ائے بھائی زرا دیکھ کے چلو
ابھی ابھی بس کچھ وقت پہلے یہی کوئی دس منٹ کی بات ہے میں اپنے اس ڈبے کے سامنے بیٹھی ورق گردانی کر رہی تھی مطلب یہ کے کچھ ویبسایٹ دیکھ اور ساتھ ساتھ پڑھ بھی رہی تھی۔کیونکہ کرنے کو کچھ نہیں تھا ۔تو میں اپنے ماضی میں چلی گئی ۔ یہ یادیں بھی کتنی عجیب و غریب ہوتی ہیں ۔سچ کہا
یاد ماضی عزاب ہے یاربَ،
کیا آپ نے کبھی دھوکہ کھایا ہے ؟ یا پھر دھوکہ دیا ہے اور اگر کھایا ہے تو کیسا لگا اور اگر دیا ہے تو آپ کو کیسا لگا ۔ بار بار دھوکہ دینے کو دل کیا ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دھوکے سے میری کیا مراد ہے ۔ یہاں میرا مقصد وحیدمراد نہیں ہے ۔
نہیں سوچ رہے تو بڑے کمال کی بات ہے۔ توبہ ہے میں نے ہیرو کمال کی بات نہیں کی ۔ بات ہو رہی تھی دھوکہ دینے اور دھوکا کھانے کی ۔ کچھ لوگوں کی فطرت میں ہوتا ہے کہ وہ کئی کئی سال آپ کے ساتھ رہتے ہیں ۔ وہی کچھ کہتے ہیں جیسا آپ سننا چاہتے ہیں ۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے ۔ کہ وہی انسان آپکو اپنی اصل شکل دکھا دیتا ہے ۔ اور آپ سوچتے رہ جاتے ہو کہ کمال ہے میں نے اتنا عرصہ ساتھ رہ کر بھی اس کو نہیں پہچانا ۔ وہ آپ کا قریبی دوست رشتے دار محلے دار ، کوئی کزن بس آپ کو تحریر کرنا ہے ۔اپنے دل کی بات کو کھلے دل سے

کہاں کی باتیں کرنے لگ گئی ہیں آج آپ اپی جی دھوکہ ؟؟ کوئی کھانے کی بات کریں
ویسے مجھے دھوکہ کھانے کا شوق ہو گیا ہے وہ اس طرح کے مجھے پتہ چل جائے کہ یہ بندا مجھے دھوکہ دینے لگا ہے تو میں انجان بن کر دھوکہ کھا لیتا ہوں لیکن اگلے بندے کو شرمندہ نہیں کرتا
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ کہنا چاہتی ہيں
اپنوں نے غم ديئے تو ہميں ياد آ گيا
اک اجنبی جو غير تھا پر غمگسار تھا
بعض اوقات انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اُس کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے مگر وہ پھر بھی دھوکہ کھا جاتا ہے ۔ ويسے آپ کمپيوٹر کے سامنے بيٹھے پچاس ساٹھ سال پيچھے کی دنيا ميں چلی گئيں ہيں جب آپ پيدا نہيں ہوئی تھيں ۔ آپ کا جو زمانہ ہے اس ميں دھوکہ دينا ايک عمدہ فلسفے کا نام ہے جو ترقی کا زينہ ہے ۔ عصرِ حاضر کے کسی کامياب شخص کے سامنے ايسی بات نہ کيجئے گا وہ کہے گا کہ آپ جاہل ۔ بيوقوف يا پاگل ہيں
اس تبصرے کا جواب دیں
وقت آچکاہے کہ ااپنے آپ کو دھوکہ کھانے سے بچائیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
خرم کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا سامنا کرنا اچھا لگتا ہے ۔میں نے لکھا تھا کہ اگر کوئی واقعہ ہوا ہے تو بیان کیا جائے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی ہم سبق سیکھ لیں
ویسے افتخار جی یہ میری عمر کس نے بتا دی ۔لوگ کہتے ہیں ۔ چاہے میں سچائی نہ بھی بیان کروں ۔ مجھے بہت دھوکے ملے اس لیے سوچا کہ صرف میں ہی بےوقوف ہوں یا میری طرح اور لوگ بھی ہیں ۔ آہستہ آہستہ بیان کروں گی ۔ کیونکہ کچھ پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں
فرحان کیا ایسا ممکن ہے ۔ کہ ہر بار دھوکہ کھانے کے بعد بھی یہی سوچا جائے یہ آخری بار ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
دھوکے کی جو قسم آپ نے لکھی ہے وہ فی زمانہ ” وقت پر گدھے کو باپ بنانے “” کی ہے-
جب بھی کسی کو آپ سے کوی کام ہو ، یا کام پڑنے والا ہو ، یا بس اتنا پتا ہو کے مستقبل قریب میں آپ اسکے کسی کام آسکتے ہو تو بس یہ ہنر آزمایا جاتا ہے-
گھاگ قسم کے لوگ تو آپ کو آخر وقت تک محسو س ہی نہیں ہونے دیں گے کے آپ بانس پر چڑھ چکے ہو – اس لیے کہا گیا ہے کے منہ پر تعریف کرنے والے سے ہوشیار رہو-
اس تبصرے کا جواب دیں
ماموں صبح ہو گئی ۔ کیا بات کی ہے اب مجھے پورا پورا یقین ہو گیا ہے کہ آپ ماموں ہی ہو ۔ جو سچے اور کھرے ہوتے ہیں وہ قدم قدم پر آپ کے ساتھ نہ بھی دیں لیکن وہ پھر بھی آپ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اور جن کو جب تک آپ سے مطلب ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو سچا کہلاتے تو ہیں لیکن ہوتے نہیں ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم تانیہ!
کیسی ہیں آپ؟ بہت دنوں بعد آنا ہوا آپ کے بلاگ پر لیکن سیارہ اور وینس پر آپ کی تحاریر پڑھتی رہی ہوں اس دوران۔
دھوکے کے بارے میں بھی خوب لکھا۔ میرا اپنے بارے میں عمومی خیال ہوتا ہے کہ میں بہت عقلمند ہوں اور اکثر اپنی امی سے کہتی ہوں کہ انہیں لوگوں کا اندازہ نہیں ہوتا اور لوگ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن خود میں ان سے زیادہ دھوکے کھاتی ہوں۔ اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ امی کو تو معلوم ہوتا ہے کہ اگلا شخص کیسا ہے بس وہ اپنی سادہ/ نرم مزاجی کی وجہ سے نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اور میں بہت دعوؤں کے باوجود لوگوں کو پہچان نہیں پاتی۔ :???:
اس تبصرے کا جواب دیں
فرحت بہت شکریہ آنے کا اور جو دھوکے والی بات کی امی کو تو اندازہ ہے لیکن پھر بھی وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ جو کہ بہت بڑی بات ہے ۔۔ لیکن آپ نے بھی جس صبر کا مظاہرہ کیا وہ بھی قابل ستاہش ہے میری طرح ۔ میں بھی بار بار دھوکہ کھا کر بھی باز نہیں آتی اب تو یہ کہہ کر خود کو تسلی دے دیتی ہوں کہ میں تو نہیں کرتی دوسرے کرتے ہیں تو کوئی بات نہیں ، باقی دلوں کے حال اللہ پاک جانتا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں