اچھی اور بری یادیں
کیوں نا آج نیٹ کے حوالے سے بات کی جائے ، نیٹ کا استعمال ہماری زندگی میں سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ میں نے سوچا اپنی کچھ یادیں جوکے اچھی اور بری ہیں آپ سب سے شیر کروں ۔ کہاں سے شروع کروں یہ بھی ایک لمبی داستان ہے ۔ اور میرا خیال ہے ۔کہ آج کے دور کے انسان کے پاس اتنا وقت نہیں کے وہ میری یہ لمبی داستان سنے ۔ ویسے کیا خیال ہے دوستوں شروع کروں یا پھر رہنے دوں ۔ آپ سب کی زندگی میں بھی ایسے کئی واقعات ہوئے ہوں گے ۔ ہو سکتا ہے کئی نے لکھے ہوں اور کئی ساتھی میری طرح سوچ رہے ہوں ۔کہ کیا کیا جائے ۔ مار دیا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
چلیں میرا خیال ہے اگر آپ سب کو یا پھر کچھ دوستوں کو اچھا نا بھی لگے تو میں خود پڑھ کر ہی خوش ہو لوں گی ۔
یہ کوئی دس سال پرانی بات ہے ۔ جب میں نئی نئی سعودی عرب گی تھی ۔ اپنے میاں جی کے ساتھ۔ ۔میاں چونکے ڈاکٹر ہیں تو وہ اپنی جاب میں مصروف ہو گے ۔نئی جگہ زبان کا مسلہ ۔ پھر عربیوں کو دیکھ کر ویسے ہی خوف محسوس ہوتا ہے ۔ کیونکے انکے دیکھنے کا انداز ہی قاتلانا ہوتا ہے ۔ ہر دم یہی خوف کھائے جاتا ہے کہ اب سانس بند ہوئی کے تب۔
کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا ، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کے نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو ۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاوں ۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے ۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو ۔ آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے ۔
اور پھر وہ دن کل کی طرح یاد ہے ۔ جس نے مجھے تب سے لے کر آج تک اس ڈبے کے سامنے اتنا مصروف رکھا کئی دفعہ ہنڈی بھی جل گئی اس نیٹ کی وجہ سے ۔اور مجھے کسی کل سکون نہیں کہیں آوں جاوں ۔ سب سے پہلے اس کی ارتھی اتراتی ہوں ۔
آج کے لیے اتنا باقی پھر کبھی زندگی رہی انشاءاللہ

واہ جی واہ ۔ ابھی پڑھنے کی تياری کر رہا تھا کہ ختم شُد ۔
:cry:
آپ نے لکھا ہے “نئی جگہ زبان کا مسلہ ۔ پھر عربیوں کو دیکھ کر ویسے ہی خوف محسوس ہوتا ہے ۔ کیونکے انکے دیکھنے کا انداز ہی قاتلانا ہوتا ہے ۔ ہر دم یہی خوف کھائے جاتا ہے کہ اب سانس بند ہوئی کے تب”۔
ميں پہلی بار سعودی عرب 1978ء ميں گيا تھا ۔ اُس کے بعد 2000ء تک وقفہ وقفہ سے چار بار مزيد گيا ہوں ۔ پہلی دو بار تو بيوی اور بچے بھی ساتھ تھے ۔ باقی تين بار صرف بيوی ساتھ تھی ۔ مجھے بارہا يہی کچھ، کہا گيا جو آپ نے لکھا ہے بلکہ کسی نے يہ بھی کہا کہ پاکستانی شلوار قميض نہ پہننا سعودی بہت بُرا سلوک کريں گے ۔ ميں اُس زمانہ ميں انگريزی لباس ہی پہنتا تھا مگر پانچوں بار سعودی عرب ميں پاکستانی شلوار قميض ہی پہنی ۔ عجيب بات ہے کہ وہاں قاتلوں کی بجائے مجھے زيادہ تر ہمدرد ہی ملے ۔ صرف تين آدميوں نے ميرے ساتھ زيادتی کی ان ميں سے ايک انڈونيشيا کا مزدور تھا اور دو بھارتی مسلمان
افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..ايک خيال
اس تبصرے کا جواب دیں
اجمل جی
زیادتی
اس تبصرے کا جواب دیں
اجمل جی میرا مطلب خواتین سے ہے ۔ اگر وہاں کے قصے لکھنے شروع کر دیے تو یہ جو کہنا چاہا رہی ہوں رہ جائے گا ، وہ الگ کہانی پھر سہی ۔شلوار قمیضں کی بات نہیں ہے ۔ اب تو ہر جگہ شلوار قمیض چل رہی ہے اس وقت بھی خاص کر جمعہ پڑھنے کے لیے شلوار قمیض ہی پہنی جاتی تھی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
Assalam o Alykum wr wk, kum sahi mager maza aya, aur ka intazar ray ga,
اس تبصرے کا جواب دیں
بہت شکریہ انتظارجلد ہی ختم ہو گا
اس تبصرے کا جواب دیں
میں بھی سعودی عرب 1978 میں پہلی بار گیا تھا، جب میری شادی نہیں ہوئی تھی، اب اس وقت میرے بچوں میں سے دو بچے شادی شدہ ہیں، اور میں سوچتا ہوں کہ یہ زندگی کا سفر کتنا مختصر تھا، لگتا ہے کہ ابھی سفر شروع ہی کیا تھا کہ منزل ختم ہوتی نظر آرہی ہے،!!!!!!!
