ایک دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ،!!! ایک سچی کہانی۔ عبدالرحمن سید۔جاری ہے
اسکی پتھرائی ھوئی سی آنکھیں، سر کے بال میلے کچیلے کمبل کے پھٹے سوراخوں میں سے سرد ھوا کے جھونکوں میں ھلتے ھوئے دکھائی دے رھے تھے، اس کی داڑھی کچھ سفید کچھ کالے بالوں کے ساتھ بے ترتیبی سے بڑھی ھوئی مٹی میں اٹی ھوئی دکھائی دے رھی تھی،!!!!!!
اسے اپنا کوئی ھوش نہیں تھا، سامنے اسکے کئی چمکتے ھوئے سکے اور بکھرے ھوئے نوٹ پڑے تھے، لیکن اسے اس سے کوئی غرض نہیں لگتا تھا، کچھ آس پاس بیٹھے بچے بھی شاید ان سکوں اور نوٹوں کو اچکنے کے لئے موقع کے انتظار میں بیٹھے تھے،!!!!
آج کچھ زیادہ ھی ٹھنڈ محسوس ھورھی تھی، سرد ھوا کی سرسراتی ھوئی تھپیڑے اسے مزید کمبل میں سمٹنے کے لئے مجبور کررھے تھے، لیکن وہ اس کمبل میں اپنے آپ کو مکمل طور سے لپیٹنے میں ناکام نظر آرھا تھا،!!!!
وہ کون ھے پہلے تو کبھی کسی نے اسے یہاں نہیں دیکھا تھا، اور بھی کئی فقیر کٹورا ھاتھ میں لئے بھیک مانگتے ھوئے آوازیں نکالتے ھوئے آس پاس بیٹھے نظر آئے، لیکن نہ اس کے منہ سے کوئی آواز سنائی دی اور نہ ھی کوئی صدا، بس ایک خاموشی سی تھی، بس اس کے کبھی کبھی ھلنے جلنے سے اس کے سلامت ھونے کا گمان ھوتا تھا،!!!!
ایک کار سیڑھیوں کے آخری سطح کے پاس ایک کنارے پر رکی، کار کا دروازہ کھلا اس میں سے ایک بہت ھی خوبصورت دوشیزہ نفیس لباس زیب تن کئے نکلی، اور سیدھا اسی فقیر کے پاس رکی اور اس کے سامنے بیٹھ گئی، اسکی آنکھوں میں آنسوں کی ایک قطار سی بہہ رھی تھی،!!!!
اس دوشیزہ کے منہ سے ایک کپکپاتی ھوئی آواز سنائی دی،!!!!
شہزاد !!!!! میرےشہزاد،!!!!! ایک بار میری بات تو سن لو،!!!!
یہ وہی شہزاد بھائی ھیں، جو تقریباً 10 سال پہلے ایک اسمارٹ خوبرو نوجوان ھوا کرتے تھے، ایک اچھی کمپنی میں اچھے عہدہ پر فائز تھے، ھمارے یہاں وہ اپنے بھائی اور بھابی کے ساتھ کبھی کبھی آیا کرتے، اور بہت ھی نفیس کپڑے پہننے کا شوق تھا، انکی شادی ابھی تک طے نہیں پائی تھی، یہ ھمارے دور کے رشتہ دار بھی تھے،!!!!!
میں ان دنوں میٹرک کا طالب علم تھا، اور شہزاد بھائی مجھ سے شاید 10 سال بڑے ھی ھونگے، وہ شروع شروع میں تو اپنے بھائی کے ساتھ ھی رھا کرتے تھے، لیکن کچھ ھی دنوں بعد انہوں نے کسی کے گھر میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا، جس کا دروازہ باھر کھلتا تھا، کمرے کے ساتھ باتھ روم کی سہولت موجود تھی، اور اس کمرے کی کھڑکی مالک مکان کے صحن میں ھی کھلتی تھی، جس کے شروع شروع میں کھولنے پر بالکل پابندی تھی،!!!!
میں بھی کبھی کبھی والدین کے ساتھ شہزاد کے بھائی اور بھابھی کے یہاں چلے جایا کرتا تھا، جہاں شہزاد بھائی بھی ھمارا سن کر آجایا کرتے، یہ معلومات بھی مجھے ان کے یہاں آنے جانے سے ھی جو ان کی آپس میں گفتگو کے دوران ھی معلوم ھوتی رھتی تھی، میری تو کوئی شہزاد سے کوئی خاص بات چیت نہیں تھی،!!!!! لیکن ان کے ساتھ بازار کا چکر لگا لئے کرتے،!!!!
شہزاد بھائی بہت اچھے تھے ان کے بھتیجے بھتیجیاں جو کہ بہت چھوٹے چھوٹے تھے، اور میرے بہن بھائی بھی ساتھ ھی ان کے ساتھ بازار یا پارک کا چکر لگا لیا کرتے،!!!!
شہزاد بھائی کے مکان مالک بہت سخت مزاج تھے، نیچے کے حصہ میں خود رھتے تھے اور اوپر کا حصہ بھی اپنے کسی رشتہ دار کو کرایہ پر دیا ھوا تھا، جس کی سیڑھیاں مکان مالک کے صحن سے ھی گزرتی تھیں، بہ بڑا دومنزلہ مکان تھا، شاید کوئی اچھی کمپنی میں کسی بڑی پوسٹ پر تھے، ایک اچھی کار بھی رکھی ھوئی تھی، جو صحن میں ھی پارک ھوتی تھی، گھر کے سامنے ڈبل سڑک تھی، اندر آنے کیلئے ایک بڑا اسٹیل کا گیٹ اور ایک چھوٹا گیٹ بھی تھا، اوپر جانے والی سیڑھیوں کے ساتھ ھی شہزاد بھائی کے کمرے کی کھڑی بھی تھی، جو کبھی نہیں کھلتی تھی،!!!! کیونکہ مکان مالک کی طرف سے کھڑکی کھولنے پر پابندی تھی، ان کے کمرے کادروازہ باھر گلی میں کھلتا تھا، اور شہزاد بھائی بس رات کو ھی وہاں سونے آتے تھے اور صبح ھوتے ھی اپنے کام پر نکل جاتے تھے، نوکری سے واپسی پر بھی وہ شام کو اپنے بھائی کے ھاں وقت گزارتے اور رات تک کھانے وغیرہ سے فارغ ھوکر ھی اپنے کمرے کی طرف چل دیتے جو وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر ھی تھا،!!!!
