آو کہانی لکھتے ہیں
دوستو؛ سوچا کیا لکھا جائے روز ایک کہانی مضمون کالم گانا لطیفے یہ سب اب پرانے لگنے لگے تو کیوں نا ہم سب مل کر ایک کہانی کو شروع کرتے ہیں ۔ آخر میں دیکھیں گے کہ وہ کہانی اپنا اصل رنگ اختیار کرتی ہے یا پھر بے رنگ ہی رہتی ہے
کسی گاوں میں ایک موچی رہتا تھا ، اس کی پانچ بیٹیاں تھیں وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹیاں بڑی ہو کر پڑھیں اور کوئی باعزت نوکری کریں ۔ لیکن گاوں والوں کو یہ منظور نہیں تھا ۔ موچی کا کوئی بیٹا بھی نہیں تھا جو اس کا بازو بنتا ۔ اب آگے آپ لوگوں کی باری ہے

پہلی بیٹی کا نام ایکا، دوسرے کا بیکا، تیسری کا پیکا، چوتھی کا تیکا اور پانچویں کا ٹیکا تھا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
گاءووں والوں نے کہا کہ اگر لڑکیوں کے بڑے ہونے کا انتظار کیا تو اس طرح تو لڑکیاں خراب ہو کر کسی لائق نہیں رہیں گی۔ اور جو انکی تخلیق کا مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوگا۔ یہ قدرت کے کاموں میں دخل اندازی ہے۔ اس سلسلے میں گاءوں کے مولوی صاحب، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، کی خدمات حاصل کی گئیں اور پھر پنچ نے
مختلف فتووں ، گائووں کی صدیوں پرانی روایات اور اپنی دانائ سے یہ فیصلہ نکالا کہ ان لڑکیوں کی گاءوں میں اصل نسلی گھرانوں میں شادی کرادی جائے بلکہ وہ اگر خاندان کے ہوں تو بہتر ہے کہ اپنا مارے گا تو بھی چھائوں میں رکھے گا۔ جہاں انہیں دو وقت کا کھانا اور شوہر کی صورت میں مرد کا تحفظ ھاصل ہو جائے، باقی اللہ برکت دینے والا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔اس طرح سے اس موچی کو پانچ بیٹے جیسے داماد مل گئے۔ اور وہ اپنے آخری وقت میں سکون سے ساتھ مر گیا۔ بس یا کہانی کو اور آگے بڑھانا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ویسے آئیڈیا اچھا ہے۔ میں بھی سوچ رہی ہوں کہ کچھ شروعات دوں۔ اور ساتھ انعام بھی رکھ دوں۔ :roll:
اس تبصرے کا جواب دیں
پھر ‘ٹیکا’ کے منہ سے چیخ نکل پڑی اور وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اتنا ڈراونہ خواب تو اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی بہنیں بھی پریشان ہوگئیں اور اس سے خوف کی وجہ دریافت کی۔ ایکا نے اپنا ڈراونا خواب انہیں سنایا تو سب سے بڑی بہن ‘ایکا’ بولی: “اسی لیے منع کرتی ہوں، رات میں تم خوفناک ڈائجسٹ پڑھ کر مت سویا کرو”
اس تبصرے کا جواب دیں
موچی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ڈائجسٹ لے کر دے دوسری بات کہ ابھی تو تعلیم شروع ہی نہیں ہوئی تو پڑھنا کیسا ۔ عنیقہ کہانی کی شروعات کرو ۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ہم قدم ہم آواز
اس تبصرے کا جواب دیں
پنچ کے فیصلے کا چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا۔۔اور کیوں نہ لیں پنچائت کا فیصلہ ہے کوئی فوج کا تھوڑی ۔۔چناچہ شادی کینسل ھو گئی اور جو پانچ بیٹے جیسے داماد تھے وہ پولیس والوں کے لئے پیسے کھرے کرنے کے پانچ چیکس بن گئے۔۔اسی دوران بیٹوں کی کمی پوری کرنے کے لئے موچی کو نیا آئڈیا سوجھا ۔۔۔اس نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا اور ارادہ کیے کہ خاندانی منصوبہ بندی والوں کو منہ چڑا کر وہ پوری کرکٹ ٹیم بنا کر ھی چھوڑے گا۔۔اس سے آگے کیا ہوا اگلے کمنٹیٹر کا انتظار کریں :grin:
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک دن موچی پریشان بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوی – موچی باہر آیا تو دیکھا کے دو حکومتی اہکار کھڑے ہیں وہ ایک دم پریشان ہوگیا مگران میں سے ایک اہلکار اس کی پریشانی بھانپ گیا اور بولا بھای صاحب پریشان نہ ہو ہم اپکی مدد کے لیے آئے ہیں – ہم حکومت کے اس شعبے سے ہیں جو غریبوں کی مدد کرتا ہے آپ وہاں نیہں آے ہم خود آگئے براہ مہربانی اپنے اور اپنے تما م بیٹوں کے کوایف دیں تاکے حکومت کی طرف سے ان کا وظیفہ مقر ر ہو-
موچی کی کہچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا دوسرا اہکار بولا جناب حکومت اب چوروں اور اچکوں کے باتھ میں نہیں ہے اب ایک فلاحی ریاست کا قیام عمل میں آ چکا ہے اب آپ کے تمام بچوں کی تعلیم اور اخراجات حکومت کی ذمہ داری ہے براہ کرام جلدی کریں تاکے ہم دوسرے لوگوں تک بھی جا سکیں-
( نوٹ : فکشن پڑھنے والوں کے لیے -
اس تبصرے کا جواب دیں
موچی کی بیٹیوں کو پڑھنے کا شوق تھا، تبھی وہ لائبریری سے چار آنے فی گھنٹہ کرائے پر کتابیں اور رسالہ لاتی تھیں۔ تعلیم سے محروم رکھنا تھا تو پہلے بتادیا ہوتا :roll:
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک سرد شام میں الاؤ سلگائے پانچوں بیٹیاں مشورہ کر رہی تھیں کہ ہمیں آمدنی کا کوئی ذریعہ ڈھونڈنا چاہئے تاکہ پڑھائی کی تکمیل کے اخراجات اٹھائے جا سکیں۔
ایکا نے کہا: میں روز شام قریبی ریلوے اسٹیشن کے پاس یکہ چلاؤں گی۔
بیکا نے کہا: میں بکریاں چراؤں گی۔
پیکا نے کہا: میں پکوڑوں اور چائے کی دوکان کھول لوں گی۔
تیکا نے کہا: میں ترکاریاں اگا کر بیچوں گی۔
ٹیکا نے کہا: میں ٹوکریاں بن کر بیچوں کی۔
ابھی یہ مشورہ چل رہا تھا کہ ان کا باپ گولو موچی نکڑ پر اپنی دوکان بند کر کے لکڑی کا صندوق لئے اور کندھے پر تگوڑی رکھے گھر میں داخل ہوا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
ہاہاہا میرے خدا یہ کیسی کہانی ہے ۔ ابھی موچی کی بیٹیوں کی عمریں 10 ۔8 ۔6۔۔ 5 ۔3 ہیں ۔ بیوی آخری بیٹی پیدا ہوتے ہی دنیا چھوڑ گئی ، اب موچی کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ وہ ان پر دحیان دے یا اپنے کام پر جائے ۔ سب صے بڑی بیٹی باقی بہنوں کا خیال رکھتی ہے۔ اور وہ چاہتی ہے کہ وہ تو نہیں پڑھ سکی لیکن باقی بہنیں پڑھ جاہیں ۔ ۔۔اور اس کا خواب ہے کہ ایک بہن ٹیچر بنے ایک ڈاکٹر کیونکہ جب اس کی ماں کی موت ہوئی تھی اس وقت گاوں میں ڈاکٹر تو موجود تھا ۔ لیکن وہ آدمی تھا ۔؟؟/
اس تبصرے کا جواب دیں
ایک ہی کہانی
میرے خیال میں تو ہر کوئ الگ سے کہانی لِکھے اپنے انداز میں
کیا کہتے ہیں آپ لوگ؟؟؟
اس تبصرے کا جواب دیں
پہلے تو موچی کی چھترول کرواو چنیوٹ والے پلسیے سے کہ اس کی جتنی آمدن تھی اس سے بڑھ کر محنت کیوں کی ۔