میں نے بھی یہاں تقریباً اپنی زندگی کے 30 سال گزار دئیے، شروع میں شادی کے بعد وقفے وقفے سے دو تین بار فیملی کو بلایا پھر یہاں پر ہی مستقل رکھنے کا فیصلہ کرلیا، جہاں پر بچوں نے تعلیم بھی بھی حاصل کی اور اب تو اللٌہ کے کرم سے دو بیٹے بھی ملازمت کررہے ہیں، کچھ شکوے شکایت رہے بھی تو چند اپنے ہی لوگوں سے تھے، لیکن اب سب کچھ بھلا دئے ہیں کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے، اور اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عزت کے ساتھ ہماری زندگی کی ناؤ کا یہ سفر بخوبی انجام تک پہنچ رہا ہے،!!!!
اپنی زندگی کے مختلف تجربات کی روشنی میں خودنوشت بائیوگرافی قلم بند کی ہے، جن کا حوالہ میں نے تانیہ جی کو بھی دیا ہے کہ اگر ہوسکے تو اپنے اس خوبصورت بلاگ میں یا کسی اور ادبی گوشے میں تھوڑی سی جگہ مل جائے، تاکہ خوبصورت تحریروں کے ساتھ ساتھ ہماری بے ربط اور بے محل تحاریر کو بھی کچھ تھوڑی بہت پزیرائی مل جائے،!!!!!
بہت شکریہ،!!!!
خوش رہیں،!!!!
عبدالرحمن سید
جدہ، سعودی عربیہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی تانیہ رحمان صاحبہ ، آپ نےبہت بےانصافی کی ہے کہ تحریرشروع کی جب پڑھنےمیں مزاآیاتوختم بھی ہوگئي۔ ویسےاجمل بھائي کی بات سےسوفیصداتفاق ہے کہ سعودیوں کی بنسبت دوسرےممالک انڈیا، بنگالی اورپاکستانی بھی کم نہیں ہیں ایسی ہی نظروں سےدیکھتےہیں۔
عبدالرحمن بھائی میرابلاگ بھی حاضر خدمت ہے۔ اگرکچھ لکھناچاہتےہیں اورکہیں توایک عددبلاگ آّ پکابھی بنادیتےہیں کیاخیال ہے۔
والسلام
جاویداقبال
اس تبصرے کا جواب دیں
مجھے بہت خوشی ہوئی اس بات کی نہیں کے میں نے جو لکھا آپ سب دوستوں نے پسند کیا بلکہ مجھے یہ پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی کی ہمارے محترم سید صاحب کے لیے جاوید اقبال نے اتنے پیارے سے اپنی خدمات حاضر کیں ، میرا مقصد شمع سے شمع جلانا ہے ۔ سعودی عرب کی بات تو بس ویسے ہی کر دی ۔ اچھے برے ہر جگہ موجود ہیں ، اگر بروں سے واسطہ نہیں پڑے گا تو اچھے کیسے سامنے آہیں گے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
جاوید اقبال صاحب،
بہت شکریہ،!!!!
پہلے بھی ماوراء جی اور عبیداللٌہ صاحب کی مدد سے ایک بلاگ بنایا تھا، لیکن وہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ خود بخود ہی بند ہوگیا اور میں اسے صحیح طرح سے ترتیب بھی نہیں دے سکا تھا، کچھ تو عمر تقاضہ کہہ لیں یا زندگی کی معاشی اور گھریلو مصروفیات کی زیادتی سمجھ لیں میں اپنے بلاگ کو ایک صحیح مقام نہیں دے سکا، لکھنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن اس کیلئے مجھے آپ لوگ جیسے بہترین لکھاریوں کی مدد درکار ہوگی،!!!!