اس علاقے میں شہزاد بھائی نے سب کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے ھوئے تھے سب ان کی بہت عزت بھی کرتے تھے، ان کیلئے دو تین اچھے رشتے بھی آئے لیکن انہوں نے فی الوقت شادی سے انکار کردیا تھا، ان کے بڑے بھائی ان کی شادی کے لئے فکر مند بھی تھے، کافی انہوں نے بچت کی ھوئی تھی، اس میں سے اپنے بڑے بھائی کو بھی ھر مہینہ کچھ نہ کچھ گھر کے خرچے کیلئے دیتے بھی رھے، وہ چاھتے تھے کہ ان کا ایک چھوٹا سا مکان بمعہ تمام آسائیش کے، اگر ھوجائے تو پھر وہ شادی کیلئے کچھ سوچ سکتے ھیں،!!!!!
اس محلے میں کئی خاندان ان کے رشتے کیلئے اپنی بہن بیٹی بھی دینے کو تیار تھے اور ایک دو نے تو شاید مکان اور اچھا جہیز کا لالچ بھی دیا ھوا تھا، لیکن شہزاد بھائی کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی تھی کہ وہ لڑکی والوں سے کچھ جہیز یا کسی اور چیز کی لالچ رکھیں وہ جہیز کے بالکل خلاف تھے، ان کا ماننا تھا کہ جہیز ایک لعنت ھے، اوہر وہ یہی کہتے تھے کہ جب تک ان کا اپنا مکان تمام ساز و سامان کے ساتھ نہ ھوجائے، وہ کسی قیمت پر کسی بھی رشتہ کو قبول نہیں کریں گے، انہوں نے اپنے کرائے کے کمرے کو بھی بہت اچھا سجایا ھوا تھا، ایک چھوٹا صوفہ سیٹ اور ساتھ ھی ایک سنگل بیڈ بمعہ ایک چھوٹی الماری بھی کمرے میں قرینے سے رکھی ھوئی تھی،اوپر چھت پر ایک پنکھا بھی لٹکا ھوا تھا،!!!!
ایک دن ھم سب ان کے بھائی کے یہاں آئے ھوئے تھے، لیکن وہاں پر شہزاد بھائی کو نہیں دیکھا تو باتوں باتوں میں معلوم ھوا کہ آج کل وہ یہاں بہت کم آنے جانے لگے ھیں،!!! مجھے کچھ تشویش سی ھوئی، میں چپکے سے ان کے بھتیجے کو ساتھ لئے ان کے کمرے کی طرف نکل پڑا، جلدی جلدی قدم بڑھاتے ھوئے ان کے کمرے کے باھر گلی کی طرف دروازے پر پہنچ کر دستک دی، دروازہ کھلا تو شہزاد بھائی سامنے تھے بڑی گرم جوشی سے ملے، اب تو ان کے کمرے میں ایک نیا چھوٹا فرج بھی دیکھا، ایک دیوار کے ساتھ ٹیبل پر نیشنل کا ٹرانسسٹر ریڈیو بھی رکھا ھوا تھا، پہلے بھی کئی دفعہ ھم ان کا کمرہ دیکھ چکے تھے، لیکن اب تو مزید خوبصورت سجا سجایا نظر آرھا تھا،!!!!! اس سے پہلے کہ کچھ گپ شپ ھوتی، شہزاد بھائی اپنے بھتیجے کو ساتھ لئے باھر نکل جاتے یہ کہتے ہوئے کہ بس ھم ابھی بازار سے ہو کر آتے ہیں،!!!! شاید کچھ کھانے پینے کا اہتمام کرنے گئے ھوں،!!!!
لیکن میری حیرت کی انتہا نہیں رھی جب میں نے دیکھا کہ کھڑکی کھلی ھوئی ھے اور وہاں سے ٹھنڈی ھوا کے جھونکے پردوں کو چھوتے ھوئے اندر آرھے ھیں، میں کھڑکی کی طرف آگے بڑھا تو مکان مالک کا صحن دیکھا جہاں کچھ ھری بھری گھاس اور مختلف قسم کے پھول پودے لگے ھوئے تھے، میرا بھی دل چاھتا تھا کہ ھمارے گھر میں بھی ایک چھوٹا سا صحن ھو اور وہاں میں خوب اچھا سا ایک باغیچہ بناؤں اور اس میں مختلف پھلواری لگاؤں، ابھی کھڑکی پر کھڑا میں کچھ سوچ ھی رھا تھا، کہ اچانک میرے سامنے ایک خوبصورت حسین سی لڑکی کھڑکی کے دوسری طرف میرے عین سامنے آگئی،!!!!
میں گھبرا سا گیا اور کھڑکی سے پیچھےہٹ گیا ،!!!! شہزاد بھائی اور ان کا بھتیجا ابھی تک بازار سے نہیں لوٹے تھے ،!!!! انہی دنوں یہ بات بھی سننے کو ملی کہ وہ رات کا کھانا بھائی کے یہاں نہیں کھاتے ۔۔۔۔، اور نہ ھی ان کے کمرے میں کوئی پکانے کا انتظام تھا، اس سے صاف ظاھر تھا کہ انہوں نے باھر ھی ھوٹل وغیرہ میں اپنا کھانے پینے کا بندوبست کیا ھوا ھوگا،!!!!!
جیسے ھی میں اس لڑکی کو دیکھ کر کھڑکی سے پیچھے ھٹا، اس لڑکی نے مجھے آواز دی،!!!!!
سنو،!!!! کیا نام ھے تمھارا،!!!!!!
میں نے جواباً گھبراتے ھوئے اپنا نام بتایا،!!!!!
لڑکی نے پوچھا کہ شہزاد کہاں ھیں،؟؟؟؟؟؟
میں نے اپنے آپ کو سنھالتے ھوئے کہا کہ،!!! وہ شہزاد بھائی ذرا باھر گئے ھیں، بس ابھی آتے ھی ھونگے،!!!!
اس لڑکی نے ھاتھ بڑھاتے ھوئے، ڈھکی ہوئی ایک پلیٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاجر کا حلوہ ۔۔۔۔
میں نے بھی فوراً اس لڑکی سے وہ پلیٹ لے لی، مگر اس وقت مجھے گھبراھٹ کے عالم میں وہ پلیٹ بہت بھاری لگ رھی تھی، اس سے پہلے کہ پلیٹ میرے ھاتھ سے گر جائے، میں نے دونوں ھاتھوں سے بہت ھی محتاط ھوکر ٹیبل پر رکھ دی جہاں ریڈیو رکھا ھوا تھا،!!!!!
میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو وہ حسین لڑکی اب بھی مجھے دیکھ کر مسکرائے جارھی تھی،!!!!! مجھ سے مخاطب ھوکر دوبارہ میرا نام پوچھا،!!!!!!
میں نے کہا،!!!! میں نے ابھی تو آپکو اپنا نام بتایا تھا،!!!!