دوسرا پرچہ اقدام قتل کا اس نے اپنی بیوی کو قتل کیا ہے ۔
بچیاں ایدھی کے عبدالستار بھائی کے حوالے ۔
چاچا موچی اندر ۔
کہانی ختم اب کوئی نا پوسٹے کیونکہ پولیس نے گھر بھی سیل کر دیا ہے ۔
:razz: :razz: :razz: :razz: :razz:
کنفیوز کامی کے بلاگ سے آخری تحریر … چھٹیاں اور میرا بچپن
اس تبصرے کا جواب دیں
اب کی بار پیکا ہڑبڑا کر اٹھی، اتنے بھیانک خواب کی تعبیر کی ہوسکتی ہے ہہ تو صرف باجی اللہ والی ہی بتا سکتی تھی۔ پیکا نے سوچا صبح ہوتے ہی وہ باجی اللہ والی کے گھر جائے گی مگر اسے یہ نا پتا تھا کے باجی کچھ ہی روز پہلے اپنے بھائی کے گھر کالا شاہ کاکو گئی ہے “جاری ہے”
اس تبصرے کا جواب دیں
باجی کے دروازے پر ایک کنگ سائز تالا دیکھ کر پیکا کو بہت مایوسی ہوئی مگر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ باجی سے صرور ملے گی اور اس خواب کا راز جان کر ہی دم لے گی۔ وہ فوراً ہی بیکا کو لے کر لاری اڈے گئی تا کہ پہلی بس پکڑ کر کالا شاہ کاکو جائے مگر جب اسے پتا چلا کہ بس والا فی کس ڈھائی سو چارج کرتا ہے تو اسکے ہوش ہی اڑ گئے۔
کیا پیکا کالا شاہ کاکو پہینچی؟
کیا وہ باجی اللہ والی سے ملی؟
کیا وہ جان پائی راز اپنے بھیانک سپنے کا؟
یہ سب جاننے کیلیئے انتظار کریں اگلے حصے کا۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
شاہدہ بات تو پتے کی ہے ہر کوئی اپنی کہانی لکھے لیکن تھوڑی تھوڑی کر کے تاکہ دوسرا نقل نہ کر سکے ۔ ویسے یہ باقی کہاں کھو گئے لگتا ہے موچی کے گھر کا چکر لگانے گے ہیں ۔
علی یہ باجی اللہ والی کہاں پائی جاتی ہے مجھے اپنے لیے کچھ معلوم کرنا ہے کسی نے کہا ہے کہ میرے ہاتھ بہت بڑی رقم لگنے والی ہے ۔ بس یہی جاننے کے لیے باجی اللہ والی سے ملنا ہے ۔ کچھ پیسے آپ کو بھی دے دوں گئی آپ کی شادی میں کام آہیں گے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
دس سال کی بچی تو بہت چھوٹی ہے اس لیئے ضروری ہے کہ ایک بڑی عورت کی اس گھر میں انٹری ہو یا کسی این جی او کی! :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
ورنہ انیقہ والی کہانی سچ ہوجائے گی :oops:
اس تبصرے کا جواب دیں
میں اپنی ہی کہانی کو آگے بڑھاتی ہوں کیونکہ ابھی تک کہانی میں ٹوئسٹ پیدا نہیں ہوا۔ تو موچی کے مرنے کے بعد نجانے ان بیٹے جیسے دامادوں کو کس کی نظر لگ گئ اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں کے پڑھنے کے شوق کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں اسکول میں داخل کرائیں گے اور جب تک وہ اٹھارہ سال کی عمر کو نہیں پہنچ جاتی ان پہ ماں بننے کی زمہ داری نہیں ڈالیں گے۔
گاءووں والوں نے تو سن کر کان پکڑ لئے۔ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے۔ یہ مرد تو شہر جا کر ایکدم عقل ہی کھو بیٹھے۔ انکی عقلوں پہ تو جیسے پردے پڑ گئے ہیں۔ مولوی صاحب نے بھی سمجھایا کہ عورت ناقص العقل ہوتی ہے۔ اپنے ارادے سے باز آجاءو۔ عورت کا صحیح کام نسل انسانی کو آگے بڑھانا ہے۔ تم ان سے ویسا ہی تعلق رکھو۔
لیکن استری کے آگے مستری کی کیا چلے۔ پورے گاءووں میں تشویش کی لہر دوڑی ہوئ تھی۔ اب کیا ہوگا۔ انکی دیکھا دیکھی تو پورے گاءووں کا ماحول خراب ہو جائے گا۔
