل و دماغ مین یہ بات گر کر چکی ہے کہ باہر سے آنے والے بہت ماڈرن ہوتے ہیں۔اور اس وقت ان کو بڑی مایوسی ہوتی ہے یہی بات ہمارے بچوں میں بھی ہے ایک تو وہ انگلش نہیں بولتے ۔ کیونکہ انگلش تو یہاں کی زبان ہے ۔ لیکن جب اپنی اردو میں بات کی جاتی ہے تو حیرت تو ہو گی نا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ میں مختصرا اتنا ہی کہوں گا کہ عافیہ ہو یا اس جیسے اور لوگ میں ان کے لیئے یہ اصطلاح استعمال کرتا ہوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تاریک راہوں میں مارے گئے انہوں نے جسے جہاد جانا تھا وہ بڑی طاقتوں کا پاور گیم تھامگر میں آج بھی ان جیسوں کی نیت پر شک نہیں کرپاتا ہم اب بھی دھندھلکوں میں ہیں اور نہ جانے کب تک رہیں گے؟ :cry:
اس تبصرے کا جواب دیں
عبداللہ میں آپ کی رائے کا دل سے احترام کرتی ہوں ۔۔ میرا کا کسی اور کا مقصد یہ نہیں تھا ، خیر اب تو جو ہوا سو ہوا ۔ہیمں آیندہ کے لیے خیال رکھنا چاہے ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تانی جی،،،
ہماری دعا ہے کہ آپ سدا پھولوں کی طرح سے مہکیں
ستاروں کی طرح جگمگائیں اور کوئل کی طرح سے کوکیں،،،
آپ کے بلاگ پر جب بھی آتا ہوں تو تبصرے پڑھ کر مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ بہت سارے لوگ باہم دست و گریباں ہیں ۔ اختلاف رائے ہونا ایک صحت مند علامت ہے اس طرح سے ہر تصویر کے دونوں پہلو سامنے آتے ہیں ۔اگر اختلاف رائے ہو تو علم میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہن کی وسعت میں اضافہ ہوتا ہے اور جن نکات اور حقائق کا ہمیں علم نہیں ہوتا وہ بھی سامنے آتے ہیں اور ہمیں مزید سیکھنے کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسے بہت سارے مسائل میں اور امور میں،، میں آپ سے اختلاف رائے بھی رکھتا ہوں۔ مگر ساتھ ساتھ آپ سے محبت اور الفت بھی رکھتا ہوں ۔
مگر آپ کے قارئین کا رویہ ایسا نہیں ہے آپ کے بلاگ پر بہت سارے قاری ذاتیات پر اتر آتے ہیں میرا نظریہ یہ ہے کہ بلاگ تو ایک بیٹھک چوپال یا لیونگ روم کی طرح سے ہوتا ہے جہاں پر سبھی اکھٹے ہوتے ہیں تبادلہ خیالات کرتے ہیں اور پھر اگلی شام ملنے کی آس میں گلے ملتے ہوئے اور ایک دوسرے کو دعائیں دیتے ہوئے جدا ہو جاتے ہیں۔ یوں جدا ہونے والوں کے بدن تو جدا ہو جاتے ہیں مگر ان کے دل اور روحیں باہم ایک دوسرے سے بندھی رہتی ہیں۔
ہم سارے دوست زمانہ طالب علمی میں ایسے ہی تھے اور اب بھی آپس میں اسی طرح سے محبت اور الفت کرتے ہیں جیسے کہ تیس برس قبل کرتے تھے اس میں لڑکی لڑکے کا کوئی تخصص نہ تھا اور نہ ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہماری گروپ کی لیڈر ایک لڑکی ہوا کرتی تھی مگر اس گروپ میں شامل لڑکوں کو اس کی قیادت میں چلنے میں کسی قسم کا کوئی بھی کامپلیکس نہ تھا ۔ حالانکہ ہم سبھی کی رائے الگ الگ ہوا کرتی تھی ۔ کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کی بیک گراؤنڈ الگ تھی ۔ ہم باہم بیٹھا کرتے تھے ۔ بحث مباحثہ کرتے تھے اور پھر ووٹنگ کرتے تھے پھر جو فیصلہ ہم کثرت رائے سے کرتے تھے سبھی اس فیصلے پر ایسے ڈٹ جاتے تھے جیسے کہ ہم سبھی کی ابتدا میں یہی ایک ہی رائے تھی۔ ہماری یہ عادت اب بھی برقرار ہے ہم سبھی دوستوں کے گھروں میں اب بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔ معاملہ آئیس کریم کھانے کا ہویا پھر نیا گھر بنانے کا ہمارے گھروں میں ووٹنگ ہوتی ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ میں ہر بار ہار جاتا ہوں ۔ کیونکہ میری کئی بیویاں ہیں ان سبھی کی رائے ایک ہوتی ہے اور میرے سارے بچے بھی اپنی ماؤں کا ہی ساتھ دیتے ہیں میرا اکیلا ووٹ ہوتا ہے یوں میں ہمیشہ ہی ہار جاتا ہوں مگر مجھے ہارنے میں بھی لطف آتا ہے کیونکہ ایک تو میری ہر بیوی مجھے شکست دے کر بے حد خوش ہوتی ہے ۔ دوسرے میری شکست میں بھی میری فتح ہی ہوتی ہے کیونکہ میرا خاندان پہلے سے بھی زیادہ متحد اور متفق ہوتا ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم کرے ،، نرم دل تانی جی کے بلاگ پر بھی ایسا ہی اتحاد اور اتفاق نظر آئے اور میرے وطن پاکستان کو بھی ایسا ہی اتحاد اور اتفاق نصیب ہو ۔ آمین ثم آمین۔
فیشن اور ماڈلنگ پر میری ایک رائے ہے ۔اگر اللہ مالک نے توفیق دی تو اس پر بھی رائے دوں گا ۔انشا اللہ الکریم،،،،
اس تبصرے کا جواب دیں
تانیہ بی بی میرا کوئی قصور نہیں وہ تو عنیقہ بی بی نے میرے یوسف جیسے تبصرے کے ساتھ زلیخہ والا سلوک کیا ہے ۔ :razz:
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … بلاگی دھشت گردی ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ کی رائے اور تشریف لانے کا اور انتظار رہے گا ۔ آپ کے تبصرے کا ۔ مجھے اندازہ ہے آپ بہت مصروف ہیں ۔ آپ کے کالم سے ابدازہ ہو جاتا ہے ساتھ میں خدمت خلق بھی ہو رہی ہے اللہ پاک آپ کو اضر عظیم عطا کرئےآمین
اس تبصرے کا جواب دیں
کامی بابا کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتی کسے کے لیے بھی کیونکہ آپ سب بہت اچھے ہو ، میرا نیٹ مسلہ کر رہا ہے اس سے پہلے
اس تبصرے کا جواب دیں
تو سکور کیا ہو گیا؟
کونسی پارٹی جیت رہی ہے؟
تا کہ ہم اس کا ضمنی الیکشن، مطلب کمنٹ میں انکا ساتھ دے سکیں
ڈفر – DuFFeR´s last blog ..کس نے مارا ہے پاپا کی جان کو ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
ڈفر آپ صرف اور سرف شیخ کا ساتھ دو ۔۔ میری پوسٹ کے الیکش کب کے ختم ہو چکے
اس تبصرے کا جواب دیں