لڑکی نے کہا کہ دوبارہ بتانے میں کیا کوئی حرج ھے، میں ذرا بھول گئی تھی،!!!!!
میں نے دوبارا اپنا نام بتاتے ھوئے اس سے اسکا نام بھی پوچھ لیا، بہت ھی پیاری اور خوبصورت لگ رھی تھی،!!!!
اس نے بہت ھی مدھم سر میں کچھ کھا،!!!!! نازنین،!!!!! اور کھڑکی سے غائب ،!!!!
میں بس اسے دیکھتا ھی رہ گیا، اتنی خوبصورت اور حسین لڑکی میں نے نہیں دیکھی تھی، میں ابھی شاید 17 برس کا بھی نہیں ھونگا، لیکن دل میں حسن و جمال کے پرکھنے کے جذبات ضرور رکھتا تھا،!!! میرے دل میں ایک دم خیال آیا کہ یقیناً اس لڑکی کا شہزاد بھائی سے کوئی چکر۔۔۔۔
اسی اثناء میں شہزاد بھائی اپنے بھتیجے کے ساتھ کمرے میں داخل ھوئے ان کے ھاتھ میں ایک دو تھیلیاں تھیں، جس میں کچھ سموسے، جلیبیاں اور نمک پارے وغیرہ تھے، میں نے فوراً ھی شہزاد بھائی کو ٹیبل پر رکھی ھوئی پلیٹ دیکھنے کو کہا اور ابھی میں کچھ ھی کہہ پاتا،!!!!
انہوں نے فوراً پوچھا،!!!!! کیا نازنیں آئی تھی،!!!!
میں نے جواباً اپنی گردن ھلادی، اور میں نے بھی کچھ ھمت کرکے پوچھ ھی لیا کہ،!!!! یہ کیا چکر ھے شہزاد بھائی، یہ نازنین کون ھیں،!!!!!!!
وہ پہلے تو خوب مسکرائے،!!! اور بہت ھی رازداری سے کہا، !!!! دیکھو تمہیں قسم ھے، ابھی کسی سے بالکل نہیں کہنا، یہ بہت جلد تمھاری بھابھی بننے والی ھیں، ھمارے بھتیجے کو تو پہلے سے ھی معلوم ھے،!!!!!
میں نے کہا، کہ شہزاد بھائی،!!! واقعی آپ بہت ھی خوش قسمت ھیں، جبھی تو آجکل آپ بھی ھر وقت بنے ٹھنے رھتے ھیں،!!!!!
مجھے بعد میں شہزاد بھائی نے کہا کہ،!!!!! یہ لڑکی مجھے صبح کالج جاتے ھوئے ھر زوز نظر آتی تھی، لیکن میں نے کبھی دھیان نہیں دیا جبکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ مکان مالک کی بیٹی ھے،!!!!
بات کو بڑھاتے ھوئے انہوں نے اپنے دل کا سارا حال کھول دیا، ایک دو دفعہ اس لڑکی کے والد سے بھی انکی ملاقات ھوئی اور انہیں ایک شریف لڑکا سمجھتے ھوئے، انہیں کھڑکی کھولنے کی اجازت بھی دے دی تھی، !
آھستہ آھستہ ایک دوسرے کو دیکھتے ھوئے اسی کھڑکی کی بدولت ان دونوں کی محبت پروان چڑھتی رھی، جس کا کسی کو بھی علم نہیں تھا، نہ ان کے بھائی بھابھی کو اور نہ ھی لڑکی کے گھر والوں کو،!!!!!!
مجھے ان دونوں کی قسمت پر رشک آنے لگا تھا، مجھے ان دونوں کی محبت کو دیکھ کر ابہت ھی زیادہ خوشی محسوس ھوتی تھی، ساتھ کچھ حسد بھی،!!!!! دونوں جہاں بہت خوبصورت تھےاس سے کہیں زیادہ اچھے دل کے مالک تھے،لگتا اللہ پاک نے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے بنایا ہو۔
شہزاد بھائی جب بھی مجھ سے ملتے تو اپنی محبت کے قصے بہت پیار سے سناتے تھے،!!! اور میں بھی ان دنوں کچھ زیادہ ہی جانے لگا تھا، اور کئی دفعہ ان دونوں کو ایک ساتھ اس کھڑکی کے پاس آمنے سامنے باتیں کرتے ھوئے بھی دیکھا، روز بروز ان دونوں کی محبت شدت اختیار کرتی چلی گئی، مگر شھزاد بھائی نے کبھی بھی نازنین سے کہیں باھر ملنے کی کوشش نہیں کی اور اپنے اور اسکے ساتھ تعلقات کا رشتہ صرف اور صرف اس کھڑکی تک ھی محدود رھا،!!!!!!
شہزاد کا کہنا تھا کہ بس کچھ ھی دنوں کی بات ھے، میں اپنا ایک ذاتی مکان خریدنے والا ھوں، انہیں اپنی کمپنی سے مکان کے لئے قرضہ بھی مل چکا تھا اور اس کے علاوہ بنک میں بھی ایک اچھی خاصی رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع تھی، اب تو موٹر سائیکل بھی آچکی تھی،!!!!! وہ بہت خوش تھے کہ وہ بہت جلد ھی ایک مکان خرید کر اور اسے مکمل ڈیکوریٹ کرکے اپنے بھائی اور بھابھی کو ان کے گھر نازنین کا رشتہ مانگنے بھیجیں گے،!!!!!
وہ بہت خوش تھے کہ ان کی منزل اب بالکل قریب ھے، وہ اب مزید اسمارٹ لگنے لگے تھے، ایک خوبرو جوان کی طرح اور ادھر نازنین بھی اپنے حسین خوابوں کی بہت جلد تعبیر اپنے سامنے دیکھتے ھوئے بہت ھی زیادہ خوش تھی،!!!!!!
وقت تیزی سے گزررھا تھا، چھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا، میں بھی گریجویشن کرچکا تھا اور سروس کررھا رھا، والد صاحب کا دوسرے شہر تبادلہ ھوچکا تھا، اور ساتھ ھی مجھے اور سب بہن بھائی والدہ سمیت، والد صاحب کے ساتھ ھی روانہ ھونا پڑ گیا تھا، ،
نئی جگہ اور نئے ماحول میں اتنے مصروف ہو گے ، سب بہن بھائی اسکولوں میں پڑھتے تھے ، میں اور والد صاحب اپنے اس کنبے کو چلانے میں اپنی اپنی جگہ محنت سے کام کرتے رھے، یہاں بھی وقت اتنی جلدی سے گزرا کہ مزید تین سال اور بیت گئے،!!!!!