میں تو بہتر یہی سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ ہی میری تحاریر کو صحیح طرح ترتیب دیں اور اس میں جو کچھ بھی اصلاح ہوسکتی ہے، اسے بھی اپنی معلومات کے مطابق ڈھال دیں، میری زندگی میں ایک 35 سال کا وقفہ ایسا آیا کہ مجھے اپنے تمام ادبی شوق کو بالائے طاق رکھنا پڑا اور جب مجھے ہوش آیا تو وقت کافی گزرچکا تھا، پھر بھی میں نے اپنی گزشتہ زندگی کی تمام یادداشتوں کو ہر ممکن اکھٹا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کوئی بھی اپنے پاس ذخیرہ نہ کر سکا بس مختلف اردو کی ویب سائٹ پر جہاں جہاں موقعہ ملتا رہا میں نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں براہ راست ہی لکھتا رہا، اور شاید معیار کے مطابق بھی نہیں تھا، !!!!!
بس مجھے آپ جیسے ماہر اردو داں لکھاریوں کی مدد کی ہی ضرورت ہے جو میرے دل کی زبان کو اپنے انداز سے سنوارنے میں میری تحاریر کو ایک خوبصورت رنگ دیں،!!!!!!
کئی دوستوں نے مجھ سے وعدہ بھی کیا لیکن شاید اس مصروف ترین دور میں وہ کچھ میرے لئے نہ کرسکے، ابھی آپ ہی کی طرح ایک درد مند دوست خرم شہزاد خرم نے جب میری تحریر یہاں پڑھی، تو انہوں نے معذرت طلب کی کہ وہ اپنا وعدہ نہ نبھا سکے، انہوں نے بھی دوبارہ سے ایک وعدہ کیا ہے، کہ وہ میری تحاریر کو ایک کتابی شکل دیں گے، اللٌہ کرے کہ انہیں کامیابی ہو،!!!!!
آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھ ناچیز کی تحریروں کے لئے اپنے بلاگ کی پیشکش کی ہے، مجھے خوشی ہوگی کہ آپ میری تحاریر کو سنوار کر ایک بہترین مقام دیں گے،!!!!!
شکریہ،!!!!
خوش رہیں،!!!!
عبدالرحمن سید
اس تبصرے کا جواب دیں
<blockquote cite=\"comment-2822\">
<P>السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،<BR>واقعی تانیہ رحمان صاحبہ ، آپ نےبہت بےانصافی کی ہے کہ تحریرشروع کی جب پڑھنےمیں مزاآیاتوختم بھی ہوگئي۔ ویسےاجمل بھائي کی بات سےسوفیصداتفاق ہے کہ سعودیوں کی بنسبت دوسرےممالک انڈیا، بنگالی اورپاکستانی بھی کم نہیں ہیں ایسی ہی نظروں سےدیکھتےہیں۔<BR>عبدالرحمن بھائی میرابلاگ بھی حاضر خدمت ہے۔ اگرکچھ لکھناچاہتےہیں اورکہیں توایک عددبلاگ آّ پکابھی بنادیتےہیں کیاخیال ہے۔</P><P>والسلام<BR>جاویداقبال <A class=comment_quote_link title=\"Click here or select text to quote comment\" onmousedown=\"quote(\’2822\’, null, \’comment\’,\’div-comment-2822\’, false);try { addComment.moveForm(\’div-comment-2822\’, \’2822\’, \’respond\’, \’989\’); } catch(e) {}; return false;\" href=\"javascript:void(null)\">(اس کا جواب دیں)</P><P></A></P>
</blockquote>
جاوید اقبال صاحب،
بہت شکریہ،!!!!
پہلے بھی ماوراء جی اور عبیداللٌہ صاحب کی مدد سے ایک بلاگ بنایا تھا، لیکن وہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ خود بخود ہی بند ہوگیا اور میں اسے صحیح طرح سے ترتیب بھی نہیں دے سکا تھا، کچھ تو عمر تقاضہ کہہ لیں یا زندگی کی معاشی اور گھریلو مصروفیات کی زیادتی سمجھ لیں میں اپنے بلاگ کو ایک صحیح مقام نہیں دے سکا، لکھنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن اس کیلئے مجھے آپ لوگ جیسے بہترین لکھاریوں کی مدد درکار ہوگی،!!!!
میں تو بہتر یہی سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ ہی میری تحاریر کو صحیح طرح ترتیب دیں اور اس میں جو کچھ بھی اصلاح ہوسکتی ہے، اسے بھی اپنی معلومات کے مطابق ڈھال دیں، میری زندگی میں ایک 35 سال کا وقفہ ایسا آیا کہ مجھے اپنے تمام ادبی شوق کو بالائے طاق رکھنا پڑا اور جب مجھے ہوش آیا تو وقت کافی گزرچکا تھا، پھر بھی میں نے اپنی گزشتہ زندگی کی تمام یادداشتوں کو ہر ممکن اکھٹا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کوئی بھی اپنے پاس ذخیرہ نہ کر سکا بس مختلف اردو کی ویب سائٹ پر جہاں جہاں موقعہ ملتا رہا میں نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں براہ راست ہی لکھتا رہا، اور شاید معیار کے مطابق بھی نہیں تھا، !!!!!
بس مجھے آپ جیسے ماہر اردو داں لکھاریوں کی مدد کی ہی ضرورت ہے جو میرے دل کی زبان کو اپنے انداز سے سنوارنے میں میری تحاریر کو ایک خوبصورت رنگ دیں،!!!!!!
کئی دوستوں نے مجھ سے وعدہ بھی کیا لیکن شاید اس مصروف ترین دور میں وہ کچھ میرے لئے نہ کرسکے، ابھی آپ ہی کی طرح ایک درد مند دوست خرم شہزاد خرم نے جب میری تحریر یہاں پڑھی، تو انہوں نے معذرت طلب کی کہ وہ اپنا وعدہ نہ نبھا سکے، انہوں نے بھی دوبارہ سے ایک وعدہ کیا ہے، کہ وہ میری تحاریر کو ایک کتابی شکل دیں گے، اللٌہ کرے کہ انہیں کامیابی ہو،!!!!!
آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھ ناچیز کی تحریروں کے لئے اپنے بلاگ کی پیشکش کی ہے، مجھے خوشی ہوگی کہ آپ میری تحاریر کو سنوار کر ایک بہترین مقام دیں گے،!!!!!
شکریہ،!!!!
خوش رہیں،!!!!
عبدالرحمن سید
اس تبصرے کا جواب دیں
ثانیہ جی،
آپ کا اتنی زیادہ عزت دینے اور حوصلہ افزائی کیلئے میں بہت ہی زیادہ ممنون و مشکور ہوں،
خوش رہیں،!!!!
اس تبصرے کا جواب دیں
عبدالرحمٰن سيّد صاحب
اسلام عليکم
آپ مناسب سمجھيں تو مجھے بتا ديجئے کہ آپ کی سوانح کہاں پر ہے ۔ ميں اِن شاء اللہ اپنے بلاگ پر شائع کر دوں گا
جواب مندرجہ ذيل پتہ پر
iabhopal@yahoo.com
يا ميرے مندرجہ ذيل بلاگ کے تبصرہ کے خانہ ميں ديجئے گا
http://www.theajmals.com/
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر …ايک خيال
اس تبصرے کا جواب دیں
آج کافی دنوں بعد بلاگز پڑھنے کا وقت ملا اور یہاںآیا پڑھنے کے سیدھا ہونے لگا تو تحریر ختم۔۔۔ خیر دیکھا ہے کہ اس تحریر کی مزید جلدیں شائع ہو چکی ہیں تو وہ پڑھ لیتا ہوں پہلے اس پر بھی تبصرہ کر لوں۔
سعودی اففففف مجھے تو بڑے ہی عجیب لوگ لگے ہیں۔ خیر پاکستانی سیاست دانوں سے کم ہی ہیں۔
ویسے اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن زیادہ تعداد جن کی ہو رائے ویسے قائم ہو جاتی ہے اور پھر سارے معاشرے کی گردن پر ویسی ہی چھری چل جاتی ہے۔
ایم بلال´s last blog ..بل گیٹس کی بات جاوید چوہدری کی زبانی (قصور کس کا؟)
اس تبصرے کا جواب دیں
[...] تانیہ رحمان اپنا بلاگ عین الیقین کے نام سے لکھتی ہیں اور انہیں اردو بلاگنگ کے دائرے میں شامل ہوئے سال سے زیادہ ہوچکا ہے۔ تحاریر کی سادگی، دلچسپ اور متنوع موضوعات ہونا تانیہ کے بلاگ کی ایسی خوبیاں ہیں جو قاری کو اپنے پن کا احساس دلاتی ہیں۔ اکثر موضوعات ہمارے ارد گرد سے ربط رکھتے ہیں۔ ’’اچھی اور بری یادیں‘‘ کے عنوان سے اپنی زندگی میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے ماضی کی کچھ یادیں اور تجربات قسط وار بیان کیے ہیں۔ پہلی قسط میں لکھتی ہیں: ۔۔۔کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کہ نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاؤں۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو، آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں) [...]