آج بابا کی درگاہ کی سیڑھیوں پر ایک کونے سے لگا ایک فقیر میلا سا پھٹا پرانا کمبل لپیٹے ھوئےبیٹھا، کچھ اپنی پرانی یادوں میں کھویا ھوا سوچوں میں گم تھا،!!!!!

اسکی پتھرائی ھوئی سی آنکھیں، سر کے بال میلے کچیلے کمبل کے پھٹے سوراخوں میں سے سرد ھوا کے جھونکوں میں ھلتے ھوئے دکھائی دے رھے تھے، اس کی داڑھی کچھ سفید کچھ کالے بالوں کے ساتھ بے ترتیبی سے بڑھی ھوئی مٹی میں اٹی ھوئی دکھائی دے رھی تھی،!!!!!!

اسے اپنا کوئی ھوش نہیں تھا، سامنے اسکے کئی چمکتے ھوئے سکے اور بکھرے ھوئے نوٹ پڑے تھے، لیکن اسے اس سے کوئی غرض نہیں لگتا تھا، کچھ آس پاس بیٹھے بچے بھی شاید ان سکوں اور نوٹوں کو اچکنے کے لئے موقع کے انتظار میں بیٹھے تھے،!!!!

آج کچھ زیادہ ھی ٹھنڈ محسوس ھورھی تھی، سرد ھوا کی سرسراتی ھوئی تھپیڑے اسے مزید کمبل میں سمٹنے کے لئے مجبور کررھے تھے، لیکن وہ اس کمبل میں اپنے آپ کو مکمل طور سے لپیٹنے میں ناکام نظر آرھا تھا،!!!!

وہ کون ھے پہلے تو کبھی کسی نے اسے یہاں نہیں دیکھا تھا، اور بھی کئی فقیر کٹورا ھاتھ میں لئے بھیک مانگتے ھوئے آوازیں نکالتے ھوئے آس پاس بیٹھے نظر آئے، لیکن نہ اس کے منہ سے کوئی آواز سنائی دی اور نہ ھی کوئی صدا، بس ایک خاموشی سی تھی، بس اس کے کبھی کبھی ھلنے جلنے سے اس کے سلامت ھونے کا گمان ھوتا تھا،!!!!

ایک کار سیڑھیوں کے آخری سطح کے پاس ایک کنارے پر رکی، کار کا دروازہ کھلا اس میں سے ایک بہت ھی خوبصورت دوشیزہ نفیس لباس زیب تن کئے نکلی، اور سیدھا اسی فقیر کے پاس رکی اور اس کے سامنے بیٹھ گئی، اسکی آنکھوں میں آنسوں کی ایک قطار سی بہہ رھی تھی،!!!!

اس دوشیزہ کے منہ سے ایک کپکپاتی ھوئی آواز سنائی دی،!!!!

شہزاد !!!!! میرےشہزاد،!!!!! ایک بار میری بات تو سن لو،!!!!

یہ وہی شہزاد بھائی ھیں، جو تقریباً 10 سال پہلے ایک اسمارٹ خوبرو نوجوان ھوا کرتے تھے، ایک اچھی کمپنی میں اچھے عہدہ پر فائز تھے، ھمارے یہاں وہ اپنے بھائی اور بھابی کے ساتھ کبھی کبھی آیا کرتے، اور بہت ھی نفیس کپڑے پہننے کا شوق تھا، انکی شادی ابھی تک طے نہیں پائی تھی، یہ ھمارے دور کے رشتہ دار بھی تھے،!!!!!

میں ان دنوں میٹرک کا طالب علم تھا، اور شہزاد بھائی مجھ سے شاید 10 سال بڑے ھی ھونگے، وہ شروع شروع میں تو اپنے بھائی کے ساتھ ھی رھا کرتے تھے، لیکن کچھ ھی دنوں بعد انہوں نے کسی کے گھر میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا، جس کا دروازہ باھر کھلتا تھا، کمرے کے ساتھ باتھ روم کی سہولت موجود تھی، اور اس کمرے کی کھڑکی مالک مکان کے صحن میں ھی کھلتی تھی، جس کے شروع شروع میں کھولنے پر بالکل پابندی تھی،!!!!

میں بھی کبھی کبھی والدین کے ساتھ شہزاد کے بھائی اور بھابھی کے یہاں چلے جایا کرتا تھا، جہاں شہزاد بھائی بھی ھمارا سن کر آجایا کرتے، یہ معلومات بھی مجھے ان کے یہاں آنے جانے سے ھی جو ان کی آپس میں گفتگو کے دوران ھی معلوم ھوتی رھتی تھی، میری تو کوئی شہزاد سے کوئی خاص بات چیت نہیں تھی،!!!!! لیکن ان کے ساتھ بازار کا چکر لگا لئے کرتے،!!!!

شہزاد بھائی بہت اچھے تھے ان کے بھتیجے بھتیجیاں جو کہ بہت چھوٹے چھوٹے تھے، اور میرے بہن بھائی بھی ساتھ ھی ان کے ساتھ بازار یا پارک کا چکر لگا لیا کرتے،!!!!

شہزاد بھائی کے مکان مالک بہت سخت مزاج تھے، نیچے کے حصہ میں خود رھتے تھے اور اوپر کا حصہ بھی اپنے کسی رشتہ دار کو کرایہ پر دیا ھوا تھا، جس کی سیڑھیاں مکان مالک کے صحن سے ھی گزرتی تھیں، بہ بڑا دومنزلہ مکان تھا، شاید کوئی اچھی کمپنی میں کسی بڑی پوسٹ پر تھے، ایک اچھی کار بھی رکھی ھوئی تھی، جو صحن میں ھی پارک ھوتی تھی، گھر کے سامنے ڈبل سڑک تھی، اندر آنے کیلئے ایک بڑا اسٹیل کا گیٹ اور ایک چھوٹا گیٹ بھی تھا، اوپر جانے والی سیڑھیوں کے ساتھ ھی شہزاد بھائی کے کمرے کی کھڑی بھی تھی، جو کبھی نہیں کھلتی تھی،!!!! کیونکہ مکان مالک کی طرف سے کھڑکی کھولنے پر پابندی تھی، ان کے کمرے کادروازہ باھر گلی میں کھلتا تھا، اور شہزاد بھائی بس رات کو ھی وہاں سونے آتے تھے اور صبح ھوتے ھی اپنے کام پر نکل جاتے تھے، نوکری سے واپسی پر بھی وہ شام کو اپنے بھائی کے ھاں وقت گزارتے اور رات تک کھانے وغیرہ سے فارغ ھوکر ھی اپنے کمرے کی طرف چل دیتے جو وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر ھی تھا،!!!!

اس علاقے میں شہزاد بھائی نے سب کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے ھوئے تھے سب ان کی بہت عزت بھی کرتے تھے، ان کیلئے دو تین اچھے رشتے بھی آئے لیکن انہوں نے فی الوقت شادی سے انکار کردیا تھا، ان کے بڑے بھائی ان کی شادی کے لئے فکر مند بھی تھے، کافی انہوں نے بچت کی ھوئی تھی، اس میں سے اپنے بڑے بھائی کو بھی ھر مہینہ کچھ نہ کچھ گھر کے خرچے کیلئے دیتے بھی رھے، وہ چاھتے تھے کہ ان کا ایک چھوٹا سا مکان بمعہ تمام آسائیش کے، اگر ھوجائے تو پھر وہ شادی کیلئے کچھ سوچ سکتے ھیں،!!!!!

اس محلے میں کئی خاندان ان کے رشتے کیلئے اپنی بہن بیٹی بھی دینے کو تیار تھے اور ایک دو نے تو شاید مکان اور اچھا جہیز کا لالچ بھی دیا ھوا تھا، لیکن شہزاد بھائی کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی تھی کہ وہ لڑکی والوں سے کچھ جہیز یا کسی اور چیز کی لالچ رکھیں وہ جہیز کے بالکل خلاف تھے، ان کا ماننا تھا کہ جہیز ایک لعنت ھے، اوہر وہ یہی کہتے تھے کہ جب تک ان کا اپنا مکان تمام ساز و سامان کے ساتھ نہ ھوجائے، وہ کسی قیمت پر کسی بھی رشتہ کو قبول نہیں کریں گے، انہوں نے اپنے کرائے کے کمرے کو بھی بہت اچھا سجایا ھوا تھا، ایک چھوٹا صوفہ سیٹ اور ساتھ ھی ایک سنگل بیڈ بمعہ ایک چھوٹی الماری بھی کمرے میں قرینے سے رکھی ھوئی تھی،اوپر چھت پر ایک پنکھا بھی لٹکا ھوا تھا،!!!!

ایک دن ھم سب ان کے بھائی کے یہاں آئے ھوئے تھے، لیکن وہاں پر شہزاد بھائی کو نہیں دیکھا تو باتوں باتوں میں معلوم ھوا کہ آج کل وہ یہاں بہت کم آنے جانے لگے ھیں،!!! مجھے کچھ تشویش سی ھوئی، میں چپکے سے ان کے بھتیجے کو ساتھ لئے ان کے کمرے کی طرف نکل پڑا، جلدی جلدی قدم بڑھاتے ھوئے ان کے کمرے کے باھر گلی کی طرف دروازے پر پہنچ کر دستک دی، دروازہ کھلا تو شہزاد بھائی سامنے تھے بڑی گرم جوشی سے ملے، اب تو ان کے کمرے میں ایک نیا چھوٹا فرج بھی دیکھا، ایک دیوار کے ساتھ ٹیبل پر نیشنل کا ٹرانسسٹر ریڈیو بھی رکھا ھوا تھا، پہلے بھی کئی دفعہ ھم ان کا کمرہ دیکھ چکے تھے، لیکن اب تو مزید خوبصورت سجا سجایا نظر آرھا تھا،!!!!! اس سے پہلے کہ کچھ گپ شپ ھوتی، شہزاد بھائی اپنے بھتیجے کو ساتھ لئے باھر نکل  جاتے یہ کہتے ہوئے کہ بس ھم ابھی بازار سے ہو کر آتے ہیں،!!!! شاید کچھ کھانے پینے کا اہتمام کرنے گئے ھوں،!!!!

لیکن میری حیرت کی انتہا نہیں رھی جب میں نے دیکھا کہ کھڑکی کھلی ھوئی ھے اور وہاں سے ٹھنڈی ھوا کے جھونکے پردوں کو چھوتے ھوئے اندر آرھے ھیں، میں کھڑکی کی طرف آگے بڑھا تو مکان مالک کا صحن دیکھا جہاں کچھ ھری بھری گھاس اور مختلف قسم کے پھول پودے لگے ھوئے تھے، میرا بھی دل چاھتا تھا کہ ھمارے گھر میں بھی ایک چھوٹا سا صحن ھو اور وہاں میں خوب اچھا سا ایک باغیچہ بناؤں اور اس میں مختلف پھلواری لگاؤں، ابھی کھڑکی پر کھڑا میں کچھ سوچ ھی رھا تھا، کہ اچانک میرے سامنے ایک خوبصورت حسین سی لڑکی کھڑکی کے دوسری طرف میرے عین سامنے آگئی،!!!!

میں گھبرا سا گیا اور کھڑکی سے پیچھےہٹ گیا ،!!!! شہزاد بھائی اور ان کا بھتیجا ابھی تک بازار سے نہیں لوٹے تھے ،!!!! انہی دنوں یہ بات بھی سننے کو ملی کہ  وہ رات کا کھانا بھائی کے یہاں نہیں کھاتے ۔۔۔۔، اور نہ ھی ان کے کمرے میں کوئی پکانے کا انتظام تھا، اس سے صاف ظاھر تھا کہ انہوں نے باھر ھی ھوٹل وغیرہ میں اپنا کھانے پینے کا بندوبست کیا ھوا ھوگا،!!!!!
جیسے ھی میں اس لڑکی کو دیکھ کر کھڑکی سے پیچھے ھٹا، اس لڑکی نے مجھے آواز دی،!!!!!
سنو،!!!! کیا نام ھے تمھارا،!!!!!!
میں نے جواباً گھبراتے ھوئے اپنا نام بتایا،!!!!!
لڑکی نے پوچھا کہ شہزاد کہاں ھیں،؟؟؟؟؟؟
میں نے اپنے آپ کو سنھالتے ھوئے کہا کہ،!!! وہ شہزاد بھائی ذرا باھر گئے ھیں، بس ابھی آتے ھی ھونگے،!!!!
اس لڑکی نے ھاتھ بڑھاتے ھوئے،  ڈھکی ہوئی ایک پلیٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاجر کا حلوہ ۔۔۔۔
میں نے بھی فوراً اس لڑکی سے وہ پلیٹ لے لی، مگر اس وقت مجھے گھبراھٹ کے عالم میں وہ پلیٹ بہت بھاری لگ رھی تھی، اس سے پہلے کہ پلیٹ میرے ھاتھ سے گر جائے، میں نے دونوں ھاتھوں سے بہت ھی محتاط ھوکر ٹیبل پر رکھ دی جہاں ریڈیو رکھا ھوا تھا،!!!!!

میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو وہ حسین لڑکی اب بھی مجھے دیکھ کر مسکرائے جارھی تھی،!!!!! مجھ سے مخاطب ھوکر دوبارہ میرا نام پوچھا،!!!!!!
میں نے کہا،!!!! میں نے ابھی تو آپکو اپنا نام بتایا تھا،!!!!
لڑکی نے کہا کہ دوبارہ بتانے میں کیا کوئی حرج ھے، میں ذرا بھول گئی تھی،!!!!!
میں نے دوبارا اپنا نام بتاتے ھوئے اس سے اسکا نام بھی پوچھ لیا، بہت ھی پیاری اور خوبصورت لگ رھی تھی،!!!!
اس نے بہت ھی مدھم سر میں کچھ کھا،!!!!! نازنین،!!!!! اور کھڑکی سے غائب ،!!!!
میں بس اسے دیکھتا ھی رہ گیا، اتنی خوبصورت اور حسین لڑکی میں نے نہیں دیکھی تھی، میں ابھی شاید 17 برس کا بھی نہیں ھونگا، لیکن دل میں حسن و جمال کے پرکھنے کے جذبات ضرور رکھتا تھا،!!! میرے دل میں ایک دم خیال آیا کہ یقیناً اس لڑکی کا شہزاد بھائی سے کوئی چکر۔۔۔۔

اسی اثناء میں شہزاد بھائی اپنے بھتیجے کے ساتھ کمرے میں داخل ھوئے ان کے ھاتھ میں ایک دو تھیلیاں تھیں، جس میں کچھ سموسے، جلیبیاں اور نمک پارے وغیرہ تھے، میں نے فوراً ھی شہزاد بھائی کو ٹیبل پر رکھی ھوئی پلیٹ دیکھنے کو کہا اور ابھی میں کچھ ھی کہہ پاتا،!!!!
 انہوں نے فوراً پوچھا،!!!!! کیا نازنیں آئی تھی،!!!!
میں نے جواباً اپنی گردن ھلادی، اور میں نے بھی کچھ ھمت کرکے پوچھ ھی لیا کہ،!!!! یہ کیا چکر ھے شہزاد بھائی، یہ نازنین کون ھیں،!!!!!!!

وہ پہلے تو خوب مسکرائے،!!! اور بہت ھی رازداری سے کہا، !!!! دیکھو تمہیں قسم ھے، ابھی کسی سے بالکل نہیں کہنا، یہ بہت جلد  تمھاری بھابھی بننے والی ھیں، ھمارے بھتیجے کو تو پہلے سے ھی معلوم ھے،!!!!!

میں نے کہا، کہ شہزاد بھائی،!!! واقعی آپ بہت ھی خوش قسمت ھیں، جبھی تو آجکل آپ بھی ھر وقت بنے ٹھنے رھتے ھیں،!!!!!
مجھے بعد میں شہزاد بھائی نے کہا کہ،!!!!! یہ لڑکی مجھے صبح کالج جاتے ھوئے ھر زوز نظر آتی تھی، لیکن میں نے کبھی دھیان نہیں دیا جبکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ مکان مالک کی بیٹی ھے،!!!!

بات کو بڑھاتے ھوئے انہوں نے اپنے دل کا سارا حال کھول دیا، ایک دو دفعہ اس لڑکی کے والد سے بھی انکی ملاقات ھوئی اور انہیں ایک شریف لڑکا سمجھتے ھوئے، انہیں کھڑکی کھولنے کی اجازت بھی دے دی تھی، !
آھستہ آھستہ ایک دوسرے کو دیکھتے ھوئے اسی کھڑکی کی بدولت ان دونوں کی محبت پروان چڑھتی رھی، جس کا  کسی کو بھی علم نہیں تھا، نہ ان کے بھائی بھابھی کو اور نہ ھی لڑکی کے گھر والوں کو،!!!!!!

مجھے  ان دونوں کی قسمت پر رشک آنے لگا تھا، مجھے ان دونوں کی محبت کو دیکھ کر ابہت ھی زیادہ خوشی محسوس ھوتی تھی، ساتھ کچھ حسد بھی،!!!!! دونوں جہاں بہت  خوبصورت تھےاس سے کہیں زیادہ    اچھے دل کے مالک تھے،لگتا اللہ پاک نے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے بنایا ہو۔
 شہزاد بھائی جب بھی مجھ سے ملتے تو اپنی محبت کے قصے بہت پیار سے  سناتے تھے،!!! اور میں بھی  ان دنوں کچھ زیادہ ہی جانے لگا تھا، اور کئی دفعہ ان دونوں کو  ایک ساتھ اس کھڑکی کے پاس آمنے سامنے باتیں کرتے ھوئے بھی دیکھا، روز بروز ان دونوں کی محبت شدت اختیار کرتی چلی گئی، مگر شھزاد بھائی نے کبھی بھی  نازنین سے کہیں باھر ملنے کی کوشش نہیں کی اور اپنے اور اسکے ساتھ تعلقات کا رشتہ صرف اور صرف اس کھڑکی تک ھی محدود رھا،!!!!!!
شہزاد کا کہنا تھا کہ بس کچھ ھی دنوں کی بات ھے، میں اپنا ایک ذاتی مکان خریدنے والا ھوں، انہیں اپنی کمپنی سے مکان کے لئے قرضہ بھی مل چکا تھا اور اس کے علاوہ بنک میں بھی ایک اچھی خاصی رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع تھی، اب تو   موٹر سائیکل بھی آچکی تھی،!!!!! وہ بہت خوش تھے کہ وہ بہت جلد ھی ایک مکان خرید کر اور اسے مکمل ڈیکوریٹ کرکے اپنے بھائی اور بھابھی کو ان کے گھر نازنین کا رشتہ مانگنے بھیجیں گے،!!!!!

وہ بہت خوش تھے کہ ان کی منزل اب بالکل قریب ھے، وہ اب مزید اسمارٹ لگنے لگے تھے، ایک خوبرو جوان کی طرح اور ادھر نازنین بھی اپنے حسین خوابوں کی بہت جلد تعبیر اپنے سامنے دیکھتے ھوئے بہت ھی زیادہ خوش تھی،!!!!!!

وقت تیزی سے گزررھا تھا، چھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا، میں بھی گریجویشن کرچکا تھا اور سروس کررھا رھا، والد صاحب کا دوسرے شہر تبادلہ ھوچکا تھا، اور ساتھ ھی مجھے اور سب بہن بھائی والدہ سمیت، والد صاحب کے ساتھ ھی روانہ ھونا پڑ گیا تھا، ،

نئی جگہ اور نئے ماحول میں اتنے مصروف ہو گے ، سب بہن بھائی اسکولوں میں پڑھتے تھے ، میں اور والد صاحب اپنے اس کنبے کو چلانے میں اپنی اپنی جگہ محنت سے کام کرتے رھے، یہاں بھی وقت اتنی جلدی سے گزرا کہ مزید تین سال اور بیت گئے،!!!!!

اسی دوران وہاں سے بھی والد صاحب کا تبادلہ کسی اور شہر میں ھو گیا، بہن بھائی اور والدہ واپس پرانے شہر جاچکی تھیں، اور میں بھی کچھ مہینوں بعد ھی اپنے پرانے شہر واپس آگیا میں بہت خوش تھا،آج نا جانے پھر مجھے شہزاد بھائی یاد آنے لگے ۔ شاہد اچھی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتیں ہیں ۔ شہزاد بھائی اور نازنیں بھی ان اچھی یادوں کا حصہ تھیں ۔۔ تھوڑا سا افسوس بھی ہوا کہ اپنی زندگی میں مصروفیت کی وجہ سے شہزاد بھائی یا انکے بھائی بھابھی کی کوئی خیر خبر نہیں رکھ سکے 
!!!!!! ٹرین جتنی تیزی سے میرے پرانے شہر کی طرف بڑھ رھی تھی مجھے شہزاد اور نازنیں کی طرف سے بہت بے چینی ہو رہی تھی ۔ دل بار بار یہی دعا مانگ رہا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کی سنگیت میں خوش ہوں ،
گھر پہنچتے ھی میں نے کچھ دیر آرام کیا، اور تازہ دم ھوکر شہزاد بھائی کی طرف سب بہن بھائیوں اور والدہ کو لے کر چل دیا، والدہ کو بھی کافی عرصہ ھوگیا تھا ان کے بھائی بھابھی کی خبر لئے ھوئے، کچھ ھی دیر میں شہزاد  کے بھائی بھابھی کے گھر پہنچے، تمام گلے شکوؤں کے بعد ان کی بھابھی نے شہزاد کے بارے میں ایک سرد آہ بھرتے ھوئے میری والدہ سے کہا کہ،!!!!!