اسی دوران وہاں سے بھی والد صاحب کا تبادلہ کسی اور شہر میں ھو گیا، بہن بھائی اور والدہ واپس پرانے شہر جاچکی تھیں، اور میں بھی کچھ مہینوں بعد ھی اپنے پرانے شہر واپس آگیا میں بہت خوش تھا،آج نا جانے پھر مجھے شہزاد بھائی یاد آنے لگے ۔ شاہد اچھی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتیں ہیں ۔ شہزاد بھائی اور نازنیں بھی ان اچھی یادوں کا حصہ تھیں ۔۔ تھوڑا سا افسوس بھی ہوا کہ اپنی زندگی میں مصروفیت کی وجہ سے شہزاد بھائی یا انکے بھائی بھابھی کی کوئی خیر خبر نہیں رکھ سکے
!!!!!! ٹرین جتنی تیزی سے میرے پرانے شہر کی طرف بڑھ رھی تھی مجھے شہزاد اور نازنیں کی طرف سے بہت بے چینی ہو رہی تھی ۔ دل بار بار یہی دعا مانگ رہا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کی سنگیت میں خوش ہوں ،
گھر پہنچتے ھی میں نے کچھ دیر آرام کیا، اور تازہ دم ھوکر شہزاد بھائی کی طرف سب بہن بھائیوں اور والدہ کو لے کر چل دیا، والدہ کو بھی کافی عرصہ ھوگیا تھا ان کے بھائی بھابھی کی خبر لئے ھوئے، کچھ ھی دیر میں شہزاد کے بھائی بھابھی کے گھر پہنچے، تمام گلے شکوؤں کے بعد ان کی بھابھی نے شہزاد کے بارے میں ایک سرد آہ بھرتے ھوئے میری والدہ سے کہا کہ،!!!!!

آپ نے بہت خوبصورت اور معياری کہانی لکھی ہے ۔ اس سب سے قطع نظر ميں ايک سوال آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں جو ميرے ذہن ميں پچھلے پچاس سال سے ہے مگر ميں نے کسی سے پوچھا نہيں سوچا اب ستر برس عمر ہو گئی ۔ پوچھ ہی ليا جائے ۔ ميں نے لڑکپن ميں دو چار افسانے اور درجن بھر ناول اُردو کے پڑھے مگر مجھے ان کا مقصد سمجھ ميں نہ آيا تو ميں نے تاريخ ۔ حقيقی واقعات ۔ سائنس اور مذاہب کا مطالعہ شروع کر ديا جو اب تک جاری ہے اور جتنا پڑھتا جاتا ہوں اتنی ہی تشنگی محسوس ہوتی ہے ۔ آپ ايک معياری مصنفہ اور صحافيہ ہيں اور ايک دردمند دل اور سُننے سمجھنے والا دماغ رکھتی ہيں اور ساتھ ہی آپ ميرے لئے احترام يا اُنس جيسا اپنے بزرگوں سے ہوتا ہے رکھتی ہيں اسلئے آپ درست جواب دينے کی اہل ہيں
سوال ميرا يہ ہے کہ افسانے اور کہانيوں سے دل کيوں بہت جلد بھر جاتا ہے اور پڑھنے کے بعد قاری يوں محسوس کرتا ہے کہ وہ تہی دامن ہی رہا ؟
افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..يہ کيا ہوا ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
آپ نے بہت خوبصورت اور معياری کہانی لکھی ہے ۔ اس سب سے قطع نظر ميں ايک سوال آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں جو ميرے ذہن ميں پچھلے پچاس سال سے ہے مگر ميں نے کسی سے پوچھا نہيں سوچا اب ستر برس عمر ہو گئی ۔ پوچھ ہی ليا جائے ۔ ميں نے لڑکپن ميں دو چار افسانے اور درجن بھر ناول اُردو کے پڑھے مگر مجھے ان کا مقصد سمجھ ميں نہ آيا تو ميں نے تاريخ ۔ حقيقی واقعات ۔ سائنس اور مذاہب کا مطالعہ شروع کر ديا جو اب تک جاری ہے اور جتنا پڑھتا جاتا ہوں اتنی ہی تشنگی محسوس ہوتی ہے ۔ آپ ايک معياری مصنفہ اور صحافيہ ہيں اور ايک دردمند دل اور سُننے سمجھنے والا دماغ رکھتی ہيں اور ساتھ ہی آپ ميرے لئے احترام يا اُنس جيسا اپنے بزرگوں سے ہوتا ہے رکھتی ہيں اسلئے آپ درست جواب دينے کی اہل ہيں
سوال ميرا يہ ہے کہ افسانے اور کہانيوں سے دل کيوں بہت جلد بھر جاتا ہے اور پڑھنے کے بعد قاری يوں محسوس کرتا ہے کہ وہ تہی دامن ہی رہا ؟
اس تبصرے کا جواب دیں
افتخار جی یہ کہانی میری نہیں ہے ۔ سید صاحب کی ہے ۔ میری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پڑھی جائے ،آپ نے درست کہا کہ آپ میرے بزرگ ہیں ۔ آپ کا جتنا مطالعہ ہے میں تو راتی برابر بھی نہیں ہوں ۔ آپ کے سامنے لکھنا شروع کیا بس شوق تھا ۔ ایک بہت ہی اچھی دوست نے مذاق مزاق میں بات شروع کی ۔ لیکن شاہد وہ جانتی تھی کہ مجھے دو چار الفاظ لکھنے آتے ہیں ۔ جہاں تک میری اپنی سوچ ہے میں کسی قابل نہیں ہوں لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ کچھ لکھنا نہیں آتا ورنہ اللہ پاک کی نافرمانی اور اپنے رب کے احسان سے منہ موڑنے والی بات ہے ۔یہ اس ذات کا بہت کرم ہے کہ اس نے مجھے یہ دو چار لفظ لکھنے سیکھائے۔میں نے کبھی یہ سوچ کر نہیں لکھا کہ میرا نام ہو ۔ اپنی تسلی اور خوشی کے لیے لکھتی ہوں ۔ پہلے بھی کوشش تھی کے دوسروں کے لیے کچھ کروں اب بھی یہی جذبہ ہے کہ اللہ پاک مجھے ہمت دے کہ کسی کے کام آ سکوں ۔ جہاں تک آپ نے کہا کہ افسانے یا کہانی سے لوگوں کا دل بھر جاتا ہے ۔ تو ایسی بھی بات نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان میں سب سے زیادہ مقبولیت ان ڈائجسٹ کو حاصل ہے جو افسانوں اور کہانوں پر مبنی ہیں ۔ چونکہ تعلیم کی کمی کے باعث لوگ ہلکی پھلکی عام فہم کی زبان پسند کرتے ہیں اردو کے موٹے موٹے الفاظ انکے لیے معنی نہیں رکھتے ،جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں ۔ اب اگر اپ کا سوال یہ ہے کہ کیوں تہی دامن ہے تو سب کچھ حاصل ہو گیا تو پھر یہ جستجو ختم ہو جائے گی ۔ مذید پڑھنے کی اور پھر انسان کے موڈ پر بھی ہوتا ہے ۔ کبھی وہ اشفاق احمد کو پڑھنا پسند کرتا ہے تو کبھی منٹو کو ۔ ہر ایک کی سمجھ میں غالب کے اشعار نہیں آتے ۔ تو ہر ایک علامہ اقبال کو سمجھ جاتا ہے ۔۔ ضروری نہیں کے تانیہ رحمان کی ہر تحریر اچھی ہو ۔ ہو سکتا ہے کہ اس تحریر میں چند الفاظ ہی کسی کو پسند آیے ہوں ۔ یا پھر کئی لوگوں کو پوری تحریر اچھی لگی ہو یا بالکل پسند نا آئے۔اللہ پاک نے انسان کو مکمل نہیں کیا جس دن وہ سمجھ گیا کہ میں تہی دامن نہیں ہوں ۔ سب کچھ حاصل کر لیا ہے ۔ تو وہ اس کی موت ہو گی ۔ خوب سے خوب تر کی تلاش تا زندگی جاری ہے۔مجھے امید ہے کہ میں کسی حد تک آپ کے سوال کا جواب دے پائی ہوں ۔ اگر نہیں تو آپ کا حکم سر انکھوں پر
اس تبصرے کا جواب دیں
واہ بھی واہ – اچھی کہانی ہے مگر تھوڑی اور کوشش کی ضرورت ہے-
افسانے یا کہانی سے دل نہیں بھرتا بلکہ اچھا ہوتا ہے تو اس کی تمییثل نگاری (ڈرامہ -فلم – سازی ہوتی ہے-
ہمارے معاشرے میں تو پڑھنے کا رواج ہی نہیں رہا – اب جو بچارے پڑھنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے آپ کو وہ ہی روزمرہ استعمال کرنی ہو گی جو معاشرے میں معستمل ہے اس لیے زیادہ مقبولیت ان ڈائجسٹ کو حاصل ہے -
قاری تہی دامن رہتا ہے کیوں کے یہ سب تو ہو ہی اس لیے ربا ہے کےوہ اپنی اندرونی آسودگی اس کہانی میں تلاش کر رہا ہے-
اس تبصرے کا جواب دیں
کہانی اچھی اور دلچسپ ہے کہانی میں روانی بھی ہے جس سے بوریت کا احساس بھی نہیں ہوا آگے کیا ہو گا دیکھیے بریک کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
سو فار سو گڈ ۔ میں کہانی پوری ہونے پر مفصلاً تبصرہ کرونگا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
اب آگے
کیا پوچھتی ھو چچی جان،!!! آپ کے جانے کے کچھ ھی دنوں بعد شہزاد کی طرف سے کافی پریشانیاں اٹھانی پڑیں، ایک تو ھمارے میاں کی نوکری ختم ھوگئی، دوسرے شہزاد کی تو زندگی برباد ھی ھوگئی،!!!!!!
میں یہ سن کر چونک سا گیا،!!!! کہ یہ کیا کہہ رھی ھیں،!!!!! شہزاد کے بڑے بھائی بھی گھر پر نہیں تھے، بقول بھابھی کے وہ نوکری کی تلاش میں اسی طرح نکل جاتے ھیں اور رات گئے تک ان کی واپسی ھوتی ھے،!!!!
انہوں نے مزید بات کو آگے بڑھاتے ھوئے کہا،،!!!! شہزاد تو بالکل پاگل سا ھوگیا ھے، نہ اسے کھانے کا ھوش ھے، نہ پینے کا، بس گلیوں میں داڑھی بڑھائے مجنوں کی طرح پھٹے پرانے کپڑے پہنے گلی گلی بھٹکتا پھرتا ھے، اور ھر وقت ان کے پیچھے محلے کے بچے آوازیں کستے، پتھر مارتے ھوئے بھاگتے رھتے ھیں، !!!!!!!
یہ کہتے ھوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے،!!!! اور وہ رونے لگیں،!!!! ھماری والدہ نے ھم سب کو کہا کہ جاؤ باھر چلے جاؤ،!!! باقی بچے تو دوسرے کمرے میں چلے گئے، لیکن میں نے شہزاد بھائی کے بڑے بھتیجے کو ساتھ لیا اور باھر نکل آیا، اور اس سے پوچھاَ!!!!!
یہ کیا ماجرا ھے، شہزاد کے بارے میں تمھاری امی یہ کیا کہہ رھی تھیں،،!!!!!
جواباً اس نے کہا،!!! کیا بتاؤں بھائی، کہاں سے شروع کروں کچھ سمجھ میں نہیں آرھا، آپ کے جانے کے بعد شہزاد بھائی پر کیا کیا بیت گئی، اگر آپ سنیں گے تو آپ کے ھوش گم ھوجائیں گے،!!!!!
میں نے کہا کہ،!!!! پہلے مجھے ان کے پاس لے چلو،!!!!!
انہیں ڈھونڈنا پڑے گا نہ جانے وہ کس گلی میں پڑے ھوں، اب تو یہ پورا علاقہ انہیں جانتا ھے، وہ اس علاقے سے کہیں نہیں جاتے جبکہ انہیں بچے بہت تنگ کرتے ھیں، اور ساتھ پتھر بھی مارتے رھتے ھیں، حالانکہ بڑے بوڑھے، بچوں کو ڈانٹ کر سمجھا کر بھگاتے بھی ھیں اور وہ لوگ اس حالت میں بھی شہزاد بھائی کا بہت احترام کرتے ھیں، انہیں کھانے پینے کو بھی کچھ نہ کچھ دیتے رھتے ھیں،!!!!
ابھی ھم کچھ ھی دور چل پائے تھے، کہ اچانک بچوں کا ایک شور سنائی دیا،!!! ھم دونوں بھاگتے ھوئے گئے، اور ان بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور ایک طرف کردیا،!!!!!
میں نے آگے بڑھ کر شہزاد بھائی کی جو حالت دیکھی، تو مجھ سے رھا نہیں گیا، میری آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے،!!!! وہ بالکل سہمے ھوئے پھٹا پرانا سا کوٹ لادے داڑھی میلی کچیلی سی بڑھی ھوئی، گلے میں کئی قسم کی مالائیں ڈالے ھوئے پھٹی پرانی چپل پیر میں تھی، ایک دیوار کے سہارے بیٹھے ھوئے کانپ رھے تھے،!!!!!
میں نے انکے قریب جاکر پوچھا،!!!! کیسے ھو شہزاد بھائی،!!!!
وہ مجھے گھورنے لگے انہوں نے بہت غور سے پاگلوں کی طرح مجھے دیکھا، اور کہا،!!!!! اب کیوں آیا ھے، جب سب کھیل ختم ھوگیا،!!!! میں اب آزاد ھوں، مجھے تنگ مت کرو،!!!!! جاؤ چلے جاؤ یہاں سے میرے نزدیک مت آنا میں پتھر ماردوں گا،!!!!!!
ان کے ھاتھ میں واقعی ایک بڑا پتھر تھا انہوں نے ھاتھ کو اوپر اٹھایا، میں تو ڈر کے مارے فوراً کھڑا ھوگیا،،!!!!!
شہزاد بھائی کے بھتیجے نے کہا کہ،!!!!!! بھائی ڈریں نہیں، یہ کبھی کسی کو نہیں مارتے، بس ڈراتے رھتے ھیں، ھالانکہ بعض اوقات تو یہ بچوں کے پتھر مارنے سے جگہ جگہ ان کے خون بھی نکل آتا ھے، لیکن یہ بچوں کو بس ڈراتے ھیں چیختے ھیں لیکن کبھی پتھر نہیں مارا اور نہ ھی کسی کو نقصان پہنچایا ھے، اس وقت بھی دیکھیں ان کے پیروں سے خون رس رھا ھے،!!!!!
میری حالت بالکل غیر تھی، میں جاننا چاہ رھا تھا کہ ان کی یہ حالت کیسے ھوئی اور اس کا ذمہ دار کون ھے،!!!!!!
ان کا بھتیجا بھی مجھے ایک ھی سانس میں ان پر بیتی ھوئی کہانی کو سنانا چاہ رہا تھا، لیکن میں نے اس سے کہا کہ،!!!! آرام سے چلو پارک میں چلتے ھیں وہاں بیٹھ کر تسلی سے تمام ان پر گزرے ھوئے واقعات شروع سے سنانا،!!!!!
ھم دونوں پھر قریبی پارک کی طرف چل دئے، اور وہاں ایک کونے میں بیٹھتے ھی میں نے کہا،!!!!! ھاں اب بتاؤ، مگر بالکل سکون کے ساتھ،!!!!!
بھائی کیا کہوں جب آپ لوگ چلے گئے، تو شہزاد بھائی بار بار آپ کو بہت یاد کرتے تھے، کیونکہ وہ آپ سے یا مجھ سے ھی اپنے دل کی بات شئیر کرتے تھے، وہ نازنین کو بے انتہا چاھتے تھے اور نازنین بھی ان پر دل و جان سے فدا تھی، یہ بات شاید مجھے یا آپکو پتہ تھی، اور کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں تھی، کیونکہ شہزاد بھائی نازنین اور کے گھر والوں کی رسوائی نہیں چاھتے تھے،!!!!!!
یہی وجہ تھی کہ یہاں پر اس پیار محبت کی کہانی کا میرے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا، انکی محبت بس اسی کھڑکی سے پروان چڑھی اور انتہاء بھی اسی کھڑکی پر ۔
میں تو بالکل حیران پریشان اس سے شہزاد بھائی کی داستان بربادی سن رھا تھا،!!!!!
بھتیجے نے بات کو آگے بڑھات ھوئے کہا،!!!!!! اس طرح کا ان دونوں کے روز روز ملنے کے دورانیہ میں مزید اضافہ ھی ھوتا چلا گیا، اب تو رات کو بھی ان دونوں نے کھڑکی پر جم کر ایک دوسرے سے باتیں کرنا شروع کردیا، نا جانے انی ساری باتیں کیا کیا کرتے تھے، انہوں نے راتوں کی نیند دن کا چین خود ھی برباد کرلیا تھا، ایک دوسرے کے بناء بالکل بھی نہیں رہ سکتے تھے، مگر بس کھڑکی کی حد تک،!!!! اس سے باھر کبھی ان دونوں نے ملنے کا سوچا بھی نہیں،!!!!!!
کھڑکی بھی اوپر جانے والی سیڑھی کے آڑ میں تھی، جیسے ھی کسی کے آنے جانے کا خدشہ ھوتا یا کوئی آہٹ سنائی دیتی تو نازنین فوراً ھی سیڑھی کے نیچے ایک کونے میں چھپ جاتی، جہاں ویسے بھی اندھیرا رھتا تھا، اور شہزاد چچا بھی پردے کی آڑ میں یا بستر پر لیٹ جاتے تھے، یہ تو میں نے کئی دفعہ اپنے سامنے بھی دیکھا تھا،!!!!
جاری ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
وہ دن میں بھی کسی نہ کسی بہانے کوئی کھانے پینے کی چیز دینے کے بہانے آجاتی تھی، جب تک اسکی امی کی آواز نہیں آتی تھی، وہ کھڑکی سے ھٹتی ھی نہیں تھی، وہ اب کالج میں تھی اور اس کی پڑھائی اب بالکل توجہ ھٹتی جارھی تھی، شاید کلاس میں بھی وہ سب سے پیچھے تھی، اور دوسری طرف شہزاد چچا بھی دفتر سے اکثر غیر حاضری کرنے لگے تھے، وہاں ان کو نوٹس پر نوٹس مل رھے تھے، مگر انہوں نے بھی کھڑکی کو نہیں چھوڑا، اور نہ ھی نازنین نے، اپنی پڑھائی کی بھی پرواہ نہیں کی،!!!!!!
نازنین کی والدہ کو اپنی بیٹی کی فکر ھونے لگی، وہ ماں تھی اس لئے وہ شاید اپنی بیٹی کے دل کا حال جانتی تھی، شاید وہ یہ بھی چاھتی ھوں کہ شہزاد اچھا لڑکا ھے اگر نازنین کی شادی اس سے ھوجائے تو کتنا ھی اچھا ھو،!!!!!
ایک رات نازین کی والدہ نے ان دونوں کی چوری پکڑ لی اور خاموشی سے وہ کھڑکی کے پاس پہنچی اور نازین کا ھاتھ پکڑ کر لے گئیں، !!!!!
یہ باتیں مجھے خود چچا نے بتائی تھی،!!!!! وہ ھر روز مجھ سے اپنے راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے تھے، اور مجھے بھی اس میں دلچسپی بڑھ رھی تھی،!!!!!
شہزاد کے بھتیجے نے اس کہانی کو مختصر کرتے ھوئے کہا کہ،!!!!!!
ھائی اس دن کے بعد نازنین کا کھڑکی پر آنا بند ھو گیا اور شہزاد چچا تو بالکل پریشان ھوگئے، دوتین دن بعد ان کی کھڑکی پر نازنین کی والدہ شام کا وقت تھا، چچا فوراً کھڑکی کی طرف جلدی میں پہنچے وہ سمجھے کہ شاید نازنین ھے لیکن وہاں تو اسکی والدہ تھیں، انہوں نے آھستہ آہستہ چچا کو خوب ڈانٹ پلائی، اور واسطے دیئے کہ میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو، اس کا باپ بہت ظالم ھے وہ تو نہ تمہیں چھوڑے گا اور نازنین کو تو زمین میں دفن کردے گا،!!!!!
اس کے علاوہ نازنین کی والدہ نے یہ بھی کہا کہ کوئی شریفانہ طریقہ اختیار کرو، میں تو تمھیں بہت ھی شریف سمجھتی تھی، وغیرہ وغیرہ،!!!! اگر تم واقعی اس سے شادی کے لئے سنجیدہ ھو تو اپنے گھر والوں کو ھمارے یہاں پیغام لے کر بھیجو، اور یہ بھی کہا کہ،!!! آئیندہ سے میں اس کھڑکی کو کھلا ھوا نہ دیکھوں، دوسرے دن ان کی والدہ نے اپنی طرف سے کھڑکی کے پاس ایک پرانی الماری لا کر کھڑی کروادی،
اب جو کچھ بھی ان کے بھتیجے نے اپنی طرف سے مجھے جو تفصیل بتائی، اس کے علاوہ میں نے ان کی بھابھی سے بھی بہت کچھ سنا، شہزاد بھائی کے آس پاس کے دوست احباب سے جو معلومات حاصل ھوئی، اس کے علاوہ میری والدہ سے جو بھی ان کی بھابھی سے بات ھوئی انہوں نے ھمارے ابا جی کو بتائی، سب کچھ ملا جلا کر جو مجھے حالات کا علم ھوا اس کو میں مزید واضع کرکے اپنی تحریر میں آپ کے سامنے پیش کررھا ھوں،!!!!!
یہ تو سب کو پتہ ھی ھے کہ عشق اور مشک کی خوشبو چھپائے نہیں چھپتی، اور شہزاد بھائی تو یہی سمجھ رھے تھے جیسے کسی کو بھی علم نہیں ھے،!!! وہ تو اپنی آنکھیں اس کبوتر کی طرح بند کئے ھوئے تھے، جو بلی کے جھپٹا مارنے سے پہلے اپنی آنکھیں اس لئے بند کرلیتا ھے، کہ جیسے اسے کوئی بھی دیکھ نہیں رھا ،!!!!
اب تو شہزاد بھائی کچھ زیادہ ھی پریشان ھوگئے، ان کی کشتی تو ڈوبتی نظر آرھی تھی، بقول ان کے بھتیجے کے انہوں نے اپنے پیروں پر کلہاڑی خود ھی دے ماری تھی،!!!! کیونکہ انہوں نے نازنین کے ساتھ اپنے کمرے کی کھڑکی پر ملنا جلنا کچھ ضرورت سے زیادہ ھی شروع کردیا تھا، اور نازنین بھی عشق میں دیوانی ھوگئی تھی کہ اسے آس پاس کی کوئی خبر نہیں تھی، !!!!
اب ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرھا تھا، کہ اب کونسا قدم پہلے اٹھایا جائے، کہ الجھا ھوا معاملہ کچھ بہتر طریقے سے سلجھ جائے، انہوں نے فوراً ھی اپنی بھابھی رابطہ قائم کیا، اور اپنے بھیا کے گھر پہنچ گئے!!!!!
“بھابھی میں آپ سے کچھ کہنا چاھتا ھوں اگر آپ برا نہ مانیں تو،!!!!!”
شہزاد بھائی نے بھابھی کی منت سماجت کرتے ھوئے کہا،!!!!
“مجھے معلوم ھے،!!! جو بھی تم مجھ سے کہنا چاھتے ھو،!!!! آج بھابھی کی کیوں یاد آئی، پہلے تو اسی کھڑکی سے چپکے رھتے تھے،!!!! آج وہ کھڑکی بند ھوگئی ھے تو بھابھی بھابھی کی مالا جپنے لگے،!!!!!! تمھیں معلوم ھے کہ کتنا عرصہ بیت گیا کہ تم وہ میرے دیور نہیں رھے جو پہلے کبھی تھے، میرے چھوٹے بھائی کی طرح، ھر وقت مجھے خوش رکھنے کی کوشش کرتے رھے، ساتھ کھانا کھاتے تھے، ھر دکھ سکھ میں اپنے بھائی کا ساتھ دیتے تھے، اور میرے بچوں کا خیال رکھتے تھے،!!!!!!”
بھابھی نے کچھ ناراضگی کے لہجے میں آنسو بہاتے ھوئے کہا اور بغیر رکے مزید کہتی چلی گئیں،!!!!
“کیا تم سمجھتے ھو!!!!! کیا باھر تم جو مرضی کرتے پھرو اور کسی کو کان و کان خبر نہ ھو، تم نے اپنے بھائی کی عزت کا بھی خیال نہیں کیا،!!!!!!”
“اگر تم اس لڑکی سے شادی کرنا ھی چاھتے تھے، تو پہلے ھم سے کیوں نہیں کہا ھم خود خوشی خوشی اسکا رشتہ مانگنے جاتے اور کب کی شادی بھی ھوچکی ھوتی،!!!!! تم نے ھمیں اس قابل نہیں سمجھا،!!!!!!”
شہزاد بھی بہت افسردہ سا ھوگیا، اور اپنی بھابھی سے کہا، کہ،!!!
“بھابھی یہ بات نہیں ھے، آپکی قسم آپ تو میری ماں جیسی ھو،!!! میں نے اس بات کو بہت ھی پوشیدہ رکھا تھا لیکن آپکو تو تمام تفصیل معلوم ھے کیا آپ کے بڑے بیٹے نے تو آپ سے کچھ نہیں کہا،!!!!!”
بھابھی نے فوراً ھی بیچ میں بات کاٹتے ھوئے کہا،!!!
“نہیں نہیں اس نے آج تک مجھ سے اس بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا، چاھے جو بھی تم مجھ سے اس کی قسم لے لو،!!!! تم سمجھتے تھے کہ کسی کو علم نہیں ھے، جناب تمھارے عشق کے چرچے تو سارے محلے میں مشہور ھوچکے ھیں،!!!!!”
شہزاد نے اپنی بھابھی سے اپنی صفائی پیش کرتے ھوئے کہا،!!!!
