ز شاعر نالہ مستانہ در محشر چہ می خواہی


ز شاعر نالہ مستانہ در محشر چہ می خواہی
تو خود ہنگامہ ئی ہنگامہ
ٔ دیگر چہ میخواہی
بہ بحر نغمہ کردی آشنا طبع روانم را
ز چاک سینہ ام دریا طلب گوہر چہ میخواہی
نماز بی حضور از من نمے آید نمی آید
دلی آوردہ ام دیگر ازین کافر چہ می خواہی

 

اردو  ترجمہ

اے خدا تو حشر کے روز مجح سے نالہء مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے؟جب کہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی۔

پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنے نالہ ہاےء مستانہ سے اور تیزی پیدا کروں۔۔

 

اے خدا۔۔تو نے میری طبیعت کو سمندر کے نغموں سے آشنا کر دیا ہے،اس لیے تو میرے چاک گریبان سے دریا کی طلب کر،تو اس سے محض موتی کیوں طلب کر رہا ہے؟میں آج روز حشر تیرے سامنے اپنے اشعار کے نالوں کا نذرانہ پیش کر رہا ہوں۔یہی میرے اعمال ہیں۔

 

اے خدا مجھ سے ایسی نماز کی اداءیگی ممکن نہیں ،جس میں تو میرے سامنے نہ ہو۔ میں نے اپنا محبت بھرا دل تیرے حضور پیش کر دیا ہے۔ اب تو اس “کافر” سے اور کیا چاہتا ہے۔

 

Why in the concourse dost thou seek
The poet’s wild, ecstatic shriek,
Or lookest for another’s riot,
Whose heart is troubled and unquiet?

My affluent muse was taught by thee
To swim the waves of melody;
Why seekest thou the gem? Behold,
My pierced heart dotb the sea enfold.

Except within thy presence there
I stand. I cannot breathe my prayer:
My heart before thy feet I fling—