ایکدن اسی بات پہ محفل گرم تھی کہ اچانک زلزلے کا ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا۔ بزرگوں نے کہا دیکھا یہ خدا کی طرف سے پیغام ہے کہ ایسا کرنا کس عذاب کا باعث ہوگا۔ سو ان بے وقوفوں نے پھر سمجھا کہ قدرت کے اشاروں پہ نہ کر راہ عمل بند۔ مقصد ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا کا۔ دیر آید درست آید۔
اس کہانی کا مرکزی خیال چار آنے والے ڈائجسٹ سےنہیں بلکہ پندرہ روپے والے اخبار سے لیا گیا ہے۔ اب حوالہ مت پوچھئیے گا پکوڑوں کے تیل کی وجہ سے اس اخبار کو کھا سکتے ہیں مگر پڑھ نہیں سکتے۔
اس پہ فلم یا ڈرامہ بنانے سے پہلے تانیہ رحمان سے اجازت لینا ضروری ہے۔
:idea:
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ سب لوگ اپنی اپنی کہا نیاں ختم کریں تاکہ میں اپنی دلچسپ کہانی شروع کرؤں :smile:
اس تبصرے کا جواب دیں
“کسی گاوں میں ایک موچی رہتا تھا ، اس کی پانچ بیٹیاں تھیں وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹیاں بڑی ہو کر پڑھیں اور کوئی باعزت نوکری کریں ۔ لیکن گاوں والوں کو یہ منظور نہیں تھا ۔ موچی کا کوئی بیٹا بھی نہیں تھا جو اس کا بازو بنتا ”
مجھے تو ایسا لگا کہ جیسے یہ مرکزی خیال پیش کیا گیا ہے اگر کہانی مکمل کرنے کا کھیل کھیلنا ہے تو پھر کہانی شروع کرنی ہوگی۔
ویسے گاؤں والوں کو کیوں منظور نہیں تھا ابھی تو یہ خیال موچی کے دل میں ہی تھا خیر کہانی پھر سر شروع کرنی پڑے گی اور اگر سنجیدہ ہو کر لکھی جاے تو بڑا مزا آئے گا
اس تبصرے کا جواب دیں
وفا اور خرم آپ دونوں ابھی تک کس سوچ میں ہو موچی کے دل پر کیا گزر رہی ہے اور اپ لوگ مذاق سمجھ رہے ہو ۔ گاوں والوں کو اس لیے منظور نہیں تھا کہ اگر موچی کی بیٹیاں پڑھ لکھ گیں تو جو زرا پیسے والے لوگ ہیں انکی عزت کو یہ گوراہ نہیں تھا کہ کوئی انکے مقابل کھڑا ہو سکے خاص کر گاوں کا چودھری۔ کیونکہ گاوں کے چودھری کی بیٹیاب میڑک تک تعلیم حاصل کر چکی ہیں ۔ گاوں والے اپنے مسائل حل کرنے انکے پاس جاتے ہیں اب ساری بات میں بتا دوں تو آپ لوگ کیا کرو گے
اس تبصرے کا جواب دیں
میری کہانی کے کرداروں کے نام کچھ یوں ہیں ۔ بڑی سکینہ ۔چھوٹی جمیلہ۔ پروین ۔نسرین ۔شمیم۔، ایک دن موچی اللہ بخش کی طبیعت خراب تھی ۔ ۔ ابا جی آج دوکان پر مت جاو ۔ دیکھو کتنا تیز بخار ہے کہوں تو حکیم جی سے دوا لے آوں ، نہیں بیٹا سکینہ ۔ دوکان پر نا گیا تو گھر کا خرچہ کیسے پورا ہو گا تم تو جانتی ہو کہ مہنگائی اتنی زیادہ ہے اور آمدن نا ہونے کے برابر پہلے ہی قرضہ بہت ہے تمھاری اماں کے جانے کے بعد سارا کام میں ہی کرتا ہوں پہلے وہ نیک بخت محلے والوں کے کپڑے سی لیا کرتی تھی ۔ کچھ پیسے آجاتے تھے ۔اباتم فکر مت کرو مجھے بھی تھوڑی بہت سلائی آتی ہے مشین تو گھر میں ہے بس ذرا تیل دے کر دھوپ میں رکھوں گی تو کام شروع کر دے گی آماں بھی ایسے ہی کرتی تھیں ۔لیکن سکینہ تم نے کہاں سے سلائی سیکھی ، ابا آماں کو کہاں سلائی آتی تھی ۔ وہ بھی تو تنویر کی آماں سے سیکھنے جاتی تھی میں بھی کچھ دن میں سیکھ لوں گی ۔ لیکن بیٹا وہ تو بڑی تھی ۔ اس لیے جلدی سیکھ لی ۔ ابا تم بھی کمال کرتے ہو عمر میں بڑی ہونے سے کیا ہوتا ہے دماغ اچھا ہونا چاہیے ۔ اچھا میرا چلا گھر کا خیال رکھنا ۔ اور دیکھو دروازہ دھیان سے بند کر لینا ۔ زمانہ بڑا خراب ہے ۔اور دونوں کے اسکول سے آنے کا بھی خیال رکھنا ۔ دیر نہ ہو جائے ، ابا تم فکر نہ کرو سب کر لوں گی
اس تبصرے کا جواب دیں
گزشتہ سے پیوستہ
بیکا اور پیکا مایوس ہوکر لاری اڈے سے نکل آئیں پانچ سو تو صرف کرایہ بنتا تھا، راستے میں قلفی گنڈیری کا خرچہ الگ۔ دونوں کوکچھ سمجھ نا آ رہا تھا۔ اب تو بس ایک ہی امید باقی تھی اور وہ تھی ایکا، انکی بڑی بہن، جس نے انہیں ماں کا پیار اور پھوپھی کی پھٹکار دونوں ہی دیں تھیں، جس نے راتوں کو جاگ جاگ کر رومانوی ناول پڑھے اور دن کو ساری اسٹوریاں انکو سنائی، جس نے گرمی کی تپتی دوپہروں میں کپڑے سی سی کر اپنے جہیز والے بکسے میں جمع کیئے۔
گھر پہیچتے ہی دونوں نے سارا قصہ ایکا کو سنایا، ایکا سمجھدار تھی، معاملے کی نزاکت کو فوراً ہی بھانپ گئی، اور کوئی ترکیب سوچنے لگی۔ آن کی آن ہی میں اسکے ذہین دماغ میں ایک آیڈیا آیا۔ اس نے سوچا کیو ں نا ٹیکا کو سرکس والوں کے ہاتھ بیچ دیں۔ باقی بہنیں جو آل ریڈی ٹیکا کو اپنی ماں کی موت کا زمہ دار سمجھتی تھیں اس منصوبے سے بہت خوش ہوئیں۔ اب ایک مسئلہ تھا کہ بابا کو ٹیکا کی گمشدگی کے بارے میں کیا کہا جائے، وہ تو اتنی بڑی بھی نا تھی کہ اس پر گھر سے بھاگنے کا شبعہ ہوتا۔ ایسے میں پیکا کے کند زہن میں ایک کندن سا آئیڈیا آیا۔ اس نے کہا کہ بابا کو کہیں گے کہ ٹیکا دریا پر نہاتے ہوئے ڈوب گئی ہے، کچھ دن بابا اسے ڈھو نڈے گا اور پھر رو دھو کر خاموش ہو جائے گا۔
سرکس والے ساتھ کے گاؤں میں اس رات اپنا آخری شو کر رہے تھے۔ ایکا نے ٹیکا کو نہلا دھلا کر عید والے کپڑے پہنائے اور ساتھ لے کر چل پڑی اور دوسری بہنوں کو سمجھا دیا کہ بابا پوچھے تو کیا کہنا ہے۔ قریباً دوپہر کے قریب وہ سرکس کے پڑاؤ پر پہنچیں، سامنے ہی ایک آدمی ہاتھی کو نہلا رہا تھا۔ دوسری جانب ایک مسخرہ “کہتا ہے جوکر سارا زمانہ۔۔۔” پر ڈانس پریکٹس کر رہا تھا۔ ٹیکا یہ مفت کا تماشہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی مگر تماشہ تو ابھی اسکی آپا نے دکھانا تھا وہ ٹیکا کو ایک بھالو کو پنجرے کے پاس چھوڑ کر سرکس کے مالک کے پاس گئی۔ کہانی وہ پہلے ہی بنا چکی تھی۔ ایس موقع پر پری ماں ہی کام آئی۔ اس نے رو رو کو سرکس کے مالک کو قائل کا کہ وہ بہن کو بیچ کر ماں کے کینسر کا علاج کروائے گی۔ سرکس مالک کو اسکی حالت پر ترس آگیا اور اسنے پانچ ھزار میں ٹیکا خرید لی۔
جاری ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
علی آپ کی کہانی بہت اچھی جا رہی ہے لیکن میرا موچی تو وہی رہ گیا خیر آپ نے اپنے انداز سے لکھی ہے ۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
[...] بلاگر کی طرف بڑھنے سے پہلے تانیہ کی ایک تحریر ’’آؤ کہانی لکھتے ہیں‘‘ کا ذکر نہ کرنا قطعاً مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ تانیہ [...]