“وہ کیسے میں نے تو کسی کو نہیں بتایا، اور اپنے آپ کو کھڑکی تک ھی محدود رھا،!!!!! ”
بھابھی کو تو آج موقع ملا تھا، خوب اپنے دل کا غبار شہزاد پر نکال رھی تھیں،!!!!
“دیکھو تم کچھ عورتوں ک نہیں جانتے، جن کا کام ھی یہی ھوتا کہ دن بھر اڑوس پڑوس کے یہاں جھانک تانک کرکے ایک دوسرے کو خوب مصالہ لگا کر ایک سے بڑھ کر ایک چٹپٹی خبرین پہنچاتی رھتی ھیں،!!!!!”
شہزاد بھائی تو حیرانگی سے اپنی بھابھی کی زبانی اپنی ھی کہانی سن رھے تھے، ان کے علم میں تھا کہ کسی کو کچھ خبر نہیں مگر وہ سب کچھ ساری دنیا کو معلوم تھا،!!!
بھابھی نے مزید ایک گلاس پانی پیا اور پینے کے بعد پھر شروع ھوگئیں،!!!
” کیا تمھیں کچھ خبر بھی ھے،!!! تمھارے پڑوس کا جو مکان ھے وہاں کی اوپر والی “صابری خالہ” کے کمرے کی کھڑکی سے تمھاری کھڑکی بالکل صاف نظر آتی ھے،!!!!!”
شہزاد بھائی نے دل میں یہ تو ضرور سوچا ھوگا کہ واقعی وہ بہت بڑے صبر والی خالہ تھیں،!!!
شہزاد کی بھابھی نے تو ساری کسر، جو بھی دل میں غصہ بھرا ھوا تھا وہ سب شہزاد پر نکال دیا،!!!! اب شہزاد کیا کرتا خاموش ھوکر ھی اپنی بھابھی کا غصہ سہتا رھا، آخیر میں اس نے اپنی بھابھی سے معافی بھی مانگی اور پھر جب ان کی ناراضگی میں کمی ھوئی تو شہزاد نے ان سے مشورہ مانگا کہ اب اسے کیا کرنا چاھئے،!!!!
ان کی بھابھی نے کہا کہ،!!!!! “تمھارے بھائی آئینگے تو میں ان سے صلاح کرکے ھی کچھ بتا سکتی ھوں لیکن شہزاد،!!! اب وقت ھاتھ سے نکل گیا ھے،!!!!! اب کچھ بھی تمھارے حق میں کوئی فیصلہ ھونا ممکن نہیں ھے، بات اب بہت آگے تک بڑھ چکی ھے، کیونکہ،!!!!!
ھابھی نے مزید کہا کہ،!!!! “تمھیں تو کچھ بھی ھوش نہیں ھے، جو کچھ مجھے دوسروں کی زبانی معلوم ھوا ھے، اگر میں تمھیں بتاؤں تو تمھارے ھوش اڑ جائیں گے،!!!! تم دونوں نے بہت جذبات سے کام لیا اور عشق و محبت کی پینگیں افسانوی اور فلموں کے کرداروں کی طرح بڑھاتے رھے، جبکہ ھمارے معاشرے میں اصلی زندگی میں ایسا نہیں ھوتا، شادی سے پہلے اس قسم کے رشتے کو کوئی بھی قبول نہیں کرتا ھے، اس قسم کی حرکات اگر پہلے سے معلوم ھوجائیں تو گھروں میں خاص کر لڑکی کے گھر میں ایک طوفان کھڑا ھوجاتا ھے،!!!!”
“اگر تم بہت پہلے مجھے اپنی پسند بتادیتے تو کچھ بھی مشکل نہیں تھا، لیکن اس وقت ان کے گھر میں تو اس بات کو لے کر ایک ھنگامہ کھڑا ھوا ھے، وہ لڑکی نازنین تمھارے چکر میں اپنی ماں سے الجھی ھوئی ھے، اور اس کے باپ نے اپنی بیٹی کے گھر سے باھر نکلنے پر پابندی لگائی ھوئی ھے،!!!! اس کے علاوہ مجھے ڈر ھے کہ اس کا باپ نہ جانے اگلے لمحے کیا قدم اٹھائے،!!!! کوئی نہیں جانتا،!!! انکی خاموشی کسی بڑے طوفان کا اندیشہ لگتی ھے،!!!!!
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
کاش کھڑکی ہی نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچارہ شہزاد بھائ
اس تبصرے کا جواب دیں
اس افسانے کا نام – کھڑکی- ہونا چاہیئے تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
وفا اگر کھڑکی نہ ہوتی تو آپ یہ خوبصورت کہانی کیسے پڑھتی ۔ کھڑکی کی زندگی میں کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ ہو گیا ہوگا ۔ ویسے آپ اپنے گھر کی کھڑکی میں نا کھڑی ہوا کریں زمانہ بہت خراب ہے ۔ پہلے تو پھر بھی شہزاد جیسے لوگ ہوتے تھے اب تو بس۔۔۔۔۔
علی کھڑکی کو چھوڑو کہانی پر دھیان دو ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
یہ کہانی بھی کھڑکی سے ہی شروع ہوتی ہے اور وہیں پر دم بھی توڑدیتی ہے،!!!! میں کوئی ماہر ادیب تو ہوں نہیں لیکن بس جو زبان پر آتا ہے لکھتا چلا جاتا ہوں، تحریر میں مجھ خاکسار سے گر کوئی غلطی ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں، اصلاح اور تنقید کیلئے گزارش بھی کرتا ہوں،مجھے خوشی ہوگی آپ سب کے مفید مشوروں کیلئے،!!!!
میں ثانیہ جی کا بہت بہت ممنون اور مشکور بھی ہوں کہ انہوں مجھ جیسے ناچیز کی بے ربط بے محل تحریروں کو اپنے خوبصورت بلاگ میں جگہ دی ہے،!!!!
بہت بہت شکریہ،!!!!!
اس تبصرے کا جواب دیں
[...] ساتھی عبدالرحمٰن سیّد کی تحریر کردہ ایک سچی کہانی ’’دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ‘‘ بھی دو اقساط میں تانیہ کے بلاگ کی زینت بنی۔ کہانی [...]
اسلام وعلیکم
اچھی تحریر ہے ۔محترمہ ڈفرستان کا لنک چیک کر کےدرست کر لیں۔
میرا بلاگ امجد کا بلاگ http://amjid.urdunama.org
حافی کے بلاگ سے آخری تحریر … انٹر نیٹ ایکسپلورَر کے چھپے ہوئے فائدے:
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ محترم آپ آئے ۔ ڈفرستان کے لنک کو کیا ہوا ہے ۔چلو پھر بھی میں دیکھ لیتی ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں